يہ کارگاہِ خير بھي ہے بزمِ شر بھي ہے

ڈاکٹر جيفري لينگ[1]   ترجمہ: عرفان وحيد

ميري شکست

محمود قنديل نے مجھے مسحور کر رکھا تھا۔ وہ باغ و بہار شخصيت کا حامل تھا۔ وجيہ و شکيل، خوش طبع، زندہ دل، خوش ذوق اور محبت کرنے والا۔ اگرچہ وہ جوان تھا اور زيادہ دولت مند بھي نہيں تھا—گو بظاہر وہ دولت مند نظر آتا تھا—پھر بھي نہ جانے کيسے وہ سان فرانسسکو شہر ميں مقبول ہوگيا۔ جب وہ اور ميں شہر کي سڑکوں پر نکلتے تو مجھے لگتا گويا ميں کسي سيلبرٹي کے ساتھ ہوں۔ لوگوں کے نزديک محمود مشرق وسطيٰ کا ڈونالڈ ٹرمپ تھا۔ ہم جہاں بھي جاتے لوگ اس کي طرف ٹوٹ کر آتے تھے۔ اس توجہ اور عيش سے وہ لطف اندوز تو ہوتا، مگر زيادہ مغلوب نظر نہيں آتا تھا۔ وہ ان بديسي لوگوں کي طرح نہيں تھا جو امير اور مشہور لوگوں کے طرزِ زندگي سے مرعوب ہوجاتے ہيں۔ محمود اگر اعليٰ سوسائٹي ميں بھي ہوتا تو لاابالي اور لاتعلق سا بنا رہتا تھا۔

بعض اوقات وہ ذرا مذہب پسندسا بھي ہوجاتا ، اکثر اسلام کے بارے ميں بات کرتا اور بڑے زور شور سے اس کا دفاع کرتا۔ کئي بار ميں نے اسے خود کو دوستوں کے حلقے سے الگ کرکے اور نماز اور روزے کي پابندي کرتے ہوئے پايا۔ کبھي کبھي اسے اپني تيز رفتار طرز ِزندگي پر ندامت بھي ہوتي۔ وہ بہت مخير اور غريبوں کے مصائب کے سلسلے ميں حسّاس شخص تھا۔ بارہا کسي فقير کے کاسے ميں اپنا بٹوہ خالي کرديتا پھر بھي افسوس کرتا کہ اس نے جو ديا شايد اس کے ليے کافي نہ ہو۔ مجھے محمود سے مذہبي امور پر گفتگو کرنے ميں کبھي تکلف نہيں محسوس ہوا کيوں کہ ايک تو وہ ميرا دوست تھا، دوسرے، اسے اوروں کے مذہب بدلنے ميں کوئي دل چسپي نہيں تھي۔ مجھے ايسے موقعے کي تلاش رہتي جب وہ ہجوم سے دور اور تنہا ہو۔

ايک شب محمود نے مجھے اپنے اپارٹمنٹ پر اپني فيملي کے ساتھ ڈنر پر مدعو کيا۔ ميں وہاں پہنچا تو اس کي بہن رضيہ نے ميرا استقبال کيا۔ محمود اس وقت غسل خانے ميں تھا۔

ميں ڈرائنگ روم ميں بيٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ محمود کو موسيقي سے خاصا شغف تھا۔ ہر قسم کي موسيقي—راک اين رول، ردھم، اينڈبليوز، کلاسيکي۔ ليکن اس رات اس کے اسٹيريو سے عجيب قسم کي آوازيں آرہي تھيں۔ شايد يہ عربي زبان ميں مدھم سي لے ميں، مليح، ترنم ريز گنگناہٹ تھي، موسيقي کا استعمال نہيں تھا۔ ايک ہي مغني کے ذريعے دھيمےلہجے ميں، ہر حرف کي ادايگي پر توجہ ديتے ہوئے، کبھي تيز، کبھي زيريں لہر کے مانند، اپنے اندر زبردست جوش و ولولہ رکھنے والي غنائيت۔ ميں نے اس سے قبل کبھي ايسي چيز نہيں سني تھي۔

جب محمود کمرے ميں داخل ہوا تو اسٹيريو کي طرف آيا اور اسے بند کر ديا۔ ميں نے اس سے اس موسيقي کے بارے ميں پوچھا تو اس نے بتايا کہ يہ موسيقي نہيں بلکہ قرآن کے کسي قاري کي ٹيپ تھي۔ “کيا پورے قرآن ميں اتنا ہي خوب صورت تال اور ردھم ہے؟”ميں نے اس سے پوچھا۔ “کسي گيت کي طرح لگتا ہے— کيا يہ شاعري ہے؟”

اس نے پہلے سوال کا جواب ‘ہاں’ ميں اور دوسرے کا جواب ‘نہيں’ ميں ديا۔ اس نے مجھے بتايا کہ عربي شاعري کا اسلوب قرآن کے اسلوب سے بالکل جداگانہ ہے۔

ميں نے اس رات محمود سے قرآن کے بارے ميں مزيد کوئي سوال نہيں کيا۔ ميں پہلے ہي ترجمے ميں قرآن کي چمک اور طاقت سے متاثر ہوچکا تھا۔ ميرے ليے يہ ناقابلِ تصور تھا کہ قرآن ميں ايسي فطري نغمگي اور حسن بھي ہوسکتا ہے۔

•••

جب ميں اٹھائيس سال کي عمر کو پہنچا تو ميرا خيال تھا کہ ميں نے وجودِ باري کے انکار کے حق ميں دلائل کا ايک ناقابلِ تسخير قلعہ تعمير کرليا ہے، ليکن جب ميں نے قرآن پڑھا تو ميں نے اس قلعے کي ايک ايک اينٹ اکھڑتي ہوئي پائي۔ جب ميں نے اس کتاب کو ختم کرليا تو ميرے ذہن ميں بس ايک ہي بنيادي سوال باقي رہ گيا تھا—ميں اعمالِ صالحہ اور قربِ الٰہي کے بيچ کي کڑي کو نہيں سمجھ پايا تھا۔ آخر، جب ميں نے اسمائے حسنيٰ پر غور کرکے اس اہم ربط کو بھي دريافت کرليا، تو اس کو اتنا سادہ پايا کہ خود مجھے حيرت ہونے لگي۔ ميں اسے اپنے طور پر وضع نہيں کر سکتا تھا۔ قرآن پڑھنے سے مجھے اپنے خيالات کو نکھارنے، منظم کرنے اور ان کا تحليل و تجزيہ کرنے ميں بڑي مدد ملي۔ قرآن نے وہ کر دکھايا جس کا اس نے وعدہ کيا تھا۔ اس نے ميرے سوالات کے حل کي طرف رہ نمائي کي، آمادگي کي اس شرط کے ساتھ کہ ميں ان جوابات کا سامنا کرنے کو تيار ہوں- ليکن ميں نہيں جانتا تھا کہ اس تجربے کا کيا مطلب ہے، کيوں کہ مقصدِ حيات کے بارے ميں قرآن کا اور ميرا نقطہ نظر يکسر مختلف تھا۔ ميں بحث جيتنے کي کوشش کر رہا تھا، ليکن وہ خدا کي نشانيوں کو مسترد کرنے کے خوف ناک نتائج سے مسلسل خبردار کرتے ہوئے ايک روح کو جيتنے کي کوشش کر رہا تھا۔

ميں نے پايا کہ قرآن کے ساتھ اپنے ٹکراؤ کے بڑے حصے ميں ميں جارح رہا ہوں اور بے ادبي کے ساتھ کلامِ الٰہي کے خلاف دلائل لاتا رہا ہوں۔ کئي بار مجھے لگا کہ ميں يہ معرکہ جيتنے کے قريب ہوں، ليکن اب محسوس ہوتا ہے کہ ميں سارا وقت دفاعي موقف ہي ميں رہا۔ حقيقت اچانک ميرے سامنے اس وقت نمودار ہوگئي جب ميں نے اسمائے حسني کو ياد کيا۔ تبھي ميں نے محسوس کيا صورتِ حال ميرے خلاف تھي۔ اگرچہ ميں پسپائي اختيار کر رہا تھا، ليکن ميں ابھي سے سپر انداز ہونے والا نہيں تھا۔ مجھے اپنے خيالات مجتمع کرنے، اپنے موقف کا جائزہ لينے اور کچھ سوالات پر نظرِ ثاني کرنے کي ضروت تھي۔

ميں نے محسوس کيا کہ قرآن زندگي کا جامع تصور رکھتا ہے۔ اس ميں سب سے نماياں نکات ميں سے ايک يہ ہے کہ زمين پر زندگي کسي کے گناہ کي سزا نہيں، بلکہ ہماري تخليق کا ايک ارتقائي مرحلہ ہے۔ انسان کو اس کے مقامِ افضليت سے گرايا نہيں گيا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ماضي ميں وہ کسي وقت زيادہ ناپختہ رہا ہو، خيرو شر کي تميز اور فکري پختگي نہ رکھتا ہو، ليکن قرآن اس حالت کو مطلوب نہيں سمجھتا۔ جو چيز انسانوں کو دوسري مخلوق سے ممتاز کرتي ہے وہ ان کي عقل ہے۔ عقل سے انسان تمام مخلوقات ميں سب سے بہتر سيکھنے والا بنتا ہے۔ يہي خصوصيت ہے جو شايد انھيں دوسري مخلوق سے فائق تر بناتي ہے۔ قرآن ہميں ابتدائي سورہ ہي سے قصۂ آدم کے حوالے سے مطلع کرتا ہے کہ انسان زمين پر خدا کي نيابت کرنے کے قابل ہوں گے۔ سب سے پہلے انھيں خير و شر ميں فرق کرنے کي صلاحيت پيدا کرنے کي ضرورت ہے- انھيں اخلاقي نمائندے بننے کي ضرورت ہے۔ اور يہ اس وقت تک نہيں ہوسکتا تھا جب تک کہ انسان خير و شر کي تميز پالے، کہ وہ دنيا ميں اس ذمہ داري کو اٹھانے کے ليے تيارہے۔

يہ کار گاہِ خير بھي ہے بزمِ شر بھي ہے
دنيا قيام گاہ بھي ہے رہ گزر بھي ہے

زمين پر خدا کے نمائندے کي حيثيت ايک بھاري ذمے داري والا منصب ہے۔ اس کے ليے عاجزي، ايثار اور استقامت کي ضرورت ہے۔ يہ منصب خدا کا ايسا ايجنٹ بننے کا متقاضي ہے جو خدا کے خير کو اپنے واسطے سے دوسروں تک پہنچائے۔ اس کے ليے ضروري ہے کہ ان اوصاف ميں اضافہ کيا جائے جن کي اصل اور جن کا کمال خدائے برتر کي ذات ہے، اور ان تمام بھلائيوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے جو ہم ميں موجود ہيں۔ قرآن يقين دلاتا ہے کہ يہ کوئي آسان کام نہيں ہے، وہ اسے دشوار گزار گھاٹي سے تعبير کرتا ہے۔ ليکن وہ وعدہ کرتا ہے کہ ايسا کرنے کا اجر بہت عظيم ہوگا۔ نہ صرف نيکو کاروں کو اندروني سکون اور فلاح و بہبود حاصل ہوگي بلکہ وہ خدا کي لامحدود محبت کا تجربہ کرنے کي صلاحيت بھي پائيں گے۔ ہم جتنا زيادہ اس کا تجربہ کريں گے اور جتنا زيادہ خدا کے جمال سے آشنا ہوں گے، اتني ہي ہماري يہ زندگي اور اگلي زندگي خدا سے تعلق استوار رکھنے کے قابل ہوگي۔

زندگي کے مقصد کے اس تصور ميں يقيني طور پر عقلي اپيل ہے، ليکن کيا اس سے ہمارے زميني وجود کي وضاحت ہوتي ہے؟ کيا ہميں دنياوي جدوجہد کے مصائب اور آلام سے گزارے بغير مہربان، دردمند، سخي، سچا اور نيکو کار ہونے کے ليے پروگرام کرکے تخليق نہيں کيا جاسکتا تھا؟

يہاں وقت کا سوال نہيں ہے۔ ميں اپني تخليق کے اس مرحلے کے دورانيے پر سوال نہيں اٹھا رہا ہوں کيوں کہ جيسا کہ قرآن ہميں بتاتا ہے کہ وقت فريب ہے، اور خدا زمان اور مکان سے بالا ہے، خدا کے ليے وقت ايک ہے، واحد ابدي لمحہ جو وقت کي جکڑبنديوں کا پابند نہيں۔ سو، خواہ ہماري تخليق کئي صديوں ميں واقع ہو يا ايک ثانيے کے ہزارويں حصے ميں، يہ غير متعلق امر ہے، کيوں کہ خدا کے نزديک يہ صرف ايک امر ہے: “ہوجا! اور يہ ہوگيا۔”ہر چند کہ وقت کے خلاف ميرے پاس کوئي دليل نہيں تھي، تاہم ميں نے تخليق کے بعض ديگر پہلوؤں، خاص طور پر انساني مصائب کي ضرورت پر سوال اٹھايا۔

قرآن ميں سب سے دل چسپ خيالات ميں سے ايک يہ ہے کہ خدا مسلسل اور مراحل ميں تخليق کرتا ہے۔ اشيا اپني حتمي شکل ميں يونہي وجود ميں نہيں آجاتيں بلکہ وہ ارتقا کي مسلسل راہ سے گزر کر ظاہر ہوتي ہيں۔

اور وہ کون ہے جو خلق کي ابتدا کرتا اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ (۱۰: ۴؛ ۲۷: ۶۴)

ہم نے انسان کو مٹي کے ست سے بنايا،پھر اسے ايک محفوظ جگہ ٹپکي ہوئي بوند ميں تبديل کيا،پھر اس بوند کو لوتھڑے کي شکل دي، پھر لوتھڑے کو بوٹي بنا ديا، پھر بوٹي کي ہڈياں بنائيں، پھر ہڈيوں پر گوشت چڑھايا، پھر اسے ايک دوسري ہي مخلوق بنا کھڑا کيا۔ پس بڑا ہي بابرکت ہے اللہ، سب کاريگروں سے اچھا کاريگر۔ پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے،پھر قيامت کے روز يقينا تم اٹھائے جاؤ گے۔ (المومنون: ۱۲-۱۶)

کيا ان لوگوں نے کبھي ديکھا ہي نہيں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کي ابتدا کرتا ہے، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ يقينا ًيہ (اعادہ تو) اللہ کے ليے آسان تر ہے۔ان سے کہو کہ زمين ميں چلو پھرو اور ديکھو کہ اس نے کس طرح خلق کي ابتدا کي ہے، پھر اللہ بارِ ديگر بھي زندگي بخشے گا۔ يقينا اللہ ہر چيز پر قادر ہے۔(العنکبوت: ۱۹- ۲۰)

اُسي نے تم کو ايک جان سے پيدا کيا، پھر وہي ہے جس نے اُس جان سے اُس کا جوڑا بنايا۔ اور اسي نے تمھارے ليے مويشيوں ميں سے آٹھ نرومادہ پيدا کيے۔ وہ تمھاري ماؤں کے پيٹوں ميں تين تين تاريک پردوں کے اندر تمھيں ايک کے بعد ايک شکل ديتا چلا جاتا ہے۔ يہي اللہ (جس کے يہ کام ہيں) تمھارا رب ہے، بادشاہي اس کي ہے، کوئي معبود اس کے سوا نہيں ہے۔ پھر تم کدھر سے پھرائے جارہے ہو؟ (الزمر: ۶)

کيا انسان نے يہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ يونہي مہمل چھوڑ ديا جائے گا ؟کيا وہ ايک حقير پاني کا نطفہ نہ تھا جو (رحمِ مادر ميں ) ٹپکايا جاتا ہے؟پھر وہ ايک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنايا اور اس کے اعضا درست کيے (القيامة: ۳۶-۳۸)

وہ اللہ ہي ہے جس کے سوا کوئي معبود نہيں۔ وہ بادشاہ ہے نہايت مقدس سراسر سلامتي امن دينے والا نگہبان سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا اور بڑا ہي ہو کر رہنے والا۔پاک ہے اللہ اُس شِرک سے جو لوگ کر رہے ہيں۔وہ اللہ ہي ہے جو تخليق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گري کرنے والا ہے۔ اس کے ليے بہترين نام ہيں ہر چيز جو آسمانوں اور زمين ميں ہے اُس کي تسبيح کر رہي ہے۔ اور وہ زبردست اور حکيم ہے۔ (الحشر: ۲۳-۲۴)

اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھي پلٹنا نہيں ہے۔ہاں ! (پلٹنا کيسے نہ تھا !) اُس کا ربّ اُس کے کرتوت ديکھ رہا تھا،پس نہيں ! ميں قسم کھاتا ہوں شفق کي !اور رات کي قسم ! اور جو کچھ وہ سميٹ ليتي ہے،اور چاند کي قسم ! جب کہ وہ ماہِ کامل ہو جاتا ہے، تم کو ضرور درجہ بدرجہ ايک حالت سے دوسري حالت کي طرف چلے جانا ہے۔پھر اِن لوگوں کو کيا ہو گيا ہے کہ يہ ايمان نہيں لاتے؟ (الانشقاق: ۱۴-۲۰)

مخلوقات کو وجود ميں لانے کے علاوہ خدا کي تخليق ميں ان کے ارتقا کي رہ نمائي اور پرورش شامل ہے۔ يوں، کوئي مخلوق اپنے بننے کے عمل سے مسلسل گزرتي ہے، وہ ہميشہ ايک تغير پذير وجود رہتي ہے۔ مظاہر کي پوري دنيا تبديلي اور تغير کے تابع ہے۔ مطلق ذات صرف خدا کي ہے۔

قرآن قدرت کے کاموں کے سلسلے ميں اپنے بہت سے بيانات سے بتاتا ہے کہ کس طرح خدا ہر زندہ شے کو اس کے وجود اور نشوونما کے ليے موزوں ماحول اور آئين فراہم کرتا۔ ايک درخت کو مٹي، سورج، بارش، ہوا، جينياتي کوڈ اور وہ سب کچھ ملتا ہے جو اس کے جينے اور بڑھنے کے ليے ضروري ہے۔ يہي بات انسان سميت ہر مخلوق کے بارے ميں بھي کہي جا سکتي ہے۔ تاہم قرآن ہميں ياد دلاتا ہے کہ اس زندگي ميں ہماري بنيادي نشوونما جسماني نہيں بلکہ روحاني ہے۔ ہم يہاں ان خوبيوں ميں اضافہ کرنے کے ليے آئے ہيں جو خدا کي کمال صفات کي عکاس ہوں۔ اس کے بعد سوال يہ پيدا ہونا چاہيے کہ کيا ہميں ايسا ماحول اور آئين فراہم کيا گيا ہے جو ہماري روحاني نشوونما کے ليے موزوں ہو اور اگر ہاں، تو کيا اگر اس سے مصائب کو منہا کرديا جاتا تب بھي يہ اتنا ہي کارگر ہوتا؟

حق کي دريافت کي کليد درست سوالات کي جستجو ميں مضمر ہے، ايسے سوالات جو کليدي مسائل کو پہچان سکيں۔ جب ہم اپني تحقيق کي ابتدا کرتے ہيں تو عام طور پر ہمارے سوالات عمومي نوعيت کے اور بہت سے ذيلي سوالات کے حامل ہوتے ہيں۔ تحقيق ميں کام يابي کي صورت ميں ہم اپني تحقيق کو حد درجہ سادہ سوالات ميں تقسيم کرنے اور پھر ايک ايک کر کے ان کا جواب دينے کے قابل ہو جاتے ہيں۔ قرآن نے مجھے يہي کرنے ميں مدد کي۔ اس نے مجھے ہميشہ راست جوابات فراہم نہيں کيے، بلکہ ميرے استفسار کے عمل ميں رہ نمائي کي۔

جب ميں مندرجہ بالا سوال پر پہنچا تو مجھے جواب کے ليے زيادہ تگ و دو نہيں کرني پڑي۔ يہ بات بالکل واضح ہے کہ ہميں ايک ايسا ماحول اور آئين فراہم کيا گيا ہے جو نيکي ميں ہماري نشوونما کے ليے موزوں ہے۔ خود ہمارے اندر اور تاريخ ميں ايسے لوگوں کي بہت سي مثاليں موجود ہيں جو خير و صلاح کي اعليٰ سطحوں پر فائز ہيں۔ حتيٰ کہ مجرموں کے بھي واقعات موجود ہيں جن کي زندگي کا دھارا بالآخر بدل گيا اور وہ خير کے نمونے بن گئے۔ خود مجھے زندگي ميں صحيح و غلط ميں سے کسي ايک کا انتخاب کرنے کے بے شمار مواقع ملے جن سے ميں نے برائي کے تباہ کن اور اچھائي کے مثبت اثرات کے بارے ميں سيکھا ہے۔ مشاہدے اور تجربے سے ميں نے پايا کہ غلط اور صحيح طرز عمل دونوں عادت کا حصہ بن سکتے ہيں اور کسي کي شخصيت کو متاثر کرسکتے ہيں۔

مجھ پر اب يہ حقيقت منکشف ہونے لگي تھي کہ نيکي ميں ترقي کے ليے مصائب از بس ضروري ہيں۔ يہي بات انساني عقل اور ارادے کے بارے ميں بھي کہي جا سکتي ہے۔ مصائب، ذہانت اور انتخاب، جن ميں سے ہر ايک پر قرآن بار بار زور ديتا ہے، ہمارے روحاني ارتقا ميں تينوں کے بنيادي کردار ہيں۔ مثال کے طور پر رحم دلي ميں ترقي کرنا مصائب و آلام کي موجودگي کے بغير ناقابلِ فہم ہے۔ اس کے ليے انتخاب کي بھي ضرورت ہوتي ہے يعني کسي ضرورت مند تک پہنچنے يا اسے نظر انداز کرنے کي صلاحيت۔ عقل اس ليے ضروري ہے تاکہ اندازہ لگايا جاسکے کہ مصيبت زدہ کي مدد کرنے ميں خود کو کتنا کھپانا ہے۔ اسي طرح حق بياني ميں جھوٹ نہ بولنے کا انتخاب شامل ہے، جب راست گوئي سے ذاتي نقصان اور تکليف پر بن آئے تب اس کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اور فرد کي عقل اسے فيصلہ کرنے کي صلاحيت ديتي ہے۔ شادي کے موقع پر نوبياہتا جوڑے سے ليا جانے والا معروف عہد کہ وہ تاحيات ايک دوسرے کي صحت مندي اور بيماري، ثروت مندي اور غربت ميں رفيق بنيں رہيں گے، دراصل محبت ميں انتخاب، مصائب اور عقل ہي کے کردار سے تعلق رکھتا ہے۔ اس ليے کہ عواقب کو جانتے ہوئے يہ وعدہ ہر سرد و گرم حالات ميں شادي شدہ جوڑے کے ايک دوسرے کے تئيں خيرخواہي و وفاداري کا انتخاب ہے۔ درگزر کرنا دوسروں کے برے رويے اور شر کو جانتے ہوئے ان کي زيادتي کو معاف کرنے کا انتخاب ہے۔ يہي بات تمام اوصافِ حميدہ کے بارے ميں کہي جا سکتي ہے—ان اوصاف کا تجربہ کرنے کے ليے عقل، ارادہ اور مصائب ناگزير ہيں۔

اگرچہ يہ اوصاف تجريدي ہيں اور ان کا تجزيہ کرنا مشکل ہے، تاہم ان کے پروگرام کيے جانے کا يہ تصور محال ہے کہ وہ بہت اعلي سطح پر کسي مخلوق ميں انتخاب، عقل اور مصائب کے کچھ علم کے بغير بھي پائي جاسکتي ہيں۔ کارِ خير ، کام (action) سے آگے کي شے ہے—اس ميں ارادہ، فہم اور کار خير کرنے والا شامل ہے۔ کمپيوٹر کو ہميشہ درست کام کرنے کے ليے پروگرام کيا جاسکتا ہے، ليکن ہم اس کے کام کو راستي يا دانش مندي نہيں قرار ديں گے۔ اسٹيتھوسکوپ بيماروں کي مدد کرنے کے ليے بنايا گيا آلہ ہے، ليکن ہم اسے رحم دل نہيں سمجھتے۔ قرآن کہتا ہے کہ فرشتوں کو آزادي ارادہ حاصل نہيں ہے، تاہم انسان فرشتوں سے اوپر اٹھنے کي صلاحيت رکھتے ہيں۔

کسي کام کو جو چيز نيک کام بناتي ہے وہ يہ ہے کہ اسے کرنے کا ارادہ اور اس کے کرنے کے نتيجے ميں پوري ہونے والي ضرورت کا ادراک موجود ہو۔ اگر ميں گلي ميں کيلے کا چھلکا پھينک دوں اور کئي گھنٹوں کے بعد کوئي چور اسي گلي ميں کسي بزرگ کي جيب کاٹنے کے ارادے سے آگے بڑھے اور کيلے کے چھلکے سے پھسل جائے اور يہ جرم انجام نہ دے سکے، تو ميرا گلي ميں چھلکا پھينکنا ميري طرف سے انصاف يا ہم دردي کا عمل نہيں ہے۔ جرم کي ميري روک تھام بالکل نادانستہ ہے، اس ميں نہ ميرے ارادے کا کوئي دخل ہے نہ ميري عقل کا۔ اگر ميں کسي معروف ارب پتي کو گمنام طور پر پانچ ڈالر ڈاک کرتا ہوں تو يہ شايد ہي کارِ خير ہو، کيوں کہ اس کا رخ اس شخص کي طرف ہے جسے مال کي ضرورت نہيں۔ اس سے کوئي يہ مطلب نہ نکالے کہ ارادہ، عقل اور کسي کم زوري يا ناانصافي کا ادراک ہي نيک کام کے اجزا ہيں—يہ اس سے کہيں زيادہ پيچيدہ اور گہرا ہے— تاہم يہ تينوں عناصر کسي نہ کسي حد تک ضرور موجود ہونے چاہئيں تبھي کارِ خير واقع ہوگا۔

ميرے ہائي اسکول کے فٹ بال کوچ نے لاکر روم ميں ايک پلے کارڈ آويزاں کر رکھا تھا جس پر لکھا تھا: “اگر رنج نہيں، تو راحت بھي نہيں”(no pain, no gain)، يعني جسماني طور پر مضبوط بننے کے ليے ہميں تکليف اٹھانے کے ليے تيار رہنا ہوگا۔ ميرے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ سيکھنا محنت اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔ رياضي کے ايک پروفيسر نے ايک بار مجھے بتايا تھا کہ جو مسائل دشوار ہوتے ہيں انھي سے ہم سب سے زيادہ سيکھتے ہيں۔ مجھے ان ميں سے کسي مقولے پر کبھي شبہ نہيں رہا کيوں کہ يہ سامنے کي باتيں ہيں اور فطري بھي۔ قرآن اس بات کي نشان دہي کرتا ہے کہ يہي فطري قانون ہمارے روحاني ارتقا پر بھي لاگو ہوتا ہے۔ انسان اعليٰ عقل کي حامل مخلوق ہے جو سيکھنے کے ذريعے آگے بڑھتا ہے، ليکن سيکھنے کے ليے امتحان ناگزير ہے—يہ ايک ايسا نکتہ ہے جسے قرآن بار بار بيان کرتا ہے۔ اخلاقي و روحاني ارتقا ميں ارادہ، ضبط ِنفس، عقل کا استعمال، اس کي نشو و نما نيز مصائب کا تجربہ خصوصي کردار ادا کرتے ہيں۔

اخلاقي انتخاب کے ليے ہمارے اختيارات کي درستي و نادرستي کي شناخت بھي ضروري ہے، جس سے ہمارے فرشتہ صفت يا شيطان صفت محرکات کي وضاحت ہوتي ہے۔ يہ دونوں قسم کے محرکات ہم پر بيک وقت ہمارے بہت سے فيصلوں کي اخلاقيات کي نشان دہي کرنے اور ان کي انگيخت ميں مصروف کار ہوتے ہيں اور باہم مل کر روحاني ارتقا کے ليے محرک و مہيج فراہم کرتے ہيں۔ وحي کا ايک تکميلي کردار ہے جو خير و شر کے رويوں ميں تميز کرتي اور روحاني ارتقا کي راہ روشن کرتي ہے۔

مجھے يہ بات سمجھ ميں آنے لگي تھي کہ قرآن کے قصہ آدم  (البقرة: ۳۰-۳۹) ميں جو عناصر متعارف کرائے گئے ہيں وہ اس کے ديے گئے مقصدِ حيات سے کس قدر ہم آہنگ ہيں۔ وجودِ باري کے خلاف ميرے دلائل بھي تيزي سے مسمار ہوتے جارہے تھے۔ اگرچہ اس سے بجائے خود کچھ ثابت نہيں ہوتا، تاہم ميں سوچا کرتا تھا انکارِ خداوندي کے ليے ميرے پاس اچھي وجہيں موجود ہيں۔

جب گناہ بار بار سرزد ہو

ميري پرورش کسي حد تک مجرمانہ ماحول ميں ہوئي ہے۔ تقريباً ہر بچہ جسے ميں جانتا تھا کسي نہ کسي غير قانوني شغل ميں مبتلا تھا۔ اگرچہ ميں نے کبھي منشيات کو ہاتھ نہيں لگايا کيوں کہ ميں اپنے والد، چار بھائيوں، دو چچاؤں اور بہت سے دوستوں کو نشے کي لت ميں برباد ہوتے ہوئے ديکھا چکاتھا۔ نہ ہي ميں کسي جنسي بے راہ روي کا شکار ہوا، ايسے ماحول ميں جہاں زنا کو قانوني تائيد حاصل ہے، اور اس کے مواقع بھي موجودہيں۔ ميں نے گروہي جھگڑا فساد اور تشدد سے بھي حتي الامکان بچنے کي کوشش کي کيوں کہ ميرا ارادہ اپني بقيہ زندگي برج پورٹ، کنيکٹيکٹ يا رياستي جيل ميں گزارنے کا قطعي نہيں تھا۔ مجموعي طور پر ميري زندگي خاصي سيدھي سادي تھي۔ تاہم ميں يہ نہيں کہہ سکتا کہ ميں برائي سے پاک تھا۔

جب ميں گيارہ سال کا تھا تو ميں نے اپني پہلي چوري کي۔ سينٹ اينڈريو اسکول سے گھر جاتے ہوئے ميں نے ايک سپر مارکيٹ سے چيونگم کے دو ڈبے اڑا ليے تھے ،جن کي قيمت معمولي تھي۔ ميں اتنا گھبرايا ہوا تھا کہ مجھے يہ ‘کارنامہ’انجام دينے ميں پندرہ منٹ لگ گئے۔ ميں ڈبے لے کر باہر کي طرف جاتا، پھر سوچتا کہ شايد کوئي مجھے ديکھ رہا ہو، اور دوبارہ انھيں کينڈي سيکشن ميں رکھ ديتا۔ ايک دو بار ايسا کرنے کے بعد، ميں نے انھيں دکان کے اندر فرش پر آٹوميٹک داخلي دروازے کے قريب چھپانے کا فيصلہ کيا۔ ميں نے فيصلہ کيا کہ سپر مارکيٹ سے خالي ہاتھ نکل جاؤں اور دوبارہ وہاں آکر خودکار دروازہ کھولنے کے ليے ربڑ کے ميٹ پر قدم رکھوں اور چھپائے گئے پيکٹ اٹھاکر وہاں سے کھسک جاؤں۔ ميں نے نوٹ کيا تھا کہ اسٹور کے گارڈ بيروني دروازوں پر نظر رکھتے تھے، داخلي دروازوں پر نہيں۔

اب اتنے برسوں بعد، مجھے يہ بات مضحکہ خيز لگتي ہے کہ ميرا منصوبہ کام ياب رہا۔ پارکنگ ميں ميري ملاقات دوستوں سے ہوگئي۔ جب ميں نے انھيں اپنا ‘کارنامہ’ بيان کيا، اس وقت ميرا دل تيزي سے دھڑک رہا تھا۔ مجھے پکڑے نہ جانے سے بڑي راحت ملي اور ميرے دوست بھي ميري کام يابي سے شايد اتنے ہي جوش ميں تھے جتنا ميں تھا۔ انھوں نے ايک ہيرو کي طرح مجھے سراہا۔ گويا ميں نے ابھي فٹ بال ميچ ميں مشکل گول کرديا ہو۔ ليکن جب ميں اپنے گھر پہنچا تو ميري ساري خوشي کافور ہوگئي۔ ماں پر نظر پڑتے ہي احساس جرم کے شديد ريلے نے ذہن کو ماؤف کرديا۔ ميري ماں ايمان داري کا پيکرتھي اور مجھ پر بے پناہ اعتماد کرتي تھي۔ ميں جانتا تھا کہ اگر اسے پتہ چل جائے کہ ميں نے کيا کيا ہے تو اس سے اُسے کس قدر تکليف ہوگي۔

ميں پوري رات نہيں سو سکا۔ ايک شديد بے چيني نے مجھے آليا تھا۔ اپنے جرم کا رہ رہ کر خيال آتا۔ اس رات مجھے خدا بھي يادآيا۔ ايسا محسوس ہوا جيسے وہ ميرے چاروں طرف ہے، مجھے گھير رہا ہے، ميري طرف ديکھ رہا ہے، غصے سے نہيں، بس يونہي ديکھ رہا ہے، تقريباً لاتعلقي سے۔ ميں نے بے حد خوف ناک ندامت محسوس کي۔ کاش ميں اس دن سے چھٹکارا پاسکوں، اسے اپني زندگي سے حذف کرسکوں۔ مجھے خواہش ہوئي کہ ميں جاکر چيونگم واپس کردوں، ليکن اس کا بڑا حصہ تو دوستوں کو بانٹ چکا تھا۔ ميں نے سوچا کہ سپر مارکيٹ سے دو پيکٹ خريدکر اسي شيلف پر واپس رکھ دوں گا۔ ليکن ميں دوبارہ اس کے قريب بھي جانے کي ہمت نہيں کرسکا۔ اگلے دس بارہ برسوں کے دوران ميں ميں اسي طرح کي چھوٹي موٹي ہاتھ کي صفائي دکھاتارہا۔ مجھے ياد پڑتا ہے کہ ميں نے دس ڈالر سے زيادہ ماليت کي کوئي چيز کبھي چوري نہيں کي، اور پانچ چھ مرتبہ سے زيادہ ايسا نہيں کيا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اس کام ميں مہارت حاصل ہوگئي تھي، اور ميں کبھي پکڑا نہيں گيا۔

جب ميں اکيس سال کا تھا تو ميں نے کيمپس کے قريب ايک اطالوي ريستوراں ميں ايک دوست کو پزا کے ليے مدعو کيا۔ جب ہم نے کھانا ختم کرلياتو ميں نے کھانے کے بل کو اپني جيب ميں ڈال ليا اور کيش رجسٹر کے پاس جاکر کيشيئر سے چيونگم کا پيکٹ مانگا اور ايک ڈالر کاؤنٹر پر کھسکاديا۔ کيشيئر نے چيونگم کي قيمت کاٹ کر بقيہ ريزگاري لوٹائي اور ميں اپنے دوست کے ساتھ ڈنر کي ادايگي کيے بغير ريستوراں سے باہر نکل گيا۔

ميرے دوست نے حيرت کا اظہار کيا کہ کتني آساني سے ميں نے ريستوراں کو ٹھگ ليا۔ خاص طور پر وہ اس جرأت سے متاثر ہوا کہ ميں چيونگم کے پيکٹ کے ليے کيشيئر کے پاس چلا گيا تھا، بجائے اس کے کہ وہاں سے جلد ي سے کھسک ليتا۔ ميں نے اسے سمجھايا کہ کالج ٹاؤن کے ويٹر طلبا پر نظر رکھتے ہيں، ليکن جب آپ کو وہ کيش کاؤنٹر پر ديکھتے ہيں تو سمجھتے ہيں کہ شايد آپ بل ادا کر رہے ہوں گے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کيا کبھي مجھے احساس ِندامت نہيں ہوا۔ تو ميں نے کہا کہ ماضي ميں ہوتا تھا، اب نہيں، مشق کے ساتھ يہ کام آسان ہو گيا ہے۔

شايد يہ آخري بار تھا جب ميں نے ايسي حرکت کي تھي۔ ميں نہيں جانتا کہ اس عادت سے ميں باز کيسے آيا۔ شايد اس کي وجہ يہ ہو کہ ميري مالي حالت ميں بہتري آچکي تھي۔ شايد برج پورٹ سے تقريباً چار سال تک دور رہنا اس کي وجہ ہو۔ يا شايد مجھے لگا ہو کہ اب پکڑے جانے کا خطرہ مول لينا مناسب نہيں ہے۔ ميں بس يہ جانتا ہوں کہ ماضي کي اس عادت کي وجہ سے اب ايک بار پھر ميں پشيماني کے سمندر ميں غوطے کھا رہا ہوں۔

•••

اگر ہماري زندگي کا مقصد ان خوبيوں ميں اضافہ کرنا ہے جن کا منبع و کمال ذاتِ باري ہے تاکہ ہم اس کي صفات اور قرب کا تجربہ کرسکيں اور اگر نيک اعمال اس ارتقا ميں معاون ہوتے ہيں، اور برے کاموں سے اسے نقصان پہنچتا ہے، تو خير و شر سے اگر کسي کو سب سے زيادہ فائدہ يا نقصان پہنچتا ہے تو وہ کرنے والے کي ذات ہي ہے۔ اس ليے قرآن ميں کہا گيا ہے:

ديکھو تمھارے پاس تمھارے ربّ کي طرف سے بصيرت کي روشنياں آگئي ہيں، اب جو بينائي سے کام لے گا اپنا ہي بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا۔ (الانعام: ۱۰۴)

اور يہ قرآن پڑھ کر سناؤں ” اب جو ہدايت اختيار کرے گا وہ اپنے ہي بھلے کے ليے ہدايت اختيار کرے گا اور جو گم راہ ہو اس سے کہہ دو کہ“ ميں تو بس خبردار کر دينے والا ہوں۔”(النمل: ۹۲)

جو شخص بھي مجاہدہ کرے گا اپنے ہي بھلے کے ليے کرے گا۔ اللہ يقنا دنيا جہان والوں سے بے نياز ہے۔ (العنکبوت: ۶)

(اے نبي ﷺ) ہم نے سب انسانوں کے ليے يہ کتاب برحق تم پر نازل کر دي ہے۔ اب جو سيدھا راستہ اختيار کرے گا اپنے ليے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسي پر ہوگا، تم اُن کے ذمّہ دار نہيں ہو۔ (الزمر: ۴۱)

مسلسل غلط کام کے نتيجے ميں برے کام کرنے والوں کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ داخلي نوعيت کا ہوتا ہے۔ برے اعمال نيکي کے اضافے ميں رکاوٹ کا سبب بنتے ہيں اور روحانيت کو ختم کرتے ہيں، جو لوگ ہٹ دھرمي کے ساتھ نيکي کے کاموں کو مسترد کرتے ہيں وہ خود پر ظلم کرتے ہيں اور روحاني زوال کا شکار ہوجاتے ہيں۔ اگلي زندگي ميں سکون پانے کے ليے جو کرنا چاہيے اس کے بجائے، وہ اس کے بالکل برعکس کام کرتے ہيں۔ ان ميں ايسي خصوصيات پيدا ہوجاتي ہيں جو انھيں اس جمال سے محروم کرديتي ہيں جو بہ صورت ديگر آخرت ميں ان کا منتظر ہوتا۔ جس برائي کے وہ عادي ہوجاتے ہيں وہ ان کے پورے وجود ميں پھيل جاتي ہے، يہاں تک کہ وہ سراپا برائي بن جاتے ہيں۔ يہ آخري خسارہ ہے، کيوں کہ اگلي دنيا ميں يہي شے ان کے ساتھ جائے گي۔ قرآن اعمال اور آخرت ميں انساني حالت کے درميان کے اس ربط کو زبردست علامتي انداز ميں پيش کرتا ہے۔ کسي شخص کے برے اعمال اس کي گردن لٹکے ہوں گے (بني اسرائيل: ۱۳؛ سبا: ۳۳؛ يٰس: ۸)۔ ہماري زبانيں، ہاتھ، پاؤں اور کھاليں ہمارے اعمال کي گواہي ديں گي (النور: ۲۴، يٰس: ۶۵)۔ ہميں اپنے کيے کا پھل ملے گا (الصٰفّٰت: ۳۹-۶۸)۔ جو اس دنيا ميں روحاني طور پر اندھا بن کر رہا آخرت ميں اسے اندھا اٹھايا جائے گا (بني اسرائيل: ۷۲) جو لوگ اس دنيا ميں خدا کے نور ميں رہيں گے، قيامت ميں ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ (الحديد: ۱۲؛ التحريم: ۸)۔ ہر عمل خواہ وہ بڑا ہو يا چھوٹا، اپنا اثر ظاہر کرے گا (الزلزال: ۷-۸)۔ ان تصريحات سے پتہ چلتا ہے کہ آخرت ميں ہماري حالت اس دنيا ميں زندگي کے خاتمے کے وقت ہماري روحاني حالت کے حسبِ حال ہوگي۔ جس طرح نوزائيدہ بچہ جب اس دنيا ميں آتا ہے تو اس کي جسماني حالت رحمِ مادر ميں اس کي جسماني نشو و نما کے حسبِ حال ہوتي ہے، اسي طرح انساني وجود بھي جب آخرت کي زندگي ميں داخل ہوگا تو اس دنيا کي زندگي ميں اس کي کمائي ہوئي نيکي يا برائي کا عکاس ہوگا۔ اگلي زندگي ميں ايسي حالت ميں داخل ہونا کہ وجود بدي اور شر کا نمائندہ ہو گويا اس دنيا ميں بدہيئت اور ايسا وجود لے کر پيدا ہونا ہے جو ان چيزوں سے محروم ہو جو جينے کے ليے ضروري ہيں۔ چناں چہ، يہ کوئي حيرت کي بات نہيں ہے کہ گناہ کي زندگي خود کو تباہ کرلينے کے مترادف ہے۔

انھوں نے جو کچھ کيا تو ہم پر ظلم نہيں کيا بلکہ آپ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔ (البقرة: ۵۷؛ الاعراف: ۱۶۰)

اور جو کوئي اللہ کي حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ (البقرة: ۲۲۹؛ الطلاق: ۱)

اللہ نے اُن پر ظلم نہيں کيا درحقيقت يہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہيں۔ (آل عمران: ۱۱۷)

يہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہي اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ (التوبہ: ۷۰؛ النحل: ۳۳؛ العنکبوت: ۴۰؛ الروم: ۹)

ہم نے ان پر ظلم نہيں کيا، انھوں نے آپ ہي اپنے اوپر ستم ڈھايا۔ (ھود: ۱۰۱)

اے ميرے بندو، جنھوں نے اپني جانوں پر زيادتي کي ہے اللہ کي رحمت سے مايوس نہ ہو جاؤ، يقينا اللہ سارے گناہ معاف کر ديتا ہے وہ تو غفور، رحيم ہے۔ (الزمر: ۵۳)

قرآن آخرت ميں نجات کے ليے اس زندگي ميں کمال پر اصرار نہيں کرتا۔ يہ اس زندگي کو ہمارے ارتقا کے ايک مرحلے کے طور پر پيش کرتا ہے جس ميں ہم سے غلطياں صادر ہونا يقيني امر ہے ،جن سے ہميں سيکھنے کي توقع کي جاتي ہے۔ روز جزا کي ايک اہم علامت جو آخرت ميں ہماري اخلاقي و روحاني ارتقا کي حالت سے متعلق ہے وہ ميزان ہے جس سے قيامت کے روز لوگوں کے اعمال کو تولا جائے گا۔ جن لوگوں کے اعمال ميزان پر بھاري ہوں گے وہ بنيادي طور پر نيکو کار اور پرہيزگار ہوں گے اور ان کے ليے مسرت اور نجات ہوگي، جب کہ جن لوگوں کے ليے ميزان ہلکے پائے جائيں گے وہ برے لوگ ہوں گے اور اپني اس بربادي کے ليے خود ذمہ دار ہوں گے جس کا انجام بھي نہايت بھيانک ہوگا۔(ديکھيے، الاعراف: ۸-۹؛ الشوريٰ: ۱۷؛ القارعہ: ۶-۱۰)

سعي و خطا (trial and error)—مسئلہ حل کرنے کا وہ طريقہ جس ميں غلطيوں کو رد کرکے صحيح حل تک پہنچا جائے—ہمارے ارتقا کا ايک لازمي جز ہے جس سے ہم فکري و روحاني طور پر اپنے انتخاب سے سيکھتے اور آگے بڑھتے ہيں۔ جب ہم سے کوئي ايسي غلطي سرزد ہوجائے جس کے اخلاقي پہلو ہوں تو يہ گناہ بن جاتا ہے جس کي سنگيني و نقصان اس کي شدت کو جانتے ہوئے اس پر اصرار کرنے سے بڑھتے ہيں (ديکھيے، بني اسرائيل: ۱۸)۔ پھر اگر ہم اپني غلطيوں پر نادم ہوں، توبہ کريں اور اس کے بعد نيکي کے کام کريں تو جو سبق ہم سيکھتے ہيں وہ خاص طور پر مفيد ثابت ہو سکتا ہے؛ اس طرح ہم نے جو خطا کي تھي اس کے تجربے کي سيکھ ہمارے کام آسکتي ہے اور نيکي ميں ہمارے ارتقا ميں حصہ ڈال سکتي ہے۔

اِلاّ يہ کہ کوئي (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ايمان لا کر عملِ صالح کرنے لگا ہو۔ ايسے لوگوں کي بُرائيوں کو اللہ بھلائيوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحيم ہے۔ (الفرقان: ۷۰)

گناہ نہ کرنا ايک بات ہے کيوں کہ ہميں ان سے بچنے کي تاکيد کي گئي، مذکورہ بالا بات بالکل دوسري ہے کيوں کہ ہم ذاتي طور پر اس کے نقصان کا تجربہ کرليتے ہيں۔ اس صورت ميں گناہ سے بچنے کي تاکيد کے پيچھے کي حکمت ہمارے دل و دماغ پر نقش ہوجاتي ہے اور گناہ سے گريز اس کي ممانعت کے سبب سے نہيں بلکہ اس ليے کيا جاتا کہ نفس جبلي طور پر اس اندروني خلفشار کي طرف لوٹنے کے امکان سے پيچھے ہٹ جاتا ہے جس سے وہ پہلے گزر چکا ہوتا ہے۔

جس طرح ہمارے فکري ارتقا کے ليے سعي و خطا ( trial and error) ضروري ہے، اسي طرح ہمارے روحاني ارتقا کے ليے بھي يہ ضروري ہے۔ خطا، احساس اور اصلاح کے امکانات کے بغير ہماري روحانيت جمود کا شکار ہو جائے گي۔ اسي ليے توبہ کي بڑي اہميت ہے جس کي طرف قرآن ہميں بار بار بلاتا ہے۔ توبہ اعتراف گناہ کو تبديلي کي خواہش کے ساتھ جوڑتي ہے، ليکن ذاتي تبديلي بے حد مشکل ہوسکتي ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا توبہ کرنے والے کو تنہا جدوجہد کرنے کے ليے نہيں چھوڑ ديتا بلکہ وہ توبہ کرنے والے کي طرف متوجہ ہوتا ہے۔ يہ مطلقيت سے آگے کي چيز ہے۔ خدا ہماري توبہ کا جواب ديتا ہے، ہماري مدد کرتا ہے اور ہميں اپني محبت اور رحمت سے نوازتا ہے (آل عمران: ۳۱)۔ وہ توبہ کرنے والے کي روحاني تربيت کرتا ہے (الحديد: ۲۸)۔ قرآن اکثر کہتا ہے کہ خدا مہرباني، درگزر اور رحمت کے ساتھ گناہ گار کي طرف “متوجہ”ہوتا ہے، جس طرح والدين اپنے بيمار يا زخمي بچے کي طرف متوجہ ہوتے ہيں۔ کلام الہي ميں خدائي صفت “التواب”جب بھي استعمال کي گئي ہے، اس کي نسبت ہميشہ خدا کي درگزر کي طرف کي گئي ہے جس سے اس تاثر کو تقويت ملتي ہے کہ خدا کي معافي ان لوگوں کے ليے اُس کي رحمت کا جواب ہے جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہيں اور معافي کے خواستگار ہيں۔(ديکھيے، البقرة: ۳۷؛ البقرة: ۵۴؛ البقرة: ۱۶۰؛ آل عمران: ۱۶؛ آل عمران: ۶۴؛ التوبہ: ۱۰۴؛ التوبہ: ۱۱۸؛ النور: ۱۰؛ الحجرات: ۱۲؛ النصر: ۳)

ہم سے جو بھي گناہ سرزد ہوتے ہيں وہ اپني شدت ميں يکساں نہيں ہوتے۔ ان ميں سے بعض ہميں دوسروں سے کہيں زيادہ نقصان پہنچاتے ہيں۔ اس کے علاوہ اچھے اعمال برے کاموں کے برے اثرات کو دور کر سکتے ہيں اور نيکي کے مثبت اثرات بدي کے منفي نتائج سے کہيں زيادہ ہو سکتے ہيں۔

اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہيز کرتے رہو جن سے تمھيں منع کيا جارہا ہے تمھاري چھوٹي موٹي برائيوں کو ہم تمھارے حساب سے ساقط کر ديں گے اور تم کو عزت کي جگہ داخل کريں گے۔ (النساء: ۳۱)

جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھي ہے اور پائدار بھي وہ اُن لوگوں کے ليے جو ايمان لائے ہيں۔ اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہيں۔جو بڑے بڑے گناہوں اوربے حيائي کے کاموں سے پرہيز کرتے ہيں اور اگر غصہ آ جائے تو در گزر کر جاتے ہيں۔ (الشوريٰ: ۳۶-۳۷)

جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبيح افعال سے پرہيز کرتے ہيں، اِلاّ يہ کہ يہ کچھ قصور اِن سے سرزد ہو جائے۔ بلاشبہ تيرے رب کا دامنِ مغفرت بہت وسيع ہے۔ وہ تمھيں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمين سے تمھيں پيدا کيا اور جب تم اپني ماؤں کے پيٹوں ميں ابھي جنين ہي تھے۔ پس اپنے نفس کي پاکي کے دعوے نہ کرو، وہي بہتر جانتا ہے کہ واقعي متقي کون ہے۔ (النجم: ۳۲)

اور ديکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقيقت نيکياں برائيوں کو دور کر ديتي ہيں، يہ ايک ياد دہاني ہے اُن لوگوں کے ليے جو خدا کو ياد رکھنے والے ہيں۔ (ھود: ۱۱۴)

جو کوئي بھلائي لے کر آئے گا اس کے ليے اس سے بہتر بھلائي ہے۔ اور جو برائي لے کر آئے تو برائياں کرنے والوں کو ويسا ہي بدلہ ملے گا جيسے عمل وہ کرتے تھے۔ (القصص: ۸۴)

ان آيات ميں اس بات پر زور ديا گيا ہے کہ آخرت ميں جنت پانے کے ليے ضروري نہيں کہ کوئي بے خطا ہو۔ ہم سب ناقص ہيں، اس طرح سورة النجم: ۳۲ ميں کہا گيا ہے کہ کسي کو بھي اپنے نفس کي پاکي کا دعوي نہيں کرنا چاہيے۔ قرآن ہميں نيکي ميں اضافے کي بھرپور کوشش کرنے کي تلقين کرتا ہے کيوں کہ ہمارا تزکيہ اور گناہوں سے پاک ہونا خدا کي رحمت اور مہرباني ہي سے ممکن ہے۔

کچھ لوگ اپنے سنگين گناہوں کي ياد سے چھٹکارا پانے ميں ناکام رہتے ہيں حالاں کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہيں اور اپنے کيے پر نادم ہوتے ہيں۔ قرآن کي رو سے سنگين گناہ بھي آخرت ميں معاف کيے جاسکتے ہيں۔

(اے نبي ﷺ) کہہ دو کہ اے ميرے بندو، جنھوں نے اپني جانوں پر زيادتي کي ہے اللہ کي رحمت سے مايوس نہ ہو جاؤ، يقينا اللہ سارے گناہ معاف کر ديتا ہے وہ تو غفور، رحيم ہے۔ (الزمر: ۵۳)

تاہم ايک گناہ ايسا ہے جو تباہي کا باعث بن کر رہے گا اور وہ ہے شرک۔ جب ہم دولت، قوت، ہوسِ جاہ اور غرور کو، لوگوں کو، اپني کام يابيوں يا اپنے ہاتھوں سے بنائي ہوئي اشيا کو خدا پر مقدم رکھتے ہيں تو ہم براہ راست اپنے مقصدِ تخليق سے انحراف کرتے ہيں۔

اللہ بس شرک ہي کو معاف نہيں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہيں وہ جس کے ليے چاہتا ہے معاف کر ديتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسي اور کو شريک ٹھہرايا اُس نے تو بہت ہي بڑا جھوٹ تصنيف کيا اور بڑے سخت گناہ کي بات کي۔ (النساء: ۴۸)

توبہ نہ کرنے والے گناہ گار کو بڑے خطرات ميں سے ايک اس کے اخلاقي و روحاني مرکز کو نقصان پہنچنا ہے جسے قرآن ‘دل’کہتا ہيں۔ کتابِ حکيم ميں ارشاد ہے کہ “حقيقت يہ ہے کہ آنکھيں اندھي نہيں ہوتيں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہيں جو سينوں ميں ہيں۔”(الحج: ۴۶)۔ قرآن ميں اس بات پر زور ديا گيا ہے کہ ان افراد کے دل تاريک، بند، زنگ آلود اور سخت ہوجاتے ہيں اور ہدايت کي روشني ان تک نہيں پہنچتي، جب کہ نيک لوگوں کے دل نرم، حساس اور خدا کي ہدايت پر جھک جانے والے ہوتے ہيں۔ (ديکھيے، البقرة: ۷۴؛ المطففين: ۱۴) ہم جتنا زيادہ گناہ پر اصرار کريں گے، اتنا ہي اس کي برائي کے تئيں بے حس ہوتے چلے جائيں گے۔ اگرچہ قرآن اکثر گناہ گاروں کے دل کي اس کيفيت کو ‘پردہ پڑنے’سے تعبير کرتا ہے، اس سے ہميں يہ نتيجہ اخذ نہيں کرنا چاہيے کہ گناہ گار کا اس ميں کوئي کردار نہيں ہے، کيوں کہ قرآن مخلوق کے حوالے سے علل و معلول  (cause and effect)کے فطري قوانين کے مطابق جو کچھ ہوتا ہے اسے اکثر خدا کي طرف منسوب کرتا ہے۔ مثلاً خدا بيج سے پودا نکالتا ہے، رات سے دن اور دن سے رات کو نکالتا ہے، زمين پر پہاڑ نصب کرتا ہے، بادلوں کو چلاتا ہے، بارشيںبرساتا ہے، پرندوں کو فضا ميں تھامتا ہے، لکھنے کا طريقہ سکھاتا ہے، رحمِ مادر ميں جنين پيدا کرتا ہے—يہ تمام مظاہر متعين قوانين کے پابند ہيں، جنھيں قرآن خداکي مقرر کردہ ‘مقدار ’يا ‘تقدير’ قرار ديتا ہے۔(ديکھيے، الرعد: ۸؛ الحجر: ۲۱؛ الفرقان: ۲؛ يٰس: ۳۸-۳۹؛ القمر: ۴۹؛ عبس: ۱۸-۱۹؛ الاعليٰ: ۱-۳) يہي بات کافروں کے دلوں پر پردہ ڈالنے کے بارے ميں بھي کہي جاسکتي ہے کيوں کہ قرآن مسلسل دکھاتا ہے کہ ايسا ان کي ہٹ دھرمي سے انکارِ حق کي وجہ سے ہوتا ہے۔ يہ وہ برائي ہے جو انسان کرتا ہے جس سے ان کے دل زنگ آلودہ ہوجاتے ہيں (المطففين: ۱۴)۔ اس ليے کہ منکرينِ حق اپني خواہشات نفس کے پيرو بن جاتے ہيں، ان کے دلوں پر اللہ ٹھپہ لگاديتا ہے (محمد: ۱۶)۔ اور الله لوگوں کو اس کي نشانيوں کا انکار کرنے پر مجبور نہيں کرتا، بلکہ لوگوں کے دل اپني شرارت کي وجہ سے سخت ہوتے جاتے ہيں (البقرة: ۷۴)۔ ميري ماں کہا کرتي تھي کہ “اگر تم کسي جھوٹ کو بار بار بولوگے تو ايک ايسا وقت آئے گا کہ خود تمھيں اس پر يقين ہونے لگے گا۔”يہ اس کا دوسرا پہلو ہے جس کا ہم پہلے ہي مشاہدہ کر چکے ہيں کہ ہم نيکي ميں جتنا زيادہ بڑھتے جاتے ہيں، خدائي صفات اور خاص طور پر حق کو قبول کرنے کي صلاحيت اتني ہي ہمارے اندر پيدا ہوتي جاتي ہے۔


[1] معروف امريکي نومسلم  دانش ور، Even Angels Ask اور Losing My Religionکے مصنف