دل کی حفاظت

مولانا ابوسلیم محمد عبدالحیؒ

شیطان کے لیے یہ بات بہت مشکل ہے کہ وہ بندہ مومن کو ایک دم کسی بڑے گناہ پر آمادہ کرسکے۔ اس لیے اس کا سب سے کام یاب ہتھیار یہ ہے کہ وہ پہلے چھوٹی چھوٹی خطاؤں کی اہمیت نظروں میں کم کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں کرادیتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کے کرنے پر ابھارتا ہے جن کے بارے میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ جائز ہیں یا ناجائز۔ اس طرح جو شخص چھوٹے چھوٹے گناہ کرتا رہتا ہے اس کے دل سے گناہ کی اہمیت کا احساس رفتہ رفتہ کم ہوتا رہتا ہے، اور پھر وہ کوئی بڑا گناہ کر بیٹھتا ہے۔ جو لوگ ہمیشہ یہ دیکھتے ہیں کہ شریعت نے کسی معاملے میں کہاں تک آخری چھوٹ دی رکھی ہے، اور وہ اسی حد تک جانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ معلوم نہیں کب ان سے اللہ کی نافرمانی ہوجائے۔ ہمیشہ ہر کام میں شریعت کی دی ہوئی رخصتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے سے دین کی راہ پر چلنے میں کم زوری آتی چلی جاتی ہے اور اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ کب انسان اس راہ سے پھسل جائے۔

نبی کریم ﷺ نے اس بات سے روکنے کے لیے بہت سی ہدایات دی ہیں، ان میں سے ایک جسے امام بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے یہ ہے کہ حضرت ابوعبداللہ النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انھوں نے رسول پاک ﷺ کی زبان مبارک سے سنا، حضور ﷺ نے فرمایا:

اِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَاِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَهُمَا اُمُوْرٌ مُشْتَبِهَاتٌ۔ لَا یَعْلَمُهُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَاَ لِدِیْنِهٖ وَعِرضِهٖ وَمَنْ وَّقَعَ فِی الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ۔ کَالرَّاعِیْ یَرْعیٰ حَوْلَ الْحِمیٰ یُوْشِكُ اَنْ یَّرْتَعَ فِیْهِ اَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِكٍ حِمٰی۔ اَلَا وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُهٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةٌ اِذَا صَلَحْتَ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّهٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّهٗ اَلَا، وَهِیَ الْقَلْبُ۔

حلال بالکل واضح ہے اور حرام بالکل واضح ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان کچھ باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہ حلال ہیں یا حرام۔ ان باتوں کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، تو جو کوئی ایسی مشتبہ باتوں سے بچا رہا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچالیا اور جو کوئی مشتبہ باتوں میں مبتلا ہوگیا وہ (جانو) حرام میں مبتلا ہوگیا (اس کے بارے میں یہ اندیشہ قوی ہوگیا کہ وہ کسی نہ کسی دن حرام میں بھی مبتلا ہوجائے گا) اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو اپنے جانور اس چراگاہ کے کنارے کنارے چراتا ہے جس کے اندر جانور چرانے کی ممانعت ہے اس کے بارے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے جانور ممنوعہ چراگاہ میں گھس جائیں۔ سن لو! (جس طرح) ہر بادشاہ کے لیے کوئی نہ کوئی ایسی چراگاہ ہوتی ہے جس میں عام جانور چرانے کی ممانعت ہوتی ہے (اسی طرح) سن رکھو! اللہ نے جن چیزوں کو حرام کردیا ہے وہ (گویا) اس کی ممنوعہ چراگاہ (کے مانند) ہیں۔ سن لو! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب تک یہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک ہے اور جب یہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ سن لو! وہ (گوشت کا ٹکڑا) دل ہے۔

مومن کو سب سے زیادہ فکر دل کی کرنا چاہیے، دل کی پاکیزگی اسے ہر برائی سے بچاسکتی ہے۔ جس کسی کے دل میں گندے خیالات اور گندی باتیں آتی رہتی ہیں اس کے بارے میں ہر وقت یہ ڈر رہتا ہے کہ نہ جانے کب وہ شخص برائی میں مبتلا ہوجائے۔ دل کو برے خیالات اور گندی باتوں سے پاک رکھیے۔ آپ بھی برائی سے بچے رہیں گے۔ بری باتیں سننے سے اور بری باتیں پڑھنے سے دل میں برے خیالات جگہ پاتے ہیں۔ اسی طرح بروں کی صحبت میں بیٹھنے سے گندے خیالات دل میں آتے ہیں۔ اگر آپ واقعی برائی سے بچنا چاہیں تو بروں کے پاس بری باتیں سننے، برے کام دیکھنے اور بری باتیں پڑھنے سے دور رہیے۔

(الحسنات، ستمبر1958ء)