کوٹھاری کمیشن

بھارت کی پہلی باضابطہ تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنا تھا کوٹھاری کمیشن


سید تنویر احمد


ایجوکیشن کمیشن 1964ء کو کوٹھاری کمیشن بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر دولت سنگھ کوٹھاری اس کمیشن کے چیئرمین تھے۔ اس کمیشن کو کئی وجوہات اور خصوصیات کی بنا پر بھارت کے تعلیمی سفر میں اہمیت حاصل ہے۔ حالاں کہ یہ کمیشن مسٹر جواہر لال نہرو کے انتقال کے دو ماہ بعد تشکیل کیا گیا تھا تاہم اس پر نہرو کے تعلیمی نظریات کا گہرا اثرمحسوس ہوتا ہے۔ کمیشن نے اپنی تفصیلی رپورٹ اپنے قیام کے دو سال بعد 1966ء میں حکومت کو سونپی تھی۔ اسی سال اندرا گاندھی نے وزیر اعظم کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اس وقت کی کانگریس سرکار نے کو ٹھاری کمیشن رپورٹ کو اہمیت دیتے ہوئے کمیشن کے مشوروں پر ملک کی پہلی تعلیمی پالیسی 1968ء میں وضع کی تھی۔

تعلیمی میدان میں سرگرم افراد اور گروپوں کو اس کمیشن کی معلومات سے اندازہ ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام کس طرح سماجی اقدار اور اخلاقیات پر مبنی تعلیم کو اہمیت دیتا رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عملی میدان میں ہماری کارکردگی انتہائی کم زور رہی ہے۔

ذیل میں ہم اس کمیشن سے متعلق اہم معلومات کو پیش کررہے ہیں۔ ویسے کمیشن کی مکمل رپورٹ انٹر نیٹ پربھی دستیاب ہے۔ جہاں مناسب سمجھا گیا ہے،ہم نے اس کا قومی تعلیمی پالیسی 2020 ء کے اہم نکات میں تقابل بھی کیاہے۔ تقابلی مطالعہ کو پیش کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو وضع کرنے والوں نے ایسا پروپیگنڈہ کیا ہے کہ گویا اس طرح کی پالیسی پہلی بار وضع کی گئی ہے۔ ایک تو اس مبالغہ آرائی کی حقیقت پیش کرنا مقصود ہے اور دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں مضمر اشاروں کو منظر عام پر لایا جائے کہ اس کا مقصد متشدد وطن پرست قوم تیار کرنا ہے۔ کیا یہ مقصد ہماری سابقہ پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے ؟یہ مضمون اس کا جواب پیش کرتا ہے۔

1۔ کوٹھاری کمیشن اس وقت قائم کیا گیا تھا جب بھارت، چین کے ساتھ ایک جنگ کرچکا تھا اور کمیشن کے قیام کے بعد پاکستان کے ساتھ بھی جنگ ہو چکی تھی۔ پاکستان سے جنگ کے سبب اس وقت بھارت کو امریکہ کے حلیف ممالک کی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔چناں چہ اس کا اثر یہ ہوا تھا کہ امریکہ سے گندم کی درآمد پر روک لگا دی گئی تھی۔ ملک میں گیہوں کی کمی سے اجناس کی منڈی پر خراب اثر پڑا تھا۔ دونوں جنگوں کے سبب ٹکنالوجی اور زرعی شعبوں میں تعلیم اور ریسرچ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ان جنگوں میں درون ملک سماجی زندگی میں قومی یکجہتی،کثرت میں وحدت، سماجی برابری، سماجی خدمت، مساوی تعلیم کے مواقع جیسے موضوعات پر بحثیں چھیڑ دی گئی تھیں جس کا عکس کمیشن پر بھی پڑا۔چناں چہ کمیشن نے زرعی یونیورسٹیوں میں اصلاحات اور ان کے معیار کو بلند کرنے پر زور دیا۔ اس کے نتیجہ میں سوامی ناتھن نے گرین ریولیوشن ( سبز انقلاب ) کا نعرہ بلند کیا۔

ٹکنالوجی کے میدان میں کوٹھاری کمیشن نے آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنک کے علاوہ، ٹکنالوجی کے معیاری اداروں کے قیام پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔کمیشن نے سائنسی میدان میں تحقیقات کو بڑی اہمیت دی جسے جواہر لال نہرو کا خواب سمجھا جاتا ہے۔ سائنسی میدان میں تحقیقات کے لیے اسکالر شپ کی اسکیم کو بھی اُن دنوں تجویز کیا گیا۔ کوٹھاری کمیشن نے سائنسی تعلیم کو جو اہمیت دی اس کا اعتراف کرتے ہوئے بعد کی حکومتوں نے سائنسی میدان میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے دولت سنگھ کوٹھاری اسکالر شپ اور فیلو شپ کا بھی اعلان کیا۔

سائنس کی تعلیم کے حوالے سے کوٹھاری نے ہندوستانی سماج میں رائج توہم پرستی پر بھی ضرب لگائی اور اُن روایات کو رد کرنے کی بات کہی جو بھارتی قدیم سماج کا حصہ ہیں لیکن سائنسی حقائق کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔

2۔ کوٹھاری کمیشن آزاد بھارت کا وہ پہلا کمیشن تھا جس کے دائرے میں تعلیم کے تمام مراحل پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی تعلیم کو شامل کیا گیا۔ اس سے قبل جتنے بھی کمیشن اور کمیٹیاں بنائی گئی تھیں،وہ تعلیم کے مخصوص مرحلوں میں پالیسی کو وضع کرنے کے لیے تھیں۔ مثلاً ہائیر ایجوکیشن کے لیے علیحدہ اور میٹرک تک کی تعلیم ( سیکنڈری ایجوکیشن ) کے لیے علٰیحدہ کمیشن قائم کیے گئے تھے۔ کوٹھاری کمیشن کے دائرہ کارمیں قانون اور میڈیکل کی تعلیم شامل نہیں تھی۔

3۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے متعلق یہ پروپیگنڈہ کیاگیا کہ اس پالیسی کو تمام طبقات کے لیے مفید اور قابل قبول بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تجاویز حاصل کی گئی ہیں۔ جب کہ یہ طریقہ تمام کمیشنوں نے اختیار کیا تھا بلکہ زیادہ بہتر انداز سے اس پر عمل در آمد کیا تھا۔ مثلاً کوٹھاری کمیشن نے اپنی رپورٹ کو ترتیب دینے کے لیے `12 ٹاسک فورس اور 7 ورکنگ گروپ بنائے تھے جنھوں نے 100 دن ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ 9 ہزار تعلیم سے وابستہ افراد سے مشاورت کی گئی۔ کمیشن میں 17 ارکان شامل تھے۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں یہ بلند بانگ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہم اگلی دو دہائیوں میں تعلیم کے حوالے سے وشو گرو بن جائیں گے۔ کچھ اس سے کم کی خواہش کوٹھاری کمیشن نے بھی کی تھی۔ اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ڈی ایس کوٹھاری نے ایک نمایاں اقدام کیا تھا۔ وہ یہ کہ انھوں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جن میں برطانیہ، امریکہ، سوویت یونین اور فرانس شامل تھے، کے ماہرین تعلیم سے مشورے حاصل کیے۔ اتنا ہی نہیں،یو این او میں اُن دنوں تعلیم کے امور کے نگراں جی ایف میک ڈوگل کو بھی بحیثیت خصوصی مدعو کمیٹی میں شامل کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس طرح کا کوئی عمل قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وضع کرنے والوں نے اختیار نہیں کیا۔ البتہ یو این او کے تعلیمی منشور کے اہم نکتہ sustainable development growth (پائیدار ترقی ) کو موجودہ پالیسی نے اختیار کیا ہے اور پالیسی میں اس کی شمولیت نمایاں درجے تک ہے۔

پائیدار ترقی کی اصطلاح یو این او نے ماحولیات کے حوالے سے وضع کی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحول میں موجود قدرتی وسائل کا استعمال اور تحفظ اس دانشمندی سے ہو کہ آنے والی نسلوں کو ان وسائل کے حصول میں دقت نہ پیش آئے۔ مثلاً آبی ذخائر، زمین کی زرخیزی، معدنیات، جنگلات اور آب و ہوا کا اس طرح تحفظ ہو کہ وہ آئندہ برسوں میں نہ تو آلودہ ہوں اور نہ ہی معدوم ہوجائیں۔

ہم پائیدار ترقی کے مسئلہ کو اخلاق سے جوڑتے ہیں۔ جب ہم اخلاق پر مبنی تعلیم کا خاکہ پیش کریں گے تو اسے اخلاق کے زمرے میں لیں گے۔ یہاں یہ بات عرض کرنی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت پائیدار ترقی کے ماڈل تیار کرنے یا اس کا منصوبہ تجویز کرنے کے لیے اس میدان میں معروف بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین سے مشورہ کیا جاسکتا تھا۔لیکن شاید ایسا نہیں ہوا۔

4۔ کوٹھاری کمیشن نے تعلیمی مواقع میں مساوات (Equalisation of Educational Opportunity) کی بات پُر زور انداز میں کہی تھی۔لیکن بس یہ نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام نے سماج میں ایک نئی تقسیم کو جنم دیا ہے۔تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ۔ اتنا ہی ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی، لیکن مزید تقسیم ہورہی ہے۔آئی اے ایس سب سے اونچے پائیدان پر، پھر ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ۔

کوٹھاری کمیشن نے جس تشویش کا اظہار کیا تھا وہ آج بھی سماج میں باقی ہے بلکہ زمانے کے ساتھ بہتری کے بجائے تعلیمی مواقع میں عدم مساوات کی کیفیت بڑھی ہے۔اس پر گذشتہ دنوں تمل ناڈو حکومت کی قائم کردہ جسٹس اے کے راجن کمیٹی نے NEET کے مسابقتی امتحان کی کم زوریوں کو واضح کیا ہے۔ راجن کمیٹی نے دلائل پیش کیے ہیں کہ NEET کے ذریعے میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والے طلبا میں اکثریت عالی شان کالجوں میں پڑھنے والے اور کوچنگ حاصل کرنے والے طلبا کی ہے۔ سی بی ایس سی کالجوں اور کوچنگ سینٹروں کی فیس کی ادائیگی عام غریب ہندوستانی کے بس کی نہیں ہوتی ہے۔ چناں چہ غریب کا ذہین بچہ مواقع کے عدم مساوات کا شکار ہو کر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا جو اسے معاشی طور پر آسودہ اور سماجی اعتبار سے معتبر بنا سکتی ہے۔

اس مقصد کو ہماری 2020 کی پالیسی نے بھی اپنے مقاصد میں شامل کیا ہے۔ تاہم دیگر ایسے پروگرام بھی شامل کیے ہیں جو مساوات کے بجائے عدم مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔ جب تک بھارت کے غریب عوام کو، جو آبادی کا بڑا حصہ ہیں مساوی تعلیمی مواقع حاصل نہیں ہوتے ہمارا نالج سوپر پاور بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ یہ کام حکومت کی سطح پر زیاہ اور ملی اداروں میں حتی المقدور ہونا چاہیے۔تعلیمی اداروں کے تفوق کو گھٹانے کے لیے کوٹھاری کمیشن نے قابل عمل تجاویز پیش کی تھیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر اُن پر عمل ہوتا۔ تعلیم میں مساوات پر بحث کرتے ہوئے کوٹھاری کمیشن نے دستور کی دفعہ 30 کے تحفظ کی بھی بات کہی تھی۔ لیکن اب دفعہ 30 پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس دفعہ کے تحت اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو چند تحفظات حاصل ہیں تشویش کی بات یہ ہے کہ خود ملت ابھی اس مسئلہ کا ادراک نہیں کرسکی ہے۔ ہمیں وہ بات جلد سمجھ میں آجانی چاہیے جس کا شور بعد میں میڈیا میں ہوتا ہے۔ میڈیا میں ایسی باتیں اکثر اس وقت آتی ہیں جب پانی سر سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔(اِ سے سمجھنے کے لیے ٹی۔ ایم۔ اے۔ پائی فاؤنڈیشن کے مقدمہ 2002 کو سامنے رکھیں، نیز مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن 2008 جسے آرٹیکل 30 کے تحت تحفظات حاصل ہیں، ایک سال قبل اس کے متعلق کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاست سے بالاتر آرٹیکل 30 نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ گذشتہ اگست میں منظر عام پر آئی نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی رپورٹ بھی سامنے رہنی چاہیے جس میں اقلیتی اداروں سے متعلق تشویشناک ریمارکس کیے گئے ہیں۔)

5۔ گذشتہ کمیشنوں کی طرز پر کوٹھاری کمیشن نے بھی اخلاقیات پر زور دیا تھا۔ ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس کمیشن نے سماجی ذمہ داریوں اور ملک کی خدمت کے جذبہ کو فروغ دینے نیز اس پر عمل کے لیے تعلیمی اداروں میں پروگرام کی بات کہی تھی۔ اگر ہم موجودہ 2020 پالیسی کا موازنہ کوٹھاری کمیشن سے کریں تو چند نمایاں نکات سامنے آتے ہیں :

(الف ) دونوں کمیشن اخلاق کی بات کرتے ہیں لیکن 2020 کی پالیسی اخلاق کا منبع قدیم ہندوستانی روایات کو مانتی ہے جب کہ کوٹھاری کمیشن کہتا ہے کہ انڈین کلچرسے اخلاق حاصل کیے جائیں۔ قدیم ہندوستانی روایات کا ذکر ہوتا ہے تو ایک مخصوص نظریے سے متعلق اخلاق کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور جب انڈین روایات اور کلچر کی بات کہی جاتی ہے تو اس کا اشارہ اس نئے بھارت کی طرف ہوتا ہے جس کا وجود 1947 کے بعد ہوا ہے۔ آزاد بھارت تکثیری سماج کی تصویر ہے۔ کوٹھاری کمیشن کے اس نظریے کو ملک کی پہلی تعلیمی پالیسی 1968 میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

کوٹھاری کمیشن اور تعلیمی پالیسی 2020 کے درمیان اس نظریاتی فرق پر ملک بھر میں جس طرح کی بحث ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوسکی۔ شاید اس لیے بھی نہیں کہ اب اخلاق کی تعلیم محض کتابوں اور دستاویزات کی زینت بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن موجودہ پالیسی میں قدیم ہندوستانی روایات کو صرف اخلاق کی تعلیم کے اسباق کی تیاری کے لیے ہی استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ ان روایات کو دیگر مضامین کے اسباق کے ساتھ جوڑ کر پڑھائےجانے کا منصوبہ ہے جسے انٹیگریٹڈ اپروچ (Integrated approach) کہا جاتا ہے۔

(ب) کوٹھاری کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طلبا میں سماج کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو اور قومی یکجہتی پروان چڑھے۔ سماجی خدمت کا ذکر موجودہ پالیسی میں بھی موجود ہے لیکن اس حوالے سے کوئی واضح پروگرام پالیسی نے تجویز نہیں کیا ہے۔ موجودہ پالیسی جب قدیم ہندوستانی تصورات کی بات کرتی ہے تو ان تصورات اور روایات کو سائنسی حقائق کی کسوٹی پر پرکھنے کا ذکر نہیں کرتی۔ کوٹھاری کمیشن نے بھی اس سے مماثلت رکھنے والا ایک فقرہ لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ ہم سائنس سے نہ ٹکرانے والے ان قدیم ہندوستانی اصولوں اور روایات کو فروغ دیں گے جو ملک کی ترقی اور بہبود کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔

(ج) کوٹھاری کمیشن نے تعلیم کے ذریعے جس سماج کی تعمیر کا تصور پیش کیا تھا وہ سوشلسٹ سوسائٹی (Socialist Society) کا تھا۔ اس منزل کی جانب ہمارا تعلیمی نظام سفر نہیں کرسکا بلکہ ہمارا تعلیمی نظام سماج میں سرمایہ دارانہ رجحانات پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا رہا ہے۔ سماج میں عدل و انصاف اور مساوات کی بات اب تعلیم کا موضوع کم اور سیاست دانوں کی تقریر کا موضوع زیادہ بن گئی ہے۔

کوٹھاری کمیشن نے سماج کی تعمیر کا ایک تصور پیش کیا تھا جس پر اختلاف کی گنجائش کم تھی لیکن موجودہ پالیسی جس سماج کی تعمیر کا تصور پیش کرتی ہے وہ غیر واضح ہے۔ اگر اسے سمجھا جائے تو وہ ملک میں آباد کئی اکائیوں کی نفی کرتے ہوئے تکثیریت کو قبول کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اس پالیسی کے ناقدین اس نکتہ کو موجودہ پالیسی کی سب سے بڑی کم زوری تصور کرتے ہیں۔ ناقدین کے اس بیان کی کسی حد تک تصدیق پالیسی کی دستاویز بھی پیش کرتی ہے۔ دستاویز کے دیباچہ میں دلتوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی تعلیمی خدمات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ جب کہ رادھا کرشنن کمیشن نے ہندوستان کے مسلم دور کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور مدارس کی خدمات کو بھی سراہا تھا۔

(د) اخلاقیات کے حوالے سے کوٹھاری کمیشن نے common citizenship and culture کی بات تحریر کی ہے۔ کم و بیش اسی طرح کا تصور رکھنے والی اصطلاحات کو دیگر کمیشنوں نے بھی پیش کیا ہے۔ مشترکہ کلچر اور شہریت ہمارے ملک کے مختلف سماجی مسائل اور اختلافات کا ایک موثر حل ہے۔یہ نظریہ طلبا کے اندر تمام شہریوں کے برابر ہونے کے تصور کو مضبوط کرتا ہے اور ان اخلاقی اصولوں کو پروان چڑھاتا ہے جو تمام مذاہب میں مشتر ک ہیں۔اسے مدلیار کمیشن نے فطری مذہب کا نام دیا تھا۔

ہم گذشتہ کمیٹیوں، کمیشن اور تعلیمی پالیسیوں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو موجودہ پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیکن اس تبدیلی کوایک عام قاری بآسانی نوٹ نہیں کرسکتا ہے۔ البتہ اسے بین السطور پڑھا جاسکتا ہے۔ تعلیمی میدان میں کام کرنے والے افراد کے سامنے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کا مستقبل کلاس روم میں طے کیا جاتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام طلبا کی شخصیت سازی جن اصولوں پرکرنا چاہتا ہے اس کی چند جھلکیاں اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ہمیں دستور ہند کی روشنی میں مثبت اقدامات کے ذریعے اپنے وطن اور نسل کو بچانے کی حتی الوسع کوشش کرنی ہے۔ یقینًا یہ حب الوطنی اور قوم و ملت کے ساتھ خیر خواہی کا ضروری تقاضا ہے۔