راہ سعادت

 

اکیسویں صدی میں کامیابی کا سراغ

 

(قسط9)

 

طارق السویدان - کویت

ترجمہ : اشتیاق عالم فلاحی- دوحہ قطر

 

8۔ گفتگو اور مکالمہ:

یہ وہ درس ہے جو ہمیں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ملتا ہے۔ اپنی تمام عظمت و جلال کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قراۤنِ کریم میں انسانی عقل کو مکالماتی انداز میں مخاطب کیا۔ محض احکام وتعلیمات جاری کرنے کی قدرت کے باوجود اس نے لوگوں کی اۤراء و افکار کو سامنے رکھ کر گفتگو کی۔ ہم انسان اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود، ہاتھ میں ہتھوڑا لے کر ہی علم بانٹنے نکلتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ طاقت کے زور پر مخاطب کو اپنی بات سے مطمئن کریں۔

شفقت اور نرمی زیورِ اخلاق کے حسین ترین نگینے ہیں۔ یہ ہر جگہ اپنی چمک سے روشنی اور خوبصورتی میں ہی اضافہ کرتے ہیں۔ یہ گفتگو کرنے والے کو اس بات پر اۤمادہ کرتے ہیں کہ ٹھنڈۓ اور پرسکون مزاج اور پوری محبت کے ساتھ مخاطب کے غلط زاویہؑ فکر پر نظر ڈالے، اس کا ہاتھ تھامے اور پوری محبت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اسے صحیح ڈگر پر لے آئے۔ اس جادہ پیمائی اور عقل و دل کے درمیان معلومات کے تبادلے میں حکمت و محبت سے بھر پور نصیحت اور تعلقِ خاطر اور حسنِ سلوک کی جلوہ گری ضروری ہے۔

یہ حققیقت ہے کہ میری اور مخاطب کی عقل کے درمیان ایک فاصلہ ہے۔ اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ مناسب ذرائع اختیار کرتے ہوئے یہ فاصلہ طئے کروں اور اس کے دروازے پر دستک دینے کے لیے وہ طریقہ اختیار کروں جو صاحبِ مکان کو راس آئے۔ دروازے پرپوری قوت سے ہتھوڑا مار کر ہم اندر نہیں داخل ہوسکتے اور اگر داخل ہو بھی گئے تو طاقت کے بل پر مخاطب کے فہم اور ادراک کے اندر مطلوبہ تبدیلی نہیں پیدا کرسکتے۔

مباحثہ اور مکالمہ

بعض تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ انسان ایک ماہ گزرنے کے بعد سن کر حاصل کی گئی معلومات کا صرف 13 فیصد حصہ یاد رکھتا ہے جب کہ مشاہدے سے حاصل کی گئی معلومات کا 70 فیصد حصہ یاد رکھتا ہے۔ البتہ مکالمہ، مباحثہ اور تبادلہؑ خیال سے حاصل کی گئی معلومات ہوں تو ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا 95 فیصد حصہ وہ یاد رکھتا ہے۔

کنفیوشس نے کہا تھا "تم سناؤ گے تو میں بھول جاؤں گا۔ مجھے دکھاؤ گے تو ممکن ہے یاد رہ جائے۔ مجھ سے تبادلہؑ خیال کروگے تو میرے ذہن میں ضرور محفوظ رہے گا"۔

انسانی تعلقات کو بہتر بنانے میں بامقصد تبادلہؑ خیال اور مباحثہ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ ان نشستوں کے ذریعہ اصول اور اقدار کی آبیاری اور مردانِ کار کی تیاری کا کام کیا جا سکتا ہے۔ امام شافعیؒ کی کتاب الأم تنہائی میں بیٹھ کر لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ امام صاحب کے زیرِ نگرانی منعقد ہونے والی مذاکراتی نشستوں کا ثمرہ ہے۔

یہ انسانی ضرورت ہے کہ ایسی بامقصد مذاکراتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے جہاں ہر کوئی اپنا دکھ درد سنا کر اپنے سینے کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ مکالمہ کے ذریعہ آپ مخاطب کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ پھر اس کے افکار کی اصلاح کرتے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کو قبول کرنا سیکھتے ہیں اور ان کے درمیان محبت اور الفت میں اضافہ ہوتا ہے۔

گفتگو کے درمیان بسا اوقات ہم اپنے افکار کی ترسیل میں ناکام ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تلخ کلامی پیدا ہوتی ہے۔ اور الفت و تعلق کا جنازہ اٹھنے لگتا ہے۔ مکالمہ میں مطلوبہ نتائج تک پہونچنے میں ناکام انسان کو چاہیے کہ ناکامی کے اسباب پر غور کرے اورمنفی پہلووں پر قابو پا کر خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

شاہراہِ زندگی میں کامیابی کے سراغ میں نکلنے والے افراد کے لیے گفتگو کے فن میں مہارت پیدا کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایک درست بات پر مخاطب کو مطمئن کرنے کے لیے صرف نیت کی پاکیزگی کافی نہیں، بلکہ اسلوب کی دلکشی بھی مطوب ہے۔ جو شخص ہتھوڑا لے کر اپنے افکار کو پھیلانے کی کوشش کرے گا اس کی بات ردی کی ٹوکری میں ہی جائے گی۔

کامیاب مکالمہ کے اصول

کامیاب مکالمہ کے یہ کارگر اصول ہمیں اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنت میں ملتے ہیں۔ میں یہ اصول بھی بیان کروں گا اور ساتھ ہی یہ بھی بتاؤں گا کہ اس ضمن میں اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کے عمل میں کیا اشارے ملتے ہیں:

دائرہ کار متعین کریں: مخاطب کون ہے، مکالمہ کا ہدف کیا ہے۔ گفتگو کو کس رخ پر لے جانا ہے یہ طئے کریں ورنہ منفی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

قربت بڑھانے کے نفسیاتی طریقے اختیار کریں: مخاطب کو قریب بٹھائیں، اسے جھڑکنے سے پرہیز کریں۔ بھرپور محبت سے پیش آئیں۔ یہ تمام باتیں قربت بڑھانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

مخاطب کے زاویہؑ نظر کو سمجھیں: معاملات کو مخاطب کے زاویہ سے دیکھیں۔ پھر دھیرے دھیرے اسے ساتھ لے کر اس طرح اپنے نقطہؑ نظر تک لائیں کہ آپ کی بات کو وہ اپنا نقطہؑ نظر سمجھنے لگے۔

متفق علیہ امور سے آغاز کریں: فریقِ ثانی کے ساتھ جن معاملات پر اتفاق ہے ان پر گفتگو کریں۔

سوالات اٹھائیں:

سوالات کے ذریعہ مخلتف پہلووں کی طرف متوجہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ سوالات سے جہاں مجہول پہلووں کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہیں ان کی تفصیلات جاننے کی ترغیب بھی ملتی ہے۔

شفقت آمیز رویہ اختیار کریں:

مخاطب کے کندھے پر ہاتھ رکھیں۔ اچھی باتیں کریں۔ اس کے لیے دعا کریں، مشفقانہ نظر سے دیکھیں۔

اسے یہ احساس دلائیں کہ آپ اس کے لیے فکر مند ہیں: انکساری کے ساتھ پیش آئیں، مسکرائیں، کنیت (فلاں کے ابا) سے پکاریں، اس کے عقل و شعور سے مناسبت رکھنے والے اسلوب میں گفتگو کریں۔ ان چیزوں سے اسے آپ کی فکرمندی کا احساس ہوگا۔

پسِ منظر اور ماضی کی تفصیلات سے واقفیت حاصل کریں: اس کے مزاج، پسند و ناپسند، اس کی مشکلات اور پریشانیوں سے متعلق سوالات کریں۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ اس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں۔

ادب کے ساتھ پیش آئیں:

ادب کے ساتھ پیش آئیں۔ انکساری کا مظاہرہ کریں۔ دوسروں کو قریب کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے کے لیے سب سے مضبوط ہتھیار یہ ہے کہ آپ خود سے کم عمر اور کم علم افراد کے ساتھ بھی ادب کے ساتھ پیش آئیں۔ مخاطب کی بات خواہ غلط ہی ہو اسے اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کا موقع دیں۔

مخاطب کا احترام کریں:

آپ کا توجہ سے سننا اور اسے بھرپور اظہار خیال کا موقع دینا اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ آپ اختلاف کے باوجود اس کا احترام کرتے ہیں۔

صبرو تحمل سے کام لیں:

جب آپ مخاطب کو اس کی حقیقی کیفیت کے ساتھ قبول کرتے ہیں، اس کے ساتھ مخلصانہ رویہ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ صبر کے ساتھ پیش آتے ہیں تو آپ کو اس کا موقع ملتا ہے کہ اس کے ذہن و خیالات کو اچھی طرح پڑھ سکیں۔

غصہ سے پرہیز کریں:

یہ وہ بات ہے جسے آپ اپنے ذہن کے اندر بھی گردش کرنے دیں اور اسے برتنے کا اہتمام بھی کریں، کیونکہ غصہ دیوار بن کر معلومات کو ذہن و دماغ میں داخل ہونے سے روکتا ہے، گفتگو کی تاثیر پر انتہائی منفی اثر ڈالتا ہے۔

اشاروں کنایوں میں تلقین کریں:

انتہائی باوقار طریقہ اختیار کریں۔ اشاروں کنایوں میں تلقین کریں تاکہ آپ کی طرف ان کی توجہ باقی رہے اور آپ کی بات کو قبول کریں۔

منطقی گفتگو کریں:

مرض اور مریض کو ایک دوسرے سے جدا کر کے دیکھیں۔ دماغ و شعور کو مخاطب کریں۔

موقع دیں کہ وہ خود حقیقت کا انکشاف کرے:

مخاطب اگر دوسروں کی تلقین کے بغیر خود معلومات کا انکشاف کرے تو اس وقت اسے بے پناہ خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ آپ دلائل کے ساتھ گفتگو کریں۔

"نہیں" کہنا چھوڑ دیں:

لفظ نہیں لوگوں کے سر پر ہتھوڑی بن کر گرتا ہے۔ یہ لفظ کو غلط ثابت کرتا ہے۔ عناد اور تکبر کو اس حد تک بڑھا دیتا ہے کہ پھر واپسی کا امکان باقی نہیں رہتا۔ یہ نہ بھولیں کہ نرم چال چلنے والا لمبی مسافت طئے کرتا ہے۔

مذکورہ بالا اصول کے سلسلے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ہدایات میں کیسے واضح اشارے ہیں دیکھیں:

ابو امامہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور کہا: اللّٰہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، یہ سننا تھا کہ لوگ اس پر پل پڑے، اور اسے جھڑکتے ہوئے کہنے لگے: خاموش ہو جاوؑ، خاموش ہو جاوؑ۔ لیکن آپﷺ نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہوجاؤ۔ پس وہ آپﷺ کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنی ماں کے لیےاس چیز کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں آپ پر قربان جاؤں، ہرگز نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی ماؤں کیلیے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اچھا کیا تم اپنی بیٹی کے لیے اس چیز کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں آپ ﷺ پر قربان جاؤں، ہرگز نہیں، آپﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اچھا کیا تم اپنی بہن کے لیے اس چیز کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں آپ ﷺ پر قربان جاؤں، ہرگز نہیں، آپﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے لیے اس چیز کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں آپ ﷺ پر قربان جاؤں، ہرگز نہیں، آپﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اچھا کیا تم اپنی خالہ کے لیے اس چیز کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں آپ ﷺ پر قربان جاؤں، ہرگز نہیں، آپﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ آپﷺ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میں یہ دعا فرمائی: اللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ (اے اللّٰہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرم گاہ کو محفوظ کر دے) اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ (احمد)

انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے اور میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا اور میرے خیال میں اُس کا دودھ چھڑایا جا چکا تھا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آپ تشریف لاتے تو فرماتے: اے ابو عمیر! نغیر کا کیا بنا؟ نغرایک پرندہ تھا جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا۔ (جو بعد میں مرگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس بچے کی دل جوئی کے لیے یہ فرماتے)۔ کبھی نماز کا وقت ہوجاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہوتے تو جس فرش پر آپ تشریف فرما ہوتے اُسے جھاڑنے اور صاف کرنے کا حکم دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوجاتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے۔ (متفق علیہ)

ایک اور منظر ملاحظہ کریں:

روایات میں آتا ہے کہ ایک بار عتبہ نبیﷺ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ اور ان سے کہا بھتیجے! تم اپنی قوم میں اپنے نسب اور خاندان کے اعتبار سے جو حیثیت رکھتے ہو وہ تمہیں معلوم ہے۔ مگر تم اپنی قوم پر ایک بڑی مصیبت لے آئے ہو۔ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ تم ساری قوم کو بے وقوف ٹھیراتے ہو، ان کے معبودوں کی برائی کرتے ہو۔ اور ان کے باپ دادا کو کافر قرار دیتے ہو۔ اب ذرا میری بات سنو، میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز رکھتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بات قبول کر لوگے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابو الولید، ٹھیک ہے، کہیے، میں سنوں گا۔ وہ کہتا رہا اور رسول اللہﷺ سنتے رہے۔ پھر جب اس نے اپنی بات پوری کر لی تو نبیﷺ نے پوچھا اے ابوالید کیا آپ کی بات پوری ہوگئی۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا اچھا اب میری بات سنو۔ اس کے بعد آپﷺ نے سورہؑ فصلت کی تلاوت شروع کی اور جب آُپﷺ آیتِ سجدہ پر پہونچے تو آپﷺ نے سجدہ کیا اور عتبہ سے کہا: اے ابو الولید میرا جواب سن لیا آپ نے، اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔ اس کے بعد عتبہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کی مجلس کی طرف چلا تو بعض لوگوں نے دور ہی سے اسے دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم! عتبہ کا چہرا بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ صورت نہیں جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ اس کے بعد عتبہ نے ان سب سے کہا کہ میری بات سنو، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ان لوگوں نے اس کی بات رد کردی اور کہا ابو الولید اس نے تمہارے اوپر اپنی زبان سے جادو کر دیا ہے۔ (مسند ابو یعلیٰ، مغازی ابن اسحاق)۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ قریش نے اپنے ایک سردار حصین الخزاعی کو جو کہ بڑے دانا اور حکیم سمجھے جاتے تھے، رسول اللہﷺ کے پاس بھیجا تاکہ پیارے نبیﷺ کو اپنے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک سکے۔ حصین نے رسول اللہﷺ کے پاس جا کر کہا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہو اور ہمیں کم عقل سمجھتے ہو۔ تمہارے باپ دادا تو اچھے اور قابلِ احترام لوگ تھے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اس سے کہا: اے حصین میرے اور تمہارے آباء واجداد سب جہنم میں جائیں گے۔ اے حصین تم کتنے معبودوں کی بندگی کرتے ہو۔ اس نے کہا: سات معبودوں کی، ان میں سے ایک آسمان میں ہے اور چھ زمین پر۔ آپﷺ نے پوچھا کہ اولاد سے محرومی پر تم کس سے فریاد کرتے ہو۔ انھوں نے کہا اس سے جو آسمان میں ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ان سے کہا کہ وہی اکیلا ہے جو تمہاری فریاد سنتا ہے، اس کے ساتھ تم دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہو۔ حصین اس مقام پر چونکے، انھوں نے رسول اللہﷺ کی بات سے اتفاق کیا۔ پھر رسولﷺ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ (ترمذی، طبرانی، مشکوٰۃ المصابیح)۔

اسی سیاق میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر بھی غور کریں: کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا، جس نے ابراہیمؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اِس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے بادشاہت دے رکھی تھی، جب ابراہیمؑ نے کہا کہ "میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، تو اُس نے جواب دیا: "زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے"ابراہیمؑ نے کہا: "اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا" یہ سن کر وہ منکر حق ششدر رہ گیا۔ (البقرۃ : 258)۔

حکمت کے موتی:

بہادر بنیں:راست گوئی کی قوت مکالمہ کی کامیابی میں بڑی کارگر ہوتی ہے۔ اگر کوئی بات معلوم نہیں، اس کا دعویٰ کرنے کے بجائے بلا جھجک بہادری کےساتھ اعتراف کریں کہ مجھے نہیں معلوم۔

حق کی جستجو:

حق تک رسائی اصل مقصود ہونا چاہیے۔ اپنے دل کو ٹٹولتے رہیے۔ نفس کی اکساہٹ اور برحق بات کے درمیان فرق کرنا سیکھیں۔ دل کو نفسانی خواہشات کی آماجگاہ بننے سے بچائیں۔