رسائل و مسائل

ڈاکٹر رضي الاسلام ندوي
سيکرٹري شريعہ کونسل، جماعت اسلامي ہند، نئي دہلي

 

بھائيوں کے درميان جائيداد کي تقسيم

سوال:  چار بھائيوں نے ايک جائيداد مل کر خريدي۔ اس کي صورت يہ ہوئي کہ سب سے بڑے بھائي نے رقم اکٹھا کي اور پلاٹ تلاش کرنے،ان کا معاملہ کروانے، انھيں خريدوانے اوران کي رجسٹري کروانے ميں دل چسپي لي اور اس کام کو انجام تک پہنچايا۔چوں کہ بڑے بھائي کے پاس رقم نہيں تھي، اس ليے انھوں نے ذاتي طور پر پلاٹ نہيں ليا اور تين پلاٹوں کي رجسٹري تينوں بھائيوں کے نام الگ الگ کروادي۔ درميان کے دو بھائيوں کے پاس بھي رقم نہيں تھي، انھيں سب سے چھوٹے بھائي سے قرض دلواديا۔اس معاملے کو بيس برس گزر گئے ہيں۔ اب ان پلاٹوں کي ماليت پندرہ گنا بڑھ گئي ہے۔چھوٹے بھائي کا قرض اب تک بھائيوں نے ادا نہيں کيا ہے۔ اب چھوٹے بھائي کا کہنا ہے کہ چوں کہ تينوں پلاٹ ميري ہي رقم سے خريدے گئے تھے، اس ليے مجھے اور حصہ ديا جائے۔

دريافت طلب امر يہ ہے کہ کيا چھوٹے بھائي کي بات درست ہے؟ کيااسے کچھ اور حصہ ملنا چاہيے؟ايک بات يہ بھي جانني ہے کہ يہ سارا معاملہ بڑے بھائي نے کروايا تھا۔ کيا ان کا بھي کچھ حق بنتا ہے؟اور يہ کہ انھوں نے ہي چھوٹے بھائي سے قرض دلوايا تھا۔ کيا قرض کو واپس کرانے کے سلسلے ميں ان کي کچھ ذمے داري بنتي ہے؟

براہ کرم ان سوالات کے جوابات مرحمت فرمائيں۔

جواب:  کوئي معاملہ کچھ لوگ باہم اشتراک سے کريں تو ابتدا ہي ميں اس کي جملہ تفصيلات جزئيات کے ساتھ طے کرليني چاہئيں۔اسلام نے معاملات ميں شفّافيت کا حکم ديا ہے۔اسے ملحوظ نہ رکھا جائے اورمعاملہ گول مول رہے تو بعد ميں تنازعات پيدا ہوجاتے ہيں اور خوش دلي سے ان کا نپٹارا نہيں ہوپاتا۔اسي طرح بہتر ہے کہ اسے ضبط ِ تحرير ميں لے آيا جائے۔معاملہ زباني انجام پائے تو بعد ميں اس کي تفصيلات ذہن سے محو ہونے لگتي ہيں اور کوئي ثبوت موجود نہ ہونے کي وجہ سے تنازع پيدا ہوجاتا ہے۔اللہ تعالي کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ( البقرة: ۲۸۲)

اے لوگو جو ايمان لائے ہو!جب کسي مقرر مدّت کے ليے تم آپس ميں لين دين کرو تو اسے لکھ لياکرو۔

جو مسئلہ بيان کيا گيا ہے اس کا جواب يہ ہے کہ جن بھائيوں کے نام سے پلاٹ خريدے گئے تھے اور ان کے نام سے ان کي رجسٹري ہوئي تھي، انھي کوان کا مالک سمجھا جائے گا۔اگرچہ ان پلاٹوں کي خريداري ميں درميان کے دو بھائيوں کي کچھ رقم نہيں لگي تھي،بلکہ کل سرمايہ سب سے چھوٹے بھائي نے فراہم کيا تھا، ليکن وہ رقم اس سے بہ طور قرض لي گئي تھي اور اس نے قرض ہي کہہ کر وہ دي تھي۔اب چوں کہ ان پلاٹوں کي ماليت بہت بڑھ گئي ہے، اس ليے اس کا يہ کہنا کہ ميرے پلاٹ کے علاوہ دوسرے پلاٹوں ميں سے بھي مجھے کچھ حصہ ديا جائے، درست نہيں ہے۔ دوسرے پلاٹوں ميں اس کا کچھ حق نہ بنتا۔

چھوٹے بھائي نے اپنے دو بھائيوں کو بہ طور قرض جتنے روپے ديے تھے، اب اسے اتنے ہي روپے ان سے واپس لينے کا حق ہے۔ اگرچہ طويل عرصہ گزر جانے کے بعد اس رقم کي ماليت ميں خاصي کمي آگئي ہے، ليکن اس کي بنياد پرمزيد رقم ياکسي اور سہولت کا مطالبہ کرنا درست نہيں ہے۔يہ ربا(سود) ہوگا، جسے اسلامي شريعت ميں حرام قرار ديا گيا ہے۔حديث ميں ہے:

کُلُّ قَرضٍ جَرَّمَنَفَعَةً فَھُوَ رِبَا (الجامع الصغير للسيوطي: ۶۳۱۸ )

ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل ہو وہ سود ہے۔

( محدثين نے اس روايت کي سند کو ضعيف قرار ديا ہے، ليکن اس کے بعض شواہد پائے جاتے ہيں اوريہ معناً درست ہے۔)

البتہ دونوں بھائي اپني آزاد مرضي سے قرض کي واپسي کے علاوہ اپنے بھائي کو جس نے قرض ديا تھا، مزيد کچھ دينا چاہيں تو دے سکتے ہيں۔اللہ کے رسولﷺ کا معمول تھا کہ جب کسي سے قرض ليتے تو اسے واپس کرتے وقت کچھ بڑھا کر ديتے تھے۔

سب سے بڑے بھائي نے يہ معاملہ کروانے اور اسے انجام تک پہنچانے ميں سرگرم کردار ادا کيا تھا۔انھوں نے اپنے بھائيوں کي سرپرستي کا حق ادا کيا۔ اس پر وہ اللہ تعاليٰ کي جانب سے اجر کے مستحق ہوں گے۔ ليکن چوں کہ انھوں نے اپنے نام سے کوئي پلاٹ نہيں خريدا تھا، اس ليے اب ان کا کچھ حصہ نہ ہوگا، الّا يہ کہ دوسرے بھائي انھيں صلہ رحمي کے طور پر کچھ دے ديں۔

جو رقم چھوٹے بھائي نے قرض کے طور پر دي تھي، اسے جلد واپس ملنا چاہيے تھا۔اگربھائيوں نے بغير کسي معقول عذر کے اس کي واپسي ميں تاخير کي تو انھوں نے اچھا نہيں کيا۔اب انھيں واپس کردينا چاہيے۔بڑے بھائي کي يوں تو کوئي ذمے داري نہيں بنتي،يہ قرض لينے والوں اور قرض دينے والے کا آپسي معاملہ ہے، ليکن چوں کہ انھوں نے قرض دلوانے ميں تعاون کيا تھا، اس ليے اب اس کي واپسي ميں بھي اپنا تعاون پيش کريں تو بہتر ہوگا اور معاملہ خوش اسلوبي سے اختتام پذير ہوجائے گا۔

قرض کي واپسي ميں نا مناسب تاخير سے بچنے کے ليے بہتر ہوتا ہے کہ قرض کي واپسي کي مدت بھي اسي وقت متعين کرلي جائے۔البتہ اگر معاشي تنگي کے باعث وہ وقت پر دينے کي پوزيشن ميں نہ ہو تو اس کے ساتھ نرمي کا معاملہ کرتے ہوئے اسے مناسب مہلت بھي دي جائے۔

بار بار پيشاب آنے کي صورت ميں کيا کيا جائے؟

سوال:  ہمارے ايک عزيز بہت بيمار رہتے ہيں۔ پچاسي(۸۵) برس عمر ہے۔ پنج وقتہ نمازي ہيں۔ ان کو پيشاب بہت آتا ہے۔ رات ميں کبھي کبھي بستر پر بھي ہو جاتا ہے۔ سب کے مشورے سے وہ رات ميں پيمپر باندھ ليتے ہيں۔ دن کے اوقات ميں بار بار پيشاب کرنے باتھ روم جاتے ہيں، جو گھر سے تھوڑي دور پر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پيمپر باندھ ليں تو کہتے ہيں کہ نماز کيسے پڑھوں گا؟

براہ کرم رہ نمائي فرمائيں، اس صورت ميں کيا کيا جائے؟

جواب:  نماز کي شرائط ميں سے ہے کہ نمازکي جگہ اور نمازي کا جسم اور کپڑے پاک ہوں اور وہ با وضو ہو۔البتہ اگر اس معاملے ميں کوئي عذر ہو تو بہ قدر عذر گنجائش ہوگي۔ اللہ تعاليٰ کا ارشاد ہے: لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً اِلّاَ وُسْعَھَا (البقرة: ۲۸۵)اللہ تعاليٰ کسي پر اس کي طاقت سے بڑھ کر ذمے داري کا بوجھ نہيں ڈالتا۔ اور جن چيزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان ميں سے پيشاب، پاخانہ اور رياح خارج ہونا بھي ہے۔

اگر کسي شخص کو مرض يا بڑھاپے کي وجہ سے پيشاب روکنے پر قدرت نہ ہوتو اس کيفيت کوسلس البولکہا جاتا ہے۔

اس کي ايک صورت يہ ہو سکتي ہے کہ پيشاب کے قطرے مسلسل ٹپکتے ہوں۔ جتني دير ميں ايک فرض نماز پڑھي جا سکتي ہو اتني دير بھي قطروں کا ٹپکنا بند نہ ہوتا ہو۔ايسے شخص کے ليے حکم يہ ہے کہ وہ ہرفرض نماز کا وقت شروع ہونے پر وضو کرلے،پھر اس وضو سے جتني چاہے فرض يا نفل نمازيں پڑھے اور قرآن مجيد کي تلاوت کرے۔جب تک اس نماز کا وقت رہے گا وہ باوضو سمجھا جائے گا۔البتہ دوسري نماز کا وقت شروع ہونے پر اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔

اسےاستحاضہ ( ايّام ِ حيض کے علاوہ خون آنا)کے مسئلے پر قياس کيا گيا ہے، جس کا ذکر حديث ميں موجود ہے۔حضرت عروہ بن زبيرؒ حضرت عائشہؓ سے روايت کرتے ہيں: ايک خاتون نے اللہ کے رسولﷺ کي خدمت ميں حاضر ہوکر سوال کيا: مجھے استحاضہ کا خون مسلسل آتا ہے۔ پھر کيا ميں نما ز چھوڑ دوں؟ آپ نے جواب ديا: نہيں يہ تو کسي رگ کا خون ہے، حيض کا نہيں ہے۔ جب حيض آنے لگے تب نماز چھوڑو اور جب حيض ختم ہوجائے تو خون دھونے اور غسل کرنے کے بعد نماز پڑھا کرو۔عروہ نے مزيدبيان کيا: پھر ہر نماز کے ليے وضو کر ليا کرو، يہاں تک کہ ايام ِ حيض آجائيں۔ ( بخاري: ۲۲۸، مسلم: ۳۳۴)

اسي پر قياس کرتے ہوئے يہي حکم ان لوگوں کے ليے بيان کيا گيا ہے جن کو مسلسل پيشاب آنے يا رياح نکلنے کا مرض ہو،يا ان کے زخموں سے مسلسل خون رِستا ہو۔ابن قدامہؒ نے لکھا ہے:

خلاصہ يہ کہ مستحاضہ عورت اور وہ شخص جسے مسلسل پيشاب يا مذي آنے کا مرض ہو يا وہ زخمي جس کے زخم سے مسلسل خون رِس رہا ہو، ياان جيسے ديگر لوگ،جس شخص سے کوئي ايسي چيزمسلسل خارج ہو رہي ہو جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہو اور اس کے ليے اپني طہارت باقي رکھنا ممکن نہ ہو،وہ متاثرہ جگہ کو دھوئے گا،اسے باندھ لے گا اور حتّيٰ الامکان کوشش کرے گا کہ گندگي باہر نہ نکلے، پھر ہر نماز کے ليے وضو کرے گا۔ ( المغني)

اگر پيشاب کے قطرے مسلسل، يہاں تک کہ دوران ِ نماز بھي نکل رہے ہوںاوران سے کپڑا(پاجامہ يا لنگي وغيرہ) آلودہ ہو رہا ہو توکپڑے کو دھونا ضروري نہيں،اس کے ساتھ نماز پڑھي جا سکتي ہے۔ ليکن اگر قطروں کا ٹپکنا مسلسل نہ ہو، درميان ميں اتناوقفہ رہتا ہو کہ اس ميں نما زادا کي جا سکتي ہو توکپڑے کو دھوکر، يا دوسرا پاک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا ضروري ہے۔

اگر کسي شخص کو پيشاب کرنے کے بعد کچھ دير تک قطرے آتے ہوں ( مسلسل نہ ٹپکتے ہوں) تو مناسب يہ ہے کہ وہ نيکر يا چڈّي استعمال کرے اور اس کے اندر ٹيشو پيپر، روئي يا کپڑے کا ٹکڑا رکھ لے۔ جب تک اس کے بيروني حصے پر پيشاب کي تري کا اثر ظاہر نہ ہو،وضو ٹوٹنے کا حکم عائد نہ ہوگا۔

آج کل پيمپر کااستعمال بچوں اور بڑوں دونوں کے ليے عام ہوگيا ہے۔ يہ چڈّي کي طرح کاايک زير جامہ لباس ہے،جسے پہنا ديا جاتا ہے تو پيشاب اسي ميں جذب ہوتا رہتا ہے اور باہر نکل کر بستر يا بيروني لباس کو گندا نہيں کرتا۔ اس کا حکم يہ ہے کہ اگر پيمپر پر ايک درہم (يعني ہتھيلي کي گہرائي کي مقدار) کے برابر نجاست لگي ہو اور وقت ِ ضرورت اسے بہ آساني جسم سے الگ کردينا ممکن ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا درست نہيں۔ البتہ اگر پيشاب آنے کي شکايت اتني زيادہ ہو کہ ايک پيمپر ہٹاتے اور دوسرا پہناتے ہي وہ بھي پيشاب سے آلودہ ہوجاتا ہو توپھر اسے بدلنے کي ضرورت نہيں۔ اس کے ساتھ نماز پڑھي جا سکتي ہے۔اسي طرح اگر پيمپر بار بار تبديل کرنے ميں بہت زيادہ مشقّت ہو تو يہ زحمت اٹھانے کي ضرورت نہيں۔ اس کے ساتھ نماز پڑھنے کي گنجائش ہے۔ فتاويٰ عالم گيري ميں ہے:

ايک ايسا مريض جس کے نيچے ناپاک کپڑے ہوں،اگر اس کي حالت ايسي ہو کہ جيسے ہي کوئي کپڑا بچھايا جائے فوراً ناپاک ہوجاتا ہو،تووہ اسي حالت ميں نماز پڑھ لے گا۔ يہي حکم اس صورت ميں بھي ہے جب ناپاک کپڑا بدلوا کر دوسرا کپڑا پہنانے کي صورت ميں وہ(دوسرا کپڑا) ناپاک نہ ہوتا ہو، ليکن اسے بدلوانے ميں بہت زيادہ مشقّت ہوتي ہو۔ فتاويٰ قاضي خاں ميں بھي يہي بيان کيا گيا ہے۔ ( الفتاويٰ الھندية: ۱؍ ۱۳۷، باب ۱۴، في صلاة المريض)

يہي حکم اس شخص کے ليے بھي ہے جس کو مسلسل رياح خارج ہونے کا مرض ہو۔n