نفاق کے خطرے

مولانا ابوالاعلی مودودیؒ

جو لوگ دعوت ایمان کو علانیہ رد کردیں ان کا معاملہ تو صاف ہے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کفر و ایمان کی سرحد اتنی واضح اور نمایاں ہے کہ وہ دائرہ اسلامی میں داخل ہو کر کوئی خلل برپا نہیں کرسکتے۔ مگر وہ لوگ جو مومن نہیں، اور ایمان کا اظہار کرکے مسلمانوں کی جماعت میں گھس جاتے ہیں، اور وہ جن کے دلوں میں شک کی بیماری ہے، اور وہ جو ضعیف الایمان ہیں، ان کا وجود نظام اسلامی کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ کیونکہ وہ اسلام کے دائرے میں تو داخل ہوجاتے ہیں، مگر اسلامی اخلاق اور اسلامی سیرت اختیار نہیں کرتے، اسلامی قوانین کا اتباع اور حدود الہی کی پابندی نہیں کرتے، اپنے خراب اخلاق و اعمال سے مسلمانوں کے تمدن و تہذیب کو خراب کردیتے ہیں، اپنے دلوں کے کھوٹ سے مسلمانوں کی قومیت اور سیاسی حرمت کی جڑیں کھوکھلی کردیتے ہیں، اور ہر اس فتنے کے اٹھانے اور بھڑکانےمیں حصہ لیتے ہیں جو اسلام کے خلاف اندر یا باہر سے برپا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیا ہے اور وہ تمام خطرات ایک ایک کرکے بیان کیے گئے ہیں جو اسلامی جماعت میں ان کے داخل ہوجانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

ان کی صفت یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت میں مومن نہیں ہوتے )البقرہ: 2(۔ وہ مسلمانوں سے مسلمانوں کی سی باتیں کرتے ہیں اور کافروں سے کفار کی سی )البقرہ: 2(۔ وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے اور ان میں شکوک کا اظہار کرتے ہیں )النسا: 20 ( ۔و ہمذ ہبیفرا ئض سے جیچرا تےہیں ،او را گراد اکر تے بھی ہیں تومجبور اً محضمسلمانو ںکو دکھانے کے لیے، ورنہ حقیقتاً ان کے دل احکام الٰہی کی اطاعت سے منحرف ہوتے ہیں )النسا: 21 ، التوبہ: 7، 11(۔ وہ اسلام کا دعو یکر تے ہیں مگراسلا میقوا نین کااتبا ع نہیںکرتے ، بلکہا پنےمعاملا ت میںکفا ر کےقوا نین کیپیرو یکر تے ہیں)النسا : 9۔ ان کے اعمال خود خراب ہوتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے عقائد بھی خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں )التوبہ: 9(۔ ان کی سب سے خطرناک صفت یہ ہے کہ جب مسلمانوں پر مصیبت آتی ہے تو کفار سے مل جاتے ہیں، ان کو خبریں پہنچاتے ہیں، ان سے ہمدردی کرتے ہیں، مسلمانوں کی مصیبت سے خوش ہوتے ہیں، اپنی قوم سے غداری کرکے کفار سے اعزاز و مناصب حاصل کرتے ہیں اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان صفات کو بھی آل عمران ، نساء، توبہ، احزاب اور منافقون میں مفصلاً بیان کیا گیا ہے۔

اس سے اچھی طرح اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نظام اسلامی کے قیام و بقا و استحکام کے لیے صحیح اور خالص ایمان ناگزیر ہے۔ ایمان کی کمزوری اس نظام کو جڑ سے لے کر آخری شاخ تک کھوکھلا کردیتی ہے اور اس کے خطرناک اثرات سے اخلاق، معاشرت، تمدن، تہذیب، سیاست کوئی چیز نہیں بچ سکتی۔

 

( اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی)