نظم کی پابندی اوراقدامیت کا شوق

 

محمد مختار شنقیطی

اسلامی سیاسیات کے ماہر

 

(اسلامی تحریکات اور اداروں کے کردار اور رفتار کوبہتر بنانےکے سلسلے ایک اہم موضوع پر فکری مباحثہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ امید ہے یہ مباحثہ پوری ملت میں اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو اور غور وفکرکا آغاز کرے گا، اور مزید رائیں اور تبصرے اس کو ملت کے لئے ثمر آور بنائیں گے۔ادارہ)

 

دور حاضر کی بعض اسلامی تحریکیں مسلمانوں کی فکری میراث، اور ان کی افسوس ناک سیاسی صورت حال سے متاثر نظر آتی ہیں۔ حکام عوام سے اطاعت کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس کے عوض انہیں آزادی نہیں دیتے ہیں۔ یہ تحریکات بھی اپنے لٹریچر میں اطاعت، پابندی اور تحریکی ڈسپلن پر تو زور دیتی ہیں، تاہم ایسا نہیں کرتیں کہ شاخوں اور اشخاص کے لیے بڑھ کر کام کرنے کے راستے کھولیں، اور تربیت، ذہن سازی اور آپریشن کی سطح پر ضروری لچک دیں، اور یوں ایک توازن قائم کریں۔

انسان واقعی حیران ہوجاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ یہ رجحان ان تحریکوں میں پایا جاتا ہے جو ذاتی اتنخاب کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں۔ یہاں فرد اپنے ارادے سے شامل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈسپلن اور نظم کی پابندی سے زیادہ زور اقدامیت اور تخلیقیت پر دیا جاتا، کیوں کہ یہاں اطاعت کسی جبر کا نہیں بلکہ ذاتی اطمینان کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اب اسلامی تحریکات کے لیے وقت آگیا ہے کہ تحریکی ڈھانچے کے اندر فرد کے مقام کا پورا لحاظ کریں، اس پر صاف صاف ذمہ داریاں ڈالیں، ہر طرح کی تخلیقیت کے لیے ضروری آزادی عطا کریں، اس کے اخلاص اور مہارت پر بھروسہ کریں، اور اس کی وہ غلطیاں معاف کرتی رہیں جو حقیقت میں کسی بھی کام کی قیمت ہوا کرتی ہیں۔ جب اطاعت آزادی پراور ڈسپلن تخلیقیت پر غالب آجاتا ہے، تو موجودہ حالت (کو اسٹیٹس) کی تو حفاظت ہوجاتی ہے لیکن خوب سے خوب تر کی جستجو کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس بے جا غلبے کے حسب ذیل نقصان ہوتے ہیں:

فرد اپنے معاشرے میں قائم سیاسی اور سماجی صورت حال کا متبادل نہیں پاتا ہے۔ وہ تو حاکموں اور لیڈروں کے کرپشن اور مطلق العنانیت سے بیزار ہوکر اسلامی تحریک کے سائے کا رخ کرتا ہے۔ لیکن اس رجحان سے تحریک کی جاذبیت اور اس کے مشن کے سلسلے میں منفی پیغام جاتا ہے۔

تحریک کے اقدامات (Initiatives) اور ہدایات کے ساتھ اس کا تعامل منفی (Passive) ہوتا ہے۔ اور یہ ہر استبداد کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے، یا تو لوگ اس سے راست طریقے سے ٹکر لیتے ہیں، یا خاموش منفی طریقے سے مقابلہ کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ اس کے اہداف اور سرگرمیوں میں سرگرم شرکت نہیں کرتے ہیں۔

اور اس سب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی حالت کو درست ٹھیرانے اور کچھ نہیں کرنے کے بہانے ڈھونڈنے کا مزاج عام ہوجاتا ہے۔ ہر کوئی ذمہ داری کو دوسرے پر ڈالتا ہے، اور بحث وشکایت کی بھیڑ میں ذمہ داریاں گم ہوجاتی ہیں، فرد اپنی ذمہ داریوں کی چادر اتار دیتا ہے، اور اسے تحریک یا قیادت کے کندھے پر ڈال دیتا ہے۔

بات یہ ہے کہ دل کی خوشی اور اجتماعیت کے نظم دونوں کو ملاکر جو مرکب تیار ہوتا ہے اس سے اطاعت کا صحیح مفہوم وجود میں آتا ہے۔ اس لیے دونوں کے بیچ توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، تاکہ آزادی کے نعرے ذمہ داری کے احساس کو دھندلا نہ کردیں، اور تحریک کے کاموں میں جو اصل میں رضاکارانہ کام ہوتے ہیں آمریت داخل نہ ہوجائے۔

چونکہ اس زمانے میں اطاعت کا مطلب جذبے سے خالی عمل آوری اور جوش سے عاری نظم کی پابندی ہوکر رہ گیا ہے، اس لیے اسلامی تحریکات کو ضرورت ہے کہ وہ توازن کی طرف لوٹیں، وہ فرد کی شخصیت پر زور دیں، اپنا کردار دوسروں کے کردار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ادا کرنے پر زور دیں، جس میں کوئی جبر یا دباؤ نہ ہو، بلکہ ذمہ داری کا احساس اصل محرک بن جائے۔

اسلامی تحریکات اس توازن تک حسب ذیل راہوں سے پہونچ سکتی ہیں:

اپنی داخلی گفتگو میں اقدامیت کی ہمت افزائی کریں، تاکہ تحریک کے افراد سمجھ لیں کہ قواعد وضوابط کی پابندی اہم تو ہے لیکن صرف وہی فضیلت کا معیار نہیں ہے، فضلیت کا معیار بڑھ کر فیصلے لینا اور جان توڑ کوشش کرنا ہے، تاکہ تحریک کا سفر اور اسلام کا مشن آگے بڑھے۔

افراد کی تربیت کرتے ہوئے اس سے بچیں کہ یہی ایک فکر اور یہی ایک مسلک صحیح ہے۔ انہیں عادی بنائیں کہ وہ فکری رایوں اور فقہی اجتہادوں کی کثرت کو قبول کریں، اسی طرح اگر حسن نیت کے ساتھ کوئی شاذ رائے رکھتا ہو تو اسے زدو کوب نہ کیا جائے۔

پالیسی وپروگرام بنانے سے پہلے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ بڑھ کر رائے دیں، اور پالیسی وپروگرام بنانے کے بعد اس پر تنقید کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاکہ فرد کو اپنی رائے اورصلاحیت کی اہمیت کا ادراک ہو۔ فیصلے کرتے وقت صرف شوری کی رسمی مجالس کو کافی نہیں سمجھا جائے۔

غیر مرکزی نظام اختیار کیا جائے، جس میں جغرافیہ اور فنکشن کے لحاظ سے تحریک میں متعدد تقسیمیں کی جائیں، اور شاخوں کو تربیتی اور دیگر امور میں وہاں تک آزادی دی جائے جہاں تک تحریک کے عمومی مقصد وموقف کو نقصان نہ پہونچے۔

لازمی ہدایات کو کم سے کم کیا جائے، اور انہیں حساس پالیسی امور تک محدود رکھا جائے، باقی معاملات شاخوں کے حوالے کردئے جائیں، اور ان کو مشوروں کی مدد تو فراہم کی جائے مگر وہ مشورے ہوں لازمی ہدایات نہ ہوں۔

آزادی اور نظم کی پابندی کے درمیان توازن، صدائے دل اور ندائے امیر کے بیچ ہم آہنگی کسی بھی اجتماعی تخلیقی مشن کے لیے شرط ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی تحریکات اس کا ادراک کریں، اور آزادی اور زندگی کی چمک سے تحریک کے ماحول کو فروزاں کریں۔

 

تبصرہ (۱): محمد جعفر

نائب امیر جماعت اسلامی ہند

 

اسلامی تحریک میں فرد اور جماعت دونوں ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ آخرت کی کامیابی کے لحاظ سے فرد ہی اصل ہے۔ اس لیے جماعت کی تمام کوششوں کو اس بات پر مرکوز ہونا چاہیےکہ فرد کے لیے ایسے مواقع اور امکانات پیدا ہوں جس سےوہ اپنے اس مقصد کو حاصل کر سکے۔

انسان اپنے مقصد کو جماعت کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا اور جماعت نظم و ڈسپلن کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ساتھ ہی فرد کی تعمیر و ترقی میں اس کی آزادی اور اختلاف رائے کی خو بہت معاون ہوتی ہے اور انھیں دونوں کے درمیان تصادم و تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ فرد اور جماعت اپنی کوششوں سے مستقل طور پر اس میں توازن پیدا کرتے رہیں۔

تحریک کے ہمہ جہت تقاضوں کی تکمیل کے لیے حسب حال افراد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ فرد کی تعمیر اور اس کے ارتقا میں ایک صالح اور مضبوط اجتماعیت کا رول بڑا اہم ہے۔ ایک خوش گوار اور مضبوط اجتماعیت میں باہمی اخوت و خیر خواہی، سمع و طاعت، شورائیت و احتساب اور نظم و ضبط اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ باہم ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ سمع و طاعت کا نظام باہمی اخوت و خیر خواہی کی بنیاد پر ہی مستحکم ہوتا ہے۔ دوسری طرف سے سمع و طاعت کے لیے شورائی نظام کا بہتر اور خوش گوار ہونا بھی ضروری ہے۔ نظم و ضبط کی بہتری کے لیے احتساب کا عمل برقرار رہنا چاہیے اور نظم و ضبط کے استحکام کے لیے سمع و طاعت کے نظام کا چست ہونا ضروری ہے۔ اس سارے پروسس (Process) میں فرد کا رول کلیدی ہوتا ہے اور افراد کی تیاری اور ان کے ارتقا کے لیے ان کا اس پروسس سے متعلق ہونا اور مستقل گزرتے رہنا بھی ضروری ہے۔

اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے ایسی تنظیم کارگر نہیں ہو سکتی جو صرف چلتے ہوئے کاموں اور اداروں کو چلاتی رہتی ہو بلکہ ایک ایسی تنظیم درکار ہوتی جو ارتقا اور پیش رفت پر کاربند ہوتی ہے۔ اس کے پیشِ نظر معاشرہ کو مسخر کرنا ہوتا ہے اور غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اگر تحریکی تنظیم یا جماعت انسانی وسائل کو اسلامی انقلاب لانے میں نہیں لگا پاتی تو اپنی کوتاہی سے اس کو ضائع کرتی ہے اور اگر ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کو کم تر کاموں اور مقاصد میں لگاتی ہے تو یہ ایک غیر مؤثر اور غیر کارگر تنظیم کہلائے گی۔ افرادِجماعت کے اوقات و صلا حیتوں کا بڑا حصہ ان کاموں پر لگنا چاہیے ، جن سے تحریک پھیلتی اور معاشرے کو مسخر کرتی ہے۔ اگر تحریک و تنظیم کے تناسب کو درست رکھا جائے تو تحریک داخلی طور پر مستحکم بھی ہوگی اور منزل کی طرف پیش قدمی میں تیزی بھی آئے گی۔ تحریک کا ہر کارکن اپنے سماج میں دوسروں کے لیے ذمہ دار اور ان کا قائد ہوتا ہے۔ اس لیے اسے اپنی ذات کو اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فکر مند اور کوشاں ہونا چاہیے اور تحریک کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ افرادِ تحریک کی صلاحیتوں اور صفات کا جائزہ لے کر انھیں ان ہی محاذوں پر لگائیں جہاں ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں سے معاشرے کی تسخیر کا عمل آسان اور تیز تر ہو سکے۔ جماعت کی حیثیت سے افراد کتنا ہی اچھا کام کر رہے ہوں، قربانیاں بھی دے رہے ہوں اور نظم و ضبط کے پابند بھی ہوں لیکن جماعت اگر افراد کے جذبے اور صلاحیتوں کو اہم راہ پر، صحیح حکمت عملی سے، صحیح رخ پر نہ لگائے تو یہ جماعت کی ناکامی کہلائے گی۔

انسان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اس صلاحیت کا استعمال ضروری ہے۔ نئی راہوں کی تلاش، نئی صورت حال پیدا ہو تو اس سے نمٹنے کے لیے نئی منصوبہ بندی، پرانے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسی راہ تلاش کرنا کہ اس پر زیادہ وقت ضائع نہ کرنا پڑے، معاشرے میں اپنا وجود محسوس کرانے کی تدابیر پر غور کرتے رہنا اور نئے تجربات کرنا، مرعوبیت اور نقالی سے بچنا اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا تحریکی افراد کا خاصہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی افراد سے تنطیم میں جان پیدا ہوتی ہے اور تحریک آگے بڑھتی ہے۔ افراد کے فکر و فہم سے استفادہ کیا جائے تو کارکنوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اجتماعیت پر بھی اعتماد راسخ ہوتا ہے اور ٹیم میں اپنائیت کا احساس پروان چڑھتا ہے، جو اجتماعیت کا بڑا سرمایہ ہے۔

مشوروں کی روشنی میں فیصلے خواہ اتفاق رائے سے ہوں یا کثرت آرا سے یا ذمہ دار کی صواب دید سے، فیصلے کا احترام ضروری ہے۔ اس صحت مند روایت کو برقرار رکھنے کے لیے شورائیت میں شفافیت کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ اگر ذمہ دار اپنے رفقا ءکا خیر خواہ ہو اور اس کا طرز عمل اس کا گواہ ہو تو سمع و طاعت اور نظم و ضبط کا معاملہ بڑی حد تک درست رہتا ہے۔ مضبوط اجتماعیت کے لیے ذمہ دار اور قائد کا رول اور رویہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تحریک اسلامی میں قائد اور ذمہ داروں کی قربت، محبت اور فدائیت درکار ہوتی ہے اور ان چیزوں کا انحصار قائد اور ذمہ داران کی خوئے دل نوازی پر ہے۔ رفقاء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا یہ مطلب نہیں کہ رفقا ءکو تفویض کردہ کام کا جائزہ نہ لیا جائے، ٹیم کی کارکردگی کا احتساب نہ ہو۔ اسی طرح قائد اور ذمہ دار کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ وہ احتساب سے بالاتر ہو۔جائزہ اور احتساب کا ایسا نظام جس میں امیر و مامور سبھی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہوں، ٹیم اسپرٹ کو برقرار رکھتا ہے اور جماعت کو مستحکم کرتا ہے جس پر تحریک اسلامی کی پیش قدمی کا انحصار ہوتا ہے۔

 

تبصرہ (۲) : محمدصلاح الدین خان شبیر

معروف سماجی کارکن اور دانشور (گیا، بہار)

 

تحریک اسلامی کا اصل بیانیہ تو یہی ہے کہ امت کی منصبی ذمہ داری ایک ایسی ہیئت اجتماعیہ کا قیام ہے جس میں اسلام بنیادی طور پر کارفرما اور تشکیل ساز ہو اور اس جدوجہد کا حصہ بننے والے افراد کی زندگی زیادہ سے زیادہ اسلام کا عملی نمونہ ہو۔ اس بیانیہ کا ایک اہم پہلو مسلکی اور مذہبی اختلافات کو وسعت قلبی کے ساتھ تسلیم کرنا اور شدت پسندی سے گریز کر نا ہے۔ تحریک اسلامی کی نظر میں انفرادی سرگرمیوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اجتماعی جدوجہد کو ترجیحی اہمیت حاصل ہے۔ اور اجتماعی جدوجہد نظم سمع و طاعت کا تقاضا کرتی ہے جس میں مشاورت کے نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ مشاورت کا کوئی بھی نظام بے معنی ہے اگر اس سے برآمد ہونے والے فیصلوں کی بجا آوری میں تمام افراد جماعت خوشدلی سے شریک نہ ہوں۔ لہذا انفرادی سوچ اور اقدام یا مقامی اور حلقہ کی سطح پر فیصلہ سازی، لائحہ عمل کی تشکیل اور اقدامیت کا انحصار اس پر ہے کہ نظم تحریک میں اس کے لیے کتنی وسعت رکھی گئی ہے۔

زیر نظر مضمون میں نام لیے بغیر بعض تحریکات اسلامی کے حوالے سے دو اشکالات اور دو تجاویز پیش کی گئی ہیں:

اشکالات:

(۱) اسلامی تحریکیں رائج نظام حکمرانی سے شاکی ہیں کہ وہ اطاعت کا مطالبہ تو کرتا ہے لیکن افراد کو مطلوبہ آزادئ فکر و عمل نہیں دیتا جب کہ اس پہلو سے خود یہ تحریکیں بھی اپنے نظم جماعت میں اسی راہ پر گامزن نظر آتی ہیں۔

(۲) تحریک اسلامی میں افراد کی شمولیت کا نظام فرد کے ذاتی ارادہ اور رضا کارانہ جذبہ پر مبنی ہے لیکن تحریک کا حصہ بنتے ہی اس کی تخلیقی فکر اور اقدامی جذبہ کو نظم و ڈسپلن کے نام پر پابند سلاسل ہونا پڑتا ہے۔

مضمون نگار نے تحریک اسلامی کو ان مخمصوں سے نکلنے کے لیے راہ سجھاتے ہوئے چند رہنما طریقے بتائے ہیں جنہیں دو اہم تجاویز کے تحت سمیٹا جا سکتا ہے۔

(۱) اسلامی تحریک میں مرکزی فیصلہ سازی اور بے لچک اطاعت کے نظام میں وسعت پیدا کرتے ہوئے نچلی سطح اور افراد تک تخلیقی سوچ اور پیش قدمی کے لیے نظم جماعت میں گنجائش پیدا کی جائے۔

(۲) افراد کی ذہن سازی کرتے ہوئے تخلیقی جوہر، اقدامی جذبہ اور وسعت فکر و نظر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے۔

مضمون نگار نے اپنے ذاتی مشاھدات و تجربات کی بنیاد پر اسلامی تحریکات کو مندرجہ بالاپہلوؤں سے درپیش مسائل کا جائزہ لیا ہے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے متعین تجاویز پیش کی ہیں۔مضمون کسی واعظانہ بیانیہ کے بغیر سادہ اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

میرے خیال میں اصل چیلنج اس توازن و اعتدال کو برقرار رکھنے کے لیے، جس کی برقراری کی اہمیت مضمون نگار نے بھی واضح طور پر بیان کی ہے، نظم جماعت کی تشکیل نو کا ہے۔ اس سلسلے میں بطور خاص ہندوستان کی تحریک اسلامی کے تناظر میں درج ذیل حکمت عملی پر غور کیا جا سکتا ہے:-

(۱) ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں نظم جماعت کا ڈھانچہ زیادہ سے زیادہ وفاقی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر تشکیل دیا جائے جس میں منصوبہ بندی کے بنیادی نکات اور پروگراموں کی تفصیلات کا تعین حلقہ جاتی سطح پر ہو۔ مرکزی نظم صرف رہنما اصول اور مقاصدکا تعین کرے جنہیں منصوبہ سازی اور پروگرام کی ترتیب میں پیش نظر رکھنا لازمی ہو۔

(۲) رپورٹنگ کا نظام ایسا ہو کہ اتنی ہی معلومات مقام سے حلقہ اور حلقہ سے مرکز بھیجی جائیں جن کا تعلق پیش رفت کے جائزے اور اس پر رہنمائی سے ہو۔

(۳) علمی اور فکری مباحث کو تنظیمی دائرے سے باہر رکھا جائے اور مثبت رخ پر تخلیقی اور علمی صلاحیتوں کی نشو و نما کے لیے صرف علمی تحقیق کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے نہ کہ اپنے مخصوص نظریات کی عینک سے خوب و ناخوب کا تعین ہو۔ اسی کے ساتھ تحریکی فکر اور پالیسی سے الگ حتی کہ علی الرغم علمی کاوشوں کی حوصلہ شکنی محض نظریاتی یا مسلکی اصولوں کے پیش نظر نہ کی جائے۔

(۴) تحریک کا یہ بنیادی اصول کہ ہم کسی مخصوص مسلک کے علمبردار نہیں ہیں، اس کی پاسداری بحث و عمل میں ملحوظ رکھنے کی طرف وابستگان کی برابر ذہن سازی کی جائے۔

(۵) مرکزی سطح پر اصول سازی، ملک گیر مسائل پر غور و فیصلہ اور دستوری ترمیمات کے لیے تو مجلس شوری کو اختیار ہو لیکن تحریک کی عملی پیش رفت کا جائزہ اور سفارشات کے لیے ایک مجلس عاملہ ہو جو تمام امر ائے حلقہ جات اور مجلس شوری کے ذریعہ نامزد چند ماہرین پر مشتمل ہو۔

ان بنیادی مشوروں کی تفصیلات کے تعین میں صرف اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ تحریک کی رفتار کار تنوع کے ساتھ منضبط کی جا سکے اور مجموعی نظام میں اختیارات کا ٹکراؤ نہ ہو۔

 

تبصرہ (۳) :سید عزیز محی الدین

سکریٹری تنظیم جماعت اسلامی ہند mohiuddinmaroof@gmail.com

 

فاضل دانشور نے مختصر مضمون میں بڑی اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ اسلامی تحریکات کو سیاسی صورت حال سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے سامنے اللہ کے رسول ﷺ کا اسوہ موجود ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔

جہاں تک آزادی رائے کا تعلق ہے وہ بڑی قیمتی شیٔ ہے۔ تحریک اسلامی کے ہر ذمہ دار کو اپنے رفقاء کے مشوروں، تنقیدوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ سننا چاہیے۔ اجتماعیت کی یہ برکت ہے کہ مختلف صلاحیتوں کے لوگ موجود رہتے ہیں۔ تحریک اسلامی کا فرض ہے کہ رفقاء کو نئی جہتوں میں سوچنے کا خوگر بنائے اور ایسا ماحول پروان چڑھائے جس میں ہر فرد یہ محسوس کرے کہ وہ بڑا قیمتی ہے اور اس کی بات بلا کسی تعصب و تحفظ کے سنی جاتی ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں تحریک کے باہر موجود ملت کے باصلاحیت اور اپنے فیلڈ کے ماہرین سے صلاح و مشورہ کیا جائے ۔ جہاں تک ماہرین سے فائدہ اٹھانے کی بات ہے غیر مسلم افراد سے بھی مشورے لیے جا سکتے ہیں۔ تحریک ایک منصوبہ کے تحت اپنے نوجوانوں کو مختلف میدانوںمیں مہارت حاصل کرنے کے سلسلہ میں رہنمائی کرے اور باصلاحیت افراد کو شامل کرنے کی سعی جمیل کرے۔

حضور ﷺ نے جنگ احد کے موقع پر نوجوانوں کی رائے قبول فرمائی وہیں جنگ احزاب پر حضرت سلمان فارسی ؓ کی بالکل انوکھی رائے کو شرف قبولیت بخشا ۔ ہجرت کے موقع پر ایک مشرک جو راستوں کو جانتا تھا اس کی خدمات لیں۔

اسلام کی خوبی یہ ہے کہ اس کی ہر تعلیم میں توازن ہے۔ فرد کی آزادی اور اس کی فطری صلاحیتوں کے ارتقاء میں جہاں معاون و مددگار ہوتا ہے وہیں اس کی زندگی کو نظم و ضبط کا پابندبناتا ہے ۔ اسلام فرد اور اجتماعیت کا حسین امتزاج پیدا کرتا ہے، مثال کے طور پر فرض نماز با جماعت ادا کرنے اور امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ ساتھ ہی فرد نمازمیں خشوع و خضوع کی کیفیت کا جائزہ لیتا ہے اور جماعت میں بھی انفرادی اذکار و تسبیحات میں مشغول رہتا ہے۔ دل میںاگر خشوعہو تو امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا بار نہیں ہوتا۔

تحریک کی قیادت کو جائزہ لینا چاہیے کہ افراد کی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال ہو اور ہمارے رفقاء دل کی آمدگی کے ساتھ سمع و طاعت کے پابند رہیں۔

فاضل دانشور نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ آزادی اور نظم کی پابندی کے درمیان توازن ، صدائے دل اور ندائے امیر کے بیچ ہم آہنگی کسی بھی اجتماعی تخلیقی مشن کے لیے شرط ہے ۔

فاضل دانشورکا مضمون پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف کے مشاہدات زیادہ تر ان ممالک کے ہیںجہاں تحریکات اسلامی پر حکومت وقت کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں۔ ہندوستان کے پس منظر میں ہم یہ پاتے ہیں کہ رفقاء کے لیے میدان کھلے ہیں وہ آزادی کے ساتھ اپنی پسند کا میدان منتخب کرکے کام کر سکتے ہیں۔ عملاً کام کے مواقع اتنے ہیں کہ ان سے بھر پور فائدہ اٹھانا مشکل ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر دعوت کے شعبہ میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کے لیے 100 کروڑ سے زیادہ بندگان خدا موجود ہیں۔ وہ کسی بھی طبقہ، علاقہ ، زبان، تہذیبی اکائی میں کام کر سکتا ہے۔ کسی دیہات میں آدیباسیوں میں مقیم رہ کر کام کر سکتا ہے۔ اسی طرح خدمت خلق، تعلیم ، ہندوستانی سماج وغیرہ میں اپنی آزادی رائےاور عملی اقدامات کے ذریعہ فکر اسلامی کے فروغ اور اس کے عملی نمونے کسی شہر یا قصبہ میں پیش کر سکتا ہے۔

مسئلہ آزادی کا نہیں بلکہ قوت ارادی کا ہے۔ ارادہ مضبوط ہو تو ہر طرح کی رکاوٹیں دور ہوتی ہیں ورنہ بہانے ڈھونڈنے کا مزاج عام ہوتا ہے۔

دوسرا مسئلہ جذبہ ایثار و قربانی کی کمی کا ہے۔ اپنے Comfort Zone سے نکل کر انقلابی و اصلاحی اقدامات کے لیے تیار ہونا اور صبر و ثبات کے ساتھ کام کرنا ہوگا تب اللہ نے چاہا تو اس کی مدد و نصرت سے ہم اسلامی انقلاب کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔