تزکیہ: مفہوم و منہج

 

ڈاکٹر محمد رفعت

 

فرد کے اندر اسلامی شخصیت کے نشوونما کو ہم عموماً تربیت کہتے ہیں۔تاہم قرآنی اصطلاح تزکیہ لفظ تربیت سے کہیں ز یادہ جامع ہے۔تزکیہ کے معنی ہیں انسان کے فکر و عمل کی درستگی یعنی فکر و عمل ہدایتِ الٰہی کے منشا کے عین مطابق ہوجائیں۔ تزکیہ کے دو اہم مراحل ہیں:

(الف) پہلا مرحلہ علم کا حصول ہے۔ یعنی اللہ کے نازل کردہ دین اسلام کا گہرا علم حاصل کیا جائے۔ اس علم کے فائدے بہت سے ہیں۔ انسان کی ہمہ گیر اصلاح کے علاوہ گہرے علم کا ایک خاص ثمرہ یہ ہے کہ انسان میں اجتہاد کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے جو خلافتِ الٰہی کی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

ہدایتِ الٰہی کو جاننے کے علاوہ علم میں ایک دوسرا عنصر بھی شامل ہے یعنی انسانوں کے افکار سے واقفیت، خاص طور پر ان کے افکار سے جنھوں نے دنیا میں گمراہی پھیلائی۔ انھوں نے جو کچھ کہا وہ جاننا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ محرکات کیا تھے، جنھوں نے ائمہ ضلالت کو اپنی باتیں پیش کرنے پر آمادہ کیا۔ انسانوں کے افکار و خیال آج محض عام صورت میں موجود نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے تعلیم گاہوں میں پڑھائے جاتے ہیں (حتیٰ کہ مسلمانوں کے بیش تر اداروں میں بھی) اس طرح گمراہی کو نئی نسل تک منتقل کرتے رہنے کا انتظام مسفدین عالَم نے کررکھا ہے۔

تعلیم گاہوں میں پڑھائے جانے والے ان علوم کے دو نمایاں شعبے ہیں: سائنس اور سماجیات۔ پہلے شعبے سائنس کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے ذریعے گمراہی کم پھیلتی ہے ہے لیکن دوسرا شعبہ جو سماجیات کا ہے اس کا رول انسانوں کو بھٹکانے میں غیر معمولی ہے۔

(ب) تزکیے کی راہ کا دوسرا مرحلہ ایمان ہے۔ یقینا علم کے حصول کی منزلیں طے کرنے سے قبل سالک ایمان لاچکا ہوتا ہے لیکن انسانوں کے افکار و خیالات سے جو واقفیت وہ حاصل کرتا ہے اس کے بعد ایمان کی تجدید کی ضرورت ہوتی ہے۔

انسان کے دل میں ایمان تازہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات انسانی شخصیت پر نظر آتے ہیں۔ مثلاً انسان جہاد کے بارے میں جان لیتا ہے کہ وہ ایمان کی کسوٹی ہے۔ وہ اپنی قوتوں کا ادراک کرتا ہے، اللہ کی ان نعمتوں کو فرائضِ خلافت کی انجام دہی کے لیے استعمال کرنے کا سلیقہ سیکھتا ہے پھر اس کے اندر وہ عظیم کردار پروان چڑھتا ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔

معیار

واضح رہے کہ انفرادی اور اجتماعی تربیت میں ہمارا معیار نبی کریم ﷺ کا اسوہ ہے۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کیا وہی مطلوب طریقۂ کار ہے۔ احتساب اسوئہ رسول ؐ سے قریب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

بے لاگ جائزہ

جو اہلِ ایمان تبلیغ و اشاعتِ دین میں منہمک ہیں، یعنی انصار اللہ کا عظیم منصب اللہ نے اُن کو عطا کیا ہے۔ اُن کو اسوئہ رسول کے اتباع کا کہیں زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔

تزکیے کی تدابیر

(۱) قرآن کا مطالعہ

قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور انسانی شخصیت کی صحیح نشوونما کے لیے واحد رہنما کتاب ہے۔ قرآن کے مطالعہ کے سلسلے میں چاند امور پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے:

(الف) قرآن کریم کا مطالعہ ہدایت پانے کی غرض سے ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی اور محرک پیش نظر نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعہ کے قبل اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مایوس نہیں کرتا جو سچے دل سے ہدایت کے طلبگار ہوتے ہیں۔

(ب) عربی زبان سیکھ کر قرآن کا براہِ راست مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ اس کا کوئی بدل نہیں ہے اور عربی سیکھنے کے سلسلے میں کوئی مشکل بھی حائل نہیں ہے۔

(ج) مختلف تفسیروں سے ضرور مدد لی جائے ، لیکن کسی ایک پر انحصار نہ ہو۔ نبی ﷺ نے قرآن مجید کی چند آیات کا مفہوم خود بتایا ہے۔ان آیات کا مفہوم بعینہٖ وہی ہے لیکن کسی دوسرے شخص کے فہم کو یہ حیثیت یقینا نہیں دی جاسکتی۔

(د) قرآن نے آثار کائنات نیز انسان کے نفس اور انسانی تاریخ میں پائی جانے والی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہاں ٹھہر کر تدبر اور غوروفکر کرنا چاہیے۔ مثلاً قرآن پاک پچھلی قوموں کا تذکرہ کرتا ہے ان حالات میں اللہ کی جو نشانیا ںموجودہیں، ان کی نشان دہی کرتا ہے، ان نشانیو ںکو سمجھنے کے لیے ان قوموں کی تاریخ کا مطالعہ ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔ یہی حال کائنات اور نفس انسانی میں پائے جانے والی نشانیو ںکا ہے۔

(ہ) قرآن کریم نے دنیا میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا۔ اسلامی دعوت کے مراحل میں یہی کتاب راستہ بتاتی ہے۔ ہر مرحلہ میں قرآن کریم کی سورتوں اور آیات کو ہم پہچان لیں جو اس مخصوص مرحلے کے لیے ہدایت دے رہی ہوں تو ہم فہم قرآن کی ایک وادی سرکرچکے ہوں گے۔

(و) انسان کے تمام مسائل میں کتابِ الٰہی اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ فلسفیانہ، مابعد الطبیعاتی، اخلاقی، معاشی نیز سیاسی مسائل میں آج تک انسانی عقل الجھی ہے، اور راستہ نہیں پاسکی، ان سب کا واضح حل حل کتاب پیش کرتی ہے۔

(ز) قرآن کریم پر عمل اس کے مطالعہ کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ عمل کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کی ہدایت کو عملی جامہ پہنا دیا جائے بلکہ یہ بھی ہیں کہ ہم اپنے اندر قرآنی مزاج پیدا کریں۔ اپنے تصورات، جذبات، خواہشات، رجحانات، اقدار اور ترجیحات کو قرآن کے مطابق بنائیں۔ ہمارا دماغ قرآن کے بتائے ہوئے طرز پر سوچے اور ہمارے دل کی دھڑکنیں اس سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ اس کے لیے قرآن کا منتشر مطالعہ نہیں بلکہ مربوط و مسلسل مطالعہ درکارہے۔ ہم قرآن کی بحیثیت مجموعی سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے تمام پچھلے تصورات کو بالاے طاق رکھ کر قرآنی تصورات کو جذب کریں۔ اس سے وہ ہموار، یک رنگ اور معتدل قرآنی فکر و نظر پیدا ہوگی جو ہم کو یک رخا ہونے اور افراط و تفریط میں پڑنے سے بچائے گی۔

(ح) آخری بات یہ ہے کہ ہم کو اچھے انداز سے قرآن کریم کو پڑھنا چاہیے۔ قرأت کے اصولوں نیز رموز و اوقاف کا خیال رکھنا چاہیے۔ قرآن کو یاد کرنا، نمازوںمیں یاد کی ہوئی آیات کو پڑھنا چاہیے۔ تہجد میں قرآن پڑھنے کے ثمرات کا تو کیا کہنا۔

(۲) احادیث نیز سیرت پاک کا مطالعہ

احادیث قرآن کریم کی تشریح ہیں اور ہمارے لیے سرچشمہ ہدایت ہیں۔ ان کے مطالعے کے سلسلے میں چند باتیں ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

(الف) صحیح احادیث کا مطالعہ کیا جائے اور ضعیف و موضوع روایات کی طرف توجہ نہ کی جائے۔

(ب) کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے اس موضوع سے متعلق تمام احادیث کا مطالعہ کیا جائے اور پھر قرآن کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

(ج) احادیث کی قابلِ اعتماد تشریحات نیز اساتذہ سے مدد لی جائے اور محض اپنی فہم پر تکیہ نہ کیاجائے۔

(د) احادیث یاد کی جائیں اور صحیح تلفظ نیز مفہوم ذہن نشین کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت قرآن کا عملی نمونہ ہے۔ ایمان والوں کے لیے سیرت کا محض عقیدت مندانہ نہیں بلکہ تحقیقی مطالعہ درکار ہے۔ سیرت کا کوئی ایک پہلو نہیں وہ اتنی ہی وسیع ہے جتنی خود انسانی زندگی وسیع ہے۔حضور ﷺ نے انسانی زندگی کے مختلف گوشوں کو کس طرح منظم کیا ہے، یہ جاننے کے لیے جو بھی بلند پایہ تحقیقی کتابیں مل سکیں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جہاں اہلِ علم افراد سے استفادہ کا موقع ملے تو اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

صحابہ خصوصاً خلفاے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالبہ سیرت پاک کا ہی جزو ہے۔ اس معیاری اسلامی سوسائٹی کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے لیے عملی ماڈل کیا ہے۔

(۳) اسلامی کتب کا مطالعہ

اسلام کو سمجھنے اور پیش کرنے کے سلسلے میںبہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان سب کا مطالعہ اسلام اور دعوتِ اسلامی کو سمجھنے کے سلسلے میں مفید ہوگا۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

(الف) اصل منبع ہدایت قرآن و سنت ہیں اور ہر انسانی فکر نظر ثانی کے قابل ہے۔

(ب) اسلام کا نظام دائمی ہے اس کی تفصیلات جب ہم واضح کرتے ہیں تو اپنے حالات کے مطابق اسلامی حدود کے اندر کرتے ہیں۔ یہ تفصیلات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں۔

(ج) دعوتِ اسلامی ایک بنیادی طریق کار ہے ، جو کتاب و سنت سے ملتا ہے۔ اس کی روشنی میں تفصیلی منہج داعیانِ حق سوچتے ہیں۔ اس تفصیلی طریقِ کار کی ترجمانی علما کے لٹریچر کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ یہ تفصیلی طریق کار وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے۔چنانچہ کوئی بھی لٹریچر ہر وقت نیا نہیں رہ سکتا۔

اسلامی لٹریچر سے اصل چیز جو اخذ کی جانی چاہیے وہ طریقِ مطالعہ (Method)ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی نے ایک انٹرویو میں جو مشورے دیے ہیں وہ لاجواب ہیں۔

(د) پچھلی صدی سے اب تک کے اسلامی لٹریچر کے دو حصے ہیں ایک وہ جو جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کا تیار کردہ ہے۔ دوسرا وہ لٹریچر ہے جو دعوتِ اسلامی کی تازہ پیش کش سے متاثر ہوکر بہت سے اہلِ علم نے تیار کیا ہے۔ عموماً پہلے جز میں گہرائی، اعتدال اور جامعیت زیادہ پائی جاتی ہے بعد کا لٹریچر اس معاملے میں اس کا ہم پایہ نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

(۴) موجوہ علوم و فنون نیز غیراسلامی افکار و نظریات کا مطالعہ

اس مطالعہ کی وسعت قاری کی صلاحیت و ذوق پر منحصر ہے۔ پس یہ خیال رہے کہ اس کا مطالعہ اسلامی نقطۂ نظر سے ہو اور اسلامی نقطۂ نظر وہ ہے جو قرآن و سنت ہیں۔ البتہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا کم از کم مطالعہ ہے جو ناگزیر ہے ، دنیا کی مختلف تحریکات خصوصاً اپنے ملک کی تحریکات، مغربی تہذیب کے بنیادی نظریات نیز واقعات عالم کے ضمن کے مطالعے سے مفر نہیں۔

(۵) عبادات

ہمارے تزکیے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادات فرض کی ہیں جن کا حق ادا کیے بغیر ہم اپنے کو اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں بناسکتے ، اس سلسلے میں ذیل کی باتوں پر توجہ کی ضرورت ہے۔

(الف) نماز قائم کرنا اولین عبادت ہے۔ یعنی آداب و شرائط کا لحاظ، وقت کی پابندی، عاجزی و احساس بندگی اور حضورِ قلب کی سعی ۔

(ب) ہر ماہ کے تین نفل روزے نبی کریم ﷺ کے عام معمول کا حصہ تھے، یہ اسوہ ہمارے سامنے رہے۔

(ج) مسنون دعاؤں کو اللہ کے حضور عرض کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو احسن ہے۔

دل اللہ سے غافل نہ ہو، اصل زندگی تو یہی ہے:

مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ کہیں تو نہ مرجائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

(۶)انفاق

اللہ کے راستے میں خرچ کرنا، اسلامی کردار کی بنیادی صفت ہے۔ اس میں حاجت مندوں پر خرچ کرنا اور اللہ کے دین کے قیام کے لیے خرچ کرنا دونوں شامل ہیں۔ سورہ بقرہ کے آخری حصے کی ہدایات اس سلسلے میں جامع رہنمائی کرتی ہیں۔

(۷) دعوتی جدوجہد

اسلامی تنظیم کے امیر کی معروف میں اطاعت اور دعوتی فرائض کی انجام دہی ناگزیر ہیں۔ اسلام کو صرف انفرادی نیکی مطلوب نہیں۔ اسے ایسا نیک فرد مطلوب ہے جو خدا پرست سماج کی اینٹ ہو۔ انسان ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ دعوت ایمان کا تقاضا ہے۔

(۸)احتساب

احتساب کے معنی ہیں کہ اللہ کے عطا کردہ وسائل و صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے، دوسری طرف اپنی کوششوں کا اوردیکھا جائے کہ بظاہر اچھے اعمال کے پیچھے کیا محرکات کام کرتے رہے رضاے الٰہی کے یا خدانخواستہ کچھ اور۔ احتساب بتائے گا کہ ہم آگے جارہے ہیں یا پیچھے ہٹ رہے ہیں۔