ڈاکٹر سید محی الدین علوی

داعیان حق کے کلام کی خصوصیات

داعیان حق نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اللہ کے رسولﷺنے اس کا حکم دیا ہے خدا کی قسم تمہیں نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جو ظالم ہوں گے ۔ تم خدا ئے تعالیٰ سے دعا مانگو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوگی ۔ داعیانِ حق کو شیریں بیاں ہونا چاہیے اور کوئی ایسا لفظ منھ سے نہیں نکالنا چاہیے جس سے دل آزاری ہوتی ہو لیکن حق کے معاملے میں اور اظہار ِ حق میں کسی کی پرواہ نہ کریں۔با ت مختصر ہو اور لہجہ میں نرمی ہو اور ایک دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ اظہار ِ خیا ل کریں ۔ ایک نوٹ کرنے والا فرشتہ ان کی ایک ایک بات کو نوٹ کررہا ہے اور کل قیامت کے روز اعمال کے دفترمیں اس کا ریکارڈ خدائے عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا ۔ ارشادِ خدائے وندی ہے انسان منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے ـ۔(ق: ۱۸) حدیث میںآتا ہے کہ انسان ایک بات کہدیتا ہے جس سے وہ جہنم کے قریب ہوجاتا ہے ، یا ایک بات اُسے جنت سے قریب کردیتی ہے ۔

بے سوچے سمجھے کوئی بات نہیں کہنی چاہیے ، عقلمند پہلے سوچتا ہے اور پھر بولتا ہے ۔ داعیان حق کو چاہیے کہ پہلے تولیں اور پھر بولیں ۔ تقریر میں اختصار ہونا چاہیے بات مختصر اور مفید ہو، نبی کریمؐ کے اس مختصر جملے پرغور فرمائیے جو آپ نے نبوت کے آغاز میں ارشاد فرمایا تھا " یاٰیھا الناس قولو لاالٰہ الااللہ تفلحوا: لوگوں کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کامیاب ہوجاؤ گے ۔ ایک اور موقع پر اللہ کے رسول ﷺ دعوت ِ اسلامی کے آغا ز ہی میں ارشاد فرماتے ہیں ـتم ایک کلمہ قبول کرلو ، عرب وعجم تمہارے تابع ہوجائیں گے ۔ داعیان حق کو کیسی گفتگو کرنی چاہیے اس کے لئے سورۂ نوح کا مطالعہ کیجئے ۔ اس میں حضرت نوحؑ کی دعوتی سرگزشت مجموعی طورپر بیان کی گئی ہے۔

اسلوب کی اہمیت:

سور ۂ جن میں حضور اقدس ﷺ کی دعو ت کی سرگزشت جنوں کی زبانی بیان ہوئی ہے ۔ جب غزوہ ِ حنین کا معرکہ سرزد ہوا تو مسلمانوں کو تعداد کی کثرت پر غرور آنے لگا مسلمان تعداد میں بارہ ہزار تھے اور کفار کم تھے یہ بات اللہ کو ناگوار گزری ۔ مسلمانوں کو کفار کے لشکر سے تیروں کی بارش سے ہزیمت اٹھانی پڑی بالاآخر مسلمانوں کو کامیابی فرشتوں کی مدد سے حاصل ہوئی جب مالِ غنیمت کی تقسیم اللہ کے رسول نے کی تو انصار میں چند نوجوانوںکو اعتراض ہوا اور وہ چہ میگوئیاں کرنے لگے تو انصارکے شیوخ نے کہا یا رسول اللہ ہم دل وجان سے آپ پر فداہیں اور کوئی ایسی بات ہم کرہی نہیںسکتے جس سے اللہ اور اسکے رسول ناراض ہوجائیں ۔ یہ ہمارے چند نوجوان ہیں جنہوں نے اس طرح کے کلمات ادا کئے ۔ آپ انہیںمعاف کردیں۔ حضور ﷺ انصارکو ایک جگہ جمع ہونے کے لئے کہااور ایک یاد گار تقریر فرمائی جو سیر ت کی کتابوںمیں محفوظ ہے انصار کے لوگو یہ کیسی چہ میگوئیاں ہیں اور کیسی گفتگو ہے ۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اور لوگ تو اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔ اس پر انصار میں آہ وزاری شروع ہوئی اور روتے روتے ان کا برا حال ہوگیا ۔ انہوںنے کہا آئے اللہ کے رسول ﷺ آپ پر ہماری جان فدا، بے شک یہ ہمارے لیے بیحد خوشی کی بات ہے کہ ہم اللہ کے رسولﷺ کو اپنے ساتھ مدینہ لے جارہے ہیں۔

داعیان ِ حق ایک طرف برادران ملت کی اصلاح کا کام انجام دیتے ہیں اور دوسری جانب برادران ِ وطن میں توحید، رسالت اور آخرت کو کھول کھول کربیان کرتے ہیں۔ مسلمانوںاور اسلام کے تعلق سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں یہ کام تقریر سے بھی ہوتا ہے اور تحریر سے بھی۔ تحریر سے جو کام ہوتا ہے وہ دیرپا ہوتا ہے اور اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں ۔ اگر صاحب ِ تحریر اس دنیا سے رخصت ہوجائے تب بھی اس کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے ۔

دعوت وتبلیغ شعر وادب کے ذریعہ بھی کی جاسکتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری اور الطاف حسین حالی کی مسدس اس کی مثال ہیں ۔ حالیہ دور میں ادارہ ادبِ اسلامی ہند نے شعر وادب کے ذریعہ دین اسلام کی بڑی خدمت انجام دی ۔ شعراء میں حفیظ میرٹھی، عزیزبگھروی، ماہر القادری ، نعیم صدیقی، عامر عثمانی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

تیاری کی ضرورت :

اظہار خیال خواہ تذکیر ہی کیوں نہ ہو، تیاری چاہتا ہے۔داعیان حق کو چاہیے کہ با ر بارپرانے طرز کا اعادہ نہ کریں نئی بات پیش کریں ۔ ایسے بہت کم داعیان پائے جاتے ہیں جو خواہ آٹھ منٹ کی تقریر ہو پوری تیاری کے ساتھ کرتے ہیں۔ مولانا عبد العزیزؒ سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند ، فروری 1981 ء میں منعقد آل انڈیا اجتماع جماعت کے ناظم تھے۔ اجتماع کاتعارف کرانے کے لیے گوشہ محل پولیس اسٹڈیم میں آٹھ منٹ کی تقریر کا موقع ملا مولانا مرحوم نے آٹھ منٹ سے ایک منت بھی زیا دہ نہیںلیا اور عنوان کا حق اداکردیا ۔ اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی حیدرآباد آمد کے موقع یہ جلسہ عام رکھا گیا تھا۔ یہ تقریر مسز اندراگاندھی نہیں سن سکیں ۔ کیونکہ وہ اس وقت تک نہیںپہنچ پائی تھیں لیکن بھرے مجمع پرایک سناٹا طاری ہوگیا تھا۔ سبھوں نے مولانا کی تقریر کو غور سے سنا اور اثر قبول کیا۔

داعیانِ حق کو چاہیے کہ وہ اپنے اظہار ِ خیال کے لئے اپنے مقررہ وقت سے زیادہ وقت نہ لیں ۔ افسوس کہ بہت سے مقررین کو اس کا خیال ہی نہیں رہتا ۔ تقریر میں ریا اور دکھاوا نہ ہو تصنع اور بناوٹ نہ ہو ، عقلی دلائل کے ساتھ بات کی جائے زور بیان اور سلاست ہو ۔ جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے اور مخاطب کی کردار کشی نہ کی جائے ۔ داعیانِ حق کے کلام میں حسن و خوبی و اخلاص ہو۔ ان کے کلام میں مقصدیت گفتگو میں جوش و جذبہ تو ہو مگر عقلی دلائل اور استدلال کے ساتھ ۔ داعیانِ حق کو خود عمل کا پیکر ہونا چاہیے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دوسروں کو نصیحت کریں اور خود عمل نہ کریں ۔