شخصیت کا ارتقا

 

عہد نبوی میں صلاحیتوں کی نشوونما

دوسری قسط

 

ایس. امین الحسن

 

پچھلے مضمون میں انسانی وسائل کے فروغ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں Buy, Build and Borrow کی پالیسی کو مثالوں سے پیش کی گئی۔ اب ذیل میں کچھ مخصوص صلاحیتوں کا تذکرہ کیا جائے گا۔

١. کاتبین وحی

ہمیں معلوم ہے قرآن مجید 30 سال تک جستہ جستہ نازل ہوتا رہا، مختلف زمانوں میں سورتیں اور آیتیں نازل ہوئیں، اور انھیں قرآن مجید کی صورت میں ترتیب دیا گیا، اسی صورت میں آج یہ ہمارے پاس موجود ہے۔ جب بھی جبرئیلؑ آتے اور آپ تک پیغام پہنچاتے تو آپ انہیں لکھوانے کا انتظام فرماتے۔

مکہ میں کچھ ہی لوگ تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان میں کچھ خواتین بھی تھیں۔‌ جب کبھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوتیں، آپ سب سے پہلے مردوں کی جماعت میں تلاوت فرماتے تھے، پھر اس کے بعد اسے عورتوں کی خصوصی محفل میں بھی سناتے تھے۔ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو اپنے صحابہ میں سے کسی ایسے شخص کو جسے لکھنا پڑھنا آتا ہو یاد فرماتے اور اس کو املا کراتے، اہم بات یہ ہے کہ لکھنے کے بعد اس سے کہتے کہ جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر سناؤ تاکہ اگر کوئی غلطی کی ہو تو اس کی اصلاح کرسکیں۔ قرآن مجید کی اولین تدوین اسی طرح ہوئی۔

یہ بات یاد رہے کہ قرآن کتاب کی صورت میں مرتب ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تیار ہو گیا تھا اور اس کی مکمل کتابت ہو چکی تھی جس کی ترتیب وہی تھی جو آج ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے لوگوں کو وحی لکھنے کے کام‌ پر مقرر فرمایا تھا، جب کوئی وحی نازل ہوتی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کاتبین وحی کو یا ان میں سے بعض کو جیسی صورت ہوتی طلب فرماتے اور خود بول کر ان کو وحی لکھواتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ جب وحی نازل ہوتی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاتبوں میں سے کسی کو لکھنے کے لیے بلاتے، براء کہتے ہیں کہ جب آیت لا یستوی القاعدون نازل ہوئی تو آپﷺ نے زیدؓ کو بلایا اور انہوں نے آیت کو لکھ لیا (صحیح بخاری)

ایک حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن عمر جو کاتبین وحی میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ ہم کاتبین کی جماعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد کتابت میں مصروف تھے۔ (سنن دارمی)

زیدؓ بن ثابت فرماتے ہیں کہ جب میں لکھتا تو آپﷺ فرماتے کہ پڑھو، میں پڑھتا، ‌اگر اس میں کوئی غلطی ہوتی تو آپ اس کو درست فرماتے۔ (مجمع الزوائد)

٢. مبلغین ومعلمین کی تیاری

مکی ومدنی دونوں زمانوں میں اسلام کی تبلیغ وتعلیم کا سرچشمہ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات انور تھی۔ اسلام سے ناواقف لوگوں کے سامنے آپ اسلام کی تبلیغ فرماتے اور جو اسلام قبول کرلیتے، انہیں قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر رفتہ رفتہ آپ نے اس کام کے لیے بہت سے صحابہ کرام کو تیار فرمایا۔ اس طرح حضور اکرمؓ نے اپنی ذاتی حیثیت میں اور مرکزی سطح پر صحابہ کے ذریعہ دعوتی کام اور تعلیم کا کام برابر جاری رہا۔ مکی دور میں عبد الرحمنؓ بن عوف، علیؓ بن ابی طالب، اسامہ بن زیدؓ وغیرہ کے ذریعہ اطراف واکناف کے علاقوں میں دعوتی وفود گشت کرتے تھے۔ خود حدود حرم میں بھی صحابہ کرام کی تبلیغی کوششیں جاری رہتیں۔ مکہ سے دور دراز علاقوں میں تبلیغی مہمات کا اندازہ مصعبؓ بن عمیر، ابو موسی اشعریؓ ، طفیلؓ بن عمرو دوسی، ابوذرغفاریؓ وغیرہ جیسے متعدد صحابہ کرام کی مذہبی سرگرمیوں سے کیا جاسکتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمیوں کو قرآن مجید براہ راست پڑھایا، جن میں بہت سے ایسے حضرات ہیں جو خصوصیت کے ساتھ اس میں شغف رکھتے تھے وہ بطور معلم کے لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے مقرر ہوئے۔

بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہؓ بن مسعود، سالمؓ اور معاذؓ بن جبل کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے مقرر فرمایا ۔‌ اسی طرح جب اسلام پھیلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نومسلموں کی تعلیم کے لیے اور بہت سے احباب مقرر فرمائے۔‌ پھر انہوں نے بے شمار شاگردوں کو عہد نبوی ہی میں تیار کیا جو آپ کے بعد مختلف مقامات پر قرآن مجید کی تعلیم دینے پر مامور ہوئے۔‌

مکی دور کی مانند مدنی دور میں بھی رسول اکرمﷺ نے متعدد دعوتی جماعتیں منظم کی تھیں اور ان جماعتوں یا انفرادی مبلغوں کو جزیرہ نمائے عرب کے مختلف علاقوں بلکہ اس کے باہر دوسرے ملکوں میں بھی بھیجا تھا۔

یہ معلمین خود تعلیم دینے کے بعد اپنے قائم مقام کو مقرر کرکے تعلیم کا سلسلہ جاری کردیتے۔ وہ اپنے شاگردوں میں سے چند ممتاز لوگوں کو وہ معلم کی خدمت پر مامور کر دیتے تھے جو نہایت توجہ سے اپنے فرائض انجام دیتے تھے پھر ان شاگردوں نے اپنے شاگردوں میں سے مستحق طلباء کو اپنا قائم مقام بنایا اس طرح یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

٣. نظماء برائے توسیع دعوت اور تنظیم مسلمین

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مکہ میں جب بازار لگتا تو باہر سے آنے والے قبیلوں کے درمیان آپ تشریف لےجاتے اور اسلام کی تبلیغ فرماتے۔ اسی طرح ایام حج میں آپ منیٰ کے میدان تشریف لے جاتے اور خیموں میں پہنچ کر دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے۔ آپ کے پیچھے پیچھے ابوجہل لوگوں کو ورغلاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ سنیں اس لیے کہ آپ نعوذ باللہ شاعر اور جادوگر ہیں۔ مگر آپ اس سے ہمت نہیں ہارتے تھے بلکہ اپنا کام اس وقت تک جاری رکھتے جب تک آخری خیمے میں پہنچ نہ جاتے۔ سن 10 نبوت میں ایسا ہی ہوا کہ آپ تبلیغ فرماتے ہوئے جب آخری خیمے میں پہنچے تو وہاں چھ آدمی ملے جو مدینہ کے قبیلہ خزرج سے آئے ہوئے تھے۔ وہ لوگ سعید الفطرت ثابت ہوئے۔ آپﷺ نے جب ان کے سامنے اللہ کی وحدانیت اور عظمت بیان کی تو بہت متاثر ہوئے اور جب آپﷺ نے قرآن کریم کی چند آیات کی تلاوت فرمائی تو ان کے دل بالکل ہی پگھل گئے اور آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ" واللہ یہ تو وہی نبی ہیں جن کا تذکرہ ہر وقت ہمارے ہاں مدینے میں یہود کی زبان پر ہوا کرتا ہے۔ دیکھنا یہود کہیں ہم سے قبول حق میں سبقت نہ لے جائیں۔" یہ کہہ کر سب اسی وقت کلمہ شہادت پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ خزرج کا کیا اسلام قبول کرنا تھا گویا مدینہ میں اسلام کا سورج طلوع ہوگیا۔‌

مدینہ کا وفد جب واپس جانے لگا تو سرداران خزرج نے سرور کونین سے التجا کی کہ انہیں قرآن پڑھانے اور اسلام سکھانے کے لیے ایک معلم ساتھ کردیں۔ نئے مسلمان ہونے والوں کی تربیت اور ملی تنظیم کے لیے ایک قابل و ہونہار ناظم کی ضرورت آپ نے محسوس کی تو آپ کی نگاہ انتخاب مصعبؓ بن عمیر پر پڑی اور آپ نے انہیں یثرب چلے جانے کا حکم دیا۔ مصعبؓ بن عمیر ایثار وخلوص کے پیکر جمیل تھے، رسول کا حکم پاتے ہی کسی عذر و تامل کے بغیر اسلام کے پہلے داعی اور شہر مدینہ کے ناظم بن کر یثرب روانہ ہوگئے۔

مصعبؓ بن عمیر نے یثرب میں اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے نباہیں۔ فہم و فراست، شریں بیانی اور حکمت کے ساتھ جس طرح سے انہوں نے دعوت دی اس کے نتیجے میں بڑے بڑے سردار بشمول سعدؓ بن معاذ اور اسیدؓ بن حضیر جیسے قائدین کو اسلام کے حق میں قائل کرلیا۔ اور جب وہ اسلام میں داخل ہوگئے تو مدینہ کے گھر گھر تک اسلام کا پہنچنا آسان ہوگیا۔ دعوت وتبلیغ کے ساتھ مصعبؓ یثرب کے مسلمانوں کی تنظیم اور تعلیم سے بھی غافل نہ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے آپ نے باجماعت نماز کی شروعات کی۔ نماز جمعہ کی بنا ڈالی اور نومسلم انصار کو بڑی محنت سے دینی تعلیم دی۔‌ اس طرح چند ماہ کے اندر یثرب کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں خدائے واحد اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر ہونے لگا۔ اگلے سال سن تیرہ نبوت میں دین حق کا یہ کامیاب داعی اور مدینہ کا یہ ناظم ٧٢ مردوں اور ٢ عورتوں کو ساتھ لے کر حج کے لیے مکہ پہنچا۔ آپﷺ ان کی کوششوں سے بہت مسرور ہوئے اور انہیں دعائے خیر دی۔ مصعبؓ نے اپنے تیار کردہ ساتھیوں کو رات کی تاریکی میں منی کی ایک گھاٹی میں جمع کیا۔ آپﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سب کو اپنی بیعت سے مشرف فرمایا۔

٤. مفتیان کرام

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انتہائی دوراندیشی پر مبنی اور عملی حکمت تھی کہ آپ نے اپنی موجودگی میں کتاب و سنت کے ایسے عالم اور مفتی پیدا کر دیئے جو آپ کے بعد بھی اسلام کی امامت وسیادت کا کام بخوبی کرسکتے تھے۔ اس لیے آپ نے اپنی تربیت میں صحابہ کرام کو منصب افتاء کے لیے تیار فرمایا، جو سب سے زیادہ پاک دل، سب سے زیادہ وسیع علم والے، سب سے کم تکلف والے، سب سے اچھے بیان کرنے والے اور سب سے سچے ایمان والے، اور خدا ترس تھے۔ آپ اپنی موجودگی میں بعض صحابہ کرام سے دینی امور اور مذہبی مسائل پر فیصلے کرایا کرتے تھے۔ اس وقت تک، زیر بحث معاملات کے حل کے لیے تین اصول پوری طرح ظہور اور عمل میں آچکے تھے۔ پہلے قرآن حکیم کی روشنی میں مسائل کو حل کیا جائے۔ پھر سنت کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔ لیکن ان دونوں سے بھی اگر کسی خاص معاملے پر روشنی نہ مل سکے تو اس رائے اور خیال پر اعتماد کیا جائے جو کتاب وسنت کے فہم سے پیدا ہوتا ہے۔

اسلامی ریاست جیسے جیسے پھیلتی گئی، ویسے ویسے مفتیان کرام کا رول بھی بڑھتا گیا اور وہ تربیت یافتہ صحابہ پورے شرح صدر کے ساتھ قرآن وسنت سے فیصلہ صادر فرماتے تھے اور کسی معاملے میں انہیں شرح صدر نہیں ہوتا تو رسول اللہ ﷺ سے رجوع کرلیتے تھے، کیونکہ آپ ہی تنہا مرجع شریعت اور مفتی اعظم تھے۔ آپﷺ کے بعد وہ خلیفہ وقت سے مشورہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی تربیت کے نتیجے میں جو ذہن سازی ہوئی تھی اس کی بنیاد پر کسی بھی مسئلے میں جہاں قرآن وسنت کی واضح رہنمائی موجود نہ ہو، وہاں وہ اپنی رائے سے کام لیتے تھے اور یہی ان کا فتویٰ ہوتا تھا۔

٥. ائمہ مساجد

نبی کی حیثیت سے آپﷺ ہی امت کے تنہا امام تھے اور آپ کی موجودگی میں کوئی اور نماز کی بھی امامت نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ آپﷺ کی غیر حاضری میں کوئی صالح مسلمان امامت کے فرائض انجام دے سکتا تھا اور عموماً آپ خود ایسے اماموں کا تقرر فرما دیتے تھے۔

ہمیں یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اسلام میں مسجدیں محض عبادت گاہ نہیں ہوا کرتی ہیں، بلکہ مقامی مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، تنظیمی و تہذیبی مراکز بھی ہوا کرتی ہیں اور وہاں کا امام صرف نمازوں کا امام نہیں بلکہ وہ مسلم امت کی زندگی کے تمام مسائل میں رہنمائی کرنے والا قائد ورہنما ہوا کرتا ہے۔ مدینہ منورہ میں جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی مسجدوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ اور قباء کی دو مسجدوں کے علاوہ جو عام طور پر معروف ہیں دو اور مسجدیں تھیں جو دو انصار خاندانوں کے نام سے مشہور تھیں۔ ایک مسجد بن زریق اور دوسری بنو عمرو بن عوف کی مسجد۔ ظاہر ہے کہ ان تمام مسجدوں میں نماز کے امام مقرر تھے اور جن کی تقرری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہوئی تھی۔

سنن ابو داؤد کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مدینے میں کم از کم نو مسجدیں تھیں جن میں عہد نبوی میں باقاعدہ جماعت کے ساتھ نمازیں ہوا کرتی تھی اور ان کے اپنے امام مقرر تھے جن کی تربیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کی تھی۔

صحیح بخاری کی شرح عینی کی ایک موضوع پر بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا نو مسجدوں کے علاوہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقوں میں کم از کم بیس یا بائیس مسجدیں تھیں جہاں پابندی کے ساتھ فرض نمازیں باجماعت ادا کی جاتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام مسجدوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مقرر فرمائے تھے جن کے نام بھی کتابوں میں ملتے ہیں۔

٦. موذنین رسول

اذان نماز کو قائم کرنے کے لیے لازمی شرط ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ نمازوں کے اوقات کائنات کی تبدیلیوں کے اوقات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس لیے موذن کو ان کا ادراک و فہم ہونا ضروری تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں اپنے موذنین کو تربیت دی۔ مسجد نبوی سے متعلق تین موذنین کے نام ہمیں تاریخ میں ملتے ہیں جن میں بلال حبشی کا نام سرفہرست ھے اور آپ کے علاوہ ابو محذورہؓ اور ابن ام مکتومؓ کا نام ملتا ہے۔ اسی طرح اوپر جتنی مسجدوں کا ذکر آیا ہے ان تمام کے لیے امامت کے علاوہ موذنین کا بھی تقرر کیا جاتا تھا۔

٧. سیکریٹری (ڈاکومنٹ رائٹر)

اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ عرب میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم تھے اور جو پڑھے لکھے ہوتے تھے عرب میں ہر لحاظ سے ان کی بڑی قدرومنزلت ہوتی تھی اور احتراماً ان کے نام کے ساتھ الکاتب یعنی لکھنے والا لگایا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد کتابت کے فن کو عروج ملا اور دوسرے علوم وفنون کے ساتھ کاتبین کی تیاری پر پوری توجہ دی گئی۔ کتابت وحی کے علاوہ اور بہت سے امور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے فرامین، خطوط، عہد وپیمان، امان وغیرہ دینے کا کام لکھ کر ہوا کرتا تھا۔

مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد کاتبوں کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ سیاسی رنگ بھی اختیار کرگئی۔ اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فوجی افسروں، سپہ سالاروں، گورنروں، صوبائی اور مقامی منتظمین، قبائلی سرداروں، ملک و بیرون ملک کے حکمرانوں اور عوام کے نام خطوط اور فرامین لکھنا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے متعدد عرب عیسائی اور یہودی قبیلوں سے صلح اور باہمی تعاون کے معاہدے کیے تھے۔ بعد کے زمانے میں غیرمسلم طبقات کے سرداروں کے نام فرامین صادر کیے تھے۔ آخری زمانے میں متعدد قبائل نے اسلامی ریاست کے ساتھ حلیفانہ تعلقات قائم کیے، ان کی دستاویزات لکھی جاتی تھیں۔ ان جیسے اور بھی متعدد مقاصد کے لیے کاتبوں کا ایک پورا شعبہ آپ نے قائم فرمایا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ذریعہ ریاست اسلامی کے مطالعے میں ایک دلچسپ پہلو ان دستاویزات و معاہدات نبوی کا تجزیہ بھی ہے، جنھیں انھوں نے جمع کیا ہے۔ ان میں سے متعدد خطوط مختلف عرب حکمرانوں، قبائلی سرداروں اور غیرملکی بادشاہوں اور مسلم گورنروں اور افسروں کے ہیں جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجے تھے ان کے علاوہ کچھ ایسی بھی دستاویزات ہیں، جو آپ نے ان کے ساتھ معاہدات لکھوائے تھے یا انہیں خطوط لکھے تھے۔ بہرحال کم ازکم چوہتردستاویزیں ایسی ہیں جو اپنے کاتبوں کے نام بھی رکھتی ہیں۔ ان کی پوری فہرست ڈاکٹر حمید اللہ نے شائع کی ہے۔

دوسری قسم کی دستاویزات وہ ہیں جو صلح کے معاہدوں اور پروانہ ہائے امان و تحفظ میں شامل ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر معاہدوں کی کتابت علیؓ بن ابی طالب کیا کرتے تھے۔ اسی طرح عبداللہؓ بن ارقم اور زیدؓ بن ثابت رسول اللہ کے خطوط و فرامین لکھا کرتے تھے جو غیر ملکی حکمرانوں، اسلامی ریاست کے مختلف گورنروں اور اسلامی لشکروں کے سالاروں کے نام ہوتے تھے۔ عرب قبائل کے درمیان معاہدوں کی ایک بڑی تعداد کے کاتب معاویہؓ ہیں۔ نھد کے ایک خاندان بنو قرہ، نجران کے عیسائی ، ربیعہ بن ذی المرجب اور حضر موت کے قبائلی حکمران کے نام تحریر کردہ تمام فرامین معاویہؓ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ بعض کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صحابی حصینؓ بن نمیر اور مغیرہؓ بن شعبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض خاص معاملات اور خفیہ امور کے بارے میں لکھا کرتے تھے اسی طرح زبیرؓ بن عوام اور جہمؓ بن صلت صدقات و محاصل کی تحریر کے ذمہ دار تھے، حذیفہؓ بن یمان اراضی کی پیداوار کے معاملات تحریر کرتے تھے اور شرحبیلؓ بن حسنہ کندی بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام خطوط نبوی تحریر کیا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف کاتبوں کو مختلف کام ان کی صلاحیتوں اور فنی مہارتوں کے سبب عطا کیے گئے تھے۔

بعض مصنفین نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان سکریٹریوں کے نام اور قبائل کی فہرستیں تیار کی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ قبیلوں سے چوالیس حضرات کو اس طرح کے کام کے لیے تیار کیا تھا۔

٨. سفیران رسول

زمانہ قدیم سے جزیرہ نما عرب اور بالخصوص مکہ میں سفارت کا ادارہ معروف تھا۔ ‌قریشی اشرافیہ میں سفارت کی ذمہ داری نباہنے والا خاندان بنوعدی بہت مشہور تھا، اس عہدے پر عمرؓ بن خطاب بھی فائز تھے اور اپنے باپ سے یہ منصب انہوں نے پایا تھا۔ سفارت کے منصب پر آدمی قریش کے رؤسا اور شیوخ میں شمار ہوتا تھا۔ بہرحال عمرؓ اسلام سے قبل کے سیاسی نظام قریش میں اس کے آخری عہدے دار تھے اور ارباب حل وعقد کے درمیان تعلقات کے حوالے سے قریش کی نمائندگی کرتے تھے۔

بہرحال اسلامی ریاست کے بننے کے بعد سرور کونینﷺ نے اپنا پیغام مختلف بادشاہوں اور قبیلوں تک پہنچانے کے لیے آپ نے سفیروں کا تقرر فرمایا اور ان کی تربیت کی۔ ایک بہترین سفیر بننے کے لیے لازم ہے کہ اس میں اعلی فراست، ذہانت، عمدہ زبان و طرز ادا ، جاذب نظر شخصیت ہو اور وہ علاقہ تقرری کی زبان جانتا ہو اور اس زبان میں ادائیگی فرائض پر قدرت رکھتا ہو۔ یہ وہ اوصاف تھے جو ایک اچھا سفیر بناتے تھے۔‌ اس کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم موقع اور محل کی مناسبت سے مخصوص اور موزوں شخص کا انتخاب کرتے تھے اور اس کی روانگی سے قبل حسب معمول اس کو ہدایت دیتے تھے کہ نرم لہجے میں گفتگو کریں، رحمت و نرم دلی کا مظاہرہ کریں، سختی اور سخت روی سے پرہیز کریں، آسانی پیدا کریں اور اختلاف و تصادم سے گریز کریں، خوشخبری سنائیں، نفرت وعداوت سے اجتناب کریں اور رحمت واتفاق کا رویہ اپنائیں۔

٩.شعراء

آج کے زمانے میں شعراء کو سرکاری یا ریاستی افسر میں شمار کرنا مضحکہ خیز سمجھا جائے گا مگر پرانے زمانے میں ان کی ایک سرکاری اہمیت ہوتی تھی اور عرب میں ان کو ایک بڑا مقام حاصل تھا۔ عرب چونکہ اہل زبان تھے اور اس پر فخر کرتے تھے اس لیے ان کو اپنے شاعروں اور خطیبوں پر بہت ناز تھا اور یہ شاعر حضرات نہ صرف اپنے قبیلہ اور لوگوں کی آواز تھے اور ان کے جذبات و خیالات کی ترجمانی کرتے تھے بلکہ وہ آراء و خیالات کو بناتے اور بگاڑتے بھی تھے۔ جذبات کو برانگیختہ کرتے، اپنی قوم کو اکساتے، جنگوں میں ہیجان برپا کرتے اور جنگ کی آگ بھڑکاتے تھے۔ بہرحال سماج میں ان کا ایک اونچا مقام تھا اور اس کو کوئی عرب حکومت نظر انداز نہیں کرسکتی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی اہمیت سے واقف تھے۔ آپ نے اپنے شعراء کی جب تربیت کی، تو شاعرانہ مبالغہ آرائی اور فحش گوئی کو پسند نہیں فرمایا اور ان کی سختی سے مخالفت کی، لیکن اس کے باوجود آپ نے شاعری کے خوبصورت ودل آویز پہلوؤں کو ہمیشہ بنظر تحسین دیکھا اور بہتر شاعری کی ہمیشہ تعریف فرمائی اور پسند کیا۔ آپ اس کے غیر معمولی اثرات سے واقف تھے، لہذا اس کو اسلامی امت اور اسلامی ریاست کے مفاد میں بہتر سے بہتر طریقے پر استعمال بھی کیا۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اہم شاعروں کی خدمات حاصل کیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی ریاست کا دفاع کرتے تھے۔ ان میں سے حسانؓ بن ثابت دربار رسالت کے عظیم شاعر تھے۔ ان کے علاوہ کعبؓ بن مالک اور عبداللہؓ بن رواحہ تھے۔‌ یہ تینوں شاعر ناموس رسول کے محافظ اور اسلامی ریاست کے ترجمان تھے۔

مذکورہ بالا شعراء کے علاوہ عہد نبوی میں اور بہت سے نمایاں شاعر تھے اور انہوں نے اپنے طور پر اپنے فن سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کی تھی۔ سیرت نگاروں نے عہد نبوی کے دو سو شعراء کو شمار کیا ہے، ان میں کعبؓ بن زہیر، لبیدؓ، خنساءؓ، علیؓ بن ابی طالب، عامرؓ بن اکوع ، اور عباسؓ بن مرداس ممتاز ہیں۔

١٠. مقررین

کسی بھی نظریہ اور سماج میں اپنے افکار و نظریات کو پھیلانے اور دشمن کے نظریات اور خیالات کی تردید کرنے کے لیے زورآور اور زبان دان خطیب اور مقررین کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرکاری خطیبوں میں ثابتؓ بن قیس کا ذکر ملتا ہے جو انصار کے قومی خطیب تھے۔ ان کی خدمات کا ذکر بنوتمیم کے کے وفد کی آمد کے موقع پر شاعروں اور خطیبوں کی مفاخرت کے ضمن میں ملتا ہے۔ ان کے علاوہ متعدد صحابہ کرام وقت کے شعلہ نوا خطیب تھے۔ ان‌ می ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، علیؓ بن ابی طالب، جعفر طیارؓ ممتاز مقام کے مالک تھے، اور ان کے جواہر پارے آج بھی دلوں کو گرماتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس زمانے کے سب سے بڑے اور پرشکوہ خطیب خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کے پاک اقوال عربی ادب کی شان ہیں۔

جعفر طیارؓ نے نجاشی کے دربار میں جس شاندار انداز سے تقریر کی انہیں آج بھی ہم پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دربار نجاشی میں اس کی کیا گونج رہی ہوگی اور سامعین کے حواس پر کیا اثرات مرتب کی ہوگی ۔

تحریک اسلامی کی قوت اس کے نظریات کے علاوہ اس سے وابستہ افراد کی صلاحیتوں میں پوشیدہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ہر پہلو سے اسوہ ہیں۔‌ صلاحیتوں کی نشاندہی اور اس کی نشوونما کے سلسلے میں اس مضمون میں کچھ پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور جن صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے کی رہبرِانسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں کا احاطہ نہیں کیا گیا وہ بہت زیادہ وسیع ہیں۔