نقدو تبصرہ

نام كتاب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی

مرتب : ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی

ناشر : ادارہ دعوت القرآن ، کلّن کی لاٹ ، امین آباد، لکھنؤ ۔ ۱۸، موبائل :9839538225

سنہ ٔ اشاعت : ۲۰۱۸ء،صفحات:۲۴۰،قیمت درج نہیں

زیر نظر کتاب سیرت نبوی کے بعض اہم پہلوؤں سے متعلق چند مضامین کا مجموعہ ہے۔ مصنف نے اپنے مختصر دیباچہ میں بجا طور پر لکھا ہے : عصر حاضر میں پریشان حال اورسسکتی ہوئی انسانیت کواگر چین وسکون میّسر آسکتا ہے تو صرف اورصرف آپؐ کی غیر مشروط اورمکمل اطاعت میں ہی آسکتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ پوری شفافیت اورپورے زور سے حیاتِ رسول کے مختلف گوشو ں کوتمام انسانوں کے سامنے پیش کیا جائے اور انہیں اطاعتِ رسول کی دعوت دی جائے ۔ لازم ہے کہ دعوتِ دین کا فریضہ انجام دینے کے لیے اس کے تمام تقاضوں کی تکمیل کی جائے۔( ص ۵)

کتاب کی ابتدامیں جناب نعیم صدیقی کی کتاب محسن انسانیت کے مقدمہ سے ایک اقتباس لے کر اسے پیش لفظ بنایا گیا ہے اورڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کے مضمون سیرت کا مطالعہ کس لیے؟ کوبہ طور مقدمہ شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد ایک درجن مضامین کا انتخاب پیش کیا گیا ہے جن کا تعلق سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں سے ہے اورجو مشہور اہل قلم کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ وہ مضامین یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت۔ عملی قرآن (قاری محمد طیب )، رسول اللہ ؐ اورعوامی رہ نمائی (مولانا اخلاق حسین قاسمی) ، رسول اللہ ؐ کی سماجی زندگی (جناب احمد انور )، رسول اللہ ؐ کی معاشی زندگی (مولانا عبدالقدس ہاشمی)، رسول اللہ ؐ بہ حیثیت شوہر (حکیم محمد سعید )، رسول اللہ ؐ بہ حیثیت داعی الیٰ الحق (پروفیسر خورشید احمد)، رسول اللہ ؐ بہ حیثیت معلّم قانون ( جسٹس شیخ عبدالحمید)، رسول اللہؐ بہ حیثیت سپہ سالار(بریگیڈیر گلزار احمد) ، رسول اللہؐ کا نظام حکومت (عائشہ صدیقہ عثمانی)، رسول اللہ ؐ کا نظامِ شرطہ(جناب ارشد حسین ) ، رسول اللہؐ کا حسن سلوک ( جناب احمد عرفان )۔ یہ مضامین روزنامہ اور سہ روزہ دعوت دہلی، ہفت روزہ ندائے ملت لکھنؤ، ہفت روزہ اخبار نو دہلی اور ماہ نامہ خاتون کراچی کے سیرت پر نکلنے والے خصوصی شماروں سے لیے گئے ہیں ۔

یہ کتاب جناب نوشاد احمد (لکھنؤ) کے مالی تعاون سے شائع کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جن کے حسن تعاون سے سیرت نبوی پر قابل قدر اوراہم مضامین کا یہ انتخاب شائقین کے ہاتھوں میں پہنچا ۔

(محمد رضی الاسلام ندوی)

 

 

 

نام كتاب : پیغامِ حق کی ترسیل۔ اہمیت اور لائحۂ عمل

مصنف : محمد اقبال ملا

ناشر : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

سنہ ٔ اشاعت : ۲۰۱۸ء،صفحات:۲۴قیمت:۲۰؍ روپے

بھٹکے ہوئے مسافر کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ اسے صحیح راستے کی جانکاری دی جائے۔ اگر جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کی رہ نمائی نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ اپنی منزل کھوٹی کرلے گا۔ اسی طرح دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں انسان کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنے آپ سے اور اپنے مالکِ حقیقی سے واقف ہوجائے ،کیوں کہ اس کے بغیر اس کی شخصیت ادھوری ہے اور دونوں جہاں کی ناکامی یقینی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے یہ عظیم ذمہ داری امت مسلمہ کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے کہ وہ ابنِ آدم کو خداشناس اور خود شناس بنائے۔ لیکن افسوس کہ امت کا بڑا حصہ اپنی اس اہم ذمہ داری سے منھ موڑے ہوئے ہے۔

زیرِ نظر کتاب پیغامِ حق کی ترسیل محترم جناب محمد اقبال ملا، مرکزی سکریٹری شعبۂ دعوت ، جماعت اسلامی ہند کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف کا احساس ہے کہ عصرِ حاضر کے سلگتے مسائل کا بنیادی حل دعوتِ دین کے فریضے کی ادائیگی میں پنہاں ہے۔ یہی نکتہ اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے۔ اس کا پیش لفظ مولانا محمد فاروق خاںنے تحریر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں: دین سراپا خیر ہے اور قابلِ قبول و قابلِ عمل ہے۔ وہ جیسا ہے ویسا ہی پیش کریں۔ ایمان کے دعو ے دار اگر ایسا نہیں کرتے تو دنیا میںاس سے بڑا ستم دوسرا نہیں ہوسکتا۔ (ص۶)کتاب کی ابتدا میں فاضل مصنف نے اس حقیقت کا بجاطور پر اظہار کیا ہے کہ فریضۂ دعوت کی ادائی فطری انداز میں ہوسکتی ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں سیدھے سادے طریقے پر انسانوں سے بات چیت ہونی چاہیے۔ محض تقریروں، کتابوں، فولڈرس اور تبادلۂ خیال سے یہ فریضہ انجام نہیں پاتا، بلکہ دعوت دینے والے فرد یا گروہ کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ (ص ۹)

انہوں نے دعوتِ دین کا کام انجام دینے والوں کے دل میں اٹھنے والے موہوم اندیشوں اور شیطانی وساوس کا بھی بھرپور جائزہ لیا ہے۔ اس اہم اور ضروری نکتہ پر زور دیا ہے کہ داعی پہلے قدم پر ہی کام یا ب ہے۔ اس راہ کا ہر قدم مبارک ہے اور ہدایت دینے والی ذات اللہ کی ہے۔اس کا ارشاد ہے:اِنَّ عَلَیْنَا للہدیٰ۔ اللیل :۱۲( بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمے ہے ۔)

فاضل مصنف نے دعوت کے میدان میں کام کرنے کے لیے اصل شرط کا ذکر کرتے ہوئے ایک پتے کی بات یہ لکھی ہے کہ دعوت کے لیے ڈگری، تعلیمی قابلیت یا ہنر شرط نہیں ۔یہ سب ہوں تو دعوت کے کام میں مددگار ہوں گے۔ جو شرطِ اول ہے وہ یہ کہ دعوت کا جذبہ ہو، انسانوں سے محبت ہو، انہیں جہنم کے خوف ناک عذاب سے بچانے کی فکر ہو۔ حق بات کو پیش کرنے کی جرأت ہو۔ حق کے بارے میں کوئی ڈر، خوف نہ ہو اور کسی سے مرعوبیت نہ ہو۔ (ص: ۱۲)

عملی میدان میں داعی کوسرد و گرم دونوں طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مصنف کو بھی اس حقیقت کا احساس ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: فرض کیجیے، کسی مقام پر داعی کو مخاطبین سے حوصلہ افزا جواب نہیں ملتا، یا منفی رویہ سامنے آتا ہے۔ ایسے مواقع پر دعوتی گفتگو نہ ہوسکے تب بھی انسانی تعلقات کو قائم کرکے رکھنا چاہیے۔ توقع ہے کہ آپ کے حسنِ اخلاق اور سلوک سے مخاطب ضرور متاثر ہوں گے۔ (ص ۱۶)

اس کتاب کے آخر میں مصنف نے وحدتِ ادیان (Unity of Religions)کا مختصر اور جامع جائزہ عقلی بنیادوں پر لیا ہے اور اسلام کا موقف واضح کیا ہے۔ اس کے علاوہ دعوتِ دین کی علمی تیاری کے سلسلے میں بھی رہ نما خطوط رقم کیے ہیں۔ کتابت کی غلطیاں جابجا ہیں، جو کم از کم اس مختصر سے کتابچہ میں نہیں ہونی چاہیے تھیں۔

یہ مختصر سی کتاب داعیانِ اسلام کی راہ نمائی کے لیے اچھا مواد فراہم کرتی ہے۔ امید ہے۔ اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔

( محمد معاذ)

 

 

 

 

نام كتاب : قرض کے آداب

مصنف : محمد خالد ضیا صدیقی ندوی

ناشر : امام بخاری ریسرچ اکیڈمی، امیر نشاں، علی گڑھ ، یوپی

سنہ ٔ اشاعت : مئی ۲۰۱۷ء،صفحات:۶۰،قیمت 50/=روپے

اسلامِ دین فطرت ہے ۔ اس نے زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے ہمیں ایسی ہدایات سے نوازا ہے ، جن سے ہماری زندگی کی گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے، نہ وہ کسی کو بوجھ محسوس ہو اورنہ وہ زندگی سے فرار کے متعلق کچھ سوچے ۔ انسانی زندگی کوچلانے کے لیے قرض کی ضرورت بھی پڑتی ہے ۔ کسی کوقرض لینا پڑتا ہے اورکسی کواللہ تعالیٰ نے اتنا نوازا ہے کہ وہ قرض دے سکتا ہے ۔ مؤلف کتاب کے الفاظ میں مدد کی بہت سی شکلوں میں سے ایک شکل قرض کی ہے ۔ شریعت نے بعض احوال میں قرض دینے کا ثواب صدقے سے زیادہ رکھا ہے ، اسی لیے اس کے لین دین کے آداب بھی بتلائے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ اس پہلو سے اسلامی احکام وآداب اورشرعی تعلیمات وہدایات سے غفلت عام ہے۔ لوگوں کومعلوم ہی نہیں اور نہ اس کی فکر ہے کہ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ معاشرتی زندگی کا اسلامی آداب واحکام سے خالی ہونا صرف افسوس ہی کی بات نہیں، بلکہ ہمارے زوال کی نشانی بھی ہے۔ ( ص ۱۲،۱۳)

یہ کتاب پانچ فصول پر مشتمل ہے : فصل اوّل میں قرض کا مفہوم ، فضیلت اوراس کے متعلق اسلامی تعلیمات وہدایات پر گفتگو کی گئی ہے ۔ فصل ِدوم میں تنگ دست مقروض کومہلت دینے اور معاف کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ فصل سوم میں نادار مقروض کے تعاون کے سلسلےمیں بعض اسلاف اور صحابہ کرام کے واقعات بیان کیےگئے ہیں ۔ فصل چہارم میں ادائی قرض کے متعلق دعائیں مذکور ہیں ۔ فصل پنجم میںقرض کے بارے میں چند متفرق مسائل ہیں، مثلاً قرض کی ادائیگی میں زیادہ رقم دینے کا حکم، مقروض کے گھر کھانا پینا، غیر مسلموں سے قرض لینے کا حکم، قرض معاف کرکے دوبارہ مطالبہ کرنااور موبائل سم میں قرض لینے کا حکم وغیرہ ۔ یہ مسائل فقہ وفتاویٰ کی بعض کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ اگریہ کہا جائے کہ ایک مختصر کتاب میں ان تمام مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جوعام اور روز مرہ کی زندگی میں ایک انسان کو قرض کے متعلق پیش آتے ہیں تویہ بات بے جانہ ہوگی ۔ البتہ بعض امور میں تشنگی کا احساس ہوتا ہے جو سماج میںموجود ہیں، جیسے مہاجنی قرض کا رواج ہے ،جوسود در سود کی شکل میں ہے اورگاؤں دیہات اس نظام میں جکڑے ہوئے ہیں اس کا حل بتانے کی بھی ضرورت تھی ۔ مال داروں کے پاس پیسے ہوتے ہوئے بھی وہ ضرورت مند وں کو قرض حسن دینے سے کتراتے ہیں ۔ اس کا تذکرہ کرنا چاہیے تھا۔امید ہے کہ قرض کے آداب سے متعلق یہ رسالہ عوام کی اصلاح میں معاون ثابت ہوگا۔ کتاب کی زبان عام فہم اورسہل ہے ۔ پیش کش عمدہ اور گٹ اپ جاذب نظر ہے ۔ رسالہ کی قیمت بھی مناسب ہے۔

(عبدا لحیّ اثری)

ڈی ۳۰۷، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۔۲۵

 

 

 

 

نام كتاب : روداد اجتماع حیدرآباد(۱۹۵۲ء)

مرتب : شعبۂ تنظیم جماعت اسلامی ہند

ملنے کا پتہ : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، D-307، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر،نئی دہلی

سنۂ اشاعت : ۲۰۱۸، صفحات: ۱۵۲، قیمت۔؍۱۲۰ روپے

۲۵؍اگست ۱۹۴۱ء کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی نگرانی میں پچھّتر (۷۵) افراد پر مشتمل ایک اجلاس میں جماعت اسلامی کی بنیاد پڑی ۔اس کی تاسیس کے چھ(۶) سال بعد ملک تقسیم ہوا تو جما عت بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔مولانا مودودیؒ جماعت اسلامی پاکستان کے امیرمنتخب ہوئے اور ہندوستان میں رہ جانے والے جماعت اسلامی کےارکان نے باہم گفتگو ومشاورت کے بعد مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ کوجماعت اسلامی ہند کا پہلا امیر منتخب کرلیا ۔

ایسےنازک حالات میں مولانا ابواللیث ندویؒ نے جس ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا ، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ اس وقت کے حالات کا اندازہ ان کے درج ذیل اقتباس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

بہ حیثیت امیر جماعت جب مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے میںنے جماعت کے کام کا آغاز کیا تو ابتداء ً کام چلانے کے لیے مجھے ایک قریبی بستی سلطان پور کے مقبول احمد نام کے ایک نہایت مخلص رکن جماعت سے پچاس روپے بطور قرض لینے پڑے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقبول بندے سے حاصل شدہ رقم میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ اس کاخواب وخیال میں بھی تصوّر نہیں کرسکتے۔ (جماعت اسلامی ہند کیوں اور کیسے؟ مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ ، ص ۹۲)

تقسیم ملک کے بعد مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ کی امارت میں جماعت اسلامی ہند کے نئے سفر کا آغاز ہوا ۔ اُس نازک وقت میں مولانا نے جس طرح ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا اور جس منظم انداز میں جماعت اسلامی کوکام یابیوں سے ہم کنار کرایا اس کی ایک جھلک زیر نظر مجموعہ میں دیکھنے کوملتی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی بنیادی خصوصیات میںیہ بھی ہے کہ وہ ابتدا سے شورائیت اور احتساب کی امین رہی ہے ۔ یہ بنیادی خصوصیات جماعت کے تمام پروگراموں میں نظر آتی ہیں، خواہ وہ مقامی سطح کے ہوںیا صوبائی و مرکزی سطح کے، وقفے وقفے سے جماعت کی سرگرمیوں اورکارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اورشورائیت کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے ۔ روداد اجتماع حیدرآباد (۱۹۵۲) اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ یہ اجتماع تقسیم ہند کے بعد کا دوسرا آل انڈیا اجتماع تھا۔ (پہلا اجتماع ۱۹۵۱ء میں رام پور ہوا تھا، جس کی روداد مطبوعہ شکل میں ملتی ہے ۔) اس اجتماع میں شامل ہونے والے افرادکی مجموعی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی ، جس میں چھپن(۵۶) شمالی ہند کے نمائندہ تھےاور بقیہ شرکاء جنوبی ہند کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے تھے۔ چند اصحاب سیلون (سری لنکا ) سے بھی شرکت کے لیے آئے تھے اور چند غیر مسلم حضرات بھی شریک تھے۔( ص ۱۱)

اس سہ روزہ اجتماع کی روداد کوپڑھ کر اس وقت کے حالات اور جماعت کے لائحہ عمل، اقدامات اور کارکردگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔اس میں ذمہ دارانِ جماعت کی تقاریر اور سوالات و جوابات درج ہیں ۔ زیر بحث موضـوعات ، فیصلے وغیرہ کوتاریخ ، دن اور وقت کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے ۔ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری ایسا محسوس کرتا ہے ،گویا وہ اس اجتماع کواپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔

زیر نظر رودادِ اجتماع میںایک عنوان تنقیدات وشکایات کے عنوان سے بھی ہے (ص ۲۶) اس میں شرکاء امیر جماعت سے اپنی شکایات اورتاثرات پیش کرتے ہیںاور امیر جماعت ان پر فوراً کارروائی کرتے ہیں، مشورے پیش کیے جاتے ہیں تو انہیں قبول کیا جاتا ہے ۔

جماعت اسلامی کے اجتماعات عوامی ہوا کرتے تھے۔ وہ ارکان اورکارکنان تک محدود نہ تھے۔ جماعت کے علاوہ دیگر حلقوں اور دیگر جماعتوں اورتنظیموں سے وابستہ لوگوں کو بھی شرکت کا موقع دیا جاتا تھا ، تاکہ وہ جماعت اسلامی کوقریب سے دیکھ سکیں ۔ ایک افتتاحی خطبے میں مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ فرماتے ہیں: وہ لوگ جوجماعت کی دعوت کو سمجھنے آئے ہیں ، ان سے میری درخواست ہے کہ وہ ایک طرف تو نظم وضبط کی پابندی کریں ،تاکہ ان کی وجہ سے اجتماع میں انتظامات میںمنتظمین کودشواریاں نہ لاحق ہوں، دوسری طرف وہ اس بات کی پوری کوشش کریں کہ اجتماعات کی کارروائیوں میں توجہ اوردل چسپی کے ساتھ حصہ لیں اورخالی واقعات میںرفقاء جماعت سے مل کر جماعت کی دعوت سمجھنے کی کوشش کریں ،تاکہ ان کا مقصد پوری طرح حل ہوسکے ۔ (ص ۴۸)

اس ر وداد اجتماع سے ان شاء اللہ جماعت اسلامی ہند کے ابتدائی زمانے کے احوال، سرگرمیوں اورمشکلا ت و مسائل کوجاننے میں مدد ملے گی۔

(محمد اسعد فلاحی)

معاون شعبۂ تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند

 

 

 

 

نام كتاب : امام مودودیؒ ایک مصلح ، ایک مفکر، ایک مجدد

مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی، مترجم: ابوالاعلیٰ سید سبحانی

ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس ، نئی دہلی ۔۲۵

سنہ اشاعت : ۲۰۱۷،

یہ علامہ یوسف القرضاوی کی عربی کتاب نظرات فی فکر الاالمودودی ؒ ۔ کا ترجمہ ہے، جسے ابوالاعلی سید سبحانی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کتاب کےبارے میں مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی نے لکھا ہے:

ــ علامہ مودودی ؒ پر لکھی گئی کتابوں میں سب سے اہم اور سب سے زیادہ زوردار کتاب ہے ۔ اس کتاب کی الگ شان ہے اور الگ آن ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صحیح ہے کہ کسی کے علم و فضل کواہل علم و فضل ہی پہچانتے ہیں ،کسی کی بلندیوں کی پیمائش بلندیوں پر رہنے والے ہی کر سکتے ہیں۔(ص:۱۰)

۱۴۴ ؍صفحات پر مشتمل اس کتاب میں تین مرکزی عناوین ہیں اور ان کے تحت ذیلی عناوین ہیں ، پہلاعنوان مولانا مودودیؒ ؒبحیثیت ایک مفکرمیں ۱۴ ؍ذیلی عناوین ہیں ۔ جن میںفکر مودوی ؒ کی نمایاں خصوصیات فہرست سے غائب ہے ۔دوسرا عنوان مولانا مودودی ؒبحیثیت مصلح اور داعی انقلاب۱۷؍ذیلی عناوین پر مشتمل ہے ۔ تیسرا عنوانمولانا مودودی ؒ کے ناقدین اور اُن کی قِسمیں میں؍۲۰ذیلی عناوین ہیں ۔ تعلق باللہ میں صفحہ ۸ہے ،۸۲ ہونا چاہیے تھا۔ اس وجہ سے قاری کو مطالعہ میں الجھن ہو سکتی ہے ۔ کتاب کے صفحات،تزئین و ترتیب عمدہ ہیں ۔ جو بات کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ ٹائٹل پر مولانامودودیؒ کی تصویر ہے ۔ یہی تصویراصل کتاب میں بھی موجود ہے ۔ جب کہ واضح ہے کہ مولانا مودودی ؒ بلا ضرورت تصویر کشی کے قائل نہیں تھے۔ پھرکیا علامہ یوسف القرضاوی نے محض عقیدت مندی کی بنا پر تصویرشامل کی یا مترجم نے اپنی طرف سے اس کا اضافہ کردیا ہے؟

ابوالاعلی سید سبحانی نے آسان ، عام فہم ومربوط جملے استعمال کیے ہیں ۔ ترجمہ رواں اور با محاورہ ہے ۔ حتی الامکان ایسے الفاظ سے پرہیز کیا گیا ہے جن کے مترادفات اردو میں موجود نہیں ہیں ۔سید سبحانی کی ترجمہ نگاری کو سمجھنے کے لیے ایک مختصر اقتباس ملاحظہ ہو ۔اگر وہ (مولانا مودودیؒ)ایک آنکھ سے اسلام کو دیکھ رہے ہوتے تھے ،تو دوسری آنکھ سے زمانے کو دیکھ رہے ہوتے تھے ۔ وہ حالات حاضرہ سے کٹ کر ماضی کے تہ خانوں میں جینے کے قائل نہ تھے،بلکہ وہ موجودہ عقل سے اسی کی زبان میں گفتگو کرتے تھے، اسی کی منطق سے اس سے مناظرہ کرتے تھے اور اس کے فکری اورعلمی مسلّمات سے ہی اس پر وار کرتے تھے ۔ ـ۵۰)

ابوالاعلیٰ سید سبحانی کایہ تیسرا ترجمہ ہے ۔ ڈاکٹر صلاح سلطان مصری کی عربی تصانیف اُمت کی تشکیل میں قبلہ کا کرداراوراصلاح اور آزادی کا طریقہ کار :سورہ الحشر کی روشنی میں کا اردو ترجمہ اسلامک فقہ اکیڈمی نئی دہلی میں زیر طبع ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف ہندستانی زبانوں میں شایع شدہ تصانیف پر بحیثیت مترجم نظرثانی کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔اس کا بہترین نمونہ ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس سے شائع ہونے والی کتاب دعوہ گائیڈ ہے ۔ قاری کو مولانا کی شخصیت چلتی پھرتی نظر آتی ہے ۔ بظاہر کتا ب مولانا کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے باوجود کئی مفکر ین اسلام کے چھوٹے چھوٹے واقعات جاننے کا بھی موقع ملتا ہے ۔ سید جمال الدین افغانی اور امام حسن البنا شہید کے تذکرے قاری کوتوانائی بخشتے ہیں ۔یوسف القرضاوی نے انتخاب میں اسلامی تحریک کے افراد کی شمولیت پرپُر مغز بحث کی ہے ۔ اردو پیرایہ میں اسے زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔یہ کہنے میں تامل نہیں کہ کتاب مولانا کے افکار و خیالات کی پیش کش میں کامیاب ہے ۔ مولانا کی شخصیت اس میں جھلکتی ہے ۔

(ناز آفرین )

ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو،رانچی یونی ورسٹی ،رانچی۔ جھارکھنڈ

naaza55@gmail.com

 

 

 

 

نام كتاب : بندۂ مولا صفات (مولانا آر۔ عبدالرقیبؒ)

مصنف : محمد عبداللہ جاوید

ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی ۔25

سنہ ٔ اشاعت : ۲۰۱۷ء،صفحات:۸۰،قیمت 60/=روپے

تحریک اسلامی ہند کا فکری رویّہ شخصیت پرستی کے خلا ف ہے ،البتّہ کسی علمی اورتحریکی شخصیت کے تعارف سے وابستگانِ تحریک کے جوش وجذبہ اورتحریکی ربط وتعلق میں اضافہ ہوتا ہے اور اس شخصیت کے افکار اور تعلیمات کا وسیع حلقے میں تعارف ہوتا ہے ۔ ایسا کرنے میں عقیدت کا پہلو کم اورتحریک (INSPIRATION) کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔

زیر نظر کتاب بندۂ مولا صفات جناب محمد عبداللہ جاوید کی تصنیف ہے۔ ایک ایسی شخصیت پرقلم اُٹھایا ہے ۔ جوتحریکی حلقے میں منفرد خصوصیات کی حامل تھی ۔ وہ ہیںجناب :مولانا آر۔ عبدالرقیب ،جن کا تعلق ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو سے تھا۔ اس کتاب میںا ن کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اسے پندرہ (۱۵) جلی سرخیوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، جو اس طرح ہیں :ابتدائی حالات، تحریک سے وابستگی، مخالفانہ ماحول، تحریکی خدمات، اہل وعیال کی تربیت ، دعوتی کوششیں ، اصلاح معاشرہ، علمی ارتقا وکمال ، بندۂ مولا صفات ، ایمرجنسی اورقید و بند کی صعوبتیں ، الامیر الرقیب، انتقال، افاداتِ ورقیب، یادرقیب۔

کتاب کی ابتدا میں بتا یا گیا ہے کہ موصوف مولانا عطاء اللہ عمری کی کوششوں سے تحریک اسلامی سے وابستہ ہوئے ۔ آپ سلفی المسلک تھے۔ نامساعد حالات کے باوجود تحریک میں شامل ہوگئے تھے۔ تعلیم وتعلم سے شروع سے ہی تعلق تھا، جو آخری عمر تک برقرار رہا۔ آپ تحریکی افراد کوقرآن فہمی کی جانب متوجہ کرتے رہتے تھے اوران کی علمی استعداد کوبڑھانے کے لیے مطالعہ پر زور دیتے تھے۔ آپ منکسر المزاج ، سادہ طبیعت، خوش مزاج ، صبروتحمل کا پیکر اور رحم دل انسان تھے۔ ایمرجنسی کے زمانے میں جب جماعت اسلامی پر میسا(MISA) اور ڈی آئی آر(DIR) کے تحت پابندی لگی تو آپ بھی جیل گئے اورقیدو بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ۔ جیل میں دعوت وتبلیغ کا کام کرنا، علم حاصل کرنا اور قیدی ساتھیوں کو علم سکھانا آپ کا محبوب مشغلہ تھا ۔ آپ بلا تفریق قیدیوں کواردو پڑھاتے۔ آپ نے قید کے دوران میں ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لیا ۔ کبھی کسی سے اپنی ذاتی اورگھریلو پریشانیوں کا ذکر نہیں کیا ۔

مولانا آر عبدالرقیب اس تعلق سے بھی فکر مند بھی رہتے تھے کہ لوگوں میں تحریکی مزاج کس طرح پیدا کیا جائے؟ اوراس کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں؟ وہ چاہتے تھے کہ اقامت دین کے لیے لوگوں کو تیار کیا جائے اورانہیں ایمان ، اخلاص اور سعی وجہد کا نمونہ بنایا جائے ۔ رفقائے تحریک کے درمیان وہ اُلفت ومحبت اور خیر خواہی کا پیکر تھے۔

اس کتاب میں جہاں آر عبدالرقیب صاحب کی دیگر خصوصیات کا ذکر ملتا ہے وہیں اس کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ ہمہ وقتی خدمات کے لیے کارکنوں کا انتخاب بڑی حکمت سے کرتے تھے۔ ان کی صلاحیتوں اور علمی لیاقت کے حساب سے ذمہ داری تفویض کرتے تھے۔آپ نے تحریکی افراد کی علمی استعداد بڑھانے اور ان کی تربیت کرنے کی بھر پور فکر کی وہیں اپنے اہل وعیال اورافراد خاندان کی تربیت کا بھی اہتمام کرتے اور ان کے لیے فکر مند رہتے تھے۔

اس کتاب کا مطالعہ عام مسلمانوں کے لیے بھی مفید ہوگا، لیکن خاص طور پر تحریکی افراد کے لیے اس کی افادیت بڑھ کر ہے ۔تحریک اسلامی سےوابستہ ہر فرد کواس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔ اس کتاب میں اپنی ذات کی اصلاح ، دعوت کے طریقۂ کار، اوراحباب سے ربط وتعلق کے سلسلے میں بہت مفید اور قیمتی باتیں اختصار اورجامعیت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ توقع ہےکہ تحریکی حلقوں میں اس کتاب کو پزیرائی ملے گی اور اس سے فائدہ اُٹھایا جائے گا۔ (خان محمد رضوان )

یونیورسٹی آف دہلی

Mob:9810862283

Email:afeefrizwan@gmail.com