ایسے ہوتے ہیں نبیوں کے جانشین

شیخ علی طنطاویؒ   ترجمہ: محمد اکمل فلاحی

یہ ایک عالم کا واقعہ ہے، ایسے عالم کا واقعہ جو علم کے تئیں اتنے مخلص تھے کہ انھوں نے علم کی طلب کو اپنی سب سے بڑی ضرورت اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیا تھا۔ وہ ایک ایک حدیث کی تلاش میں کئی کئی دن کا سفر کرتے۔ علم کی راہ میں وہ اس مقام تک پہنچ گئے کہ حضرت مکحولؒ گواہی دیتے ہیں کہ طلبِ علم کی خاطر انھوں نے سارے علاقے چھان مارے مگر اپنے سے زیادہ باعلم کسی اور کو نہیں پایا۔ وہ اس علمی قلعے کے معماروں میں سے تھے جسے محمد ﷺ کے شاگردوں نے تعمیر کیا تھا۔ دنیا انھیں سعید بن مسیبؒ کے نام سے جانتی ہے۔

وہ اپنی ہیبت ووقار، اپنی جرأت وشجاعت اور بادشاہوں کے سامنے اپنی صاف گوئی میں یکہ وتنہا ایک امت تھے۔ عبد الملک، ولید اور حجاج بن یوسف کے ساتھ ان کے انوکھے واقعات پیش آئے، جنھیں تم پڑھو گے تو سنی سنائی کہانی خیال کرو گے۔

انھوں نے خلیفہ کی طرف سے عطا کردہ وظیفے کو ٹھکرادیا۔ ان کا مشاہرہ جمع ہوتا رہا یہاں تک کہ تیس ہزار درہم تک پہنچ گیا مگر انھوں نے اس میں سے ایک درہم نہ لیا۔ ان کے پاس اپنے چار سو درہم تھے جن سے وہ زیتون کے تیل کی تجارت کرتے اور اسی کی آمدنی پر گزر بسر کرتے۔

وہ فقیہ بھی تھے اور محدث بھی، ادیب بھی تھے اور شاعر بھی۔ (نماز سے انھیں اس قدر لگاؤ تھا) کہ چالیس سال تک جب بھی اذان ہوتی تو وہ مسجد میں ہوتے اور ہمیشہ پہلی صف میں رہتے۔

ایک دفعہ انھیں خلیفہ عبد الملک نے طلب کیا، اس نے اپنے پولیس افسر کو بھیجا، وہ آیا، ان کے سامنے مجلس میں کھڑا ہوا، اپنے ہاتھ سے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور واپس جانے لگا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ مگر جب اس نے انھیں آتے ہوئے نہیں دیکھا تو سوچا کہ شاید انھوں نے اشارہ نہیں سمجھا، وہ دوبارہ آیا اور انھیں چلنے کے لیے اشارہ کیا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ تب اس نے کہا: چلو، میں تمھی سے کہہ رہا ہوں، اٹھو امیر المؤمنین کے پاس چلو۔ انھوں نے کہا: مجھے ان سے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے کہا: اگر مجھے اختیار ہوتا تو میں تمھاری گردن ماردیتا۔۔ امیر المؤمنین تمھیں بلا رہے ہیں اور تم ہو کہ جانے سے انکار کر رہے ہو؟ انھوں نے فرمایا: اگر وہ مجھے کچھ دینے کے لیے بلارہے ہیں تو وہ تمھیں مبارک ہو اور اگر کسی بری نیت سے بلا رہے ہیں تو خدا کی قسم میں اپنے آپ کو پیش کرنے کو حلال نہیں سمجھتا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے۔

ایک دفعہ حجاج کو الٹی سیدھی نماز پڑھتے دیکھا تو فہمائش کی۔ جب اس نے نہیں کان نہیں دھرا تو مسجد سے ایک مٹھی کنکری اٹھائی اور اسے دے ماری۔

ان کی ڈھیر ساری خوبیوں میں سے صرف دو خوبیوں کا خصوصی تذکرہ ضروری لگتا ہے، یہ سچے علما کی خاص خوبیاں رہی ہیں۔

پہلی خوبی یہ ہے کہ ان علما کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر کیسی کیسی سزائیں دی جاتیں۔ انھیں مارا جاتا، قید کیا جاتا، جسمانی اور مالی تکلیفیں دی جاتیں مگر نہ تو وہ اپنی رائے بدلتے اور نہ اپنا مسلک تبدیل کرتے اور حق کی راہ میں نہ تو کسی گورنر کی کوئی پروا کرتے اور نہ ہی کسی بادشاہ کی۔

دوسری خوبی یہ ہے کہ جب وہ کسی بھلائی کی دعوت دیتے تو سب سے پہلے خود اسے کر کے دکھاتے۔ ان کے یہاں علم کوئی مالِ تجارت نہیں تھا کہ اسے بازار میں لاکر رکھ دینا کافی ہو، جیسا کہ آج بہت سارے لوگوں کا حال ہے کہ وہ دوسروں کو نصیحت تو کرتے ہیں لیکن خود نصیحت پر عمل نہیں کرتے، وہ لوگوں کو تعلیم تو دیتے ہیں مگر خود علم پر عمل نہیں کرتے۔

پہلی خوبی اس واقعہ سے سامنے آتی ہے کہ حضرت سعید بن مسیبؒ کا فتویٰ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ساتھ دو بیعتوں سے منع کیا ہے۔ چناں چہ جب عبد الملک بن مروان نے چاہا کہ وہ ان کے دونوں بیٹوں ولید اور اس کے بعد سلیمان پر بیعت کرلیں اور اس کی پیروی میں لوگوں نے بھی بیعت کرلی، تو سعید اپنا فتویٰ نہیں بھولے اور نہ ہی تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔ انھوں نے کسی نئے فتوے میں اپنے لیے نجات کی راہ بھی نہیں ڈھونڈی اور یہ بھی نہیں کہا کہ میں تو لوگوں میں سے ایک ہوں، جب سب لوگ بیعت کر رہے ہیں تو ان کی طرح میں بھی بیعت کر لیتا ہوں۔ انھوں نے اس شیطانی فریب میں آکر اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں ڈالا کہ اگر میں نے بیعت نہیں کی تو لوگ میری عزت پر حملہ کریں گے اور مجھے رسوا کریں گے اور میں چوں کہ علم و دینداری کی پہچان ہوں اس لیے میری یہ ضد دین کی امیج کو نقصان پہنچائے گی۔ ان تمام تاویلوں اور بہانوں کے بجائے وہ صحیح موقف پر ڈٹے رہے اور بیعت کرنے سے صاف انکار کردیا۔

امیرِ شہر نے انھیں قائل کرنے کے لیے ترغیب و ترہیب کی ساری تدبیریں اپنالیں لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ اس نے انھیں سرِعام کوڑے مارنے کی دھمکی دی تو علما نے آواز بلند کی اور اختلاف ختم کرنے کے لیے ثالثی بن کر آئے، امیر نے انھیں اس بات کا اختیار دیا کہ وہ جو مناسب سمجھیں کریں، تو سلیمان بن یسار، عروہ بن زبیر اور سالم بن عبد اللہ بن عمر جیسے جید علما کا ایک وفد ان کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ رائے پیش کی کہ وہ خاموشی اختیار کیے رہیں، نہ تو ہاں کہیں اور نہ ہی نہ کریں۔ انھوں نے برملا کہا: کیا میں حق بات سے خاموشی اختیار کرلوں؟ نہیں۔ وفد کو معلوم تھا کہ اگر وہ نہیں کہہ دیں تو زمین میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو انھیں ہاں کہنے پر مجبور کرسکے۔

وفد: تو پھر آپ اپنے گھر میں چند دنوں کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرلیں یہاں تک کہ یہ آندھی گزر جائے۔

سعید: کیا گھر میں بیٹھا رہوں اور نماز کے لیے نہ نکلوں، جب کہحی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کی ندا میرے کانوں میں سنائی دے رہی ہو؟ میں نے تو چالیس سال سے جب بھی اذان سنی، خود کو مسجد ہی میں پایا ہے۔ نہیں، مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا۔

وفد: اچھا تو ایسا کریں کہ آپ مسجد میں اپنی جگہ تبدیل کرلیں، تاکہ جب امیر کا قاصد آئے اور مسجد میں آپ کو نہ پائے تو اس سے جاکر کہے کہ: میں نے انھیں نہیں پایا۔

سعید: کیا مخلوق کے ڈر سے میں ایسا کروں؟ نہیں۔ میں اپنی جگہ سے ایک بالشت بھی آگے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ چناں چہ امیر نے انھیں طلب کیا اور قتل کی دھمکی دی، اس وقت بھی انھوں نے یہی کہا کہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک ساتھ دو بیعتوں سے منع فرمایا ہے- وہ اس طرح فیصلہ کر رہے تھے گویا کہ وہ حلقۂ درس میں ہوں اور تلوار ان کی گردن پر نہ ہو۔ یہی ان کی شان تھی۔ وہ تلوار کے ڈر سے نہ خاموش رہتے، نہ علم چھپاتے اور نہ رائے بدلتے۔

چناں چہ امیر نے حکم صادر کیا کہ انھیں سزاؤں کے میدان لے جایا جائے، سوائے لنگوٹ کے ان کے سارے کپڑے اتار لیے جائیں، پچاس کوڑے لگائے جائیں اور انھیں قید کردیا جائے۔

اس وقت دو بڑی دل چسپ باتیں پیش آئیں:

پہلی بات یہ کہ مشہور عالم قتادہ ان کے پاس آئے تو ان کی پٹائی ہو رہی تھی، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مر نہ جائیں اور ان کا علم اٹھ جائے، میں ان سے چند مسائل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ تو انھوں نے ان کو سوال پوچھنے کے لیے چھوڑ دیا، سعید ان کے سوال سنتے اور انھیں جواب دیتے جاتے، اس وقت ان کا حال یہ تھا کہ ان کی پیٹھ سے خون بہہ رہا تھا۔

جب میں نے یہ بات پڑھی تو میری سمجھ میں نہیں آیا، آیا میں قتادہ کے شوقِ علم پر تعجب کروں کہ انھوں نے علم کی راہ میں تکلفات کی پروا نہیں کی؟ یا پھر سعید کی علم کی قدر شناسی پر حیران ہوؤں کہ انھوں نے علم کی راہ میں تکلیف کی پروا نہیں کی؟ یا پھر ان جلادوں پر تعجب کروں جو تعذیب کی ڈیوٹی چھوڑ کر اس عجیب وغریب علمی گفتگو کو سننے میں لگ گئے؟

دوسری بات یہ کہ جب انھیں قید کیا گیا تو ان کی بیٹی ڈھیر سارا کھانا بنا کر ان کے پاس لے آئی۔ انھوں نے اس سے کہا: امیر ہشام یہی تو چاہ رہا ہے کہ میں فقر و فاقہ کا شکار ہوجاؤں اور میرا مال ختم ہوجائے، پھر میں ان کے مال کا محتاج ہوجاؤں اور اس طرح وہ مجھے اپنا غلام بنالیں، نہیں معلوم میں کب تک جیل میں رہوں گا، اس لیے سنو! میں اپنے گھر میں روزانہ جو کچھ کھایا کرتا تھا تم وہی میرے لیے لایا کرو، کیوں کہ علما اسی وقت ذلیل ہوتے ہیں جب وہ بادشاہوں کے مال و دولت کے محتاج ہوجاتے ہیں۔

یہ بات سچ ہے، علما اسی وقت ذلیل وخوار ہوتے ہیں جب وہ تنخواہوں، اوقاف کے مال اور لوگوں کے تحفے تحائف پر بھروسا کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے دمشق میں تاجر علما کا ایک ایسا طبقہ دیکھا ہے جس نے اس سلسلے میں ابوحنیفہ، لیث، ابن مبارک اور دمشق میں آخری شافعی فقیہ شیخ صالح عقّاد اور موصل میں اس طبقہ کے بہت سے مردانِ خدا کو دیکھا ہے، سب سے عجیب وغریب چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ کہ مَیں 1954ء میں دارالاخوان میں لیکچر دے رہا تھا، میں جماعت کے لیڈر سے ملا جو ایک فاضل بزرگ تھے، دوسرے دن جب میں بازار نکلا تو میرے دوست استاد صوّاف نے مجھ سے کہا: کیا آپ اس گوشت فروش کے یہاں بھنا ہوا گوشت کھائیں گے؟ اور اس کی طرف اشارہ کر کے کہا: کیا آپ اسے پہچانتے ہیں؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھا مگر پہچان نہیں سکا، پھر میں نے ذرا غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ جماعت کے لیڈر ہیں۔ وہ یہ کام کرتے ہیں اور اپنی محنت ومشقت اور جد وجہد کی بدولت گزر بسر کرتے ہیں، اس وقت میں نے جانا کہ وہ کتنے عظیم ہیں اور پھر لوگوں کے سامنے ان کی مثال دینے لگا۔

اگر علما اپنے مال پر اکتفا کرلیں اور لوگوں کے مال اور ریاست کی تنخواہوں سے بے نیاز ہوجائیں تو تم دیکھو گے کہ علم کی کیسی طاقت اور علما کی کیسی ہیبت ہوتی ہے۔

عبد الملک کو جب ان کی پٹائی کی خبر پہنچی تو اس نے اسے ناپسند کیا، اس نے امیر کو ملامت کی اور پھر اسے سزا دینے کا حکم جاری کیا۔ وہ برخاست کردیا گیا اور اس کی جگہ عمر بن عبدالعزیز جیسے نیک آدمی کو امارت کے منصب پر فائز کیا، اس وقت سعید نے اپنے اہل وعیال سے کہا: اس کی معزولی کے بعد اس سے تعرض مت کرنا یا اسے جو سزا ملی ہے اس پر خوشی مت منانا۔ میں اسے چھوڑ رہا ہوں، اب اللہ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کرے گا۔

ان کی دوسری خوبی جس کا ہم ذکر کریں گے ایک عظیم معاشرتی سبق ہے، جسے اگر والدین یاد رکھیں تو کسی گھر میں کوئی لڑکی (شادی کے لیے) منتظر نہ رہے اور نہ شہر میں کوئی نوجوان بدکاری کرتا پھرے۔

راوی کی زبانی قصہ سنیے:

ہم شہر میں تھے، اچانک ایک ہلچل سی ہوئی۔ لوگ راستے کے کنارے کھڑے ہوگئے، عورتیں کھڑکیوں کے جھروکوں سے جھانکنے لگیں۔

خلیفہ عبد الملک کے محل سے اس کا خاص نمائندہ شان وشوکت کے ساتھ نکلا اور مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔

وہ نمائندہ آگے بڑھا، سعید کے حلقۂ درس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور انھیں امیر المؤمنین کا سلام عرض کیا، اور پھر اپنا مدعا رکھا۔ وہ ان کی بیٹی کے لیے خلیفہ کے ولی عہد ولید کا پیغامِ لے کر آیا تھا۔ لوگ بے ساختہ سعید پر رشک کرنے لگے کہ کتنی بڑی نعمت ان کے سامنے ہاتھ جوڑے آئی اور کیسے یہ دنیا ان کے قدموں میں لا کر ڈال دی گئی۔ ان کی بیٹی آج کے ولی عہد، کل کے امیر المؤمنین اور تمام بلادِ اسلامیہ کے سردار کی ہونے والی بیوی بننے والی ہے۔

لوگ اس انتظار میں رہے ہوں گے کہ سعید اس نعمت پر خوشی سے جھوم اٹھیں گے اور مسرت سے اچھل پڑیں گے، لیکن سعید کا پیمانہ لوگوں کے پیمانے سے بالکل جدا تھا، ان کے پاس تو دینداری کا پیمانہ تھا، لوگ مال وجاہ تلاش کرتے ہیں، لیکن سعید کو اپنی بیٹی کے لیے ازدواجی خوشی، حسنِ اخلاق، دین داری اور پاکیزگی کی تلاش تھی۔ اب اگر ان کی بیٹی کو اس کی دینداری کے بدلے یہ دنیا بطور مہر مل ہی جاتی تو ولید کی دنیا ان کے لیے کاہے کو سود مند ثابت ہوتی؟

ایک غریب مگر دین دار اور با اخلاق آدمی دین دار عورت کے لیے بادشاہِ وقت کے بیٹے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ یہ غریب آدمی صرف اسی کا ہوکر رہے گا، جب کہ ولید جیسے شخص کے لیے اس ایک عورت کی کیا اہمیت ہوگی-

اگر تمھارا کوئی وفادار غلام ہو، جو تمھیں چاہتا ہو، تمھارے احسان کا شکر گزار ہو اور تمھارا مطیع ہو، تم اسے کوئی امانت دے کر بھیجو کہ اسے زید کو دے دے مگر وہ عمر کو دے آئے، تو کیا تم اس سے خوش ہوگے؟

اسی طرح تم بھی ہو اے باپ!

بے شک تم اللہ کے بندے ہو اور یہ بیٹی تمھارے پاس ایک امانت ہے اور اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم اسے ایسے شخص کے حوالے کرو جو اپنے طور طریقے میں تمھارے مشابہ ہو اور جس کا دین و اخلاق تمھیں خوش رکھے، اب اگر تم نے اسے ٹھکرا دیا اور مال داری تلاش کی یا اپنی بیٹی کو سامانِ تجارت بنا ڈالا تو تم اپنے رب کو ناراض کرو گے اور اپنی بیٹی کو اذیت دو گے۔

کیا بیٹی کوئی گھوڑی اور بکری ہے جو ایسے شخص کے ہاتھوں بیچی جائے جو اس کی بھاری قیمت دے؟ مہرِ کثیر تمھارے کس کام کا؟ اگر شادی کام یاب رہی تو شوہر کا مال بیوی کا اور بیوی کا مال شوہر کا ہوگا اور اگر شادی ناکام رہی تو جو مال تم نے لیا ہوگا وہ بیٹی کے لیے نفع بخش نہ ہوگا۔

سعید چند لمحے ان سارے پہلوؤں پر غور کرتے رہے اور قاصد ان کے جواب کا منتظر کھڑا رہا، اسے اور وہاں موجود سبھی لوگوں کو اس بات میں شک نہ تھا کہ جواب ہاں میں ملے گا۔

پھر اچانک سعید لب کشا ہوئے، کہنے لگے: نہیں

نہیں! انھوں نے امیر المؤمنین کو اپنی بیٹی دینے سے انکار کر دیا۔

اسی دن عصر کے بعد درس کی مجلس میں ان کا ایک شاگرد ابو وداعہ حاجر ہوا، وہ بہت دین دار اور خوش اخلاق تھا، کئی دن سے وہ درس سے غیر حاضر تھا، آج جب وہ آیا تو سعید نے غیر حاضری کا سبب دریافت کیا۔ اس نے جواب دیا کہ: میری بیوی بیمار تھی، میں اس کی تیمارداری اور خدمت گزاری میں لگا رہا پھر اس کی وفات ہوگئی اور میں نے اس کی تدفین کردی۔

سعیدنے پوچھا کیا تم نے دوسری شادی کرلی؟

ابو وداعہ نے کہا بھلا اپنی بیٹی سے میری شادی کون کرائے گا؟ میرے پاس صرف چار درہم ہیں؟ تو چار درہم میں کون میری شادی کرنا چاہے گا؟

سعید نے کہا میں۔

بزرگو! سن لیا آپ نے؟ وہ سعید جنھوں نے اس عبد الملک کے بیٹے کو قبول کرنے سے انکار کردیا، جو بحر اوقیانوس سے لے کر چین کے پہاڑوں تک کی سلطنتوں کا مالک تھا، وہ اب اپنی لڑکی کی شادی اس ابو وداعہ سے شادی کر رہے تھے جس کے پاس صرف چار درہم تھے۔

ابو وداعہ حیرت کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے، اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا اور اس کی زبان گنگ ہوجاتی ہے- اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے، ادھر سعید گواہوں کو بلاتے ہیں اور عقدِ نکاح مکمل کر دیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھر چلا جاتا ہے، اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ بے حد خوشی اور اور بے حد حیرت سے اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ وہ رات کے کھانے کے لیے اپنے سامنے روٹی اور تیل رکھتا ہے کہ اچانک کوئی دروازے پر دستک دیتا ہے۔

ابو وداعہ: کون؟ جواب آتا ہے: سعید

ابو وداعہ کہتے ہیں میرے ذہن میں دنیا کے ہر سعید کا نام آتا رہا سوائے سعید بن مسیب کے؛ کیوں کہ انھوں نے چالیس سال سے کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا اور اپنے گھر اور مسجد کے علاوہ کہیں بھی نظر نہیں آئے۔

سعید کا نام سنتے ہی وہ جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے، سعید بولتے ہیں: مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ تمھاری تنہائی کے بارے میں اللہ مجھ سے سوال کرے حالاں کہ تمھاری بیوی موجود ہے، تو میں اسے لے کر آگیا، یہ کہہ کر انھوں نے دلھن کو اندر بلالیا۔

اس طرح یہ رخصتی بھی ہوگئی! کیسا جشن تقریب!! اور کہاں کا ساز وسامان (جہیز)!!

ابو وداعہ نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے کچھ انتظار کرلیا ہوتا، یہاں تک کہ میں کچھ مال حاصل کرلیتا اور تقریب کی کچھ تیاری کرلیتا۔

سعید نے کہا: تم نے تو کہا تھا نہ کہ تمھارے پاس چار درہم ہیں! چار درہم! پھر جشن کس بات پر؟ شادی دو روحوں کے ملنے، دو دلوں کے جڑنے اور ایک مکان میں دو مکینوں کے رہنے کا نام ہے یا پھر فرنیچر اور کپڑوں کی نمائش، فضول خرچی، دکھاوے اور شہرت طلبی کا نام ہے؟

لوگو! اس طرح کا جشن شادی صرف شوہر اور باپ کے دو گھر برباد نہیں کرتا ہے، بلکہ بیسں گھروں میں جاکر تباہی مچاتا ہے تمھاری بیوی کے ماموں کی چچا زاد بہن کی شادی ہوتی ہے تو بھی تمھاری بیوی تم سے اتنے قیمتی کپڑے خریدنے کامطالبہ کرتی ہے جس کا بار تمھاری آمدنی نہیں اٹھا سکتی ہے، اب اگر تم اسے خرید تے ہو تمھارا بجٹ خسارے میں چلا جائے گا اور اگر انکار کرتے ہو تو تمھاری زندگی دوبھر ہو جائے گی۔

ابو وداعہ فرماتے ہیں:میں نے اسے خوب صورت اور سراپا عورت پایا، جب میں نے صبح کو جانے کا ارادہ کیا تو کہنے لگی: کہاں جارہے ہیں؟ میں نے کہا: تمھارے ابو جان یعنی سعید بن مسیب کی مجلس میں، تو وہ بولی: آپ بیٹھیے میں آپ کو سعید کا علم سکھاتی ہوں۔

میں حیران تھا کہ وہ تو واقعی زبردست عالمہ اور محدثہ تھی۔ بعد میں تو یہ ہوا کہ جب علما کی سمجھ سے کوئی مسٔلہ باہر ہوتا تو وہ اسی کی طرف رجوع کرتے۔

لوگو! میں حضرت سعید بن مسیب کی تمام خوبیوں کا آپ سے تذکرہ نہیں کرسکتا۔ ہم انھی دو خوبیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ اور انھی سے سبق لیتے ہیں۔ کچھ سبق علما کے لیے اور کچھ سبق والدین اور سرپرستوں کے لیے۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اسے سنے اور محفوظ کرے اور جو سیکھے اور عمل کرے۔