اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

 

جماعت اسلامی کے لائحہ عمل میں توسیع

 

جماعتِ اسلامی کا قیام پون صدی قبل ۱۹۴۱ء میں عمل میں آیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد جماعتِ اسلامی نے نئے سیاسی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے، جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان نامی دو مستقل جماعتوں کی حیثیت اختیار کرلی جن کا ایک دوسرے سے کوئی تنظیمی تعلق نہ تھا۔ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے ملک کے احوال کے اعتبار سے اپنے پروگرام اور منصوبے ترتیب دیے۔ جماعت اسلامی ہند کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپریل ۱۹۴۷ء میں مدراس کی تقریر میںچار نکاتی لائحۂ عمل پیش کیا تھا۔ اس لائحہ عمل کا تذکرہ، ان سطور میں اس سے پہلے کیا جاچکا ہے۔چار نکات یہ تھے: مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین قومی کش مکش کا خاتمہ، مسلم سوسائٹی کی ہمہ گیر اصلاح، ملک کے ذہین طبقے کی تربیت کہ وہ اسلامی نصب العین کی خدمت کرسکے اور علاقائی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی منتقلی۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی ہند نے انہی چار نکات پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتے ہوئے، آزاد بھارت کے نئے حالات میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ بعد میں جماعت نے اپنے منصوبے میں مزید اجزاء کا اضافہ کیا۔ اس سلسلے میں دو سوالات سامنے آئے ہیں (جن کا تذکرہ دسمبر 2018کے اشارات میں کیا جاچکا ہے)۔ سوالات یہ ہیں:

(الف) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے خطبہ مدراس کی طرف مراجعت کی جائے تو اِصلاحِ اُمت کے کام میں کیا مدد مل سکتی ہے؟

(ب) مدراس کی تقریر میں پیش کردہ لائحہ عمل کی موجودگی کے باوجود، جماعت اسلامی ہند نے متعدد نئے شعبوں کا آغاز کیوں کیا؟

ان سوالات پر ذیل کی سطور میں گفتگو کی جائے گی۔

مسلم معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح

مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ لائحۂ عمل کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلم سماج کی وسیع پیمانے پر اصلاح کی جائے تاکہ یہ سماج اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے لگے اور شہادتِ حق کے تقاضے ادا کرے۔ مولانا کے نزدیک اس نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے دو پہلوؤں پر خاص توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک مسلمانوں کے حوصلے کی بحالی (اس لیے کہ اندیشہ تھا کہ تقسیمِ ملک کے بعد کے سخت مشکل حالات میں مسلمانوں کی ہمتیں پست ہونے لگیں گی) اور دوسرے مسلمانوں کو اُن کے فرضِ منصبی کی یاددہانی یعنی یہ کہ وہ خیرِ اُمت ہیں جس کا فریضہ انسانیت عامہ کی رہنمائی ہے۔ یہ فرض یاد ہو تو وہ قوتِ محرکہ (Motivating Spirit)فراہم ہوجاتی ہے جو مسلمانوں کو اپنے معاشرے کی ہمہ جہتی اصلاح کے لیے آمادہ کرسکتی ہے اور متحرک رکھ سکتی ہے۔ مدراس کی تقریر میں مولانا نے ان دونوں پہلوؤں پر توجہ صَرف کی۔ جماعت کے کارکنوں کو تلقین کی کہ آزادی کے بعد کے حالات میں مسلمانوں کا حوصلہ بحال رکھنے کے لیے اُن کو پیہم کوشش کرنی ہے اور خود بھی استقامت کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ دوسری جانب مولانا نے معاشرے کی اصلاح کی اساسی تدبیر کی نشاندہی کی یعنی یہ کہ مسلمانوں کو شہادتِ حق کا فریضہ یاد دلایا جائے۔

سوال یہ ہے کہ خطبہ مدراس میں پیش کردہ لائحہ عمل کی طرف مراجعت کی جائے تو اصلاحِ امت کے کام میں کیا مدد مل سکتی ہے؟ یہ سوال، جماعت اسلامی ہند کے موجودہ پروگرام اور منصوبے کے سیاق میں کیا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلم معاشرے کی وسیع اور ہمہ گیر اصلاح کے کام کو جماعت اسلامی ہند نے کبھی نہیں چھوڑا، نہ اس کی اہمیت کم کی۔ اپنے سارے منصوبوں میں اصلاحِ اُمت کی طرف جماعت، برابر متوجہ رہی۔ یہ ضرور کیا گیا کہ مسلم معاشرے کی ہمہ جہتی اصلاح کے تقاضے، متعین طور پر بیان کیے گئے، تاکہ اصلاح حال کی سعی کرنے والے، نتیجہ خیز کام کرسکیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ آج، خطبہ مدراس کے لائحۂ عمل کی طرف مراجعت کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ خطبے میں بیان کردہ دوسرے نکتے (اِصلاحِ امت) کے تقاضوں کو جماعت نے کبھی نظر انداز نہیں کیا کہ مراجعت کا سوال پیدا ہو۔ ضرورت اگر ہے تو اصلاحی سرگرمیوں کو تیز تر کرنے کی ہے۔

اصلاح معاشرہ کے خدوخال

یہ بات البتہ صحیح ہے کہ مسلم معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح کے تقاضے واضح طور پر متعین کیے جانے چاہئیں۔ اس کی ضرورت خود مولانا مودودیؒ نے محسوس کی تھی۔ ملک کی آزادی سے دس سال قبل مولانا نے مسلمانوں کی چار بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی اِن الفاظ میں کی تھی:

یہ ضروری ہے کہ آپ (یعنی مسلمانوں کے سوچنے سمجھنے والے لوگ) واضح طور پر اُن چار اہم ترین کمزوریوں سے واقف ہوجائیں، جو مسلمانوں کی قومی طاقت کو گھُن کی طرح کھا گئی ہیں

(۱) اسلام سے ناواقفیت

مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کا سوادِ اعظم، اسلامی تہذیب اور اس کی اسلامی خصوصیات سے ناواقف ہے حتی کہ اس میں ان حدود کا شعور تک باقی نہیں رہا ہے، جو اسلام کو غیر اسلام سے ممیز کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیم، اسلامی تربیت اور جماعت کا ڈسپلن تقریباً مفقود ہوچکا ہے وہ اتنا علم ہی نہیں رکھتے کہ یہ امتیاز کرسکیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کس خیال اور عملی طریقے کو قبول کرسکتے ہیں اور کس کو قبول نہیں کرسکتے۔ دوسرے ان کی قومی تربیت اتنی ناقص ہے کہ ان کے اندر کوئی اخلاقی طاقت ہی باقی نہیں رہی۔ جب کوئی چیز قوت کے ساتھ آتی اور گردوپیش میں پھیل جاتی ہے، تو وہ خواہ کتنی ہی غیر اسلامی ہو، یہ اس کی گرفت سے اپنے آپ کو نہیں بچاسکتے اور غیر اسلامی جاننے کے باوجود طوعاً و کرہاً اس کے آگے سپر ڈال ہی دیتے ہیں۔

(۲) قومی انتشار اور بدنظمی

انفرادیت اور لامرکزیت کی روز افزوں ترقی نے مسلمانوں کے شیرازہ قومیت کو پارہ پارہ کردیا ہے اور اجتماعی عمل کی کوئی صلاحیت اب ان میں نہیں پائی جاتی۔ ان کے اندر وہ اخلاقی اوصاف باقی نہیں ہیں جن کی بدولت یہ قومی مفاد کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوشش کرسکیں۔ ان میں اتنی تمیز نہیں کہ صحیح رہنما کا انتخاب کرسکیں۔ ان میں اطاعت کا مادہ نہیں کہ کسی کو رہنما سمجھنے کے بعد اس کی بات کو مانیں۔ ان میں اتنا ایثار نہیں کہ کسی بڑے مقصد کے لیے اپنے ذاتی مفاد، ذاتی رائے، اپنی آسائش، اپنے مال اور اپنی جان کی قربانی گوارا کرسکیں۔

(۳)نفس پرستی

افلاس، جہالت اور غلامی نے ہمارے افراد کو بے غیرت اور بندہ نفس بنادیا ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنوں نے جو کچھ کرنا چاہا، اس کے لیے خود مسلمانوں ہی کی جماعت سے خائن اور غدار اُن کو مِل گئے۔

(۴)منافقت

ہماری قوم میں منافقین کی ایک جماعت شامل ہے بکثرت اشخاص ایسے ہیں جو دل سے اسلام اور اس کی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے، مگر نفاق اور بے ایمانی کی راہ سے مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہیں۔ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان از سید ابوالاعلیٰ مودودی)

اصلاح حال کی تدابیر

مسلمانوں کی اجتماعی کمزوریوں کے سامنے آجانے کے بعد ضروری ہے کہ اصلاحی تدابیر کی نشاندہی کی جائے۔ مولانا مودودیؒ ان تدابیر کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

(۱)مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر اصولِ اسلام اور قوانینِ شریعت کا علم پھیلایا جائے اور ان کے اندر کم از کم اتنی واقفیت پیدا کردی جائے کہ وہ اسلام کے حدود کو پہچان لیں اور یہ سمجھ سکیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کن خیالات اور کن عملی طریقوں کو قبول کرسکتے ہیں اور کن کو قبول نہیں کرسکتے۔ یہ نشر و تبلیغ صرف شہروں ہی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ دیہات کے مسلمانوں کو شہری مسلمانوں سے زیادہ اس کی ضرورت ہے۔

(۲)علم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو عملاً احکام اسلامی کا متبع بنانے کی کوشش کی جائے اور خصو صیت کے ساتھ ان ارکان کو پھر سے استوار کیا جائے، جن پر ہمارے نظامِ جماعت کی بنیاد قائم ہے۔

(۳)مسلمانوں کی رائے عام کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ غیر اسلامی طریقوں کے رواج کو روکنے پر مستعد ہوجائیں اور ان کا اجتماعی ضمیر، احکام اسلامی کے خلاف افراد کی بغاوت کو برداشت کرنا چھوڑ دے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ جس چیز کے استیصال پر توجہ صَرف کرنے کی ضرورت ہے، وہ تشبّہ بالاجانب ہے، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو ہم کو غیروں میں جذب ہونے کے لیے تیار کرتی ہے۔

(۴)ہمیں اپنی اجتماعی قوت اتنی مضبوط کرنی چاہیے کہ اپنی جماعت کے ان غداروں اور منافقوں کا استیصال کرسکیں، جو اپنے دل کے چھپے ہوئے کفر و نفاق کی وجہ سے یا ذاتی اغراض کی خاطر اسلامی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں

مسلمانوں میں اس قدر اتحادِ خیال اور اتحادِ عمل پیدا کردیا جائے کہ وہ تنِ واحد کی طرح ہوجائیں اور ایک مرکزی طاقت کے اشاروں پر حرکت کرنے لگیں۔ (ایضاً)

مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ لائحۂ عمل کے دوسرے نکتے (یعنی مسلم معاشرے کی وسیع اصلاح) کے تقاضے پورے کرنے کے لیے مولانا کی بیان کردہ مندرجہ بالا تدابیر کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے فضل سے، جماعت اسلامی ہند، مسلمانوںکی ہمہ گیر اصلاح کی طرف مستقل متوجہ رہی ہے اور آج بھی یہ کام، اس کے پروگرام میں نمایاں اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

لائحۂ عمل میں توسیع

ان سطور کے آغاز میں دو سوالات پیش کیے گئے تھے۔ ایک اصلاحِ امت سے متعلق تھا جس کا جواب ابھی بیان ہوا۔ دوسرا سوال یہ تھا:

مدراس کی تقریر میں پیش کردہ لائحۂ عمل کی موجودگی کے باوجود، جماعت اسلامی ہند نے متعدد نئے شعبوں کا آغاز کیوں کیا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی ہند کو نئے حالات سے سابقہ پیش آیا۔ ان نئے حالات کا جائزہ لے کر جماعت نے محسوس کیا کہ مدراس کی تقریر کے چار نکاتی لائحۂ عمل میں توسیع درکار ہے۔ اس لائحہ عمل کی موزونیت کے بارے میں جماعت کے اندر دو رائیں نہ پہلے تھیں نہ اب ہیں، البتہ اس لائحہ عمل کی ضروری تفصیلات کو متعین کرنے اور نئے نکات کا اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ جماعت کی تنظیمی روایات نے ایک پائیدار شکل اختیار کی چنانچہ اب جماعت کے منصوبے کے لیے لائحہ عمل کے بجائے پالیسی و پروگرام کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ہر چار سال کی مدت (میقات) کے لیے پالیسی و پروگرام کو ازسرِ نو ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس منصوبہ سازی میں تمام ارکانِ جماعت سے مشورے طلب کیے جاتے ہیںاور ان کے مشوروں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ جماعت کے لائحہ عمل کا یہ فطری ارتقاء ہے جو نئے حالات کے پیشِ نظر ضروری تھا۔ اس فکری و عملی ارتقاء کے لیے (جو مسلسل عمل ہے) درست خطوط ضروری ہیں۔ منصوبہ سازی کے بنیادی آداب یہ ہیں کہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے، قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ ایمان کی منصبی ذمہ داریوں کو کلیدی حیثیت دی جائے، نئے سوالات کے جواب کے لیے دینی بصیرت سے کام لیا جائے، مختلف النوع سرگرمیوں کے درمیان درست ترجیحات متعین کی جائیں اور اس سارے عمل کو شورائی طریقے سے انجام دیا جائے۔

پالیسی و پروگرام کے نکات

رواں میقات( ۲۰۱۵ء تا ۲۰۱۹ء) کے لیے جماعت اسلامی ہند نے جو منصوبہ ترتیب دیا ہے اس کے سات نکات ہیں، جو درجِ ذیل ہیں:

دعوت، اسلامی معاشرہ، امتِ مسلمہ کا تحفظ و ترقی، ملکی و عالمی امور، خدمتِ خلق، تزکیہ و تربیت اور تنظیم ۔

دعوت

دعوت سے مراد اُن سب افراد تک پیغامِ حق پہنچانا ہے جو ابھی دائرئہ اسلام میں شامل نہیں ہیں۔ مدراس کی تقریر کے لائحہ عمل میں دعوت کا ذکر ایک مستقل نکتے کے طور پر نہیں کیا گیا ہے لیکن لائحۂ عمل کے چاروں نکات، دعوت سے متعلق ہیں۔ قومی کش مکش کا خاتمہ، لائحہ عمل کا پہلا نکتہ ہے۔ اس نکتے کا مدعا یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو (روایتی معنوں میں) ایک قوم نہ سمجھیں بلکہ داعی گروہ سمجھیں، جس کا فرضِ منصبی، انسانیت کی رہنمائی ہے۔ جب مسلمان (مروجہ مفہوم میں) قوم نہیں ہیں تو ان کا رویہ بھی قوم جیسا نہ ہونا چاہیے جو دوسری قوموں سے کش مکش اس لیے کرتی ہے کہ ان پر غالب ہوسکے یا ان کے وسائل پر قبضہ جماسکے۔ قوم کے برعکس، مسلمان، ایک آفاقی دعوت کے علمبردار ہیں، مسلمان کسی سے کش مکش کرتا ہے تو باطل کے خاتمے اور حق کے قیام کے لیے کرتا ہے۔ اپنے گروہ کے لیے کسی مادی منفعت یا جاہ کا حصول، اس کے پیشِ نظر نہیں ہوتا۔ لائحۂ عمل کا دوسرا نکتہ، مسلمانوں کی ہمہ جہتی اصلاح ہے۔ اس اصلاح کا ایک ثمرہ یہ ہے کہ مسلمان، صحیح معنوں میں حق کے داعی بن سکیں گے۔ مدراس کی تقریر میں مولانا مودودی، نکتہ دوم کے تحت فرماتے ہیں:

ہم مسلمانوں میں اسلام سے عام واقفیت بھی پیدا کریں اور ان کے اندر یہ جذبہ بھی ابھاردیں کہ رات دن کی زندگی میں ان کو ہر جگہ غیر مسلموں سے جو سابقہ پیش آتا ہے، اس میں وہ حسبِ موقع ان کے سامنے اسلام کو پیش کرتے رہیں، تو دعوت کی رفتار اتنی تیز ہوسکتی ہے کہ ہندوستان میں کوئی دوسری تحریک، اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ (روداد جماعت اسلامی، پنجم)

مدراس میں بیان کردہ لائحہ عمل کا تیسرا نکتہ بھی دعوت سے مربوط ہے۔ مولانا مودودیؒ کہتے ہیں:

تیسرا ضروری کام یہ ہے کہ ہم اس ملک کے مسلمانوںکی ذہنی طاقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ، اپنی دعوت کے لیے فراہم کریں اور اس سے باقاعدگی سے کام لیں۔ ہمارے اہلِ قلم رائج الوقت نظام پر اصولی تنقید کریں، اس کی خامیوں کا ایک ایک پہلو نمایاں کرکے پبلک کو دکھائیں اور اس سے بہتر ایک نظامِ زندگی پیش کرکے رائے عام کو اس کے حق میں ہموار کریں۔ (ایضاً)

لائحۂ عمل کا چوتھا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر کو ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں منتقل کیا جائے۔ اس کام سے بھی دعوتی مواقع وسیع ہوں گے۔ مولانا مودودیؒ مذکورہ تقریر میں کہتے ہیں:

جن زبانوں کو ملک میں رواج حاصل ہوگا، ہم ان سب میں اسلام کا لٹریچر مہیا کریں گے، اور ان سب کو اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کریں گے۔ (ایضاً)

جماعت اسلامی ہند کی رواں میقات کی پالیسی میں پہلے اور چوتھے نکتے کا تعلق دعوت سے ہے۔ پہلے نکتے کا عنوان خود دعوت ہے جبکہ چوتھے نکتے کا عنوان ملکی و عالمی امور ہے۔ اس نکتے کے تحت کہا گیا ہے کہ:

(الف) جماعت، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدل و قسط، امن و سلامتی اور معروف اخلاقی قدروں کی بنیاد پر ملک کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی کے لیے کوشش کرے گی۔ جماعت، ملکی سیاست میں صالح اقدار کے فروغ کی اور کمزور طبقات کی محرومی کے ازالے کی کوشش کرے گی۔ جماعت، عالمی استعمار، سرمایہ دارانہ نظام اور جارحانہ قوم پرستی کے تسلط سے ملک کو بچانے کے لیے تمام خیر پسند عناصر کا تعاون حاصل کرے گی۔

(ب)عالمی سطح پر جماعت، سیاسی، معاشی اور تہذیبی استعمار سے آزادی، جبرو استبداد سے نجات ، انسانی حقوق کے احترام، عدل و انصاف اور امنِ عالم کے قیام کی تائید کرے گی۔ (پالیسی و پروگرام ۲۰۱۵ء تا ۲۰۱۹ء)

اس طرح پالیسی کا مندرجہ بالا نکتہ دعوتِ اسلامی کے اس پہلو کو بیان کرتا ہے جس کو قیامِ معروف اور ازالہ منکر کہا جاسکتا ہے۔

اسلامی معاشرہ

جماعت اسلامی ہند کی رواں پالیسی میں دعوت کے بعد مسلمانوں کے درمیان مطلوب سرگرمیوں کا تذکرہ ہے اور پالیسی کے نکات ۲ اور ۳ مسلمانوں سے متعلق ہیں یعنی اسلامی معاشرہ اور امت کا تحفظ و ترقی

پالیسی کے یہ نکات، مدراس میں بیان کردہ لائحۂ عمل کے نکتہ دوم ہی کی تعبیر ہیں۔ ان نکات کے تحت پالیسی و پروگرام میں کہا گیا ہے کہ:

جماعت، اُمت کے درمیان اسلام کے صحیح وجامع تصور نیز انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کے تقاضوں کو حکمت کے ساتھ، اس طرح واضح کرے گی کہ امت کے اندر، آخرت کی جوابدہی کا احساس، رضائے الٰہی کی طلب اور محبت و اطاعت رسول (ﷺ) کا جذبہ بیدار ہو۔ مسلمانوں کا معاشرہ اور ان کے سماجی، تعلیمی اور رفاہی ادارے اسلامی قدروں کے آئینہ دار ہوں، ان کی زندگیاں فکروعمل کی خرابیوں اور شرک و بدعت کی آلائشوں سے پاک اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہوں۔ ان میں اپنے خیرِ امت ہونے کا شعور پیدا ہو، وہ دینی بنیادوں پر متحد ہوکر شہادتِ حق کا فریضہ انجام دے سکیں اور اقامتِ دین کے تقاضے پورے کرسکیں۔

جماعت کوشش کرے گی کہ خاندان کی تعمیر، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہو، بچوں اور نوجوانوں کی اسلامی تربیت کا انتظام ہو اور نہیں مغربی اور مشرکانہ ثقافت کے اثرات سے بچایا جائے۔ خواتین کے حقوق و فرائض کا صحیح شعور عام ہو اور معاشرہ میں ان کا حقیقی مقام انہیں حاصل ہو۔ معروف کے قیام اور منکر کے ازالے میں وہ اپنا کردار ادا کریں۔

جماعت مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ، ان کے حقوق کی حفاظت، نوجوانوں پر ہونے والے مظالم کے ازالے اور ملت کے دینی و تہذیبی تشخص کی بقا کے لیے کوشش کرے گی۔ جماعت کی کوشش ہوگی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اُمت، تعلیم، معیشت اور صحتِ عامہ کے محاذوں پر ترقی کرے۔ اس جانب، مسلمانوں کو بھی اجتماعی جدوجہد پر آمادہ کیا جائے گا۔ (ایضاً)

مندرجہ بالا تصریحات، مدراس کے چار نکاتی لائحۂ عمل کے نکتہ دوم کی اسپرٹ کی درست ترجمان ہیں ۔

نئے نکات

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی میں تین نئے نکات شامل ہیں جو مدراس کی تقریر میں بیان کردہ لائحۂ عمل سے زائد ہیں یعنی خدمتِ خلق، تزکیہ و تربیت اور تنظیم۔ ان کو صِرف، بیان کی حد تک نئے کہا جاسکتا ہے ورنہ یہ حقیقت ہے کہ جماعت، اپنے قیام کے بعد سے ہی خدمتِ خلق کی طرف متوجہ رہی۔ جماعت کی رودادوں میں جماعت کے ذریعے کیے گئے ریلیف کے کاموں کا تذکرہ موجود ہے۔ اس طرح تربیت و تنظیم، ایسے امور ہیں جن کو جماعت نے ہمیشہ کلیدی اہمیت دی اور اپنے منصوبوں و سرگرمیوں میں ان کو شامل رکھا۔ جماعت کی موجودہ پالیسی کے نکات کے مندرجہ بالا تذکرے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جماعت کی سرگرمیاں اور منصوبے مدراس میں بیان کردہ لائحہ عمل سے مربوط رہے ہیں اور جماعتی مساعی کی موجودہ شکل، اسی لائحۂ عمل کے ارتقاء کا نتیجہ ہے۔