ڈاکٹر عبدالقادر بزدار

قرآ ن مجید کا فلسفہ عروج و زوال

قرآن مجید کا موضوع انسان ہے ۔ اس کا نزول تمام نوع انسانی کے لیے ہوا ہے۔ اس کے احکام ، پند و نصائح اور تعلیمات وقتی، مقامی یا عارضی نہیں، بلکہ عالم گیرہیں۔چنانچہ آج مسلمانوںکے زوال کے اسباب جاننے کے لیے ہم قرآن حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ قرآن زوال کا سبب بتاتے ہوئے ہمارے سامنے علاج بھی واضح انداز میں پیش کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی باور کراتا ہے کہ صرف قرآنی علاج اور حل ہی اُمت مسلمہ کی کام یابی ہے۔ اِس صراط مستقیم کے علاوہ ہر طریقہ اور علاج انسانی افکار کا نتیجہ ہے، اس لیے فتح اور نفع کی ضمانت یقینی نہیں ہے۔ اس کی مختصر دلیل وہ یوں بیان فرماتا ہے ـ:

أَنَّہُ الْحَقُّ مِن رَّبِّہِمْ (البقرۃ: ۲۶) ان کے رب کا کہا ٹھیک ہے۔

نزولِ وحی اور رسالت محمدیﷺ

جب انسانیت پر نزع کا عالم طاری تھا، دنیا اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ ہلاکت کے مہیب و عمیق غار میں گرنے والی تھی ، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺکو وحی و رسالت کے ساتھ معبوث فرمایا، تاکہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:

الَٓر کِتٰبٌ أَنزَلْنٰہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّہِمْ إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْد (ابراہیم:۱)

الر،یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر اتاری ہے، تاکہ تم تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائو، اس کے راستے کی طرف جو غالب اور ستودہ صفات ہے۔

آپؐ نے انسانیت کوصرف ایک اللہ کی بندگی کی دعوت دی اور دنیا کی ساری بندگیوں اور غلامیوں سے نجات دی۔ ارشاد ِ ربانی ہے:

یَأْمُرُہُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰئِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ إِصْرَہُمْ وَالأَغْلَٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ (الاعراف:۱۵۷)

وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے، پسندیدہ چیزیں حلال کرتا ہے، گندی چیزیں حرام ٹھہراتا ہے، اس بوجھ سے نجات دلاتا ہے، جس کے تلے وہ دبے ہوئے تھے،ان پھندوں سے نکالتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔

آپ ﷺکی بعثت نے انسانیت کو نئی زندگی ، نئی روشنی ، نئی طاقت، نیا ایمان عطا کیا۔

عروج کے اسباب

مسلمانوں کو ابتدائی صدیوں میں کیوں عروج نصیب ہوا؟اس کے حسب ذیل اسباب کی نشان دہی کی جا سکتی ہے:

امتِ مسلمہ کی قائدانہ اور امتیازی صفات

مسلمانوں نے دنیا کے انسانوں کو اپنے ساتھ لے کر صحیح رفتار کے ساتھ صحیح منزل کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ان میں وہ تمام صفات جمع تھیں جو ان کو قوموں کی رہ نمائی کے منصبِ عظیم کا اہل ثابت کرتی تھیں اور ان کی نگرانی اور قیادت قوموں کی فلاح و سعادت کی ضمانت تھی۔ یہ امتیازی صفات حسب ذیل ہیں:

۱۔ان کے پاس آسمانی کتاب اور الٰہی شریعت تھی۔ اس لیے ان کو اپنی طرف سے قانون سازی کی ضرورت نہ تھی۔ ارشاد ربانی ہے:

أَوَ مَن کَانَ مَیْتاً فَأَحْیَیْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا (الانعام: ۱۲۲)

کیا وہ جو پہلے مردہ تھا، پھر ہم نے اس میں جان ڈالی اور اس کو ایک نئی روشنی عطا فرمائی، جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ اندھیروں میں گھرا پڑا ہے، وہاں سے نکل نہیں سکتا۔

۲۔ان کے پاس الٰہی قانون تھا جس کے مطابق وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ قرآنِ حکیم میںہے:

یَآَٔیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوّٰمِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ (المائدۃ: ۸)

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے لیے انصاف کی شہادت عطا دینےوالے رہو۔

۳۔وہ حکومت اور قیادت کے منصب پر مستحکم اخلاقی تربیت اور مکمل تہذیب ِ نفس کے بعد فائز ہوئے تھے۔ وحی الٰہی ان کی اصلاح اور تربیت کرتی رہی تھی اور اللہ کے رسول ﷺ ان کا تزکیہ فرماتے رہے۔ ان کے کانوں میں رات دن قرآن ِ حکیم کے یہ الفاظ پڑتے تھے:

تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُونَ عُلُوّاً فِیْ الْأَرْضِ وَلَا فَسَاداً وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ( القصص: ۸۳)

آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو عطا کریں گے جو دنیا میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور فساد کے خواہاں نہیں اورانجام پرہیز گاروں ہی کا ہے۔

۴۔حکومت و منصب کی حرص و طمع ان کے دل سے نکال دی گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

اللہ کی قسم! ہم کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد نہیں کریں گے جس نے اس کی فرمائش کی ہو یا جس کو اس کی خواہش ہے۔ ۳؎

۵۔ان کا مشن بندگانِ خدا کو اپنے جیسے بندوں کی بندگی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کرنا تھا۔ مسلمانوں کے سفیر حضرت ربعی بن عامر ؓ نے یزدگرد شاہ ایران کے بھرے دربار میں اسی حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا تھا:

اللہ نے ہم کو اس لیے بھیجا ہے کہ لوگوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف ، دنیاکی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف اور مذہب کے ظلم و ستم سے نجات دے کر اسلام کے عدل و انصاف کی طرف لائیں۔ ۴؎

۶۔دنیا کی حقیقت اور دنیا کی زندگی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر تھا کہ یہ اللہ کی ایک نعمت ہے، جس کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کرنے اور کمالِ انسانی تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَوٰۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (الملک: ۲)

جس نے مرنا اور جینا بنایا، تاکہ تم کو جانچے کہ کون تم میں عمل میں بہترہے؟

۷۔وہ اس عالم کو اللہ کی مملکت سمجھتے تھے، جس میں اس نے انھیں اولاً بحیثیت انسان ، ثانیاً بہ حیثیت مسلمان اپنا نائب اور اہلِ زمین کا نگراں بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً (البقرۃ: ۳۰)

میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔

مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ نے اپنی کتاب مسلمانوں کا عروج و زوال میں لکھا ہے:

آں حضرت ﷺ کی وفات کے چند سال بعد ہی مسلمانوں نے جزیرۃ العرب سے نکل کر دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنا شروع کیا تو سخت ترین عداوتوں کے باوجود اس انداز سے آگے بڑھتے رہے کہ پہلی صدی ہجری کے ختم ہونے سے پہلے پہلے انہوںنے مشرق میں سندھ اور چینی ترکستان تک اور مغرب میں اندلس تک اپنی حکومت و مملکت کے حدود وسیع کر لیے اور ان ملکوںمیں صرف سیاسی طاقت و قوت ہی حاصل نہیں کی، بلکہ اسلام کی حقانی تعلیما ت اور اسلامی تمدن و تہذیب کی ناقابل ِ رد دل کشی نے ایسا رنگ جمایا کہ چند ملکوں کو چھوڑ کر تمام مفتوحہ ممالک خالص اسلامی ملک بن گئے۔ ۵؎

عروج و زوال کی وجہ

اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیامت تک آنے والے انسانوں پر نگراں اور گواہ مقرر کیا ہے، تاکہ وہ دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتے ہوئے توسط کی روش کو قائم رکھے فکر صحیح ، عمل صالح اختیار کرے اور نظام عدل نفاذ کرے۔ اس منصب عظیم کے لیے اہل افراد کی ضرورت ہے، جس کا تعین امتحا ن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دنیا میں قوموں پر آنے والے عروج و زوال کے ذریعے اہل افراد کا تعین کرتا ہے ۔قرآن میں ہے:

وَتِلْکَ الأیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَیَتَّخِذَ مِنکُمْ شُہَدَاء وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(آل عمران: ۱۴۰)

یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تُم پر یہ وقت اس لیے لایا جاتا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میںسچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی گواہ ہوں۔ باقی رہے ظالم تو اللہ انہیں پسند ہی نہیں کرتا۔

سید قطب شہید ؒاس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو اُبھارتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے پاک ہو چکا ہے؟ اور کس میں نظریاتی میل کچیل موجود ہے؟ کون ہے جو جلد باز ہے؟ اور کون ہے جو ثابت قدم ہے؟ کون ہے جو مایوسی کا شکار ہے؟ اور کون ہے جسے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے۶؎

امت کی آزمائش

گزشتہ تفصیل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رب کائنات کے نزدیک دنیا میں عروج و زوال کا مقصد کھرے اور کھوٹے کی تمیز کرنا ہے۔ اس لیے جب کبھی اُمت مسلمہ پر آزمائش یا بُرا وقت آن پڑے تو اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْن(البقرۃ: ۱۵۵)

اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر ، فاقہ کشی ، جان و مال کے نقصانات اورآمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے ان حالات میں صبر کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

سید قطب شہیدؒ آزمائش کی اہمیت اور افادیت بیان کر تے ہوئے فرماتے ہیں:

آزمائش بہت ضروری ہے۔ اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ،مصائب و شدائد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اُٹھتی ہیں، ذخیر شدہ طاقتوں کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں، دل کے دریچے کھل جاتے ہیں اور دل میں ایسے چشمے اُبل پڑتے ہیں جن کے بارے میں ان مصائب و شدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اسلامی اقدار اور تصورات اس وقت تک پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد و مصائب کی بھٹی سے نہ گزارا جائے ،یہ مصائب کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور دلوں سے میل دور ہوجاتا ہے۔۷؎

آیت ہذا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دُکھ سُکھ ، غم و خوشی اور امارت و غربت کا اصل مقصد انسانوں کی آزمائش ہے ۔جب کبھی کسی کو مال و دولت یا درجات میں بلندی عطا کی گئی تو یہ بھی آزمائش کا طریقہ ہوتا ہے نہ کہ سبب فضیلت۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُم (الانعام :۱۶۵)

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے تاکہ جتنا بھی تم کو دیا گیا ہے اُس کی آزمائش کی جاسکے۔

امت مسلمہ جب بحیثیت قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، یااسے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کا مطلب باطل کی فتح نہیں ہوتا، بلکہ اس سے بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی آزمائش کرناچاہتا ہے ۔ جنگ احد میں جب اہل ایمان پرپریشانی آئی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلِیَبْتَلِیَ اللّہُ مَا فِیْ صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحصَ مَا فِیْ قُلُوبِکُمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ( آل عمران: ۱۵۴)

اور یہ جو معاملہ پیش آیا یہ اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے۔ اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ظاہری شکست و ہزیمت یا پریشانی میں اہل ایمان کا امتحان ہوتا ہے اور ساتھ ہی ٹریننگ بھی، جب بھی ایسا دور یا وقت آجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کھلے ذہن کے ساتھ سبب تلاش کرنا چاہیے، پھر اللہ پر توکل اور صبر کے ساتھ آزمائش کی منازل طے کرکے اس منزل کو چُھونا چاہیے جہاں اللہ کی مدد ان کی منتظر ہے۔ یہاں سے اہل ایمان کی کام یابی کا آغاز ہوتا ہے ۔ آزمائش کے دور میں اگر اہلِ ایمان دل برداشتہ ہوجائیں اور امتحانی منازل طے کیے بغیر اللہ کی مدد کے طالب بنیںاور شدائد و مصائب سے گھبرااُٹھیں تو انعام و اکرام ، فتح و کام رانی اور عروج و کام یابی کی منزل کا حصول مشکل ہوجاتا ہے ۔ سورۃ البقرۃ میں ارشاد ربانی ہے:

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَآء وَالضَّرَّآء وَزُلْزِلُواْ حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللّہِ أَلآ إِنَّ نَصْرَ اللّہِ قَرِیْب (البقرۃ: ۲۱۴)

پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالاں کہ ابھی تم پر وہ سب کچھ تو گزرا ہی نہیں جو تم سے پہلے ایمان والوں پر گزرا تھا ۔ ان پر سختیاں کی گئیں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے ،حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان تک چیخ اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ اس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ اللہ کی مدد بہت جلد آئے گی۔

اسبابِ زوالِ اُمت

خیر اُمت کامنصب اور لقب عطا کرنے کے بعد امُت مسلمہ کو اقوام عالم کی رہ نمائی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جب مسلمانوں نے ان ذمہ داریوں کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوش خبری اور نصرت کی نوید آئی، ورنہ ذلت اور شکست ان کا مقدر بنی ۔ قرآن حکیم وضا حت کے ساتھ وہ اسباب بیان کرتا ہے جن کی وجہ سے اُمت مسلمہ بگاڑ ، زوال اور شکست سے دوچار ہوئی ۔ اختصار کے ساتھ ذیل میں چند اسباب کی نشان دہی کی جاتی ہے:

۱۔عمل بالقرآن سے اعراض

قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سب سے آخری کتاب ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو اُمت مسلمہ کو اندھیروں سے نجات دلا سکتی ہے اور کام یابی وکام رانی کاذریعہ بن سکتی ہے ۔ ارشاد ربّانی ہے:

قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔یَہْدِیْ بِہِ اللّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (المائدۃ: ۱۶)

تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور ایک ایسی حق نما کتاب آگئی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہوں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور صحیح راستے کی طرف ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سید مودودیؒ ر قم طراز ہیں:

سلامتی سے مرادغلط اندیشی اور غلط کاری سے بچنا اور اس کے نتائج سے محفوظ رہنا ہے۔ جو شخص اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی زندگی سے روشنی حاصل کرتا ہے اُسے فکر و عمل کے ہر چوراہے پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس طرح ان غلطیوں سے محفوظ رہے۔ ۸؎

۲۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے غفلت

اسلامی نظام حیات اس بات کا متقاضی ہے کہ امت مسلمہ میں ضرور ایک ایسی جماعت ہر وقت رہے جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون(آل عمران: ۱۰۴)

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکتے رہیں۔جو لوگ یہ کام کریں وہی فلاح پائیں گے۔

اُمت مسلمہ کے اندر یہ روح ہونی چاہیے کہ وہ برائی کو برداشت نہ کرے اور نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والی ہو۔ اسے اپنے اور پرایوں کے احوال سے غیر متعلق نہ ہونا چاہیے، بلکہ سب کو نیکی کی راہ پر چلنے اور بُرائی سے دور رہنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ ترقی ، کام یابی ، خوش حالی اور عروج کا یہ بڑا ذریعہ ہے۔ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا دامن چھوڑ دیا جائے تو صرف ناکامی ہی اُمت مسلمہ کا مقدر ٹھہر تی ہے۔

۳۔ اختیارات کا غلط استعمال

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت و رہ نمائی پر امت مسلمہ کو فائز اور مامور کیا ہے ۔ کیوں کہ ان میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمٰنٰتِ إِلَی أَہْلِہَا وَإِذَا حَکَمْتُم بَیْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْل (النساء: ۵۸)

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

یہاں امانت سے مراد مناصب ہیں، سرداری اور پیشوائی ہے ۔ یہ آیت اس بات کی متقاضی ہے کہ امت مسلمہ بحیثیت امام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور انہیں ٹھیک طریقے سے ادا کرے ۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بہ ظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے، تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا چاہیے ۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ اس بارے میں رقم طراز ہیں:

امانت کا لفظ نہایت وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ تمام حقوق و فرائض ،خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہوں یا حقوق العباد سے۔ انفردای نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے، اپنوں سے متعلق ہوں یا بے گانوں سے، مالی معاہدات کی قسم سے ہوں یا سیاسی معاہدات کی قسم کے ، صلح اور امن کے دور کے ہوں یا جنگ کے، غرض جس نوعیت اور جس درجے کے حقوق و فرائض ہوں، وہ سب امانت کے مفہوم میں داخل ہیں اور مسلمانوں کو شریعت اور اقتدار کی امانت سپرد کرنے کے بعد اجتماعی حیثیت سے سب سے پہلے جو ہدایت ہوئی وہ یہ ہے کہ تم جن حقوق و فرائض کے ذمہ دار بنائے جارہے ہو ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ ۹؎

امت مسلمہ جب زوال اور انحطاط کا شکار ہوتی ہے تو امانتیں یعنی ذمہ داری کے مناصب ، مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے رتبے اور مرتبے ایسے لوگوں کو دینا شروع کر دیتی ہے جو نااہل، کم ظرف، بد اخلاق، بد دیانت اور بد کار ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے امامت کے اختیارات کو غلط استعمال کرتے ہیں، حقوق و فرائض میں مساوات کا لحاظ نہیں رکھتے اور اپنی ذمہ داریوں کو خلوص دل اور نیک نیتی سے پورا نہیں کرتے، ذاتی مفادات کو قومی اور اسلامی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برے لوگوں کی قیادت اور امامت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اس طرح معاشرہ میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ انفرادی اور قومی سطح پر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اُن غلطیوں سے بچے جو اُس کے پیش رو کر چکے ہیں۔

۴۔طلبِ دنیا

اُمت مسلمہ کے زوال اور خرابی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ آخرت سے صرف نظر کر کے صرف دُنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں اورراحتوں پر قانع ہو گئی ہے۔اس نے دنیا کے عارضی اور قلیل منافع کو اللہ اور اس کے دین کی محبت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ارشاد باری ہےــ:

أَرَضِیْتُم بِالْحَیوٰۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیوٰۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْل(التوبۃ: ۳۸)

کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دُنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے۔ اگر ایساہے تو تمہیںمعلوم ہوکہ دنیاوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میںبہت تھوڑا نکلے گا ۔

مولانا مفتی محمد شفیعؒ فرماتے ہیں:

دین کے معاملے میں ہر کوتاہی ، سستی اور غفلت اور تمام گناہوںاور جرائم کا اصلی سبب ہی دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

دنیا کی محبت ہر خطا و گناہ کی بنیاد ہے۔ ۱۱؎

مولانا فرماتے ہیں کہ بڑی فکر آخرت کی دائمی زندگی کی ہو ،جو درحقیقت سارے امراض کا وا حد اور مکمل علاج ہے ۔ آج اُمت مسلمہ کے دل و دماغ پر دنیا طلبی و دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے۔ وہ دنیا اور اُس کے مادی فوائد سے بالاتر کسی چیز کو سمجھتی ہی نہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ قرآن کے الفاظ میں یہ نکلتا ہے:

مَن کَانَ یُرِیْدُ الْحَیوٰۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ إِلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیْہَا وَہُمْ فِیْہَا لاَ یُبْخَسُون۔أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ النَّار(ہود: ۱۴۔۱۵)

جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی بیشی نہیں کی جاتی، مگرآخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

۵۔یقین محکم کی کمی

آج اُمت مسلمہ غیروںکے بھروسے اور امداد پر یقین رکھتی ہے ،جو ممکن ہے کہ ظاہری حالات میں تو کام یابی کا باعث نظر آتے ہوں، مگر حقیقت میں ان کا انجام خسران ہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْن۔إِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَإِن یَخْذُلْکُمْ فَمَن ذَا الَّذِیْ یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہِ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکِّلِ الْمُؤْمِنُون (آل عمران: ۱۵۹۔۱۶۰)

اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں ۔ اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی طاقت تُم پر غالب آنے والی نہیں اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اُس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہے۔ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ پر کامل یقین اور بھروسہ رکھنے والے ہی کام یاب رہتے ہیں اور اس کی مدد اور نُصرت ہی میں فلاح اور عروج ہے، اگر اللہ کی مدد اور حمایت چھن جائے تو کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جس کے بل بوتے پر کام یابی ،نفع اور فلاح حاصل ہو جائے ۔

یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ توکل صرف اللہ پر بھروسہ کرکے ہا تھ پاؤں باندھ کر بیٹھے رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مسائل سے نجات اور منزل تک پہنچنے کی سعی کرنی چاہیے اور ساتھ ہی ربِ حکیم و عظیم سے نُصرت اور حمایت کی استدعا بھی کرنی چاہیے، اس بارے میں سید صفدر حسین نجفی فرماتے ہیں:

زیرنظر آیت کہتی ہے کہ پُختہ ارادہ کرتے ہوئے خُدا پر توکل کرنا چاہیے۔ عمومی وسائل اور اسباب فراہم ہونے کے بعد بھی خُدا کی لامتناہی قُدرت سے مدد طلب کرنا فراموش نہ کیا جائے۔ کیوں کہ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مادی دنیا میں خُدا کے عطا کردہ اسباب و سائل کو کام میں نہ لائے ۔خُدا تعالیٰ مومنین کی حمایت یا عدم حمایت بلاوجہ نہیںکرتا، بلکہ ان کی اہلیت کے مُطابق کرتا ہے۔ جو خُدا کے حکم کو پاؤںتلے روندتے ہیں اور مادی اور روحانی توانائیاںفراہم کرنے سے غافل رہتے ہیں، خُدا کی مدد اور حمایت اُن کے لیے نہیںہوتی، مگر جو لوگ صف بستہ خالص نیت اور عزم راسخ سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تمام ممکنہ وسائل بھی دُشمن کے مقابلے میں فراہم کرتے ہیں، انہی کے سرپر خُدا کا دست حمایت ہوتاہے ۔ ۱۱؎

بدقسمتی کہ آج اُمت مسلمہ اس یقین اور بھروسے سے خالی ہے۔ وہ ظاہری حالات اور اسباب پر بھروسہ رکھتی ہے، حالاں کہ قُرآن کی ابتداء ہی ایمان بالغیب کے تذکرے سے ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نےکہا ہے؎

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

۶۔دشمنوں سے دوستی

اْمت مسلمہ اور بالخصوص اس کے حکم راں دوست اور دشمن کی پہچان سے عاری ہیں۔ ان کی دوستی کا معیار اور پیمانہ شان و شوکت اور زروجواہر ہیں، نہ کہ اسلام اور ایمان۔مسلم ممالک یہودیوں کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ وہ انہی کو اپنا حامی و ناصر سمجھتے ہیں، ان کی دوستی پر فخر کرتے ہیں اور سیاسی ، عمرانی، معاشی اور تمدنی اعتبار سے انہیں اعلیٰ سمجھتے ہوئے ان کی تقلید کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:ـ

وَمِنْہُم مَّنْ إِن تَأْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہِ إِلَیْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآئِماً ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ لَیْسَ عَلَیْنَا فِیْ الأُمِّیِّیْنَ سَبِیْل (آل عمران: ۷۵)

[یہودیوں میں] کچھ کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی ان پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا۔ ہاں یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جائو۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں: اُمی [غیر یہودی] لوگوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ـ :

یہ محض یہودی عوام ہی کا جاہلانہ خیال نہ تھا، بلکہ ان کے ہاں کی مذہبی تعلیم ہی کچھ ایسی تھی اوراُن کے بڑے بڑے مذہبی پیشوائوں کے فقہی احکام ایسے ہی تھے۔ بائبل قرض اور سود کے احکام میں اسرائیلی اور غیراسرائیلی کے درمیان صاف تفریق کرتی ہے ۔تلمود میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں، لیکن اگر غیر اسرائلی کا بیل اسرائیلی بیل کو زخمی کر دے تو اس پر تاوان ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی جگہ کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ ارد گرد آبادی کن لوگوں کی ہے؟ اگر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے اعلان کرنا چاہیے، غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلا اعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیے۔ اگر اُمی اور اسرائیلی کامقدمہ قاضی کے پاس آئے تو قاضی اگر اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جتوا سکتا ہو تو اُس کے مطابق جتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے اور اگر اُمیوں کے قانون کے تحت کام یاب کرا سکتا ہوتو ایسا ہی کرے اور کہے کہ یہ تمہارا قانون ہے اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کام یاب کر سکتا ہو، کرے۔ غیر اسرائیلی کی ہر غلطی سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ ۱۲؎

دشمنوں کے تعلق سے مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے اسے درج ذیل آیت میں واضح کر دیا گیا ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَۃً مِّن دُونِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الآیَاتِ إِن کُنتُمْ تَعْقِلُون (آل عمران: ۱۱۸)

اے ایمان والو! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا رازدار نہ بنائو۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اُٹھانے میں نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی اُن کو محبوب ہے۔ اُن کے دل کا بغض اُن کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی شدید تر ہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو ۔

۷۔جہاد اور اجتہاد کا فقدان

یہ بھی حقیقت ہے کہ امامت و سیع صفات چاہتی ہے۔ جو فرد یا جماعت اس منصب پر فائز ہو اس کے لیے ذاتی اصلاح و تقویٰ اور عدل کے علاوہ جہاد و اجتہاد کی قابلیتیں بھی ضروری ہیں۔ جہادفی سبیل اللہ سے رو گردانی اور اجتہاد کا فقدان بھی امت مسلمہ کے زوال کا سبب ہیں۔

آج اُمت مسلمہ اپنے پاس سچا اور آفاقی نظام اور قانون رکھنے کے باوجودانتشار کا شکار ہے۔ اس کے حکم راں اسلامی اقدار، روایات اور احکام کو تھوڑی قیمتوں پر بیچ رہے ہیں ۔ رفاقت کی بجائے رقابت ، مواخات کی بجائے تفریق اور اعانت کی بجائے اہانت کی راہوں پر گام زن ہیں ،جس کا نتیجہ یقینی طور پر ناکامی ، شکست اور زوال ہے۔

اثرات ونتائج

تاریخ عالم کا یہ واقعہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ایک زمانے میں مسلمانوں نے نہایت محیرالعقول طریقہ پر ترقی کی اور اپنے کارناموں کا نقش صفحۂ تاریخ پر اس طرح ثبت کیا کہ دنیا کی دوسری قومیں ان کی عظمت و برتری کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے پر مجبور ہو گئیں۔ لیکن اب انہی مسلمانوں پر مفلوک الحالی اور ادبار مسلط ہے۔ ان کا شیرازۂ ملی پراگندہ ہے۔ اب ان کی محفلوں میں علم و فن کے مذاکرے کم ہوتے ہیں۔ دماغ قوت ابداع و اختراع سے محروم ہیںاور ہاتھ سیاسی طاقت و قوت سے۔ مردم شماری کے لحاظ سے اتنے مسلمان کبھی نہیں تھے جتنے کہ اب ہیں۔ مگر ساتھ ہی علم وعمل، ایمان وایقان اور روحانیت واخلاق کے لحاظ سے وہ جتنے زبوں حال اب ہیں اتنے کبھی نہیں تھے۔ موجودہ حالات میںمسلمان مسلسل فتنوں کی زد میں ہیں۔ ان کی پس ماندگی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چودہ صدی قبل کے مسلمانوں سے آج کے مسلمانوں کا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔

درج بالا حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک مسلمان اسلام کے قوانین پر عمل پیرا رہے وہ برابر ترقی کرتے رہے، لیکن جب اُن میں اسلامی روح مضمحل ہونے لگی تو اُن میں تنزّل پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ چنانچہ تاریخ کا سبق اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اُمت مسلمہ انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے اپنی اصلاح کرے۔ زبان ، رنگ ونسل کے تعصب کو مٹا کر وحدت کے رشتے کو مضبوطی سے تھامے جس میں نصب العین ایک ہو، اسلامی اقدار اور روایات پراستقامت اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے ۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو ان شاء اللہ دوبارہ عروج حاصل کرنا اس کے لیے ناممکن نہ ہوگا۔

حوالہ جات

۱۔ مولانا سید ابو الحسن ندوی ، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ، مجلس نشریات اسلام ، کراچی، ص۸۴

۲۔ مسند احمد

۳۔ صحیح بخاری، کتاب الاحکام، باب مایکرہ من الحرص علی الامارۃ، ۷۱۴۹، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ باب النہی عن طلب الامارۃ و الحرص علیھا، ۱۷۳۳

۵۔ سعید احمد اکبر آبادی ، مسلمانوں کا عروج و زوال ، ادارہ اسلامیات لاہور، ۱۹۸۳ء، ص ۹

۶۔سید قطب شہید:فی ظلال القرآن:مترجم:سید معروف شاہ شیرازی، لاہور:ادارہ منشورات اسلا می لاہور ،اپریل۱۹۹۷ء ج ۱ص ۷۳۶

۷۔ حوالۂ سابق

۸۔ مولانا سید ابواعلیٰ مودودی،تفہیم القرآن، مکتبہ تعمیر انسانیت ،لاہور،۱۹۷۳ء ج ۱ص ۴۵۶

۹۔ مولانا امین احسن اصلاحی،تدبر قرآن،فاران فاؤنڈیشن ،لاہور،۱۹۸۸ء ج ۲،ص ۳۲۲

۱۰۔ مفتی محمد شفیع،معارف القرآن،کراچی،ادارہ المعارف،۱۹۷۱ء ج۴، ص ۳۷۸

۱۱۔ ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، مترجمہ سید صفدر حسین نجفی، لاہور جامعہ المنتظر۴۰۶ھ ج ۳، ص ۱۱۶ ۔ ۱۱۷

۱۲۔ علامہ اقبال، کلیات اقبال، لاہور

۱۳۔ تفہیم القرآن ۱؍ ۲۶۶