نظریۂ ارتقا: رد و قبول اور متبادل امکانات

جدید انسان رکازات اور نظریۂ ارتقا

 

ساتو  یں قسط

 

ڈاکٹر محمد رضوان

 

ساختیاتی پیچیدگی کے حوالے سے رکازات راست ثبوت کے طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ نظریۂ ارتقا میں رکازات پر غیر معمولی زور رہا ہے، کیوں کہ ارتقا کے براہِ راست ثبوت کے طور پر (ایسا ثبوت جسے راست چشم انسانی سے دیکھا جا سکتا ہو) رکازات دلیل آخر ثابت ہو سکتے ہیں!

ایسا نہیں ہے کہ رکازاتی سائنس ارتقائی بحثوں کے چھڑنے کے بعد وجود میں آئی ہو، بلکہ یہ سائنس نظریۂ ارتقا کی پیش کش سے کئی دہائیوں قبل ارتقا پذیر ہو چکی تھی۔ لیکن اس نظریے کے آنے سے قبل یہ محض چٹانوں اور ان کی تشکیل اور ان میں پائے جانے والے جانداروں کے ڈھانچوں اور ان کی تفصیلات مرتب کرنے تک محدود تھی۔ ڈارون کے پیش کردہ نظریۂ ارتقا کے بعد فطری طور پر اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اگر یہ نظریہ صحیح ہے کہ سادہ جانداروں سے پیچیدہ جاندار وجود میں آئے تو اس سادگی اور پیچیدگی  کی درمیانی کڑیوں کا ریکارڈ زمین کی تہوں میں چھپاہونا چاہیے ۔ اس مفروضے کے بعد گویا رکازاتی سائنس میں انقلاب برپا ہو گیا اور درمیانی کڑیوں کی تلاش شد و مد سے شروع ہو گئی۔

بہت قلیل عرصے میں پھر رکازاتی سائنس کی بہت ساری شاخیں وجود میں آ گئیںpalaeobotany،  palaeozoologyوغیرہ۔ تاہم رکازاتی سائنس ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل راستہ ثابت ہوئی۔ خود ڈارون نے اپنے نظریے کے لیے رکازاتی سائنس سے براہِ راست ثبوت کے میسر نہ ہونے کی مشکلات کو قبول کیا ہے۔ اس نے لکھا: میرے نظریے کے مطابق جانداروں کی درمیانی کڑیاں بڑی تعداد میں موجود ہونی چاہئیں جو اس دور میں پائی جاتی تھیں۔ پھر ایسا کیوں نہیں ہے کہ تمام رکازاتی تشکیلات ان درمیانی کڑیوں سے بھرے ہوئے نہیں ہیں۔ (1)

گو کہ بعد کے ادوار میں جدید ڈارونسٹ حضرات نے یہ کہہ کر ڈارون کے اس اعتراف کا دفاع کیا کہ چوں کہ ڈارون کے زمانے میں ارتقائی رکازیات (evolutionary palaeontology) ابتدائی مراحل میں تھی، اس لیے انھوں نے اس اعتراف کو اپنانا زیادہ مناسب سمجھا۔

جدید ارتقائی نظرے کے حاملین رکازاتی سائنس سے سے تصور ارتقا کے ثبوت نہیں لاتے، بلکہ وہ ایک سادہ سی تمثیل پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی نظریے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے ثبوت لائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ہر زاویے کا صد فیصد درست ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ مختلف زاویے مجموعی طور پر اگر نظریے کو مضبوط بناتے ہیں تو یہ نظریے کے صحیح ہونے کے لیے کافی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی طالب علم کو 10 سوالات میں سے تمام سوالات کے صحیح جواب دینے کا متحمل نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک خاص سطح یا تعداد میں صحیح جواب اسے امتحان میں کامیاب ہونے کا اہل بنا دیتے ہیں۔

اس لیے گو کہ رکازیاتی سائنس بہت سی درمیانی کڑیوں کو ثابت کرنے یا انھیں زمین سے برآمد کرنے میں ناکام ہوئی ہے، لیکن اس ناکامی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ درمیانی کڑیاں موجود ہی نہ رہی ہوں۔ بلکہ ہزاروں عوامل ایسے ہوتے ہیں جو رکازات کے بننے اور ان کے باقی رہنے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد   میں درمیانی کڑیوں کی دریافت بھی ہوئی ہے۔ جو قارئین اس ضمن میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں اور تکنیکی سائنسی مقالے نہیں پڑھنا چاہتے، وہ مذہبی حلقوں میں مبغوض رچرڈڈاکنز کی مشہور تصنیف دیکھ سکتے ہیں۔(2)

رکازات کی اضافیت تمام جدید ارتقائی نظریے کے قائلین کے یہاں مسلم ہے۔ اور اس لیے رکازات کی تشکیل، رکازات بننے اور ان کی بقا کے لیے ذمہ دار عوامل اور رکازات کے تحت الارض تعاملات کے لیے سائنس کی ایک یکسر نئی شاخ وجود میں آ چکی ہے۔ اسے taphonomy کہا جاتا ہے۔ یہ محض 70 سال پرانی سائنس ہے۔ لیکن اس نے رکازیات میں غیر معمولی ہلچل مچائی  ہے۔ اس سائنس کی بنیاد پر اب رکازیات میں مختلف رکازی ڈھانچوں کے درمیان پایا جانے والا عرصہ، دو مختلف جگہوں کے رکازات کا خلط ملط ہو جانا اور رکازی ڈھانچوں میں موجود اختلافات کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔

مثلاً رکازیات میں دو مختلف ارضیاتی پیمانہ وقت کے ڈھانچے حال میں دریافت ہوئے ہیں۔ اس دریافت کو بائبلی تخلیق کے قائلین بڑے زور و شور سے انواع کے بیک وقت وجود میں آنے کا واضح ثبوت قرار دیتے ہیں۔ لیکن taphonomy  کے ماہرین نے اس دریافت کی مختلف توضیحات پیش کیں، جنھوں نے سائنسی حلقوں میں قبول عام حاصل کیا۔

اسی طرح رکازیات سے متعلق مختلف دوسرے مسائل کے لیے ایک اور سائنس کی شاخ وجود میں آئی، جس سے رکازی سائنس میں باکل نئے زاویے سامنے آئے، وہ سائنسpalynologyکہلاتی ہے۔ جسے اردو میں ’’خاکیات‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ رکازات میں موجود خورد بینی اجزا، مٹی، جانداروں کے خورد بینی باقیات اور ان عوامل سے بحث کرتی ہے جو رکازات کی تشکیل کے وقت موجود تھے۔ جیسے اس وقت کی مٹی کی کیمیائی تشکیل، مٹی میں موجود کیمیائی عناصر وغیرہ۔

بایں ہمہ، رکازیات میں معلوماتی خلا موجود ہیں، جن کا پر کیا جانا ابھی باقی ہے۔ ماضی میں حاصل ہوئے ابتدائی رکازات پر اور جدید دور میں حاصل ہوے والے رکازات پر غیر معمولی تنقیدی ماحول بنا ہوا ہے۔ یہ تنقیدیں دونوں جانب کے خیموں سے ہیں۔ اس کی سب سے عمدہ مثال ’’Lucy‘‘ ہے۔

1974 میں ایتھوپیا میں ہاڈر نامی مقام پر دریافت ہوئی سیکڑوں رکازاتی ہڈیوں کے مجموعے کو جوڑ کر ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا۔ اسے لوسی کا نام دیا گیا۔ (3) دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈھانچے کا صرف 40% حصہ ہی ہڈیوں پر مشتل ہے۔ باقی سب پلاسٹر آف پیرس کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے۔ لوسی در اصل جدید ڈارونسٹ حضرات کے لیے انسانی ارتقا کی سب سے اہم درمیانی کڑی ہے۔ جو تقریباً 30 لاکھ سال پرانی ہے۔ بائبلی تخلیق کے نظریے کے حاملین کے علاوہ بہت سارے محققین نے اس دریافت پر سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ تاہم عمومی سائنس دانوں اور عوام میں اس پیش کش کو جوش و خروش سے قبول کیا  گیا۔ یہ سوالیہ نشان در اصل اس حقیقت کی وجہ سے بھی لگے کہ نہ صرف 40% رکازات کو 100 فیصد ہومی نڈ شکل میں تبدیل کیا گیا بلکہ لوسی کے اندرونی کان کی ہڈیوں کی بناوٹ اور دیگر خصوصیات بھی مختلف بندروں سے ملتی ہیں۔ پھر بھی اسے درمیانی کڑی کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

بہت سے ارتقائی ماہرین مانتے ہیں کہ لوسی کو باقاعدہ مارکیٹ کیا گیا اور اسے ارتقائی سائنسی بیانیے سے آگے بڑھ کر عوام کے  شعور میں ڈاروینیت کے کلی طور پر صحیح ہونے کا احساس راسخ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ رکازات جنھیں انسانی نظریۂ ارتقا کا سب سے اہم ذریعۂ معلومات سمجھا گیا، ان سے حاصل ہونے والے جوابات مزید نئے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ارتقا ااور رکازات اور اس سے جڑی مختلف جہات پر تقریباً 12 ہزار سے زائد سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ تاہم اب بھی رکازاتی سائنس رکازاتی ارتقائی مشاہدے کی کڑیاں جوڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ یونی ورسٹی کے ماہرین کی درج ذیل رائے (جو ایک عرصہ سے نظریۂ ارتقا کی رکازاتی توجیہ پر بڑا سوالیہ نشان لگاتی ہے) بڑی معنی خیز ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’انسانی ارتقا کے دوران بہت سارے عبوری دور آئے ، جن میں بہت سے عبوری ادوار کا کوئی رکازاتی ثبوت ہی نہیں ملتا۔‘‘ (4)

یعنی رکازات مکمل عبوری ادوار کو نہیں ثابت کر پاتے ہیں۔ اس طویل مقالے میں مذکورہ ماہرین مانتے ہیں کہ بندرنما اور اس کے بعد ملنے والے انسان نما رکازات کے درمیان کی تمام کڑیاں غائب ہیں۔

رکازاتی سائنس اور نظریۂ ارتقا ے انسانی کے اس نسبتاً کمزور رشتے کو مزید کمزور palaeobotany میں ہو رہی جدید تحقیقات کر رہی ہیں۔ جس طرح حیوانی رکازات حیوانی ارتقا کے لیے ضروری سمجھے گئے اور ان میں غیر معمولی تحقیقی دلچسپی لی گئی، اسی طرح نباتاتی ارتقا پر بھی رکازاتی سائنس کے ذریعے روشنی ڈالی جاتی رہی ہے۔ لیکن رکازاتی سائنس کی اضافیت یہاں بھی واضح ہے۔ مثلاً سائنس جریدہ میں دسمبر 2018 میں شائع ہونے والے ایک غیر معمولی مقالے نے ساری دنیا کے نباتاتی ارتقائی ماہرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ (5) اس مقالے میں بتایا گیا کہ اہم نباتات کا ارتقا موجود اندازہ سے تقریباً 10 ملین سال قبل ہوا۔ یہ عرصہ ابتدائی اندازہ سے اس قدر دور تھا کہ اب بھی بعض سائنس داں اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن نباتاتی ارتقا کے بڑے ماہرین اسے تسلیم کرتے ہیں۔

اسی طرح پرندوں کے رکازاتی ریکارڈ کے سلسلے میں بھی کئی تحفظات ہیں۔ کیوں کہ پرندوں کی ہڈیاں کھوکھلی اور ہلکی ہوتی ہیں۔ (6) اس وجہ سے ان کا رکازات میں تبدیل ہونا مشکل ہوتا ہے۔

انسان نما جانوروں اور ان سے حاصل ہونے والے رکازات اور انسانی نظریۂ ارتقا پر کئی ہزار سائنسی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ رکازاتی سائنس کے علاوہ سالماتی palaeontolgyجیسی پیچیدہ اور حیران کن سائنس کی شاخ وجود میں آ چکی ہے۔ تاہم ہر نیا مقالہ ایک نئی جہت کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔ چوں کہ انسانی نظریۂ ارتقا میں رکازاتی سائنس کی بوجھل کر دینے والی اصطلاحات ہیں۔ برسوں کے پیچیدہ دورانیے ہیں۔ اور ایک نوع سے دوسری نوع اور پھر دوسری سے تیسری نوع کے چکرا دینے والی اصطلاحات اور نام ہیں۔ اس لیے ذیل میں پچھلے دو تین برسوں میں رکازاتی سائنس نے کتنے مختلف فیہ بیانیے تشکیل دیے ، ان کی ایک ہلکی سی جھلک پیش کی جاتی ہے۔

 جدید انسان کے عم زاد (کزن) مانے جانے والےنیئنڈرتھل جو دو پیروں پر چلتے تھے۔ اور یہ مانا جاتا ہے کہ وہ جدید انسانوں کے مقابلے میں انتہائی کم ذہنی صلاحیت رکھتے تھے، ان کی ذریعے بنائی گئی پینٹنگ موجود ہ انڈونیشیا کے ایک غار میں دریافت ہوئی  ہیں۔ اب تک کے رکازاتی ریکارڈ یہ دکھاتے ہیں کہ نیئنڈرتھل پینٹنگ وغیرہ جیسی اعلیٰ صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن ان پینٹنگز نے یہ بیانیہ بدل دیا ہے اور اب یہ مانا جانا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں جدید انسان سے بہت زیادہ دور نہیں ہیں۔ ان پینٹنگز کے تھوریم ڈیٹنگ تکنیک کے ذریعے یہ پتا چلا کہ یہ 65 ہزار سال پرانی ہیں، جب کہ اس سے قبل یوروپ میں انسان نما جانداروں کی آمد 35 تا 45 ہزار سال پرانی بتائی جاتی رہی ہے۔ یہ میعاد رکازات کی بنیاد پر طے کی گئی ہے۔ چناں چہ انسان کی یوروپ میں آمد 25 ہزار سال قبل پیچھے جا چکی ہے۔ (7)

 اب تک کے تمام رکازاتی اور دیگر ارتقائی ثبوتوں کی بنیاد  پر مانا جاتا تھا کہ جدید انسان افریقہ سے ہجرت کر کے باقی تمام  دنیا میں پھیلتے چلے گئے۔ اب جدید رکازاتی تحقیقات نے سالماتی حیاتیات اور اس کی بنیاد پر وجود میں آئی سالماتی ارتقائی حیاتیات  کی بنیاد پر ایک جدید بیانیہ تشکیل دیا ہے، جس کے مطابق جدید انسان افریقہ سے باہر پہے ہی سے موجود تھے یا ارتقا پا چکے تھے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے۔ (8)

یہ تحقیقات موجود اسرائیل میں واقع غاروں میں ملے رکازات پر کی گئی ہیں۔ اس لیے بعض سائنس داں جو بائبل کے تخلیقی بیانیے کے خیمے کی طرف رجحان رکھتے ہیں، وہ اس میں سازشی زاویہ دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ تحقیقات کاؤنٹر چیک کی گئی ہیں، اور سائنسی حلقوں میں مؤقر ترین مانے جانے جریدہ سائنس میں شائع ہوئی ہیں۔

انسان  نما مخلوق (ہومی نڈ)ایک دوسرے سے مباشرت نہیں کر سکتے تھے، نیز نظریۂ ارتقا کی رو سے بین انواعی افزائش نسل ممکن نہیں ہے۔ یہ دو بیانیے ارتقائی سائنس کی مختلف شاخوں میں ہو رہی عبقری تحقیقات کے ذریعے کئی دہائیوں کی محنت کے بعد ظہور میں آئے تھے۔ لیکن جدید تحقیق سے دو مختلف ہومی نڈ انواع کی پہلی نسل کے ایک ہومی نڈ جاندار کے رکازات دریافت ہوئے ہیں۔ ان کی ہڈیوں کے ڈی این اے پر تحقیق کرنے سے پتا چلا کہ انسان نما یہ جاندار در اصل نیئنڈرتھل اور ڈینی سوون کے ملاپ سے پیدا ہوا۔ اس طرح ایک غیر معمولی بیانیہ وجود میں آیا، جو بنیادی ارتقائی تصور کے بالکل خلاف ہے، وہ یہ کہ دو مختلف ہومی نڈ انواع میں افزائش نسل ممکن ہے۔ (9) یہ افزائش نسل ہوئی اور وجود میں آنے والا جاندار بھی افزائش نسل کا متحمل تھا۔

محولہ بالا مقالے میں ایک بڑی دلچسپ بات نوٹ کی جا سکتی ہے، وہ یہ کہ جس رکازاتی ہڈی/ ڈھانچہ سے یہ تحقیق ممکن ہوئی، اسے محققین نے first person of mixed ancestryلکھا ہے، حالاں کہ وہ اسے ہائبرڈیا دو مختلف انواع کا مرکب لکھ سکتے تھے، کیوں کہ اگر وہ مخلوط یا یائبرڈلکھتے تو ظاہر سی بات ہے کہ قاری کو یہ تاثر جاتا کہ بین انواعی افزائش نسل بالکل ممکن ہے۔ سائنسی تحقیقاتی مقالوں میں یہ احتیاط گو کہ ضروری ہے لیکن اس احتیاط کو آپ اپنے مطلب کے بیانیے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ حالاں کہ ہائبرڈ کی اصطلاح زیادہ واضح اور مربوط ہوتی۔ لیکن اس اصطلاح کا استعمال اس بیانیے پر صداقت کی مہر لگا دیتا کہ انسانی ارتقا میں بین انواعی افزائش نسل بالکل ہوئی ہے!

 اب تک یہ مانا اور سمجھا جا تا رہا ہے کہ جدید انسان تقریباً 2 تا 2.5 لاکھ سال قبل اس زمین پر ظہور پذیر ہوا۔ لیکن 2017 میں جبل ایغور مراقش میں ایک غیر معمولی دریافت ہوئی، جس کی وجہ سے رکازاتی سائنس کے حلقوں میں بھی اور انسانی ارتقا کے ماہرین میں بھی علمی بحثوں کا نیا آغاز ہوگیا۔ اس دریافت نے ثابت کیا کہ جدید انسان 3 تا 4 لاکھ سال قبل اس دنیا میں موجود تھا۔ اس دریافت کی دوسری اہم جہت یہ رہی کہ اب تک یہ مانا جاتا رہا کہ جدید انسان کا ارتقائی منبع مشرقی افریقہ کی Great Rift Valley ہے۔ لیکن اس دریافت نے یہ ثابت کیا کہ یہ مغربی مراقش بھی ہے!

مندرجہ بالا 4 مثالوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ  رکازاتی سائنس کے شواہد دیگر ارتقائی سائنس کے ساتھ مل کر نظریۂ ارتقا کے بہت سارے بنیادوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ساری بنیادیں جو انسان کے ظہور سے متعلق ہیں، مثلاً:

دو مختلف انواع کے ہومی نڈمیں افزائش نسل  ممکن ہے۔

جدید انسان کے ظہور کا حتمی منبع  محض افریقہ تک محدود نہیں ہے۔

جدید انسان کے نزدیکی عم زاد دماغی صلاحیت اور دیگر سماجی رویوں میں اس سے کمتر نہیں تھے۔

انسان نما  مخلوق اور اس کے قبل کے رکازات اور جدید انسان کے درمیان کی کڑیاں مکمل طور پر غائب  ہیں تو کیا جدید انسان یکایک ظہور پذیر ہو سکتا ہے؟

رکازاتی سائنس ارتقا کے تدریجی ماڈل کو مکمل طور پر رد نہیں کر تی، لیکن اس سائنس نے اس امکان کو زبردست تقویت پہنچائی ہے کہ انواع کا ظہور یکایک بہت تیز رفتار اور بہت واضح خصائص کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

  رکازاتی سائنس میں taphonomic biases کا ہونا فطری امر ہے، یعنی رکازات کے مختلف ترتیب و تشکیل میں محقق کا   biasہونا عین ممکن ہے اور تمام تر احتیا طوں کے باوجود  یہ  bias  نتیجوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مندرجہ بالا نکات کے باوجود اس امر سے انکار کرنا علمی بد دیانتی ہوگی کہ بہت سے ارتقائی مناظر رکازاتی سائنس کی وجہ سے بالکل واضح ہوئے ہیں۔ بعض انواع کے مکمل رکازاتی ریکارڈ ہیں جو شبہ سے پرے ہیں۔ بعض بڑے جانداروں کے مکمل ڈھانچے پوری جزئیات کےساتھ دریافت ہوئے ہیں۔ ڈیٹنگ تکنیک کی غیر معمولی ترقی نے رکازات کی صحیح تر عمر بتائی ہے۔ رکازات کے عمل کے دوران ہونے والے ماحولیاتی تعاملات رکازات بننے کے دوران زمینی  تبدیلیاں وغیرہ کی توجیہات  taphonomy اور palynology نے کی ہیں۔

اسی ساتھ ارتقائی عمرانیات نے ارتقائی سماجیات پر بالکل ایک نئی دنیا دریافت کی ہے۔ اس سائنس کے ذریعے سے محققین تمام ابتدائی انسان نما جانداروں کے ابتدائی سماجی ماڈل بناتے ہیں۔ ان میں کچھ ماڈل اور حقائق کا انکار سائنسی بنیاد پر ممکن نہیں حالانکہ ان تمام کے متبادل بیانیے بھی تشکیل پا رہے ہیں اور  اس طرح سے جدید تحقیقات کچھ غیر معمولی انکشافات بھی کر رہی ہیں۔ مثلاً ماقبل کیمبری انفجار کے علاوہ یہ تصورات بھی اب ابھر کر آنے لگے ہیں کہ انسان نما انواع کی تشکیل اور اس کا تدریجی ماڈل نئی جہات کا طالب ہے۔ اور رکازاتی سائنس سے کلی طور پر ارتقا کے ثبوت کی مانگ از کارِ رفتہ ہے۔ مثلاً ارتقائی سائنس کے مؤقر ترین جریدے میں اپنے میدان کے عبقری ماہر رابرٹ۔ ایل۔ کیرل لکھتے ہیں:

New concepts and information from molecular developmental biology, systematics, geology and the fossil record of all groups of organisms, need to be integrated into an expanded evolutionary synthesis. These fields of study show that large-scale evolutionary phenomena cannot be understood solely on the basis of extrapolation from processes observed at the level of modern populations and species. Patterns and rates of evolution are much more varied than had been conceived by Darwin or the evolutionary synthesis, and physical factors of the earth's history have had a significant, but extremely varied, impact on the evolution of life.

تمام جانداروں کے متعلق جدید معلومات و تصورات جو ارتقائی تخلیقی حیاتیات، systematics،  ارضیات اور رکازی ریکارڈ سے حاصل ہو رہے ہیں، انھیں ایک وسیع تر ارتقائی تصور سے جوڑنا ضروری ہے۔ ان میدانوں میں ہو نے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ارتقا کو محض انواع کی سطح  پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ارتقا کے طریقے اور اس کی شرح اس سے کہیں زیادہ متنوع ہے جتنا ڈارون نے تصور کیا تھا۔ اور زمین پر موجود طبعی عوامل نے حیات کے ارتقا پر غیر معمولی اثر ڈالا ہے۔  (جاری)

حوالے

1.  Charles Darwin: The Origin of species. (1859), p. 292, Reprint Penguin Group, London (1985).

2.  Richards Dawkins: The Ancestor’s Tale: A Pilgrimage to the Dawn of Life (2004), Weidenfeld & Nicolson, The Orion Publishing group, Wellington House 125, Strand London.

3.  https://iho.asu.edu/about/lucys-story

4.  Daniel E. Lieberman, David R. Pilbeam, and Richard W. Wrangham, “The Transition from Australopithecus to Homo,” Transitions in Prehistory: Essays in Honor of Ofer Bar-Yosef, p. 1 (John J. Shea and Daniel E. Lieberman eds., Oxbow Books, 2009) (internal citations

5.  A hidden cradle of plant evolution in Permian tropical lowlands, (2018): Patrick blomenkemper, hans Krep, Abdalla hamad et.al ; Science 21 Dec 2018: 1414-1416

6.  https://ucmp.berkeley.edu/diapsids/birds/birdfr.html

7.  Pleistocene cave art from Sulawesi, Indonesia. (2014): Aubert M, Brumm A, Ramli M, Sutikna T, Saptomo EW, Hakim B, Morwood MJ, van den Bergh GD, Kinsley L, Dosseto A ; Nature. 2014 Oct 9; 514(7521):223-7. doi: 10.1038/nature13422.

8.  The earliest modern humans outside Africa: (2018):  Israel H ershkovitz, Gerhard, W. Weber, Rolf Quam, Mathieu Duval, et al, Science  26 Jan 2018: 456-459.

9.  The genome of the offspring of a Neanderthal mother and a Denisovan father ; (2018) Slon, V., Mafessoni, F., Vernot, B. et al Nature 561, 113–116 (2018). https://doi.org/10.1038/s41586-018-0455.

10. Towards a new evolutionary synthesis: (2000): Robert . L. Carroll; Trends in Ecology & Evolution volume 15, issue 1, 1 January 2000, pages 27-32.