قرآن میں عقل کی بہتر نشوونماکا انتظام

 

محی الدین غازی

امت میں عقل کو صحیح مقام ملے، یہ ایک بڑی ضرورت ہے۔ امت میں عقل کی صحیح اور بھرپور نشوونما ہو یہ دوسری بڑی ضرورت ہے۔زیر نظر مضمون اسی دوسری ضرورت کے حوالے سے ہے۔امت میں اصلاحی کام کرنے والوں کو اس وقت بڑی دشواری پیش آتی ہے جب وہ امت میں عقل ودانائی کی سطح بہت پست پاتے ہیں، ایسی صورت حال میں لوگوں کے سامنے اپنی بات رکھنا اور صحیح و غلط کا فرق سمجھانا ان کے لیے بہت دشوار ہوجاتا ہے۔اس کا اندازہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود کے اس قول سے کیا جاسکتا ہے کہ جب تم لوگوں کو ایسی بات بتاتے ہو جس تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ پاتی ہیں، تو وہ بات بعض لوگوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ (ما أنت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغه عقولهم إلا كان لبعضهم فتنة. صحیح مسلم) امت کی عقلی سطح بلند ہوتی رہے، اصلاحی کوششوں کی کام یابی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ اس لیے اصلاحی تحریک برپا کرنے والوں کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی عقلی سطح کو اونچا کریں تاکہ ان کی اصلاحی کوششوں کے لیے ماحول سازگار ہوسکے۔

قرآن بہت بڑی اور ہمہ جہت اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے، اس لیے قرآ ن میں انسانوں کے فہم کی سطح بلند کرنے کا انتظام بھی ہے، تاکہ قرآن کی تمام تعلیمات اپنی صحیح شکل میں دل ودماغ تک پہنچ سکیں۔

قرآن کا مقصد: لوگ عقل سے کام لیں

قرآن مجید کا ایک مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عقل سے کام لیں، غور وفکر کریں، صحیح بات سمجھنے اور صحیح راستہ جاننے کے قابل بنیں۔اس مقصد کو قرآن مجید کے اندر مختلف طرح سے متعدد مقامات پر بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل آیتیں اس مقصد کو بہت واضح طور پر بتارہی ہیں:

وَیُرِیكُمۡ ءَایَـٰتِهِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [البقرة 73] لِكَی یكْمُلَ عَقْلُكُمْ (البیضاوی)

(اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو)

كَذَلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَایَـٰتِهِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [البقرة 242] لِكَی تُكْمَلَ عُقُولُكُمْ. (الآلوسی)

(اِس طرح اللہ اپنی آیتیں تمھیں صاف صاف بتاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو)

ٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ یُحۡیِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَیَّنَّا لَكُمُ ٱلۡـآیَـٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [الحدید ١٧] كَی تَكْمُلَ عُقُولُكم (البیضاوی)

(جان لو کہ اللہ زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندگی دیتا ہے،ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، تا کہ تم عقل سے کام لو)

إِنَّاۤ أَنزَلۡنَـٰهُ قُرۡءَٰانًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [یوسف 2] أی لِتَكُونُوا عَلى رَجاءٍ مِن أنْ تَكُونُوا مِن ذَوِی العَقْلِ (البقاعی)

(یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہےتا کہ تم عقل والے بن سکو)

كَذَٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡآیَـٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ. فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـآخِرَةِ [البقرة 219، 220] والمَعْنى: لِیحْصُلَ لَكم فِكْرٌ أی عِلْمٌ فی شُئُونِ الدُّنْیا والآخِرَةِ. (ابن عاشور)

(اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، تا کہ تم دنیا اور آخرت کے امور کو سوچ سمجھ سکو۔)

كَذَٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡـآیَـٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [النور ٦١] وهو بَیانٌ یرْجى مَعَهُ أنْ یحْصُلَ لَكُمُ الفَهْمُ والعِلْمُ بِما فِیهِ كَمالُ شَأْنِكم. (ابن عاشور)

(اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے،تاکہ تم عقل سے کام لو)

ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ [الأنعام ١٥١] رَجاءَ أنْ یعْقِلُوا، أی یصِیرُوا ذَوِی عُقُولٍ (ابن عاشور)

(یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمھیں کی ہے، تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو)

علامہ بقاعی علامہ بیضاوی، علامہ آلوسی اور علامہ ابن عاشور نے لعلکم تعقلون کا مطلب بتایا ہے: لِكَی تُكْمَلَ عُقُولُكُمْ (تاکہ تمھاری عقل مکمل ہوجائے) أنْ تَكُونُوا مِن ذَوِی العَقْلِ (تاکہ تم عقل مندوں میں ہوجاؤ)

عقل کے اندر اللہ تعالی نے بہت سے وظائف رکھے ہیں اورانسانی زندگی کے لیے عقل کے تمام ہی وظائف کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔عقل دریافت کرتی ہے، عقل انکشاف کرتی ہے،عقل خیال کو تخلیق کرتی ہے، عقل تجزیہ کرتی ہے، عقل موازنہ کرتی ہے، عقل ربط قائم کرتی ہے،عقل فیصلہ کرتی ہے۔انسان کی طرح اس کی عقل کا دائرہ یقینا محدود ہے، لیکن وہ اس محدود دائرے میں یہ سب کچھ کرنے کے قابل بنائی گئی ہے اور اسی کی وہ مکلف ہے۔ عقل وحی کی محتاج ہوتی ہے، لیکن وحی کے وحی ہونے کا فیصلہ کرنااور پھر اس وحی کے مفہوم کو سمجھنا اسی کا کام ہوتا ہے۔

انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس وقت شدید بحران اور سنگین مسائل سے دوچار ہوتی ہے جب عقل اپنا کا م نہیں کرتی ہے، یا اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی ہے۔انسان کی عقل پر جب غفلت طاری ہوجاتی ہے یا شہوت مسلط ہوجاتی ہے تو اس کی نشوونما یا تو رک جاتی ہے یا پھر ادھوری نشوونماہوتی ہے۔ایسی صورت میں نوع انسانی اپنے بہت سے قیمتی انتظامات اور اعلی اصولوں کے ثمرات سے محروم رہتی ہے۔کائنات اپنا پیغام سننے والوں کے لیے ترستی ہے،اللہ کی کتاب ہوتی ہے مگر تدبر کرنے والے نہیں ہوتے، خاندان جیسا مضبوط ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے، جمہوری اصول استحصالی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں، آزادی کا غلط استعمال ہوتا ہے، مساوات کے نام پر ظلم ہوتا ہے۔ غرض نرگس اپنی بے نوری پہ روتی رہتی ہے۔

قرآن کی ایک زبردست خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسانی عقل کی بہتر نشوونما کا انتظام ہے، تاکہ اس کے نزول کے ایک اہم مقصد کی بہتر تکمیل خود اس کے ذریعے ہوسکے۔ جو شخص قرآن مجید کی طرف پورے تجرد اور اخلاص کے ساتھ رجوع کرتاہے، اس کی عقل کی بہتر نشوونما کے لیے موزوں ترین ماحول اور اسباب مہیا ہوجاتے ہیں۔ یہ موضوع بہت دل چسپ اور بے حد اہم ہے، امام عبدالحمید فراہیؒ نے اپنی نامکمل کتاب حجج القرآن میں گاہے گاہے اس پرگفتگو کی ہے، گو کہ وہ بہت مختصر ہے لیکن بڑی بصیرت افروز اور چشم کشا ہے اور اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے اس میں بڑا سامان ہے۔ قرآن مجید کے اس انتظام کو ذکر کرنے سے پہلے ہم دو اصولوں کا ذکر کریں گے۔

پہلا اصول: عقل کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے

جس طرح جسم کو نشوونما پانے کے لیے مناسب غذا درکار ہوتی ہے، اسی طرح عقل کو بھی پروان چڑھنے کے لیے صحت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان بچپن ہی سے بہت سی باتیں سنتا دیکھتا اور پڑھتا ہے، یہ باتیں اس کی عقل کا حصہ بنتی جاتی ہیں۔ لیکن ان میں سب باتیں عقل کی صحیح نشوونما کے لیے مفید نہیں ہوتی ہیں، بلکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو عقل کو معطل اور مفلوج کردینے والی ہوتی ہیں۔ بعض باتیں توہم پرست بناتی ہیں اور بعض تقلید پسند بناتی ہیں۔ بعض باتیں غلام عقل کی تشکیل کرتی ہیں اور بعض باتیں سرکش دماغ تیار کرتی ہیں۔ بعض باتیں مادی ضرورتوں کی تکمیل کی حد تک تو عقل مند اور ذہین بنادیتی ہیں لیکن حقیقی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے سلسلے میں کند ذہن اور بے عقل بناکر رکھ چھوڑتی ہیں۔

قرآن مجید اس پہلو سے انسانی عقل کے لیے بے بہا نعمت ہے کہ اس کے اندر جتنی باتیں ہیں وہ سب عقل کی بہترین نشوونماکے لیے بے حد مفید ہیں، کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو عقل کی نشوونما پر منفی اثر ڈالنے والی ہو۔عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کی تعلیمات ایمان اور اخلاق کی ترقی کے لیے بہت ضروری اور مفید ہیں، یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے، تاہم قرآن کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس کی تعلیمات اور معلومات دونوں ہی انسانی عقل کو مناسب ترین اور بے حد صحت بخش غذا فراہم کرتی ہیں۔مثال کے طور پر قرآن مجید میں جو واقعات ذکر کیے گئے ہیں وہ اپنے اندر دل چسپی کا طاقت ور عنصر رکھتے ہیں، تاہم وہ پڑھنے کے بعد سامان تفریح نہیں بنتے ہیں بلکہ سیدھے عقل پراثرانداز ہوتے ہیں اور اس کی نشوونما کے لیے بہترین غذا بن جاتے ہیں، ان کو پڑھتے ہوئے انسان کی یہ تربیت ہوجاتی ہے کہ وہ دنیا میں پیش آنے والے واقعات کو کس طرح عقل مندی اور ذہانت کی نگاہ سے دیکھے۔زمین وآسمان میں ہم بہت سی چیزیں دیکھتے ہیں، انھی چیزوں کو جب قرآن مجید میں پڑھتے ہیں تو ان کا تذکرہ عقل کو پروان چڑھانے میں مددگار ہوجاتا ہے اور اس تذکرے سے انسان کی یہ تربیت ہوتی ہے کہ زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو اسے کس دانائی کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

دوسرا اصول: عقل کے استعمال سے عقل بڑھتی ہے

اللہ تعالی نے انسان کی تمام تر قوتوں اور زمین کے تمام تر خزانوں کو محنت وعمل سے جوڑا ہے، ضروری سامان واسباب بنا محنت وکوشش کے فراہم کردیے جاتے ہیں، اور پھر انسان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پوشیدہ قوتوں اور خزانوں کو دریافت کرکے انھیں کس قدر روبہ عمل لاسکتا ہے،جس قدر وہ ان کو عمل میں لاتا ہے، ان قوتوں کی بھی نشوونما ہوتی ہے اور ان قوتوں کے استعمال کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ آپ زیادہ وزن اٹھاکر وزن اٹھانے کی لیاقت بڑھاتے ہیں اور زیادہ دوڑ کر زیادہ دوڑنے کی قابلیت پالیتے ہیں۔ اسی طرح آپ زیادہ محبت کرکے اپنے دل کو زیادہ محبت کرنے والا بنالیتے ہیں۔اگر آپ نے جسم کو دوڑنے کے مواقع نہیں دیےتو وہ کاہل اور سست ہوجاتا ہے، اور اگر آپ نے دل کو محبت کرنے کے کام پر نہیں لگایا اور یونہی چھوڑ دیا تو وہ محبت کرنے کے کام کا بھی نہیں رہ جاتا ہے۔

عقل کی نشوونما کے سلسلے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ خالق کی طرف سے ایسا نہیں ہوا کہ انسانوں کو ابتدا ہی میں کامل وفاضل عقل دے دی گئی ہواور عقل ودانش کے تمام خزانےان کے حوالے کردیے گئے ہوں، یامعلومات کے سارے ذخیرے ان کے دماغوں میں انڈیل دیے گئے ہوں،بلکہ بنیادی سمجھ بوجھ عطا کرنے کے بعد ان کی عقل کے سامنے وسیع میدان ہوتا ہے، کہ وہ عقل کا استعمال کرتے جائیں اور عقل مندی کی منزلیں سر کرتے جائیں۔جو عقل سے زیادہ محنت ومشقت کرواتا ہے، وہ اپنی عقل کو بڑھاتا ہے اورعقل کے بہتر ثمرات حاصل کرتا ہے اور جو عقل کو آرام اور فرصت کے طویل مواقع دیتا ہے وہ عقل کی پسماندگی اور نقاہت کا سامان کرتا ہے۔

قرآن مجید میں بھی اسی اصول کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ بنیادی اور ضروری احکام وامور واضح طور پر بتائے گئے اور اس کے بعد علم وحکمت کے بے شمار خزانے فکر وتدبر سے وابستہ کردیے گئے ہیں، جو جتنا زیادہ فکر وتدبر کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کی عقل ترقی پائے گی او ر اتنا ہی زیادہ قرآن مجید کے خزانوں سے اس کے حصے میں آئے گا۔ قرآن مجید پڑھنے والا صاف دیکھتا ہے کہ قرآن میں انسان کو بار بار اپنی عقل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عقل کی حفاظت بھی غور وفکر سے ہوتی ہے اور اس کی ترقی بھی غوروفکر سے ہوتی ہے۔ گم راہی کے ڈر سے اپنی عقل پر تالا لگاکر رکھنے سے عقل کی ترقی تو رک ہی جاتی ہے اورانجام کار وہ محفوظ بھی نہیں رہتی ہے۔

علامہ فراہی کے الفاظ میں:

قرآن نے توحید اور احکام شریعت کی صورت میں ہدایت کے اولین امور کو تو وضاحت سے بیان کردیا، لیکن عقل کی تربیت اور نشوونما کو عقل کے کاموں سے جوڑ دیا، کہ اس کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔[1]

قرآن مجید غور وفکر کی جولان گاہ دیتا ہے

اگر یہ اصول درست ہے کہ عقل کو جس قدر استعمال کیا جائے گا اس میں اضافہ ہوگا، تو دوسرا اصول یہ ہے کہ عقل کو کام کرنے کے لیے جتنا اچھا اور سازگارمیدان ملے گا اس کی نشوونما اتنی ہی اچھی اور پاکیزہ ہوگی۔قرآن مجیدکی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ عقل کو سرگرم رہنے کی تاکید کرنے کے بعد اس کی سرگرمیوں کا بہترین میدان وہ خود بن جاتا ہے۔

قرآن کا اسلوبِ بیان اور قرآن کی ترتیب دونوں ہی میں غور وفکر کے لیے بہت مواقع رکھے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر درج ذیل آیتوں میں مذکور ترتیب غور وفکر کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے:

أَفَلَا ینظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَیفَ خُلِقَتْ۔ وَإِلَى السَّمَاءِ كَیفَ رُفِعَتْ۔ وَإِلَى الْجِبَالِ كَیفَ نُصِبَتْ۔ وَإِلَى الْأَرْضِ كَیفَ سُطِحَتْ (الغاشیة: ۱۷-۲۰)

(تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟)

اسی درج ذیل دونوں ملتے جلتے جملوں میں موجود بعض فرق سوچنے کی پرزور دعوت دیتے ہیں:

وَلَا تَقۡتُلُوۤا۟ أَوۡلَـٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَـٰقٍ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِیَّاهُمۡ [الأنعام: ١٥١]

اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں

وَلَا تَقۡتُلُوۤا۟ أَوۡلَـٰدَكُمۡ خَشۡیَةَ إِمۡلَـٰقٍ نَّحۡنُ نَرۡزُقُھمۡ وَإِیَّاكُمۡۚ [الإسراء: ٣١]

اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں

یہ محض دو مثالیں ہیں، قرآن مجید کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر لفظ اور ہرجملہ اپنے پاس ٹھہرنے اور سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایسا کیوں؟ یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے، اتنا زیادہ کہ شاید ہی کسی اور کتاب میں آتا ہو۔ ہر سوال فکر طلب ہوتا ہے اور ہر سوال کا جواب غیر معمولی مسرت کا احساس دلاتا ہے۔

قرآن مجید اپنے آپ میں عقل کی ریاضت کے لیے بہترین میدان ہے، اس پر مزید یہ کہ وہ عقل کے لیے مناسب ترین اور وسیع ترین دنیائے عمل کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔قرآن مجید کے مضامین پر غور کرتے ہوئے انسان قرآن کی آیتوں سے باہروسیع کائنات کی نشانیوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔قرآن انسانی عقل کی رہ نمائی کرتا ہے کہ یہ کائنات بھی اس کے لیے جولان گاہ ہے۔اس طرح پوری کائنات عقل کی تربیت گاہ بن جاتی ہے۔

قرآن میں غور و فکر کی بار بار ترغیب ہے

تفکیری عمل انسان کا وجہ امتیاز ہے، توتن آسانی انسان کی سرشت میں ہے، غوروفکر کے سلسلے میں تو وہ خاص طور سے بہت زیادہ تن آساں واقع ہوا ہے، اسی لیے قرآن کریم غور وفکر پر بہت زیادہ اور بار بار ابھارتا ہے، عقل سے کام لینے والوں کو سراہتا ہے، اور عقل پر تالے لگانے والوں کی مذمت کرتا ہے۔ قرآن مجید کا قاری اس کا بخوبی مشاہدہ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ کثرت سے ہے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز سے ہے۔ جیسے:

أَوَلَمۡ یَتَفَكَّرُوا۟ فِیۤ أَنفُسِهِم [الروم: ٨]  (کیا وہ خود اپنے بارے میں غور وفکر نہیں کرتے؟)

قُلۡ إِنَّمَاۤ أَعِظُكُم بِوَٰاحِدَةٍۖ أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا [سبأ: ٤٦]

(کہو میں تو بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، کہ اللہ کے لیے دو دو اور تنہا تنہا اٹھو پھر غور وفکر کرو)

قرآن میں بے عقلی کے رویے پر تکرار کے ساتھ تنبیہ ہے

عقل کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ بے عقلی کے رویوں پر بار بار تنبیہ کی جائے۔ اس طرح بے عقلی سےوحشت وبے زاری بڑھتی ہےاور عقل مندی کی طرف میلان طبع بڑھتا جاتا ہے۔قرآن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کی نافرمانی کرنے پر تنبیہ نہیں کرتا ہے، بلکہ عقل کے تقاضوں کی خلاف ورزی پر بھی بہت زیادہ تنبیہ کرتا ہے۔جیسے

قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَاۤىِٕكُم مَّن یَهۡدِیۤ إِلَى ٱلۡحَقِّۚ قُلِ ٱللَّهُ یَهۡدِی لِلۡحَقِّۗ أَفَمَن یَهۡدِیۤ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن یُتَّبَعَ أَمَّن لَّا یَهِدِّیۤ إِلَّاۤ أَن یُهۡدَىٰۖ فَمَا لَكُمۡ كَیۡفَ تَحۡكُمُونَ [یونس: ٣٥] (اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہ نمائی کرتا ہو؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہ نمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ، جو حق کی طرف رہ نمائی کرتا ہے وہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا اِلّا یہ کہ اس کی رہ نمائی کی جائے؟ آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے الٹے فیصلے کرتے ہو؟)

حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کی عقلی نشوونما قرآن کے سائے میں ہوئی ہو اسے یہ سمجھانا آسان ہوتا ہے کہ فلاں رائے یا رویہ بے عقلی کا ہے اسے اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

اچھے اور برے کا فرق کرنے کی ذمے داری عقل پر ڈالی ہے

قرآن مجید میں تحسین عقلی اور تقبیح عقلی کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس اسلوب کے غیر معمولی تربیتی فائدے ہیں۔ اس کے ذریعے سے عقل کو اس کے اصل کام کی تربیت دی جاتی ہے، اور وہ یہ کہ وہ حسن اور قبح کے بیچ فرق کرنا سیکھے اور اس فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھے۔ہمارے مناظرہ پسند اہل علم کے یہاں عقلی تحسین وتقبیح اور شرعی تحسین وتقبیح کے درمیان موازنے پر لمبی بحثیں ہوگئیں، بعض نے کہا کہ چیزوں کے حسن وقبح کا فیصلہ عقل کرتی ہے اور بعض نے کہا کہ شرع کرتی ہے۔ یہ طویل مگر لاطائل بحثیں تھیں۔ قرآن کی روشنی میں اس مسئلے کو دیکھنے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ جاہلیت میں عقل کو حسن اور قبح کے درمیان فرق کرنے کے اہم اور ضروری کام سے باز رکھا گیا تھا، قرآن نےاس بندش کو توڑ کےعقل کو دوبارہ اس ذمے داری سے سرفراز کیا۔ اور اس کی اس پہلو سے تربیت کی۔ قرآن میں معروف اور منکر کی اصطلاحات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جس میں انسانوں کی عقل سلیم مرجع ہوتی ہے۔ اسی طرح عقل کو خطاب کرکے فرمایا گیا: هَلۡ جَزَاۤءُ ٱلۡإِحۡسَـٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَـٰنُ [الرحمن ٦٠] نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟

قرآن عقل مندی کا ماحول مہیا کرتا ہے

آدمی جب قرآن پڑھتا ہے تو ایسے ماحول میں داخل ہوجاتا ہے جہاں عقل مندی کی باتوں کا چرچا ہوتا ہے، جو بات بھی کہی جاتی ہے وہ عقل کو اپیل کرنے والی اورعقل کے تقاضے کے مطابق ہوتی ہے، اس طرح انسان جب اس ماحول میں خاصا وقت گزار لیتا ہے اور اس سے مانوس ہوجاتا ہے تو اسے پھر کبھی بے عقلی کی کوئی بات پسند نہیں آتی ہے۔ بلکہ اسے ہر ایسی بات سے تنفراور تکدرہونے لگتا ہے جو عقل کے خلاف ہو۔ قرآن میں احکامِ عبادت کا بیان ہو، آداب معاشرت کا ذکر ہو، معاملات انجام دینے کے بارے میں ہدایات ہوں، ماضی کے واقعات ہوں، آخرت کے سلسلے میں وعدے اور وعیدیں ہوں، غرض قرآن میں جو کچھ بھی ہے عقل کے لیے صحت بخش ماحول فراہم کرتا ہے۔

یہ ماحول جو قرآن مجید فراہم کرتا ہے عقل کی نشوونما کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔اسی لیے امت کی عقلی سطح بلند کرنے کے لیے اسے قرآن کے ماحول میں لانا ضروری ہے۔

قرآن میں حسی معجزات کے بجائے دلائل اور نشانیوں پر زور ہے

اسی سیاق میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن حسی اور ظاہری معجزات مانگنے کی ہمت افزائی نہیں کرتا ہے، اس کے بجائے وہ کائنات اور انفس کی نشانیوں اور دلائل پر غور وفکر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح اور نمایاں ہوجاتی ہے کہ اس کی نظر میں ان ظاہری معجزات کی چنداں وقعت نہیں، وہ لوگوں کو ہمیشہ اصل روح نبوت کی طرف متوجہ کرتا ہے [2]

مزید لکھتے ہیں:

اسلام نے نبوت کی تصدیق کے باب میں ظاہری اور مادی معجزات کو وہ اہمیت نہیں دی ہے، جو خصوصیت کے ساتھ عیسائی مذہب اور اس کے مقدس صحیفہ میں نظر آتی ہے، بلکہ وہ انسانوں کو زیادہ تر غور وفکر، فہم و تدبر، سوچ اور سمجھ کی دعوت دیتا ہے اور نبوت کی اندرونی خصوصیات اور روحانی دلائل کو ایمان وتصدیق کی بنیاد قرار دیتا ہے"[3]

عقاد لکھتے ہیں:

اسلام ان معجزات کا دین ہے کہ عقل جدھر دیکھے اسے نظر آجائیں، ان معجزات کا دین نہیں ہے جو عقل کی نگاہ پر پردہ بن جائیں، اور زبردستی لاجواب کرکے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کریں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ معجزے دو طرح کے ہوتے ہیں، اور یہ جاننااس لیے ضروری ہے تاکہ ہم وہ معجزہ طلب کریں جسے طلب کرنا درست ہو، اور اس معجزہ کی طلب سے پرہیز کریں جو کسی عاقل کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ وہ معجزہ جس کا روئے خطاب عقل کی طرف ہوتا ہے وہ تو ہر طرف موجود ہے جو اس کا طالب ہوگا وہ جدھر نظر ڈالے گا اسے پا لے گا۔ لیکن یہ وہ معجزہ نہیں ہے جو غور وفکر سے مطمئن نہیں ہونے والے کو منوانے کے لیے ہوتا ہے،دراصل جو اپنے غور وفکر سے مطمئن نہیں ہوپاتا اسے معجزہ بھی کبھی گم راہی سے نہیں نکالتا ہے۔ اسلام ایک متوازن دین ہے وہ فہم کے تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے، اور تمام امور میں ایک توازن رکھتا ہے۔ وہ تو ہر پہلو سے معجزات کا دین ہے۔ لیکن وہ اس معجزہ کا دین نہیں ہے جو عقل کو لاجواب توکردے لیکن مطمئن نہیں کرے، کیوں کہ وہ عقل کا دین ہے، اور اس دین میں غور وفکر کرنا ایک فریضہ ہے[4]

قرآن کے معجزات بھی عقلی استدلال ہیں

کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب قرآن نے عقل اور غوروفکر کو اہمیت دی ہے اور حسی اور ظاہری معجزات کو اہمیت نہیں دی ہے، تو پھر قرآن میں حسی اور ظاہری معجزات کا بار بار ذکر کیوں ہے؟

قرآن میں معجزات کے تذکروں کی کئی وجوہات اور حکمتیں بیان کی جاسکتی ہیں، لیکن ہم یہاں عقل کی تربیت کے حوالے سے بات کریں گے۔قرآن میں ایک طرف عقلی دلائل کا طویل سلسلہ نظر آتا ہے اور ساتھ ہی حسی معجزات کا بار بار تذکرہ بھی ملتا ہے۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ حسی معجزات عقل کے لیے حیران کن تو ہوتے ہیں لیکن یہ عقلی استدلال کو مہمیز لگانے والے ہوتے ہیں۔ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں وہی ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور جن کی عقلوں پر پہرہ ہوتا ہے وہ ان معجزات پر بھی ایمان نہیں لاتے۔

عقل دلائل کے ساتھ آنے کی وجہ سے حسی معجزات بھی عقلی استدلال کا حصہ بن جاتے ہیں، اور اسی لیے قرآن میں انھیں معجزات نہیں بلکہ آیات یعنی نشانیاں کہا گیا ہے۔ دراصل یہ معجزات اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اور جب توجہ اللہ کی طرف ہوجاتی ہے تو گویا دلیل کا سرچشمہ ہاتھ آجاتا ہے۔

قرآن میں غور و فکر اور استدلال کےبہترین اصول ہیں

امام فراہی نے یہ بات بھرپور اعتماد اور وثوق کے ساتھ کہی ہے کہ قرآن مجید میں نہ صرف عقلی دلائل بہت کثیر تعداد میں ہیں، بلکہ غور وفکر اور استدلال کے اصول بھی ہیں جو فکرو استدلال کے معروف اصولوں سے مختلف ہیں۔

میں قرآن میں غوروفکر اور استدلال کے وہ اصول پاتا، جو یونانیوں کی منطق کے اصولوں کے مقابلے میں عقل سے قریب تر ہیں اور دل میں زیادہ جاگزیں ہوجانے والے ہیں، اور وہ دلائل پاتا جو فلاسفہ اور متکلمین کے دلائل سے زیادہ صحیح اور پختہ ہیں، اور ان پر تعجب کرتا جو انھیں دیکھ نہیں پاتے۔[5]

گو کہ حجج القرآن کے عنوان سے ان اصولوں کی تدوین کا عظیم منصوبہ تشنہ تکمیل رہ گیا۔ لیکن کچھ زریں اصولوں تک رسائی کا سامان ضرور ہوسکا۔ قرآن مجید پر گہرا غوروفکر کرنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا میدان ہے۔

جن اصولوں کی جانب امام فراہی نے رہ نمائی کی ہے ان میں سب سے نمایاں اصول یہ ہے کہ دلیل کی بنا اس یقین پر رکھی جائے جو انسان کی فطرت کے اندر موجود ہوتا ہے اور جس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ فطرت میں موجود ہے۔

امام فراہی لکھتے ہیں:

قرآن مجید نے دلیل کی بنیاد اس ضروری فطری یقین پر رکھی ہے جس کا انکار عقل کر نہیں سکتی ہے، یہی یقین عقل کے تمام علوم اعمال فکر اور استدلال کا سرچشمہ ہے۔ یہ نفس انسانی کی فطرت کی گہرائی میں رکھا گیا ہے، اور اسی طرح پوشیدہ ہوتا ہے جیسے چھلکوں کے پیچھے مغز اور پردوں کے پیچھے روح ہوتی ہے، لیکن نہریں اسی سے نکلتی ہیں[6]

وہ مزید لکھتے ہیں:

ایک الہ پر ایمان جو رحیم ہے خلق علم قدرت تصرف رحمت اور حکمت سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، محض آثار سے استدلال کے راستے بے حد مشکل ہے، لیکن وہ بہت محکم اور واضح ہوتا ہے اگرنفس انسانی کی فطرت میں غور کیا جائے، اس پہلو سے کہ اس کی فطرت میں وہ علم ہے جو ایک رحیم قادر اور حکیم الہ واحد پر یقین کرنے پر مرتکز ہے[7]

مزید لکھتے ہیں:

ہمارا اللہ پر ایمان محض استدلال کے راستے سے نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ یہی ایمان ہر علم اور دلیل کی صحت کی بنیادہے[8]

قرآن میں لطیف عقلی دلائل کا کثرت سے ذکر ہے

قرآن مجید دلیل وبرہان کی کتاب ہے، اس میں دلائل بہت زیادہ ہیں، یہ دلائل عقل اور دل دونوں کو ساتھ مخاطب کرتے ہیں، دلائل کی بنا اس یقین پر ہوتی ہے جو نفس انسانی میں پوشیدہ و موجود ہے، تاہم یہ دلائل اس تفصیل اور وضاحت سے نہیں ہوتے جس کا مشاہدہ ہم دوسرے کلاموں میں کرتے ہیں، یہ اس ترتیب اور ہیئت میں بھی نہیں ہوتے جس کے ہم عادی ہیں، بلکہ یہ بہت ہی لطیف پیرائے میں ہوتے ہیں، خواب غفلت میں پڑے ہوئے یا غوروفکر کے معاملے میں تن آسانی میں گرفتار لوگ ان کا ادراک نہیں کرسکتے، ان کا ادراک کرنے کے لیے عقل کو فعال بنانا ضروری ہوتا ہے، یہ معمہ بھی نہیں ہوتے کہ عقل کو حیرانی اور بے بسی کا شکار کردیں، بلکہ یہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان پر جس قدر غور کرے محکم دلائل اور روشن حکمتوں کی قطار نظر آتی جائے۔ اس طرح ہر دلیل کی قوت چوں کہ غور وفکر کے بعد سمجھ میں آتی ہے اس لیے وہ متاعِ مستعار کے بجائے اپنی دریافت محسوس ہوتی ہے، اور ہر دلیل کے پانے پر ایسی خوشی ہو تی ہےکہ گویا وہ دلیل اس کی اپنی متاعِ گم شدہ تھی۔

امام فراہی کے الفاظ میں:

قرآن کے عظیم تر اہداف میں عقلوں کی نشوونما اور حکمت کی تعلیم بھی ہے، جیسا کہ بہت سارے مقامات پر اس کی صراحت ہے، اور خاص اسی وجہ سے لطیف دلائل کو کثرت سے بیان کیا ہے تاکہ لوگ غور وفکر کرنا اور استنباط کرنا سیکھیں۔ اور اسی لیے قرآن بہت دفعہ صرف دلائل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ان سےاستنباط کرنے پر ابھارتاہے، بلکہ کبھی تو وہ صرف ان فطری اصولوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر استدلال کی بنا رکھی جاتی ہے... قرآن کی اس گہرائی اور لطافت بیانی کی وجہ سے اس کے بہت سارے دلائل ان لوگوں سے مخفی رہے جو قرآن کو ایک عام خطاب کی نظر سے دیکھتے تھے[9]

مزید لکھتے ہیں:

اگر قرآن ہر دلیل کو حد درجہ تفصیل کے ساتھ بیان کردیتا تو دماغوں کی تربیت نہیں ہوتی، بلکہ فہم وفکر انفعال زدہ ہوجاتے، جیسا کہ بعض طالب علموں کو دیکھتے ہو کہ انھیں جو بتایا جاتا ہے وہ یاد کرلیتے ہیں، ان کی ساری تگ وتاز یاد کرلینے تک محدود رہتی ہے۔[10]

قرآنی دلائل کا اثر انسانی شخصیت پر

قرآن مجید نہ تو صرف اوامر ونواہی کی کتاب ہے، اور نہ صرف ترغیب وترہیب کی، بلکہ سب سے پہلے وہ دلیلوں اور نشانیوں کی کتاب ہے، یہ دلیلیں اور نشانیاں ہر وقت غور وفکر کی دعوت دیتی ہیں۔

قرآن مجید کے دلائل دراصل عقلی دلائل ہیں، اور ان کا مخاطب انسانی عقل ہوتی ہے، قرآن مجید اپنے قاری کو ہر قدم پر عقلی دلائل سے مطمئن کرتا جاتا ہے، عقلی دلائل پر غوروفکر کرتے کرتے اس کا ذہنی سانچہ اسی طرز کا ہوجاتا ہے، وہ پھر ہر دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اپنی عقل کا اطمینان مانگتا ہے، کسی کا احترام یا کسی کا جبر اسے کسی رائے کو بغیر اطمینان کے قبول کرنے پر آمادہ نہیں کرتا۔ وہ ہر بات کی دلیل مانگتا ہے، گمان اس کی منزل نہیں بنتا، عوام الناس میں کسی نظریہ کی قبولیت، بزرگوں کی تقلید کا دباؤیا حکم رانوں کا جبر اس پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوتا کہ وہ دلیل کی ضرورت محسوس نہ کرے۔

تمام رایوں کودلائل کی ترازو پر رکھنا اوردلیل کی بنیاد پر رائے کو قبول کرنے کا رویہ انسان کی شخصیت میں ارتقا کا سبب بنتا ہے، ایک تابع محض کے بجائے وہ ایک آزاد اور با اختیار شخصیت بن جاتا ہے، جس کی اپنی رائے اور اپنا فیصلہ ہوتا ہے، وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی دنیا وآخرت کے سلسلے میں فیصلے کرتا ہے اور ان فیصلوں کے انجام کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، کیوں کہ یہ فیصلے اس کے اوپر تھوپے نہیں جاتے بلکہ اس کے اپنے ہوتے ہیں۔ کسی انسان کو یہ اختیار نہیں ملنا چاہیے کہ وہ دوسرے انسان کی دنیا وآخرت کے بارے میں فیصلے کرے۔

بڑا فرق ہوتا ہے اس شخص میں جو دوسروں کی سننے اور دوسروں کے پیچھے چلنے کا عادی بن گیا ہو، اور اس میں جس کے سامنے اس کی اپنی زندگی کے اہم ترین امور کے سلسلے میں اللہ کی طرف سےدلائل پیش کیے جاتے ہوں جن سے مطمئن ہونے کے بعد ہی اس سے کسی فیصلے کا مطالبہ ہو۔ اللہ کی جانب سے انسان کی یہ بہت زبردست تکریم ہے، جسے قبول کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی صورت میں انسان کا رتبہ بہت بلند ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت میں زبردست ارتقا ہوتا ہے۔

دلائل پر مبنی رویہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں جبر اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جب کہ جو لوگ دلائل کے بغیر بات پیش کرتے ہیں انھیں جبر اور زبردستی، لالچ یا دوسرے غیر اخلاقی حیلوں کی ضرورت پڑتی ہے، کہ اس کے بغیر ان کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا ہے۔

عقل کے استعمال کی راہ میں رکاوٹیں اور ان کا علاج

جس طرح حواس کا استعمال انسان کی فطرت میں ہے، اسی طرح عقل کا استعمال بھی انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اس کے باوجود یہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسان عقل کے استعمال میں بہت کوتاہ ثابت ہوا ہے۔وسیع وعظیم کائنات کے مقابلے میں اس چھوٹی سی دنیا میں تو وہ بزعم خود بڑی بڑی فتوحات کرتا ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ صرف بھٹکتا اور گم راہ ہوتا ہے۔

عقل کے سلسلے میں انسان کی کوتاہی کے مختلف درجات اور مختلف اسباب ہیں،قرآن مجید ان اسباب کا تذکرہ کرتا ہے اور ان کا علاج بھی تجویز کرتا ہے۔

ظاہر و محسوس میں انہماک

عقل کا کام ظاہر و محسوس مظاہر زندگی سے آگے بڑھ کر انفس وآفاق کی عظیم ترین نشانیوں پر غور کرنا ہے، لیکن جو ظاہر ومحسوس کو سب کچھ سمجھ کر اسی میں منہمک ہوجاتے ہیں اور اس انہماک سے باہر نکل کر غور وفکر کی مشقت برداشت نہیں کرتے، ان کو وہی ملتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ قرآن مجید بار بار انسان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ غفلت کی قید سے آزاد ہوکر غور و فکر کا کام انجام دے۔

امام فراہی لکھتے ہیں: اس دنیا کی زندگی کے آگے کیا ہے اس سے غفلت زیادہ تر دماغوں پر طاری رہتی ہے، کیوں کہ وہ اس ظاہر ومحسوس زندگی اور اس کے علوم میں منہمک ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے، وَكَأَین مِنْ آیةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ یمُرُّونَ عَلَیهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (سورة یوسف/105) آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن سے وہ اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ قرآن کے دلائل فطرت سے قریب ہوتے ہیں، بلکہ غوروفکر اور اس کے اصولوں پر ترغیب دینے والے ہوتے ہیں، تب بھی تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ غور وفکر نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ قرآن نے غور وفکر اور تدبر پر بہت ابھارا ہے، اللہ کا ارشاد ہے: أَفَلاَ یتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورة محمد/24) کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑےہوئے ہیں۔ اس طرح کا تذکرہ بہت جگہ ہے۔

غفلت کہتے ہیں غور وفکر نہ کرنے کو، اس طرح یہ عدمی سبب ہے، لیکن یہ غفلت پروان چڑھتی ہے ظاہر وحاضر میں انہماک کی وجہ سے، اور یوں یہ عقل کی قوتوں کو بے کار کردیتی ہے، اور ادراک کے کمروں کو اس طرح بند کرتی ہے، کہ انفس اور آفاق میں جو جلال و جمال اور حکمت و رحمت کے مظاہر ہیں، ان کے ادراک سے دماغ قاصر ہوجاتے ہیں، اور پھر انھیں صرف ظاہر ومحسوس نظر آتا ہے بالکل چوپایوں کی طرح، اللہ نے ارشاد فرمایا: لَهُمْ قُلُوبٌ لا یفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْینٌ لا یبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ اذان لا یسْمَعُونَ بِهَا أُوْلَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (سورہ الأعراف/179) ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ہیں، اور ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ہیں، اور ان کے پاس کانھیں جن سے وہ سنتے نہیں ہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ گم راہ ہیں، یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے مزید فرمایا یعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَهُمْ عَن الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ (سورہ الروم:7) یہ دنیا کی زندگی کے ظاہر کو تو جانتے ہیں اور یہ آخرت کے سلسلے میں میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور فرمایا: فَأَعْرِضْ عَن مَنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ یرِدْ إِلاَّ الْحَیاةَ الدُّنْیا، ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (سورہ النجم:29-30) اس سے تم اعراض کروایسے جو ہمارے ذکر سے منھ موڑےاور صرف دنیا کی زندگی کو مقصود بنائے، ان کے علم کی پہنچ بس اسی قدر ہے۔ اس طرح کے بیانات بھی بہت جگہ ہیں۔[11]

پستی پر قناعت اور خوب تر کی جستجو سے پہلو تہی

جب انسان پستیوں کا دلدادہ اور حقیر منافع کا غلام ہوجاتا ہے تو اس کی عقل بھی پستیوں سے اوپر اٹھ کر دیکھنا اور دکھانا بند کردیتی ہے۔ پستیوں میں رہنے والے وحی الہی کی روشنی سے بھی محروم ہوتے ہیں، اور ان کی عقل بھی ان کی رہ نمائی سے قاصر ہوتی ہے۔ کیوں کہ عقل بلندیوں کی دلدادہ ہوتی ہے، پستیوں میں رہنا اسے راس نہیں آتا ہے،بلکہ پستی کے ماحول میں وہ بیمار ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید عقل کو بیماری سے بچانے کی تلقین کرتا ہے۔

امام فراہی لکھتے ہیں:

عقل کی بیماری بدن کی بیماری سے زیادہ حیران کن نہیں ہے، دیکھتے نہیں کہ حواس بیمار پڑتے ہیں بلکہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یکسر ختم ہوجاتے ہیں، اگر یہ بات ہے تو کیا تعجب کہ عقل یا دل کو کوئی بیماری لگ جائے تو وہ بے ہوش ہوجائے یا بے نور ہوجائے۔ انسان کی فطرت میں جو علم ودیعت کیا گیا ہے ضروری نہیں کہ سارے انسانوں پر واضح اور روشن ہو، بلکہ اس کے اونچے مقام کا تقاضا ہے کہ ان لوگوں کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچے جو پستی میں جاکر حقیر چیزوں میں مصروف ہیں، اور سیکھنے کی انکساری اور فکر کی مشقت کو قبول کرنے سے ان کا تکبر مانع ہے۔ بلاشبہ پستی میں مصروف ہوجانا بلندی کی راہ کی رکاوٹ ہے، اور مشقت کرنے پر راضی نہ ہونے سے عظیم کارناموں کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں سارے لوگوں پر طاری ہوجاتی ہیں، سوائے اہل بصیرت کے اور وہ تو بہت کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نفس کی بیماریوں کی طرف بہت زیادہ نشان دہی کرتا ہے خاص طور سے جن دو کا ہم نے ذکر کیا۔[12]

ہویٰ پرستی اور اتباع ظن

وحی الہی کا تعارض عقل سے نہیں ہوتا ہے، بلکہ عقل اور وحی دونوں کا ٹکراؤ ہویٰ اور ظن سے ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید جگہ جگہ ہوی اور ظن کی پیروی کے سلسلے میں خبر دار کرتا ہے، کہ جو ان کی پیروی کرتا ہے وہ عقل کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

امام فراہی لکھتے ہیں:

مومن ہر معاملے میں عقل کی بات مانتا ہے، جب کہ کافر عقل کی بات صرف وہاں مانتا ہے جہاں وہ بات اس کی ہویٰ اور ظن کے مطابق ہو۔ اللہ کا ارشاد ہے: إِنْ یتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِن رَبِّهِمُ الْهُدَى (سورہ النجم: 23)وہ تو صرف ظن کی اتباع کرتے ہیں اور خواہش نفس کی بات مانتے ہیں، حالاں کہ ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔۔۔اس دنیا تک محدود خواہش نفس انسان کو خیر کی بلندیوں کی طرف بڑھنے کے ارادوں سے باز رکھتی ہے، اس کے باطل گمان اس کے سامنے حجاب بن کر اسے خالص حق پر غور کرنے سے روک دیتے ہیں، میں نے حق اور تقوی کا ہوی اور ظن جیسا دشمن نہیں دیکھا، ظن باطل کو سنوار کر حق کی صورت میں پیش کرتا ہے، تو ہوی شر کو خیر کی شیرینی میں لپیٹ دیتی ہے۔ یہ دونوں علم اور عمل کی راہ کی رکاوٹیں ہیں۔[13]

عقل کے دشمن ہی وحی کے دشمن بھی ہیں

یہ بہت دل چسپ اور لطیف بات ہے، کہ قید وغلامی کی جتنی قسموں کو قرآن مجید میں وحی وہدایت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا، اور جن سے آزاد ہونے کو وحی وہدایت سے مستفید ہونے کی شرط قرار دیا گیا، وہ سب عقل کی راہ کی بھی رکاوٹیں ہیں۔ عقل کے بہتر استعمال کے لیے انھیں راستے سے ہٹانا اور خود کو ان سے آزاد کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل پانچ چیزوں پر غور کیا جاسکتا ہے:

اتباع ظن یا گمان پرستی

حقیقت کی تلاش کے سفر میں گمان کے کسی مرحلے کو منزل سمجھ کر ان پر ایمان لے آنا، اور گمان کے گرد اذعان وتسلیم کا حصار قائم کرکے اسے مسلمات کا درجہ دے دینا، تلاش حقیقت کی راہیں مسدود کردیتا ہے، ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب کسی فرد یا گروہ کی رسائی کسی نئی بات تک ہوتی ہے، اور وہ اس پر اس قدر فریفتہ ہوجاتے ہیں کہ اسے انوکھی دریافت، جدید مسلمہ، طرہ امتیاز،آخری بات اورمطلق سچائی قرار دے دیتے ہیں۔یہ صورت حال عقل کے لیے بڑی پریشان کن ہوتی ہے، کہ تمام تر الجھنوں اور اشکالات کے باوجود اسے گمان کو یقین ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وحی الہی کو قبول کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ گمان پرستی ہے۔

اتباع ہوی یا نفس پرستی

انسان کو عقل سے محروم کردینے والی ایک چیز خواہشات کی پیروی ہے، جہاں خواہشات کا غلبہ ہوجائے، وہاں سوچنے کا عمل رک جاتا ہے، خواہشات انفرادی طور پر انسان کو اندھا کردیتی ہیں، تاہم جب اجتماعیت خواہشات کے نرغے میں آجاتی ہے، تو عقل کو کرب انگیز صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔خواہشات دلیل بن جاتی ہیں، اور عقلی استدلال جاذب توجہ نہیں رہتا ہے۔جب انسان کے دل پر نفس پرستی کی ظلمتیں چھائی رہتی ہیں تو وحی الہی کی روشنی وہاں نہیں پہنچتی ہے۔

اتباع آباء اور قدیم پرستی

جو قدیم میں ہوتا رہا وہی درست ہے، جس عقیدے طریقے اور رویے پر آباء واجداد کو پایا وہ حتمی طور پر صحیح ہے۔ آباء پرستی اور قدامت پرستی کا یہ موقف وحی الہی کو قبول کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے، اور اس موقف کے حاملین کی وحی کے حاملین سے سخت کشمکش ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ موقف عقل کے استعمال پر بھی قدغن لگادیتا ہے، اور عقل کو تنگ حصار میں قید کردیتا ہے۔

اقتدار کی غلامی اور طاقت پرستی

جس کی لاٹھی اس کی بھینس یعنی جب طاقت دلیل بن جاتی ہے، تو عقل کے لیے کوئی جگہ نہیں رہتی ہے، اقتدار اور طاقت کے پیچھے چلنے والے لوگ عقل کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ہیں، اور نہ ہی انھیں اس کی اجازت ملتی ہے۔ وہ اپنی عقل طاقت کے ایوان میں گروی رکھ دیتے ہیں۔ وحی الہی کے پیش نظر یہ بھی رہتا ہے کہ انسانوں کو طاقت وروں کے چنگل سے آزاد ی حاصل ہو، اس کے بعد ہی وہ عقل کا استعمال کرنے اور صحیح فیصلہ کرنے کے لائق ہوتے ہیں۔

اتباع جمہور اور اکثریت پرستی

عقل کو اس وقت جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب فیصلہ محض تعداد کی بنیاد پر ہونے لگتا ہے، اور رایوں کو وزن کرنے کے بجائے سروں کی گنتی ہی صحیح اور غلط کا معیار بن جاتی ہے۔ اور جب جمہور پرستی اور اکثریت پرستی حد سے بڑھ جاتی ہے، تب تو عقل پر مکمل پابندی لگادی جاتی ہے، اور اس کی گنجائش بالکل ختم ہوجاتی ہے کہ اقلیت مضبوط دلائل کے ساتھ اکثریت کے سامنے اپنا موقف رکھ سکے۔ جمہورسے کسی بھی طرح کا اختلاف جرم قرار پاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں وحی الہی کی مخالفت بھی یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ اسے ماننے والے تھوڑے لوگ ہیں۔

قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہم ان پانچوں محاذوں پر شدید کشمکش پاتے ہیں۔ اور ہر محاذ پر عقل کو قید وبند میں گرفتار دیکھتے ہیں۔وحی الہی عقل کو ایسی ہر قید سے آزادی عطا کرتی ہے۔

قرآن مجید سے روشنی حاصل کرنے والے کے سامنے خواہشات نفس، ظن وگمان، آباء کا طریقہ اور طاقت کی آواز، جمہور اور اکثریت سب بے وزن ہوجاتے ہیں، وہ ان سب سے آزاد ہوکر حقائق کو دیکھتا ہے، اور اس وقت عقل آزاد فضا میں سانس لیتی ہے اور سازگار ماحول میں نشوونما پاتی ہے۔

قرآن مجید کی درس وتدریس

اگر قرآن مجید کا ایک اہم مقصد عقل کو کمال عطا کرنا ہے، تو قرآن مجید کی درس و تدریس کا وہ انداز اختیار کرنا چاہیے جس سے یہ مقصد حاصل ہوسکے۔ قرآن مجید تعلیم خواہ کسی مدرسے میں ہو یا مدرسے کے باہر درس قرآن اور اجتماعی مطالعہ قرآن کی صورت میں ہو۔یہ پہلو سامنے رکھنا چاہیے کہ اس درس و تدریس کے نتیجے میں عقل کی بہتر نشوونما ہو اور عقل مندی کی سطح اونچی ہوتی رہے۔درس قرآن کا مقصد لعلکم تتقون بھی رہے اور لعلکم تعقلون بھی رہے۔ یعنی تقوی بھی حاصل ہو اورعقل بھی۔امام فراہی لکھتے ہیں:

اللہ نے اپنے رسول کو حکمت کا بہترین معلم بناکر بھیجا، اور وہ اس طرح کہ تعلیم کو تربیت کا جز بنادیا... اس نے محدود علم دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ عقل کی بصیرت کو جلا بخشی، اور اسے اس کے اعلی مدارج تک پہنچنے کے لیے تیار کیا، اور اس کے لیے ضروری تھا کہ عقل کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ فکر ونظر کے اصولوں سے آگاہ ہو، اور علم کے باب میں حق یقین اوراخلاق کے باب میں طہارت کامل حاصل کرے۔ اور یہ سب تعلیم حکمت میں شامل ہے۔ [14]

عقل کی نشوونما اور اصلاحی تحریکات

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ اصلاحی تحریکات کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی عقلی سطح کو بلند کرنے کی سعی کریں، تاکہ ان کے مشن کے لیے سازگار زمین میسر اس کے۔ ان کی یہ ذمے داری بھی ہے کہ معاشرے میں عقل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی سعی کریں، خاص طور سے اقلیت اور اکثریت کی تفریق، طاقت اور اقتدار کے آگے جھک جانے کی روش، اور آباء وجداد کی روش پر چلنے کی عادت وہ بڑی رکاوٹیں ہیں جن کی موجودگی میں وحی کی تعلیمات اور عقل کے تقاضوں کی طرف بلانا صدا بہ صحرا ثابت ہوتا ہے۔

اصلاحی تحریکات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی فضا کو عقل وفہم کے لیے سازگار بنائیں۔ عقل کی نشوونما کا راستہ روکنے والی جن رکاوٹوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، انھیں دور کرتی رہیں۔ خاص طور سے طرز کہن پر اڑنا، مستقبل کی طرف سے آنکھیں موند کر اپنے ماضی سے چمٹے رہنا اوراجتہاد کے دروازے بند کرکے اپنی قدیم شخصیات کی رایوں سے غلو کی حد تک عقیدت رکھنا وہ بڑی رکاوٹ ہے جو کسی بھی اصلاحی تحریک کو شدید جمود کا شکار کردیتی ہے اورتبدیل کرنے کے مقصد سے اٹھنے والی تحریک خود تبدیلی سے خوف کھانے لگتی ہے۔ اس بڑی رکاوٹ کے ہوتے وہ نہ وحی کی آواز پر کان دھرپاتی ہے اور نہ عقل کی ندا سن سکتی ہے اور آخر کار اپنا حقیقی کردار کھوبیٹھتی ہے۔

 

حوالے: