HOME   ABOUT US   ARCHIVES   TARIFF   USEFUL LINK   FEEDBACK   CONTACT US  
     
 

زندگی نو- تاریخ وتعارف

ماہ نامہ زندگی کا آغاز نومبر ۱۹۴۸ء میں صوبہ اترپردیش کے شہر رام پور سے ہوا ۔ ۱۹۸۴ء میں ماہنامہ زندگی رام پور سے دہلی منتقل ہوا۔اور اس وقت سے اس کا نام زندگی نو ہوگیا۔ اس کے پہلے مدیر مولانا سید حامد علیؒ اور پرنٹر وپبلشر مولانا ابو سلیم محمد عبدالحییؒ تھے۔ اس کے ابتدائی قلم کاروں میں مولانا ابواللیث ندویؒ، مولانا جلیل احسن ندویؒ مولانا صدر الدین اصلاحیؒ مولانا ابو محمد امام الدین رام نگریؒ ، مولانا سید احمد عروج قادریؒ ، مولانا شہباز اصلاحیؒ ،مولانا عبد الحییؒ، مولانا ابوالبیان حماد عمری اور دیگر پائے کے اہل علم وفکر شامل تھے۔

فروری ۱۹۵۴ء میں مولانا سید حامد علیؒ کو نظر بند کیا گیا، تو مارچ ۱۹۵۴ء سے جنوری ۱۹۵۵ء تک جناب سید عبدالقادرؒ اور مولانا افضل حسینؒ نے ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس کے بعد مارچ ۱۹۵۵ء سے جون ۱۹۵۶ء تک مولانا سید احمد عروج قادری، جولائی ۱۹۵۶ء سے جولائی ۱۹۶۰ء تک مولانا سید حامد علیؒ ، جولائی ۱۹۵۶ء سے مئی ۱۹۸۶ء تک مولانا سید احمد عروج قادریؒ،جون ۱۹۸۶ء سے جنوری ۱۹۹۱ء تک مولانا سید جلال الدین عمری، فروری ۱۹۹۱ء سے اگست ۲۰۰۹ء تک ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی اور اگست ۲۰۰۹ء سے اگست ۲۰۱۹ء تک ڈاکٹر محمد رفعت مدیر رہے۔

ستمبر ۲۰۱۹ء سے ادارت کی ذمہ داری محی الدین غازی کے ذمے ہے، جب کہ مدیر اعلی محترم سید سعادت اللہ حسینی ہیں۔

ماہ نامہ زندگیٔ نو اسلامی فکر کا ترجمان رسالہ ہے جس کے پیش نظر تین مقاصد رہے ہیں: اقامت دین کے فریضے کی وضاحت اور اس کے مراحل کی نشان دہی، بدلتے ہوئے حالات میں امتِ مسلمہ کو درپیش سوالات کے سلسلے میں رہ نمائی اورافراد امت کا تزکیہ و تربیت۔ ان تینوں اہم مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئےاس ماہ نامے کے تمام مضامین ترتیب دیے جاتے ہیں۔

اس جریدے کے مضامین کا انداز خالص اکیڈمک نہیں ہوتا، بلکہ اس میں دینی و علمی ذوق رکھنے والے ایک عام قاری کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس امر کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ رسالے میں شائع ہونے والے مضامین قاری کو فکری غذا فراہم کریں، اس کے سامنےعمل کی راہیں روشن کریں اور اس کی شخصیت کے ارتقاء کے سلسلے میں مدد کریں ۔ طویل مضامین کے بجائے مختصر مضامین کو ترجیح دی جاتی ہے، البتہ حسبِ ضرورت کچھ طویل مضامین قسط وار بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ زندگیٔ نو کے مضامین متنوع اور فکر انگیز ہوتے ہیں۔

اشارات اس رسالے کا مستقل کالم ہے، جس میں حالات حاضرہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی کے حوالے سے خصوصی گفتگو ہوتی ہے۔ رسائل ومسائل کے عنوان کے تحت دینی امور کے متعلق سوالوں کے جواب دئے جاتے ہیں۔ اور دنیا کی مختلف زبانوںمیں شائع ہونے والی اہم اور مفید تحریروں کے ترجمے بھی شائع ہوتے ہیں۔

ماہنامہ زندگی نو وسعت نظری کا علم بردار ہے، اس میں فکری مباحثوں اور مختلف رایوں کے لئے خصوصی مواقع فراہم کئے جاتے ہیں،اور قارئین کے تنقیدی مراسلوں کو جگہ دی جاتی ہے۔تاہم اس کا خیال رکھاجاتا ہے کہ رسالے میں شائع ہونے والا مواد مدلل ہو، درست حقائق پرمبنی ہواوراس کی زبان شائستہ ہو۔

ماہنامہ زندگی نو اپنے آغاز سے باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے، اس کی قدیم فائلیں بھی زندگی نو کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، اور ہر ماہ کا شمارہ بھی آن لائن پڑھا جاسکتا ہے۔خوش کن بات یہ بھی ہے کہ اس رسالے کی خریداری کا آن لائن انتظام بھی ہوگیا ہے۔

Monthly Zindagi-e-Nau: Introduction and Background

Monthly Zindagi was started in November 1948 in Uttar Pradesh’s Rampur town. In 1984, it was moved to Delhi and rechristened as Zindagi-e-Nau. The founding editor of this esteemed magazine was Maulana Syed Hamid Ali while Maulana Abu Saleem Muhammad Abdul Haiyy was the printer-publisher. The early contributors include Maulana Abullais Nadvi, Maulana Jalil Ahsan Nadvi, Maulana Sadruddin Islahi, Maulana Abu Mohammed Imamuddin Ramnagri, Maulana Syed Ahmed Urooj Qadri, Maulana Shahbaz Islahi, Maulana Abul Bayan Hammad Umari, and other such notable luminaries.

When – in February 1954 – Maulana Syed Hamid Ali was detained, Syed Abdul Qadir and Maulana Afzal Hussain took over the management for a short stint from March 1954-January 1955.

Later on, Maulana Syed Ahmed Urooj Qadri (March 1955-June 1956), Maulana Syed Hamid Ali (July 1956-July 1960), Maulana Syed Ahmed Urooj Qadri (July 1956-May 1986), Maulana Syed Jalaluddin Umari (June 1986-January 1991), Dr. Fazlur Rahman Faridi (February 1991-August 2009) and Dr. Muhammad Rafat (August 2009-August 2019) worked as its editors.
Presently, since September 2019, Muhiuddin Ghazi has taken over the charge as an editor, while – ex-officio – the President of Jamaat-e-Islami Hind, Syed Sadatullah Hussaini, is its editor-in-chief.

Monthly Zindagi-e-Nau is a magazine of Islamic thought with primarily three objectives in mind: (i) the interpretation of the mission of Iqamat-e-Deen and tending towards its various phases; (ii) guiding the Ummah in the changing global scenario; and (iii) tazkiyah (purification of the soul) and tarbiyah (developing the knowledge, talents and skills). All content in this monthly is brought out in keeping with these three key objectives.

The style of the articles, in Zindagi-e-Nau, is not purely academic but the one that caters to the needs of an ordinary reader with religious and intellectual bent. The articles published in this periodical offer the reader food for thought, foster healthy debate, chalk out the course of action, as well as seek to help readers nurture and develop their personality. Short articles are generally more common than the longer ones, although some longer articles are also published periodically in instalments. Zindagi’s articles are diverse and thought-provoking. The Isharat is a regular column that offers guidance to the Indian Muslims on the diverse array of present-day issues. Queries with regard to the religious, jurisprudential matters are answered under Rasail-o-Masail. Translations of noteworthy and useful articles appearing across various media and languages are also carried out.

Monthly Zindagi-e-Nau stands for broad-mindedness and engagement. Thought-provoking discussions and debates are conducted. Differing views and critical opinions are given due space. Nonetheless, care is also taken so that the material published is well-grounded, well-reasoned, based on facts while its language is respectful.

Zindagi-e-Nau has been publishing regularly since its inception. Its archives are also available on its official portal [http://zindagienau.com], and unicode version of each month’s issue can also be read online.
Readers can subscribe online – via https://dawatnews.net/zindagi – to have print copies delivered to their doorstep.