ملک کا جمہوری مزاج

اور ہماری ذمہ داری

مولاناابواللیث اصلاحیؒ

ہمیں بحالت موجودہ یہ بسا غنیمت معلوم ہورہا ہے کہ یہاں کا دستور آمرانہ اور کلیت پسندانہ ہونے کے بجائے جمہوری ہے۔ ہر چند ہمیں مغربی جمہوریت سے جس کا دستور ہند میں چربہ اتارنے کی کوشش کی گئی ہے اس پہلو سے بنیادی اختلاف ہے کہ انسانی معاملات زندگی میں خدا کو جو مقام حاصل ہونا چاہیے اس میں وہ مقام جمہور کو دے دیا گیا ہے اور یہ ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ لیکن اس کے باوجود جہاں تک اس کے عملی مظاہر اور نتائج کا تعلق ہے، ہم اسے آمریت، کلیت اور ملوکیت کے مقابلہ میں بہر حال قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں، کیوں کہ یہ ہمارے اس تصور سے نسبتًا کم دور ہے کہ خدا کی نیابت کے تحت اختیارات کے اصل مالک جمہور ہی ہوتے ہیں نہ کہ ان کا کوئی مخصوص طبقہ یا افراد۔ نیز موجودہ جمہوریت میں بہر حال مساوات انسانی اور آزادی رائے وضمیر کو ایک خاص مقامِ احترام حاصل ہے جو خود اسلام کا مطلوب ہے، جب کہ آمریت انسانوں کو انسانیت کے درجے سے گراکر حیوانوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ بنا بریں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان تمام کوششوں کی مذمت اور مخالفت کریں گے جن سے کلیت پسندی اور آمریت کے رجحانات فروغ پاتے ہوں اور ان کوششوں کی تائید اور حمایت کریں گے جن سے جمہوری مزاج کو فروغ حاصل ہوتا ہو، کیوں کہ جمہوری طرز کا دستور ہونے کے باوجود ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو آمریت اور کلیت کی طرف کھلا ہوا رجحان رکھتے ہیں۔

(خطبات امرائے جماعت اسلامی ہند، مرتب ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی ص 79۔)