اشارات

 

ماہ رمضان، ہمارے رویے اور کووڈ کی عالمی وبا

 

سید سعادت اللہ حسینی

امیرجما عتاسلا می ہند

 

اس دفعہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کا ظہور ایک بالکل مختلف ماحول میں ہوا ہے۔ اہل ایمان کے دل مغموم ہیں کہ رمضان کی آمد ہوچکی لیکن مسجدیں بند ہیں۔ باجماعت تراویح کے روح پرور مناظر،عبادت کے ذوق و شوق سے سرشاربندگان خداسے آباد مسجدیں، صبح وشام وہاں سے بلند ہوتی نماز و تلاوت کی آوازیں، سحر و افطار کی ہما ہمی، بڑھ چڑھ کر روزے داروں کو افطار کرانے کی دوڑ، یہ سب رمضان المبارک کے نہایت دل ربا مناظر اور اسلام کی پاکیزہ تہذیب کے دل کش مظاہر ہیں۔ ان سب سے ہماری آنکھیں برسوں سے آشنا رہی ہیں۔ اس سال ان مناظر کے لطف و سرور سے ہم محروم رہیں گے، بلکہ شاید شب قدر کی تلاش اور اعتکاف کی رونقیں بھی ویسی نہیں رہیں گی جیسے ہمیشہ ہوا کرتی ہیں۔ اس پر غم وافسوس اور محرومی کا احساس ہونا بالکل فطری ہے۔

اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کو آزماتا ہے۔ وہ بظاہر مشکلات بھی پیدا کرتا ہے تواس میں کچھ نہ کچھ خیر کا سامان ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَنْ یرِدِ اللهُ بِهِ خَیرًا یصِبْ مِنْهُ اللہ تعالیٰ (جب کسی کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو مشکلات سے گزارتا ہے۔) ایک بندہ مومن کا اپروچ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی مرضی پر راضی اور خوش رہے اور مشکلات میں بھی خیر کا پہلو تلاش کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے حالات میں اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ جن حالات میں جس طرح کی بندگی کا تقاضا ہو، اس طرح بندگی کا حق ادا کرنا یہی بندہ مومن کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ مشکل حالات میں جس طرح ممکن ہو نماز ادا کریں اور جب حالات معمول پر آجائیں، تو اس طریقہ کی پابندی کریں جو شریعت نے متعین کیا ہے۔ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ۔البقرہ ۔۲۳۹ (ڈر کی حالت ہو، تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو اور جب امن میسر آجائے، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو، جو اُس نے تمہیں سکھا دیا ہے، جس سے تم پہلے نا واقف تھے) یہ لچک اسلام کا حسن ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ دین اسلام، رحمن ورحیم خدا کا دین ہے۔ یہ دین انسانی جان کے تحفظ کو اولیت دیتا ہےاور جان کے تحفظ کے لیے احکام میں تبدیلی اور تخفیف بھی کرتا ہے۔ اس وقت جو حالات ہم کو درپیش ہیں ان میں اللہ کے دین کی تعلیم یہی ہے کہ ہم رمضان مختلف طریقہ سے گزاریں۔ نمازیں گھروں میں ادا کریں۔ ہم اس ذریعہ سے بھی اللہ کے حکم ہی کی تعمیل کررہے ہیں اور اس میں بھی ہماری بہتری اور تزکیہ کا سامان ہے۔

آزمائش، تنبیہ یا سزا؟

اس وقت جگہ جگہ یہ بحث چل رہی ہے کہ یہ وبا کی آفت عذاب ہے، تنبیہ ہے یا آزمائش وامتحان ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ایک بڑی اہم بات مفتی محمد شفیعؒ نے نقل کی ہے، کہ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ مصیبت بیک وقت گناہگاروں کے لیے عذاب اور اچھے انسانوں کے لیے آزمائش ہوسکتی ہے۔ کوئی مصیبت ہمارے لیے آزمائش ہے یا سزا ہے اس کی کسوٹی شاہ صاحب نے یہ بتائی ہے کہ جن نیک لوگوں پر آزمائش اور امتحان کی خاطر مصیبتیں آتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب کو مطمئن کردیتا ہے اور وہ ان مصائب و آفات پر ویسے ہی راضی ہوتے ہیں جیسے بیمار کڑوی دوا یا آپریشن پر باوجود تکلیف محسوس کرنے کے راضی ہوتا ہے۔ جن گناہ گاروں پر عذاب نازل ہوتا ہے وہ بےچین ہو اٹھتے ہیں۔ ان کی پریشانی کی حد نہیں رہتی، بعض اوقات ناشکری بلکہ کلمات کفر تک پہنچ جاتے ہیں۔ (معارف القرآن، سورہ روم کی آیت ۴۱ کی تشریح) مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک پہچان یہ بتائی کہ جس مصیبت کے ساتھ انسان کی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ، اپنے گناہوں کا ادراک اور توبہ و استغفار کی رغبت زیادہ ہوجائے وہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ سزا یا قہر نہیں بلکہ مہر اور عنایت ہے اوراس کے مقابلے میں جب مصیبت، اللہ کی ناشکری کا سبب بنے، گناہوں میں اور زیادہ انہماک بڑھ جائے تو وہ قہر الہی اور عذاب کی علامت ہے۔ اس لیےان حالات کو دیکھنے کا مومنانہ انداز یہ ہے کہ ہم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش کریں۔ تمام تدابیر اور اسباب کو بروئے کار لائیں۔ ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اس دوران اللہ کی مرضی پر مطمئن رہیں اور اس میں خیر کا پہلو تلاش کریں۔

ہماری تاریخ کا یہ منفرد ماہ رمضان اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانے میں مقدر فرمایا ہے جو ہماری تاریخ کا نہایت پر آشوب زمانہ ہے۔ امت مسلمہ اپنی تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہی ہے۔ چیلنجوں اور مشکلات کی بظاہر چو طرفہ یلغار ہے۔ ایسے میں ماہ تربیت وتزکیہ کی ان حالات کے ساتھ آمد یقیناً اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی مصلحت کا حصہ ہے۔ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس رمضان کو امت کی تربیت کے لیے کسی خاص پہلو سے استعمال فرمانا چاہتا ہے۔ آیئے اپنے شعور وفہم کا ممکنہ استعمال کرتے ہوئے اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ ان حالات میں ہم ماہ رمضان کو اپنے اندر کس طرح کی تبدیلیوں کا ذریعہ بناسکتے ہیں؟

رمضان، قرآن اور تقویٰ

رمضان المبارک ماہ قرآن ہے۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَینَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ۔ البقرہ ۱۸۵(رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں) اس ماہ میں روزے فرض کیے گئے ہیں جن کا مقصد تقویٰ کی افزائش ہے۔ یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیكُمُ الصِّیامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ البقرۃ ۱۸۳ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی)

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ وہ زندگی کی ایک خاص اسکیم دیتا ہے۔ ایک نظام عقائد Belief System، ایک نظام اقدار Value System، اس پر مبنی ایک طرز حیات Lifestyle ، ایک تہذیب اور ایک سویلائزیشن، انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے یہ سارے پہلو اس اسکیم میں شامل ہیں۔ قرآن کی تجویز کردہ انسانی زندگی کی یہ اسکیم، انسانوں کی بھلائی ہی کے لیے ہے۔ اسی میں انسانوں کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ قرآن کی اس اسکیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اندر ضبط نفس Self Control ہو، قرآنی قدروں پر عمل کے لیے قوت ارادی Will Power ہو، اللہ کا ڈر ہو، محتاط اور منضبط زندگی کی عادت ہو، اسے قرآن تقویٰ کہتا ہے۔ رمضان اس تقویٰ کی افزائش کا ذریعہ ہے۔ قرآن، تقویٰ اور رمضان کے اس مثلث کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رمضان ایک ماہی ٹریننگ کورس ہے جس سے اللہ تعالیٰ ہر سال مسلمانوں کو گزرنے کا موقع دیتا ہے تاکہ وہ تقویٰ حاصل کریں اور سال بھر قرآنی زندگی اختیار کریں۔

تقویٰ کو قرآن بہت اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پسند یہ ہے کہ اہل ایمان کی زندگی کی بنیاد تقویٰ پر ہو۔ أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْیانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ۔ التوبۃ ۱۰۹(بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقوے اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو) آخرت میں کامیابی بھی تقویٰ والوں ہی کی ہے وَالۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِینَ۔ اعراف ۱۲۸ (اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔) وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى۔ طہ۱۳۲ (اور انجام کی بھلائی تقوی ہی کے لیے ہے۔)اور دنیا کی کامیابی، اللہ کی عنایات کاحصول اور مشکلات سے نجات، یہ سب بھی تقویٰ ہی پر منحصر ہے۔ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِب۔ الطلاق ۲،۳(اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔)

اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے کہ ماہ قرآن آئے تو مسلمان ہر طرف سے یکسو ہوجائیں۔ قرآن پڑھیں، اس پر خوب غور کریں۔ اپنے گھر میں بھی پڑھیں اور رات کی تنہائیوں میں خدا کےدربار میں پوری طرح یکسو ہوکر کھڑے ہوجائیں اوراس قیام کی حالت میں خوب قرآن پڑھیں اور سنیں اور اس طرح، اس ماہ پورے قرآن سے گزریں۔ اچھی طرح انہیں معلوم ہوجائے اور اس کی یاددہانی ہوجائے کہ قرآن کیسی زندگی چاہتا ہے؟ قرآن کا فلسفہ حیات ان کے ذہن نشین ہوجائے۔

وہ قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا احتساب کریں۔ دیکھیں کہ ان کی زندگیوں میں کہاں کہاں deviationانحراف پایا جاتا ہے، اس پر توبہ واستغفار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان سے فیض یاب ہونے کے لیے ایک شرط یہ بتائی گئی ہے کہ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان میں قیام الیل کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ صحیح بخاری، باب فضل من قام رمضان)

پھر اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے اور قرآن کی بتائی ہوئی خوبیوں اور حسنات کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کے لیے روزہ کے ذریعہ قوت ارادی Will Power حاصل کریں۔ مومن کی پوری زندگی ایک طرح سے روزہ ہی کی زندگی ہے۔ اس پر لازم ہے کہ زندگی بھر اللہ کی رضا کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھے۔ اپنی عادتوں کو بدلے۔ بہت سی چیزوں سے، جو اللہ کو پسند نہیں ہیں، باز رہے۔اس طرح ایک نسبتاً ہلکا پھلکا روزہ تو ہر مسلمان کو زندگی بھر رکھنا ہوتا ہے۔ اس کی ٹریننگ کے لیے مہینہ بھر ایک مشکل تر روزے سے ہم گزرتے ہیں تاکہ باقی زندگی کا آسان روزہ ہم رکھ سکیں۔

قرآن کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ حقوق العباد سے متعلق ہے۔ روزے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس سے اللہ کے غریب، مجبور، محروم اور بھوکے انسانوں کے دکھ درد کا احساس ہوتا ہے۔ ہم ان کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات، زکوۃ و فطرہ اور مختلف بہانوں سے غریبوں کے کام آکر اس لطف وسرور کا احساس کرتے ہیں جو ناداروں کے کام آنے سے عطا ہوتا ہے۔ اور باقی زندگی کے لیے قرآن کے غریب پرور مزاج کی اپنے اندر افزائش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو یہ بھی مطلوب ہے کہ اس مہینہ ہم یکسو ہوکر اللہ سے تعلق قائم کریں۔ ذکر ودعا، تلاوت اور توبہ و استغفار کے ذریعہ روحانی قوت سے مالامال ہوں تاکہ باقی زندگی دین پر عمل آوری آسان ہوجائے۔

جب آخری عشرہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے کہ ان سب اعمال اور مشقوں میں ہم شدت پیدا کردیں۔ اعتکاف او ر شب قدر کی تلاش کے بہانے سے اللہ تعالیٰ سے قریب ترین ہوجائیں۔ روحانی پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام کو حاصل کریں۔ یہاں تک کہ جب شب انعام یعنی عید کی رات آپہنچے تو ہمارا سب کچھ بدل چکا ہو۔ ہم دھل دھلاکر ایک بالکل نئی شخصیت بن جائیں۔ ہمارا وجود، قرآن سے ہم آہنگ ہوجائے۔ اور ایک پاکیزہ تر، زیادہ متقی، زیادہ باعمل، قرآنی تعلیمات سے زیادہ ہم آہنگ اندرون کے ساتھ ہم باقی زندگی کا سفر جاری رکھیں۔

یہ اسکیم ہے جو رمضان، تقویٰ اور قرآن کے اس پاکیزہ مثلث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس اسکیم میں، اسلامی عبادتوں کی ساری اسکیموں کی طرح، عبادات کے ظاہری مراسم کے ساتھ اس کی روح اور اس کے مقاصد پر زور ہے۔ ہمارا جتنا زور عبادات کے ظاہری مظاہر پر ہے اگر اتنا ہی اس کے مقاصد اور اس کی اسپرٹ پر ہوتا تو امت مسلمہ دنیا کے لیے بہترین آٗئیڈیل ہوتی۔ وہ اُس بلند اخلاقی مرتبے پر فائز ہوتی کہ دنیا کی امامت کے لیے کوئی اور اس کے مقابلہ میں ٹک ہی نہیں پاتا۔ وہ بنی نوع انسان کے لیے رحمت اور ساری انسانی آبادی کے لیے بے پناہ نافعیت کی حامل ہوجاتی۔

ماہ رمضان اور ہمارے رویے

لیکن اس موقع پر یہ بات خاص طور پر غور طلب ہے کہ ادھر کئی سالوں سے ہمارے رمضان کی کیا حالت ہے؟ عام دیکھنے والوں کے لیے رمضان ایک سالانہ میلہAnnual Festival بن گیا ہے۔ دھیرے دھیرے یہ صورت حال بن گئی ہے کہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں روحانی پاکیزگی اور قلب کی حضوری پر ہما ہمی اور رنگا رنگی کا غلبہ ہوگیا۔ پر رونق بازاروں کی چکا چوند اور ذائقہ دار کھانوں کے لطف و سرور نے ان خاص کیفیتوں کو مدھم کردیا جو رمضان کا خاصہ ہیں۔ تراویح کی بڑی بڑی جماعتیں ہوتی ہیں لیکن اُس حضوری قلب اور خشوع و خضوع کے بغیر جو اس نماز سے اصلا ًمطلوب ہے۔ قرآن سنا جاتا ہے لیکن اس کے مطالب پر غور کرنے اور اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لینے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ ہر سال رمضان آتا ہے لیکن ایک سالانہ رسم بن کر کہ اسے کم ہی لوگ اپنے اندرون میں مستقل تبدیلی لانے کا ذریعہ بنا پاتے ہیں۔ یکسانیت monotony کبھی چیزوں کو روایتی Ritualistic بنادیتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا رُبَّ صَائِمٍ لَیسَ لَهُ مِنْ صِیامِهِ إِلاَّ الْجُوعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیسَ لَهُ مِنْ قِیامِهِ إِلاَّ السَّهَرُ۔ سنن ابن ماجہ، مَا جَاءَ فِی الْغِیبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ۔ (بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا)

مولانا علی میاں ندویؒ نے ایک دفعہ بہت اچھی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کی بڑی کمزوری بدنیتی نہیں ہے بلکہ بے نیتی ہے۔ نیت قلب کی حضوری کا نام ہے۔ (ہفت روزہ نداے ملت،۱۵جنوری ۱۹۶۵) نیت عبادت کے مقاصد پر نگاہ رکھنے کا نام ہے۔ نیت انی وجہت پڑھنے کا نام نہیں ہے بلکہ دل کی گہرائی سے، اس جذبے اور شعور کے ساتھ جاے نماز پر کھڑے ہونے کا نام ہے کہ میں نے ہر طرف سے یکسو ہوکر اپنے رخ کو خدا کی طرف پھیردیا ہے اور اب اس کا بن گیا ہوں۔ دل کی گہرائی میں یہ پختہ نیت نہ ہو تو عبادت محض ایک رسم بن جاتی ہے۔ اب جب کہ امت میں عبادتوں کا شعور عام ہوگیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے زیادہ اس بے نیتی کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ عبادتوں کی روح کے احیاء کی کوشش کی جائے۔ اس بات کی کوشش کی جائے کہ ہمارے مراسم عبودیت ہم کو اس اخلاقی و روحانی بلندی تک لے جائیں جو قرآن چاہتا ہے۔

رمضان ۱۴۴۱ھ

اس پس منطر کو سامنے رکھ کر حالیہ رمضان کی اس خاص شکل میں ظہور پذیری کی حکمتوں پر غور کیا جائے تو کئی اہم باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ایک طرف امت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گذررہی ہے۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہماری بھرپور تربیت ہو اور ہم زبردست روحانی واخلاقی قوت سے مالامال ہوکر، اور قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ بن کر، اس دنیا کو بہتر بنانے میں اپنا رول ادا کرسکیں۔ پھر یہ رمضان اس طرح آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی صفات کا پوری قوت کے ساتھ ہمارے چاروں طرف اظہار ہورہا ہے۔ خدا کا انکار کرنے والے اور خدا سے غافل انسان بھی رب کائنات کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا رمضان ہمارے لیے مقدر فرمایا ہے جو اب تک کے رمضانوں سے بالکل مختلف ہے۔

اس رمضان میں اہل ایمان کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ رسمی یک رنگی Ritualistic Monotony کو توڑیں اور رمضان کے مقصد اور اس کی روح کی طرف پوری قوت اور یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہوجائیں۔ یہ ایک ایسا رمضان ہے جس میں بازار بند ہوں گے۔ ہوٹل بند ہوں گے۔ کھانے پینے میں لذت اندوزی کے مواقع ہر ایک کے لیے نسبتاً کم ہوں گے۔ ہم نے جو برسوں سے رمضان کو لذیذ سے لذیذ ڈشوں سے لطف اندوز ہونے کا مہینہ بنادیا تھا، اس دفعہ اس کا موقع نہیں ہے۔ اس دفعہ شاپنگ کا موقع نہیں ہے۔ آباد بازاروں کی رونقوں سے لطف اندوز ہونے کا بھی موقع نہیں ہے۔ دعوتوں اور افطار پارٹیوں کا بھی موقع نہیں ہے۔ موقع ہے تو اس بات کا کہ ہم پوری یکسوئی سے، ہر طرف سے کٹ کر، رب کائنات کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اس کی نشانیوں پر، اس کے کلام پر، اور اس کی ذات پر اپنی توجہات کو فوکس کردیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو، اس دفعہ کام اور معاشی تگ ودو سے بھی فرصت حاصل ہے۔ ورک فرام ہوم کرنے والوں کے لیے اوقات پر زیادہ کنٹرول میسر ہے۔ ہم چاہیں تو بھرپور یکسوئی اور حضور قلب کے ساتھ اس رمضان کو گزارسکتے ہیں۔

رمضان المبارک کا ایک پہلو اجتماعی اور سماجی ہے اور ایک پہلو انفرادی ہے۔ ایک پہلو مراسم کا ہے، ایک پہلو اس کی روح، اسپرٹ اور مقاصد کا ہے۔ دونوں پہلووں کی اہمیت ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی تقویت کا سامان کرتے ہیں۔ دونوں مل کر ہی مکمل عبادت بنتے ہیں۔ لیکن شاید عملاً ہماری زندگیوں میں اجتماعی پہلو غالب ہوگیا تھا اور انفرادی پہلو کمزور ہوتا جارہا تھا۔ مراسم کا پہلو غالب ہوگیا تھا اور مقاصد اور اسپرٹ کا پہلو دب گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس دفعہ اس عدم توازن کو دورکرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ہم یہ رمضان کیسے گزاریں؟

آ ئيے اس رمضان کو اب تک کی زندگی کا بہترین رمضان بنادیں۔ اسے اپنی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بنادیں۔ حقیقی تقویٰ کی افزائش کا بے مثل ذریعہ بنادیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ نے پورے تیس دن کا بھی اعتکاف فرمایا ہے اور آخری عشرہ کا بھی اور بیس دن کا بھی۔ بے شک اس دفعہ اعتکاف کا موقع نہیں ہے۔ لیکن ہم سب اپنے گھروں میں بند ہیں۔ ہم چاہیں تو اس پورے مہینہ کو اعتکاف کی کیفیت کے ساتھ گزارسکتے ہیں اوراعتکاف کی ایسی کیفیت کے ساتھ جو آج کل مسجدوں میں بھی میسر آنا مشکل ہے۔ بے شک اعتکاف تو مسجد ہی میں ہوتا ہے اور وہی مطلوب بھی ہے لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی ہے کہ ہم گھروں پر رہیں تو ہم سوچیں کہ اس موقع کا کیسے بہترین استعمال ہوسکتا ہے۔ اور کیسے گھر پر اعتکاف کی سی یکسوئی، انہماک اور ارتکاز کے ساتھ ہم پورا مہینہ صرف کرسکتے ہیں۔ باجماعت تراویح سنت ہے لیکن اس وقت کے حالات میں دین کی تعلیم یہی ہے کہ ہم تراویح گھر پر پڑھیں تو ہم کو دیکھنا ہے کہ کیسے ہم تنہائی میں، اس تراویح کو زیادہ خشوع وخضوع اور زیادہ حضوری اور توجہ و ارتکاز کے ساتھ ادا کرنے کی مشق کرسکتے ہیں۔ اگر رمضان کے آخر میں ہم کو باجماعت تراویح ادا کرنے کا موقع مل جائے یا آئندہ سال میسر آئے تو ان شاء اللہ پھر مسجد میں بھی ہم اسی ارتکاز اور توجہ کے ساتھ نماز ادا کریں گے اور باہر کی رونقیں اور ہما ہمی ہم کو غافل نہیں کرسکے گی۔ ہم اس دفعہ شب بیداری اور راتوں کےقیام کی روحانی کیفیت حاصل کریں۔ اور کوشش کریں کہ وہ مومنانہ کیفیت پیدا ہو جس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ: وَاذْكُر رَّبَّكَ فِی نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِیفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِینَ ﴿٢٠٥﴾ إِنَّ الَّذِینَ عِندَ رَبِّكَ لَا یسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَیسَبِّحُونَهُ وَلَهُ یسْجُدُونَ۔ اعراف ۲۰۵،۲۰۶ (اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں)

ہم زیادہ ارتکاز اور یکسوئی کے ساتھ اور بھرپور وقت دیتے ہوئے قرآن پر غور کریں۔ نبی کریم ﷺ کے قیام لیل کی منطر کشی ایک صحابی نے اس طرح کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزیز الحكیم اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز (غالب) ، اور حکیم (حکمت والا) ہے۔ (سنن ابن ماجہ).

قیام لیل کی یہ اسپرٹ، اللہ کے کلام پر اس طرح غورو فکر اور اس سے راست تعلق اور بات چیت کی کیفیت، ہم اس رمضان میں زیادہ یکسوئی کے ساتھ پیدا کرسکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہو کہ ہم یہ پیدا کریں، قرآن کے ذریعہ اور راتوں کے طویل قیام میں تلاوت قرآن کے ذریعہ اللہ سے سرگوشی کرنے کا لطف و سرور حاصل کریں، قرآن کو اپنی ذاتی زندگی کا گائیڈ اور رہبر و رہنما بنا ئیں، اسے پڑھیں، سمجھیں، قرآن کی روشنی میں اپنا بھرپور جائزہ لیں، ایک ایک گناہ ایک ایک غلطی کو یاد کرکے، اس پر شرمندگی و ندامت کے مخلص جذبات پیدا کرکے غفور ورحیم کے دربار میں مغفرت طلبی اور توبہ کے ہاتھ پھیلائیں، ایک ایک خواہش، ایک ایک مراد اور ایک ایک ضرورت کو اللہ کے سامنے عاجزانہ دعا کے ذریعہ پیش کریں، وہ سب کچھ مانگیں جو ہمارے لیے دنیاکی کامیابی کے لیے درکار ہے اور آخرت کی کامیابی کے لیے درکار ہے۔

ہمارے بعض بھائی ان دنوں، معاشی مشکلات سے گذررہے ہوں گے۔ ایسی تنگیوں سے جن کا اس سے پہلے انہوں نے کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔ جن لوگوں کو اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے وہ بھی سب کچھ رکھ کر بھی طرح طرح کی مشکلات، تنگیوں اور الجھنوں سے دوچار ہوں گے۔ اسے بھی ہم اپنی تربیت کا سامان بنائیں۔ رمضان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اہل ایمان کے اندرسخت کوشی پیدا کرتا ہے، مشکل حالات میں رہنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، آرام دہ معمولات کو توڑنے اور اس سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی لیاقت پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دفعہ رمضان میں اس تربیت کو بھی شدید تر کردیا ہے, تاکہ ہم زیادہ سخت جان بن کر نکلیں۔ ہم اسے اپنی تربیت کا ذریعہ سمجھیں اور بنائیں۔

رمضان مواسات اور ہم دردی کا مہینہ ہے۔ ہم روزہ کے ذریعہ بھوک پیاس کا احساس ہر سال کرتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ یہ احساس اس طرح کررہے ہیں کہ ہماری نطروں کے سامنے آدم کے لاکھوں کروڑوں بیٹے بیٹیاں، بھوک سے تڑپ اور سسک رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی کتنی محرومی ہے، کتنی بے بسی و لاچاری ہے، غربت وفاقہ کشی کا کیا عالم ہے اور اللہ کے فراہم کردہ وسائل کی بہتات کے باوجود، کیسے اللہ کے بندے ان وسائل سے محروم کیے جارہے ہیں اور دنیا سے اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے اللہ کے دین کے حاملین کو ابھی کیا کچھ اور کتنا کچھ کرنا باقی ہے۔۔۔

انسان کا مزاج اور اس کی شخصیت مشکل حالات میں بے نقاب ہوتی ہے۔ یہ رمضان ایسے حالات میں آرہا ہے جب ہم نے دنیا اور عالم انسانیت کو اس آفت کے حوالے سے زیادہ بہتر طور پر سمجھا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمام تر سائنسی ترقیوں کے باوجود، الحاد وخدا بیزاری کے تمام فلسفوں کے باوجود انسان کا ضمیر آج بھی حق کا پیاسا ہے۔ بے شک بعض شقی القلب ایسے بھی ہیں جو ان حالات کو مذہب اور خدا کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ لیکن دنیا بھر کے چھوٹے بڑے لوگوں کے بیانات، سوشل میڈیا پیغامات وغیرہ کا سرسری جائزہ یہ بتاتا ہے کہ اس آفت نے عام طور پر انسانوں کو اپنی کمزوری کا احساس دلایا ہے۔ خدا کی طرف پلٹنے اور اس کی طاقت و قدرت کے آگے سرنگوں ہونے کے جذبے کی افزائش کی ہے۔ انسانیت یقینا ًاس عظیم آزمائش سے بہت کچھ سیکھے گی اور اس کا رویہ اس آفت کے بعد ضرور بدلے گا۔ ان حالات میں اللہ کے دین کے علم برداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پیاسی انسانیت کے سامنے کائنات کے خالق و مالک کا پیغام پہنچانے کی کوششوں کو تیزتر کریں، انھیں خدا کی طرف بلائیں, عدل وانصاف کی طرف بلائیں, اعتدال و توازن کی طرف بلائیں۔ ان شاء اللہ کووڈ۱۹ کے بعد کی دنیا ان باتوں کو سننے کی بہتر پوزیشن میں ہوگی۔

اس آفت کے بعد زیادہ بڑے مواقع، زیادہ بڑی ذمہ داریاں، زیادہ بھاری کام، ہمارے منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دفعہ ایک منفرد قسم کے رمضان سے ہماری تربیت کا سامان پیدا کیا ہے۔ ہماری بھرپور کوشش ہو کہ اس ماہ تزکیہ سے ہم اچھی طرح تیار ہوکر نکلیں اور ان عظیم ذمہ داریوں کی طرف زیادہ قوت کے ساتھ متوجہ ہوں جو ہماری منتظر ہیں۔ سورہ مزمل کی ابتدائی آیات کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ اس وقت نازل ہوئیں جب دعوت دین کے سلسلہ میں عظیم چیلنج آپ ﷺ کودرپیش تھے ۔ ان حالات میں حکم دیا گیا کہ قُمِ اللَّیلَ إِلَّا قَلِیلًا ۔ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِیلًا ۔ أَوْ زِدْ عَلَیهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلًا ۔ إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیكَ قَوْلًا ثَقِیلًا ۔إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیلِ هِی أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِیلًا ۔ إِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیلًا ۔وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَیهِ تَبْتِیلًا (رات میں قیام کر مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کر دو۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلو اور قرآن کی تلاوت کرو ٹھیر ٹھیر کر۔ ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ بے شک رات میں اٹھنا دل جمعی اور فہم کلام کے لیے نہایت خوب ہے۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔المزمل ۲ تا۷)

ایک ایسے دور میں جب کہ امت کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اللہ تعالیٰ ہماری تربیت کا خصوصی سامان کررہا ہے۔ ہم اس رمضان کو اس کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ گزارنے کی کوشش کریں تو ان شاء اللہ یہ مہینہ ۱۴۴۱ ہجری کا یہ ماہ رمضان امت کے لیے ماہِ انقلاب یعنی ایک اندرونی صالح انقلاب کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ خدا کرے ایسا ہوجائے۔

وَمَا تَوْفِیقِی إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ عَلَیهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَیهِ أُنِیبُ