اہل مذہب! ہوشيار باش

مولانا ابوالليث اصلاحي ندويؒ

يہ بات ايک واضح حقيقت رکھتي ہے جس سے شايد کسي کو بھي مجالِ انکار نہ ہوگا کہ اس وقت مختلف اسباب و وجوہ کي بنا پر پورے ملک ميں يہاں کے مختلف طبقات اور گروہوں ميں ايک دوسرے کے بارے ميں شک و بدگماني اور ان کے مابين باہمي نفرت و عناد ميں روز بہ روز اضافہ ہي ہوتا جارہا ہے اور ميں يہ کہنے کي اجازت چاہتا ہوں کہ بد قسمتي سے ملک کي کچھ جماعتيں مذہب اور دھرم کے نام پر اس شک و بدگماني اور نفرت و عناد کي آگ بھڑکانے ميں سب سے پيش پيش ہيں اور اپنے اس مکروہ و مذموم مشغلہ ميں سادہ لوگ اور معصوم نوجوانوں کو خاص طور سے اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہي ہيں۔ حالاں کہ کوئي مذہب صحيح معنوں ميں مذہب کہلانے کا مستحق قرار نہيں پاسکتا اگر وہ تمام بني نوع انسان کو ايک ماں باپ کي اولاد ہونے کي بنا پر ايک دوسرے کا بھائي بہن نہ قرار ديتا ہو اور ايک خدائے واحد کي پيدا کردہ مخلوق کے درميان محض نسل و نسب اور زبان و جغرافيہ کي بنياد پر تفريق وامتياز کا قائل ہو اور يہ بات بھي کسي شبہ سے بالاتر ہے کہ جہاں کسي کام ميں ظلم و زيادتي کا کوئي ادني عنصر بھي شامل ہوجائے تو وہ مذہب اور فطرتِ انساني دونوں ہي کے نزديک يقينًا انتہائي کريہہ اور مبغوض قرار پائے گا۔ مذہب کے نام ليواؤں کے ليے يہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اسي کے ساتھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں اور اس کے نام ليواؤں کو اس بات سے بھي پوري طرح ہوشيار اور چوکنا رہنے کي ضرورت ہے کہ اہل سياست انھيں اپنے دامِ فريب کا شکار بناکر اپنے سياسي اغراض و مقاصد کے ليے استعمال کرنے ميں کام ياب نہ ہوسکيں جيسا کہ اس زمانے ميں بہ کثرت ديکھنے ميں آرہا ہے اور جس کي بنا پر مذہب خواہ مخواہ بدنام اور لوگوں کے بے جا طعن و تشنيع کا ہدف بن گيا ہے۔ n

(خطبات امرائے جماعت اسلامي ہند، ص: ۱۵۰)