علاقائی لٹریچر کا مثالی مرکز

اسلامک فاونڈیشن ٹرسٹ۔چینئی

 

سیدشجاعت حسینی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم کا موزوں ترین تمل ترجمہ کیا ہوسکتا ہے؟ تمل علمی حلقوں کا کم و بیش متفقہ فیصلہ ہے کہ بہترین ترجمہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں:

الاوِلا کَرونائی یوم۔ اِنئی یِلاکِروبائی یوم

جناب ایم اے جمیل احمد صاحب کی نگرانی میں جب تمل ترجمۂ قرآن کے منصوبے کا آغاز اسی سوال کے ساتھ ہوا، تب ٹیم کے سامنے اولین چیلنج یہی تھا کہ نہ صرف زبان و بیان کا معیار بلند رہے بلکہ آسان قابل فہم اورمفہوم کے لحاظ سے موزوں ترین بھی ہو۔ تمل زبان کے کئی معروف اسکالروں سے مد د لی گئی۔ ایک طویل مشق کے بعدبسم اللہ الرحمن الرحیم کے 160 تراجم کی لمبی فہرست ترتیب دی گئی اور موزوں ترین ترجمے کا انتخاب کیا گیا۔جو مفہوم اور صوتی آہنگ کے اعتبار سے اصل الفاظ کا قریب ترین اور بہترین ترجمہ قرار پایا۔

آج تمل ناڈو کے طول وعرض میں یہی ترجمہ معروف اور پسندیدہ ہے۔

جناب عزیز لطف اللہ صاحب جب اس واقعہ کا ذکر فرمارہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ جس کام کو اس قدر سنجیدگی، عرق ریزی اور جانفشانی کے ساتھ انجا م دیا جائے وہ کیونکر کامیاب اور پسندیدہ قرار نہ پائے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمل ادبی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ آئی ایف ٹی (اسلامک فاونڈیشن ٹرسٹ)نے تمل لٹریچر کو ایک نئی بلندی عطا کی۔

پیش قدمی

ستر سال قبل سید موددی علیہ الرحمہ نے اسی سر زمین پر نصیحت فرمائی تھی کہ آنے والے ہندوستان میں علاقائی زبانوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان زبانوں میں صلاحیت پیدا کریں اور قرآن و سیرت کا پیغام ان زبانوں کے توسط سے پھیلائیں۔

اس نصیحت کو اہل مدراس نے بڑھ کر قبول کیا۔ ابتدائی کام تمل پرسورآلیم ( دارالترجمہ) کے تحت انجام پاتا رہا۔ جس نے بعد میں ایک منظم ادارے کی شکل اختیار کی اور آج آئی ایف ٹی کے حوالے سے تمل علمی حلقوں میں جانا جاتا ہے۔

پس منظر

۲۰۱۳ میں چند ماہ تمل ناڈو میں قیام کے دوران میں نے یہ بات صاف محسوس کی تھی کہ نہ صرف لسانی و ثقافتی اعتبار سے بلکہ مزاجاً بھی تمل معاشرہ بہت مختلف اور منفرد ہے۔ شائستگی، رواداری اور سنجیدگی یہاں کی پہچان ہے۔ ذات پات پر مبنی استحصالی نظریات سے بالعموم لوگ دور اور متنفر رہتے ہیں۔ پیریارکے نظریات اور دراوڑ تحریک کے زیرِ اثر عوام کی ایک بڑی تعداد ملحد ضرور ہے لیکن حق کی پیاسی بھی ہے۔ ۱۹۵۷میں پیریار کے نمایاں شاگرد انا دورئی نے کھل کر اسلام کونظامِ زندگی قراردیا تھا۔

تمل ناڈو نظریاتی کشمکش کی سرزمین ہے۔ سنجیدہ نظریاتی مباحث کے لیے ہمیشہ یہ زرخیز خطہ رہا ہے۔ رواداری پسند معروف کلاسیکل تمل مصلح ترولور اور ان کی تریکورل( اخلاقیات، توحید، رواداری، سماجی اقدار کے پیغام پر مبنی منظوم تعلیمات) کا یہاں کے سماج پر بہت گہرا اثر ہے۔ الوہیت کے دھندلے تصور نے یہاں شخصی تقدس کو پنپنے کا خوب موقع دیا۔ نتیجتاً کئی سیاسی، سماجی،اور فلمی ہستیاں یہاں عوامی چاہت کے ان درجات پر فائز نظر آتی ہیں جن کا تصور بھی بالعموم محال ہوتا ہے۔ یہ قلبی لگاؤ سیاسی و نظریاتی دھاروں کو موڑنے کی بے پناہ قوت بھی رکھتا ہے۔ یہاں عام معاشرے اور مسلم سماج کے درمیان لسانی و تہذیبی بنیادوں پر کھڑی مصنوعی دوریاں بھی حائل نہیں ہیں۔

ایک دور وہ بھی تھا جب مسلمان تمل تحریر کے لیے عربی رسم الخط استعمال کیا کرتے تھے۔ تمل زبان کے اس طرزِ تحریر کو ـ عروی کہا جاتا تھا۔(وکی پر درج عروی تحریر ملاحظہ فرمائیے)۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا تو عین ممکن تھا کہ یہاں بھی ویسی ہی لسانی خلیج حائل رہتی جو ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں نظر آتی ہے۔ لیکن دوربین نگاہوں نے وقت رہتے اس خلیج کو بھی پاٹ دیا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ ادبی حلقوں میں مسلمانوں کے تئیں کوئی اجنبیت کبھی نہ رہی۔ مین اسٹریم تمل لٹریچر میں مسلمانوں کا ہمیشہ اہم حصہ رہا۔ پہلاتمل ناول چتھی زنیدہ بیگم نے لکھا تھا۔

سماج کی اسی تکثیری ترکیب نے یہاں حق کی ترویج کے راستوں کوبہت ہموار کر رکھا ہے۔ عزیزصاحب محسوس کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں تمل عوام ایک فطری کشش محسوس کرتے ہیں۔ مسلمان بھی اس عمومی مزاج کے قدر شناس رہے۔ دعوتی جذبات کے حوالے سے تمل ناڈو دیگر ریاستوں کے مقابل ہمیشہ سر فہرست رہا۔

سمت اور قیام

اسی زرخیز سرزمین میں جو بیچ تمل پرسورآلیم کی صور ت میں بویا گیا تھا اس کی کونپل آئی ایف ٹی کی صورت میں پھوٹی۔ ۱۹۷۹میں آئی ایف ٹی کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ ابتدائی فنڈنگ کی گتھی ابھی سلجھنا باقی تھی کہ ایک مستعد داعی محترمہ زینب صاحبہ ( رکن جماعت) نے اپنے مہر کا عطیہ پیش کیا۔ یوں پاکیزہ جذبات اور پاکیزہ تعاون کے ساتھ اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ادارے کو جناب اعجاز احمد اسلم اور جناب ایچ عبدالرقیب جیسی وژنری اورفعال سرپرستی حاصل رہی۔ آج جناب محمد حنیفہ ( امیر حلقہ۔ چیرمین)، ڈاکٹر کے وی ایس حبیب محمد (وائس چیرمین) اور جناب ایس امین الحسن ( نائب امیر جماعت) کی رہ نمائی میسر ہے۔

ایم اے جمیل صاحب نہ صرف بانی بلکہ ایک طویل عرصہ آئی ایف ٹی کے روح رواں رہے۔ زبان، تصنیفی معیار، دعوتی ضروریات اور تکنیکی امور کے حوالے سے آپ بڑے عمدہ ذوق کے مالک تھے۔ اولین ضرورت کے تحت ترجمہ قرآن کا آغاز ہوا تومولانا قطب الدین باقوی (سابق معاون امیر حلقہ)، جناب مستان علی باقوی اور جناب کانچی عبدالرؤف باقوی صاحب پر مشتمل ٹیم ترتیب دی گئی۔ جمیل صاحب مبصر (رویور) کے فرائض خود انجام دیتے۔ یوں اس ٹیم نے چودہ سالہ محنت کے بعد تمل زبان کو ایک نہایت قیمتی تحفہ دیا۔ جسے پڑھ کر تمل زبان کے مقبول شاعر جناب وائرا متتو ( جنھیں کوی پیرارسو یعنی امپیرر آف پوئٹری کہا جاتا ہے) بہت متاثر ہوئے اور کہہ اٹھے کہ ہمیں اگلے پچاس سال تک کسی اور ترجمے کی ضرورت نہیں۔

اس سے قبل عربی۔تمل تراجم میں عربی اصطلاحات کی بھرمار ہوتی تھی جنھیں سمجھنا عام قاری کے لیے ممکن نہ ہوتا۔ یہ پہلا ترجمہ تھا جو اول تا آخر خالص تمل زبان پر مشتمل تھا۔ جس نے تمل زبان کو نہ صرف کئی نئے الفاظ اورخوب صورت محاورے دیئے بلکہ صوتی آہنگ بھی عطا کیا۔ آج بھی ادبی حلقوں میں سمرسم میگزین اور آئی ایف ٹی مطبوعات کی زبان بالخصوص پسند کی جاتی ہے۔ریاستی حکومت نے جناب مستان علی باقوی کو ریاست کے بہترین مترجم کے اعزاز سے بھی نوازا۔

تمل پرنٹ میڈیا میں مسلمانوں کی فعال موجودگی ہمیشہ رہی۔ایک سروے کے مطابق ۴۰ سے زائدتمل رسائل مسلم اداروں کی جانب سے شائع کیے جاتے ہیں۔ ستر سے زائد کتابوں کے معروف تمل مصنف ایم نننن تمل ادب کو دو ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ پری سمرسم اور پوسٹ سمرسم! تمل ناڈو کی ہر پبلک لائبریری میں سمرسم ضرور نظر آتا ہے جسے مسلم و غیر مسلم دانش ور غور سے پڑھتے ہیں۔

تمل زبان کی مقبول شاعرہ محترمہ سوندھرا کیلاسم ( سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کی خوشدامن) نے اپنے مجموعہ کلام اِلائی اِلا ارو لالا کی اشاعت کے لیے آئی ایف ٹی کو منتخب کیا۔ چو راما سوامی ( جو سنگھی نظریات سے قریب رہے) کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے معروف تمل مجلے تغلق میں اسلام تعلیمات پر مبنی کالم کے لیے ڈاکٹر کے وی ایس حبیب محمد سے درخواست کی گئی اور آپ نےاسلام اورو پاروائیعنوان کے تحت اس کالم کا خوب حق ادا کیا۔ مانوڈا وسنتم ( بہار انسانیت) ٹی وی پروگرام ریاست کے معروف چینلوں پر تقریباً بیس سال مقبولیت کے ساتھ نشر ہوتارہا۔ مطبوعات و نشریات کا یہ مقبول سلسلہ مین اسٹریم تمل حلقوں میں آئی ایف ٹی کے علمی رتبے کا گواہ ہے۔

راہ سر بسر منزل

آئی ایف ٹی کی ۳۹ ویں رپورٹ کے مطابق ادارے نے کل ۳۷۲ کتابیں شائع کیں جن میں ۳۰۷ تمل کتابیں ہیں۔ہر سال ریاستی کتاب میلے میں آئی ایف ٹی عوامی دل چسپی کا مرکز ہوتا ہے۔ بالعموم یہی کتاب میلہ نئی کتابوں کے اجرا کا مرکز بھی ہوتا ہے جہاں سے وہ قبولیت پاتی ہیں۔ شارجہ انٹرنیشنل بک فیر ۲۰۱۸ میں بھی آئی ایف ٹی نے نمایاں مقام پایا۔ کتابوں کے دلدادہ سابق چیف منسٹر ایم کروناندھی نے جب چینئی میں ایک مستقل بک فیر قائم کیا تو اس میں ایک نمایاں اسپیس آئی ایف ٹی کے حصے میں آیا۔

دارالحکومت سے دور جنوبی تمل ناڈو کی علمی ضروریات کی تکمیل کے لیے آئی ایف ٹی نے موبائیل بک شاپ کا سہارا لیا۔ جنوبی اضلاع میں آئی ایف ٹی کی موبائیل دانش گاہ بہت مقبول ہے۔ تفہیم القرآن کا ترجمہ بھی تیزی سے جاری ہے اور تین جلدوں کی تکمیل کے ساتھ تقریباً نصف مکمل ہوچکا ہے۔

اسی رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صرف علمی معیار نہیں بلکہ تکنیکی تقاضوں سے بھی آئی ایف ٹی ٹیم ہم آہنگ ہے۔ آئی ایف ٹی سائٹ سے قرآن ڈاون لوڈس کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

 

 

سال

اہم کامیابیاں

1980

تامل ترجمہ قرآن مکمل ہوا۔

1981

سمرسم کے ذریعہ پرنٹ میڈیا میں آمد۔

1992

موبائیل میڈیکل سروسیز کا آغاز۔

1994

ہیلتھ کیئر سروسیز(HECSI)کے اشتراک سے مطبوعات

1998

قرآنی تراجم کے آڈیو ایڈیشنس کا آغاز

1999

مانوداوسندم کے ذریعہ الیکٹرانک میڈیا میں آمد

2002

تامل ترجمہ قرآن کی تلخیص کا اجرا

2002

تامل ترجمہ قرآن کی آڈیو سی ڈیز کا اجرا

2003 onwards

کئی نئے ٹائیٹلس کی اشاعت

2013

ایم اے جمیل احمد ایوارڈ کا آغاز

 

آئی ایف ٹی اپنی مطبوعات کے ِکنڈل ورژن بھی جاری کررہا ہے۔ موبائیل ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے اپنی فعال ڈیجیٹل موجودگی بھی درج کروا رکھی ہے۔ نیز، فیس بک پیج، لِنکڈاِن،اور اِنسٹاگرام پر ادارے کوفالوکرنے والوںکی تعداد کئی ہزار ہے۔ اس وسیع آن لائین آؤٹ ریچ کے ذریعے ادارہ اپنا پیغام پھیلارہا ہے۔اور مستقبل میں ایک علیٰحدہ ای پبلیکشنز کا منصوبہ رکھتا ہے۔ آئی ایف ٹی نے کچھ شارٹ فلمیں بھی بنوائی ہیں اور ویژول میڈیا میں مزید پیش رفت کا عزم رکھتا ہے۔

ایک رخ یہ بھی!

رائج الوقت تراجم کی روایات توڑ کر دعوتی تقاضوں کے پیش نظر جب آئی ایف ٹی نے عربی الفاظ کی آمیزش کے بغیرخالص تمل ترجمے کا اسلوب متعارف کروایا تو قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تیکھی تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس اسلوب کو غیر اسلامی بھی قرار دیا گیا۔ خطبات جمعہ کے پلیٹ فارموں سے ترش تنقیدیں بھی ہوئیں۔ اور بعض حلقوں کی جانب سے آئی ایف ٹی کے لٹریچرکے بائیکاٹ کی اپیل بھی ہوئی۔ لیکن وژنری ٹیم نے ان سطحی باتوں پر دھیان نہ دیا۔ نتیجتاً یہ بے تکی تنقیدیں بھی خود ہی دم توڑ گئیں۔

سطحی تنقیدوں سے قطع نظر اہم سوال یہ کہ داخلی احتساب کیا کہتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ذمہ داران کھلے دل سے مانتے ہیں کہ تمل عوام کی علمی پیاس اور ہماری دعوتی تڑپ کے درمیان اب بھی کچھ فاصلے حائل ہیں۔ ترجمے اور کتابوں کی اشاعت کی جس رفتار کو اولین ٹیم نے قائم کیا تھا ہم اس رفتار سے پیچھے چل رہے ہیں۔ علمی کام جس جرأ ت کا تقاضا کرتے ہیں اس کی کچھ کمی بھی کھٹکتی ہے۔ان محاذوں پر ہمیں مزید قوت درکارہے۔

پیغام عمل

1۔ ایک صاحب کسی کتاب کے مطالعے سے فارغ ہوکر مولانا مودودیؒ سے ملاقات کی تمنا لیے سیدھے آئی ایف ٹی تشریف لائے۔موصوف کوجب علم ہوا کہ صاحبِ کتاب کا نہ تمل زبان سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اس خطے سے اور انھیں وفات پائے کئی سال گزر چکے ہیں تو وہ چونک گئے۔وہ توسید مودودیؒ کو تمل قلم کار سمجھ بیٹھے تھے۔ ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ کوئی ترجمہ اس قدر سلیس و رواں بھی ہوسکتا ہے۔ لطف اللہ صاحب آئی ایف ٹی قلم کاروں کی ٹیم کے روح رواں ہیں۔لطف اللہ صاحب کی زبانی اس پرلطف واقعے سے یہ پیغام ملا کہ ترجمہ ایک انوکھا فن ہے۔اس فن کو یونیورسٹی کی ڈگریاں نہیں بلکہ پیہم مشق نکھارتی ہے۔ علاقائی زبانوں میں لٹریچر کے متعلق سید موددیؒ کی نصیحت ہمارے لیے آج بھی تازہ ہے جوباقوی ٹیم جیسے تازہ دم، مشاق مترجمین اور اہل قلم کا تقاضا کرتی ہے۔

2۔ بعض اشاعتی ادارے سید مودودی جیسے مصنفین کی شاہ کار تصنیفات کو ست رنگی ٹائیٹل کے ساتھ یوں شائع کرتے ہیں کہ دور سے کسی عرس کے پوسٹر کا گمان ہوتا ہے۔ اس بدذوقی سے کئی سنجیدہ قارئین بدک جاتے ہیں۔محترم ایس ایم ملک صاحب اپنے دوست ( جمیل احمد صاحب) کے متعلق لکھتے ہیں کاغذ، پرنٹنگ، بائنڈنگ جیسی تکنیکی چیزوں سے ترجمہ، ادب، تنقید، و تبصرہ جیسے علمی میدان تک ان کی رسائی فطری طور پر ہوتی۔ آئی ایف ٹی کی کتابیں بلاشبہ ظاہری معیار کے حوالے سے بھی بڑی پرکشش ہوتی ہیں۔ہمارے اداروں کو ہر میدان میں اس خوش ذوقی کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔

3۔ نامور تمل مفکر پیریار داسن ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ ریلوے ٹریک سے متصل ایک ہورڈنگ پر نظر پڑی۔ ہورڈنگ کے مختصر پرکشش پیغام نے انھیں چونکا دیا۔ سفر ملتوی کرکے وہ فوراً اگلے اسٹیشن پر اتر گئے۔ ہورڈنگ پر درج ایڈریس ڈھونڈتے ڈھونڈتے آئی ایف ٹی پہنچے۔ یہاں سکندر صاحب اور دیگر ذمہ داران سے کھل کر گفتگو کی، قرآن لے کر لوٹے۔اس کی جلد کو کھول کر ہر صفحے کے ساتھ کورے کاغذات کو شامل کرکے دوبارہ بائنڈ کیا جن پر وہ حاصل مطالعہ اور سوالات کی صورت میں طویل نوٹس لکھتے اور ان نوٹس کے ہر نکتے پردل کھول کر گفتگو فرماتے۔ یوں دس سال پیہم تدبر کے بعد دنیا نے ملحد پیریار داسن کو مبلغ و مصنف ڈاکٹرعبداللہ کے روپ میں دیکھا۔

کل کی ہورڈنگس ہوں یا آج کی آن لائین پوسٹس۔ یہ مختصر جملے کہاں اور کب اثر دکھائیں گے، لکھنے والا خود نہیں جانتا۔ ان محاذوں پر زیادہ نتائج ٹٹولے بغیر حوصلہ اور مثبت ایکٹیوزم بنائے رکھنا ضروری ہے۔

4۔ جناب عبداللہ اڈیار لکھتے ہیں کہ ـبجلی تیا ر ہوتی ہے تو اس وقت ہائی ٹینشن کی رفتار کے ساتھ وہ آتی ہے۔ اسی رفتار کے ساتھ گھروں کو مہیا کی جائے تو سارے بلب ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ اسی لیے اس کی تیز رفتار کو کم کرکے الیکٹریسٹی بورڈ لوٹینشن کے ساتھ ہمیں مہیا کرتاہے۔ بالکل اسی طرح اسلام کا مطالعہ کرنے کے خواہش مند لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق انھیں اسلامی تعلیمات پہنچانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابتدائی مبلغین عربی الفاظ اور اصطلاحات پر ہی قائم رہے یہی رویہ اسلام کی آسان تعلیمات کو سمجھنے میں طویل عرصے تک بڑی رکاوٹ بنا رہا۔یہ حکیمانہ نکتہ سکھاتا ہے کہ سماج کی سمجھ کیوں ضروری ہے۔ یہ لازم ہے کہ ہمارے ادارے علاقائی مائنڈسیٹ کو اس سماج کے دانش وروں سے بھی سمجھیں۔

5۔ آئی ایف ٹی صرف تملناڈومیں نہیں بلکہ سری لنکا، ملیشیا، تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ جیسے مشرق بعید کے تمام علاقوںکے تمل حلقوں میں معتبر اور مستند ادارے کی پہچان رکھتا ہے۔ بک سیلرز اینڈ پبلیشرز ایسوسی ایشن آف ساوتھ انڈیا (BAPASI) کا ایک اہم حصہ ہے۔ ریاستی حکومت اسکی ہزاروں کتابیں خرید کر ریاست کی تمام بڑی لابئیریریوں میں پہنچاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ سماج کے معروف دھاروں سے جڑکر اداروں کی شناخت بنتی ہے۔ مین اسٹریموں سے دور رہ کر اداروں کا وجود محض ایک جزیرے سا سمٹ کر رہ جاتا ہے۔

6۔جمیل احمد صاحب کے فرزند کئی دیگر محاذوں پر وہ کام انجام دے رہے ہیں جو انھیں دیا گیا، لیکن ان میں سے کسی کا کوئی تعلق آئی ایف ٹی سے نہیں۔ یہی معاملہ دیگر تمام بانیان کا ہے۔ آج جو لوگ کمان سنبھالے ہیں ان کے والدین اس منصوبے سے جڑے نہ تھے۔

اس عملی رویے نے یہ پیغام سکھایا کہ اجتماعی اثاثوں کو موروثی امپائر بننے سے روکنا کیوں ضروری ہے۔ چھوٹے چھوٹے ادارے جب موروثیت کا شکار ہوتے ہیں تو ولدیت ہی سب سے شان دار قابلیت ٹھہرتی ہے۔

پھر گدی نشینی کی فکر، خاندانی جھگڑے، تقسیم در تقسیم اور خودنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ادارے سے زیادہ فرد اور خاندان ہی جملہ خدمات کا سرچشمہ ٹھہرتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے بنیادی مقاصد اور شفافیت دونوں رخصت ہوجاتے ہیں۔ ہمارے اجتماعی کاموں میں بے پناہ برکت و نصرت شامل ہوتی ہے اگر ہم انھیں خاندانی تولیت سے آزاد کریں اور شورائیت سے آراستہ۔