محمد اعظم

موجودہ دور میں امن و امان کا مسئلہ

امن سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تمام معاملات معمول کے ساتھ بغیر کسی پر تشدد اختلافات کے چل رہے ہوں امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند ، مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی ، معاشی اور سیاسی حقوق و تحفظ حاصل ہوتے ہیں ۔ بین الاقوامی تعلقات میں امن کا دور اختلافات یا جنگ کی صورتحال کی غیر موجودگی سے تعبیر ہے امن کی عمومی تعریف میں کئی معنٰی شامل ہوتے ہیں ان میں مجموعی طور پر امن کو تحفظ ، بہتری، آزادی، دفاع ، قسمت اور فلاح و بہبود کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔

انفرادی طور پر امن سے مراد تشدد سے خالی ایک ایسی طرز زندگی کا تصور لیا جاتا ہے جس کی خصوصیات میں افراد کا ادب ، انصاف اور عمدہ نیت مراد لی جاتی ہے ، دنیا کی مختلف زبانوں میں لفظ امن یا سلامتی کو خش آمدید یا الوداعی کلمات کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے عربی زبان میں سلام امن یا سلامتی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ایسے ہی انگریزی زبان میں (Peace)کا لفظ الوداعی کلمات میں استعمال ہوتا ہے ۔ امن اور مذہب ایک دوسرے سے ایسے وابستہ ہیں گویا دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے مذہب اگر پودہ ہے تو امن اسکا ثمرہ ہے ، مذہب اگر راستہ ہے تو امن اس کی پہلی منزل ، مذہب اگر سایہ دار درخت ہے تو امن اس کی ٹھنڈی چھائوں ، امن زندگی کے اہم ترین مطالبات میں سے ہے جس کی بدولت خوشحال زندگی میسر آتی ہے اس کی بدولت اطمینان و استحکام نصیب ہوتا ہے امن ہی کی وجہ سے فتنوں اور فسادات سے تحفظ فراہم ہوتا ہے لہٰذا امن ایک نعمت غیر مترقبہ اور بہت بڑا احسان ہے جس کی حقیقی قدر وقیمت سے وہی شخص آشنا ہو سکتا ہے جو امن کے فقدان کا شکار ہو جس کا ہر وقت ، رات و دن ، سفر و حضر آزردگی ، بے چینی اور اضطراب میں گزرتا ہو ۔

لیکن موجودہ دور میں دنیا امن وسکون کی تلاش میں سرگرداں و پریشان ہے ہر با شعور قلب و ذہن امن ہی کا متلاشی ہے جیسے یہ کوئی ایسا کھویا ہوا خزانہ ہو جو ڈھونڈنے سے مل جائیگا اس کھوئے ہوئے امن کی تلاش میں اب تک دنیا بھر میں بڑی سے بڑی تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں اور امن کے بین الاقوامی ایوارڈز تک متعارف کروائے جا چکے ہیں اتنی تلاش کے باوجود بھی حالات ہیں کہ دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں اور بد امنی و بے اطمینانی ایک وبا کی شکل اختیار کر گئی ہے انسانی جان تباہی و بربادی سے دو چار ہے ظلم و عدوان شباب پر ہے فرد فرد اور جماعت جماعت میں آویزش و تصادم کا سلسلہ جاری ہے ظلم و بربریت ، قتل و غارت گری اور خوں ریزی کا دور دورہ ہے پوری انسانیت سسکتی اور بلکتی نظر آرہی ہے اس بد امنی نے لاکھوں خواتین کو بیوہ کر دیا نہ جانے کتنی ہی بہنوں سے ان کے بھائی چھین لئے اور دنیا کے لاکھوں انسانوں سے ان کی مسکراہٹ چھین لی ہے ۔ اس بد امنی کے دور کو امن و سلامتی کے دور میں کیسے بدلا جا سکتا ہے ؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوا جائے جن کا درس انبیاء نے دیا ہے۔

ان مذاہب میں قیام امن کے حصول کی جو تعلیمات ہیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں:

بدھ مت میں تصور امن

بدھ مت کا آغاز گوتم بدھ کے ذریعہ سر زمین ہند میں ہوا جہاں بر ہمنیت کی جڑیں بہت گہری تھی برہمن کے حد سے زیادہ غلبے نے لوگوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا تھا ، گوتم بدھ نے بدھ مت کے ذریعہ بنی نوع انسانی کو آزادی اور امن وسلامتی کا ماحول عطا کیا ۔بدھ مت ایک اہنسائی مذہب ہے اس میں ہر ذی روح شئے کو معصوم قرار دیا گیا ہے اور انسان سے لیکر چھوٹے سے چھوٹے کیڑے تک ہر جاندار کی عصمت اس معنی میں تسلیم کی گئی ہے کہ اس پر کسی بھی حال میں تجاوز نہیں کیا جا سکتا چنانچہ بودھ کے احکام عشرہ میںسب سے پہلا تاکیدی حکم یہ ہے کہ کسی جاندار کو ہلاک نہ کرو ۔ (۱)

مہاتما بدھ نے انسانی زندگی کا مطالعہ جس نقطئہ نظر سے کیا ہے وہ دنیا کے دوسرے حکماء اور معلمین مذہب و اخلاق کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہے انہوں نے سوالات پیش نہیں کیے کہ انسان دنیا میں کیوں پیدا ہوا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے بلکہ اپنی ساری توجہ اس سوال کے حل کرنے میں صرف کردی کہ انسانی زندگی میں تغیر و انقلاب کیوں ہوتا ہے ؟ بچپن، جوانی ، بیماری ، تندرستی ،پیدائش موت ، رنج و غم ، راحت اور اس قسم کے مختلف تغیرات کی علت کیا ہے ؟اور اس چکر سے نجات حاصل کرنے کی صورت کیا ہے ؟

گوتم بدھ کے وضع کردہ مذہب کے کلیدی فکری نظام کی پوری عمارت جس بنیاد پر استوار ہے اس کی تشکیل چار عظیم سچائیاں کرتی ہیں یہ سچائیاں بدھ فکر میں اساسی درجہ کی حامل ہیں جن میں گوتم بدھ کا فلسفہ مضمر ہے ۔ جو مندرجہ ذیل ہے ۔

(۱) دُکھ ۔ جس کو گوتم بدھ نے زندگی کی اصل قرار دیا ہے بدھ نے کہا ہے بکھشوئویہی دکھ ہے یہ اولین سچائی ہے ، پیدائش بھی دکھ بیماری بھی دکھ اور موت بھی دکھ ۔ (۲)

(۲) دُکھ کی علت ۔ یعنی دکھ کے اس ازلی اور ابدی کارواں کی کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی اور حقیقی علت ضرور ہے ( خواہشات ) ۔

(۳) دُکھ کاانسداد ۔ یعنی خواہشات سے خود کو بچایا جائے ۔

(۴) دُکھ سے نجات کا راستہ ۔ اس سے مراد وہ آٹھ نکاتی راستہ ہے جس پر چل کر دکھوں کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

صحیح عقیدہ ، یعنی مذکورہ بالا چاروں بنیادی صداقتوں کو اچھی طرح سمجھنا ۔

صحیح ارادہ ، یعنی ترک لذات کا مصمم فیصلہ اور دوسروں کو تکلیف پہونچانے اور ذی روح ہستیوں کو ایذاء دینے سے کامل پر ہیز ۔

صحیح گفتار ، یعنی بد زبانی ، غیبت اور جھوٹ سے پرہیز ۔

صحیح چلن ، یعنی بد کاری ، قتل نفس اور خیانت سے اجتناب ۔

صحیح معیشت ، یعنی جائز طریقوں سے روزی حاصل کرنا ۔

صحیح کوشش، یعنی دھرم کے احکام کے مطابق عمل کرنا ۔

صحیح حافظہ ، یعنی اپنے گزشتہ اعمال کو یاد رکھنا ۔

صحیح تخیل ، یعنی راحت و مسرت سے بے نیاز ہو کر عدم محض ( نروان )کی طرف د ھیان لگانا ۔

اس طریق ہشت گانہ کو عملی شکل میں لانے کے لئے بودھ نے دس اخلاقی احکام دئے ہیں جن میں سے پانچ موکد اور بقیہ پانچ غیر موکد ہیں ،موکد احکام یعنی کسی کو قتل نہ کرنا ، چوری نہ کرنا ، زنا نہ کرنا ، جھوٹ نہ بولنا اور نشہ آور چیزوں کا استعمال نہ کرنا ، یہ احکام معاشرہ کو پر امن بنانے میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

ہندو مت میں امن کا تصور

مذاہب عالم کا مطالعہ کرنے والوں اور خود اہل ہنود کے لئے یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ ان کے مذہب کی بنیاد کب اور کس نے ڈالی لیکن چوں کہ ہندوستان میں کسی بھی امر کی قدامت اس کی عظمت کی دلیل مانی جاتی ہے لہٰذا اس مذہب کے ماننے والوں کا دعوی ہے کہ ان کا مذہب دنیا کا سب سے قدیم مذہب ہے لیکن وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہندو مذہب کا آغاز کب سے ہوا ؟ اکثر مورخین اس خیال کو ترجیح دیتے ہیں کہ ہندو مت کا آغاز اس دور میں ہوا جب وسط ایشیائی قوم آریا نے ہندوستان پر حملہ کیا ۔ (۳)

ہندو مذہب میں اہنسا کو مذہب کی روح قرار دیا گیا ہے بدھ مت اور جین مت کے ظہور کے بعد لوگوں میں عدم تشدد کا فلسفہ رائج ہوا لوگوں میں یہ تصور اس قدر رائج ہوا کہ بلا ضرورت کسی بھی جاندار کو مارنا ان کے نزدیک جائز نہیں تھا اس تصور کی وجہ سے ہندو ہل نہیں سکتے تھے کہ اس سے حشرات الارض کے ہلاک ہونے کا اندیشہ تھا ۔ (۴)

ذیل میں ہندو مذہب میں حصول امن کی جو تعلیمات ہیں بالاختصار درج کی جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو:

عمل صالح کی تلقین

نیکی و بدی دنیا میں دونوں کا وجود ہے نیکی معاشرہ میں خیر اور سلامتی کا سبب بنتی ہے جب کہ بدی معاشرہ کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے ۔ چنانچہ عمل صالح سے متعلق رگ وید میں ہے کہ ۔ اے انسانوں جس قدر تمہاری طاقت ہے اس کو اتفاق کے ساتھ دھرم کے کام میں لگائو اور ہمیشہ سب کے سکھ کو بڑھائو تمہاری آکوتی یعنی قوت و حوصلہ و طریقہ اور راست شعاری بھی سب کی بھلائی کے لئے اور سب لوگوں کو سکھ دینے والا ہو ، تمہارے فعل دلی محبت پیدا کرنے والے اور ہمیشہ خصومت و دشمنی سے پاک یکساں اور متفق ہوں ، اے انسانوں تمہیں ایسی کوشش کرنی چاہئے کہ با ہمی امداد سے تمہارے سکھ ترقی پاوے ، سب فارغ البالی اور سکھی رہیں ۔(۵)

اتحاد و محبت

اتحاد و محبت معاشرئہ انسانی کے لئے ایک ایسی مضبوط بنیاد ہے کہ جس کو روبعمل لا کر بد امنی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اس کے تعلق سے ہندو مذہب کی تعلیم ملاحظہ ہو ۔

اے انسانوں تمہارا منتر سب کی بھلائی کرنے والا یعنی با ہمی مخالفت سے آزاد ہو ، تمہارا من یعنی سنکلپ وکلپ کرنے والا دل بھی یکساں یعنی با ہم متفق رہنے کا عادی ہو ۔ (۶)

بھائی اپنے بھائی سے نفرت نہ کرے بہن بہن پر نا مہربان نہ ہو ،نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو ہو ۔ (۷)

جھوٹ سے پرہیز

راست بازی اور سچائی انسان کی ایک ایسی صفت ہے کہ جس کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے وہ انسان معاشرہ میں قابل احترام شخص قرار دیا جاتا ہے اس صفت کی وجہ سے ملک و معاشرہ میں امن و امان کی فضا قائم رہتی ہے ۔ اس بابت ویدوں میں ہے کہ جو شخص سچا برت یعنی عہد کرتا ہے وہ دکشا (اعلی درجہ ) پاتا ہے اور وہ دکشا پاکر اعلی مقام اور عزت حاصل کرتا ہے اور ہر طرف اس کی قدر و تعظیم ہوتی ہے یہی اس کی دکشنا ( انعام ) ہے ۔ (۸)

اوج ( عدل و انصاف )

اوج یعنی عدل و انصاف کو نگاہ میں رکھنے کی سعی و کوشش اور تیج یعنی سچے کاموں میں دلیری اور بہادری ، بے خوفی اور دل کی شیری رکھنی چاہئے (۹) برے افعال سے بچائو اور ایماندار بنو ۔ (۱۰)

قتل نفس

قتل نفس سے متعلق ہندو مذہب میں ہے کہ ایک چیونٹی یا کسی کیڑے کی جان کو بھی اسی قدر مقدس سمجھو جس قدر تم خود اپنی جان کو سمجھتے ہو ، دشمنوں کے ساتھ بھی ہمدردانہ جذبات سے پیش آئو ۔ (۱۱)

متفرق جرائم

زنا کاری ، چوری ، نشہ ، کسی کو دھمکی دینا ، مار پیٹ کرنا ، کسی کو چوٹ پہنچانا اور اس کے علاوہ دیگر جرائم کے لئے ہندو مذہب نے مختلف سزائیں تجویز کی ہیں تا کہ امن و امان کو بحال رکھا جا سکے اور معاشرہ کی فضا خوشگوار اور پر امن بنی رہے ۔

یہودیت اور امن

یہودیت کی اساس انتہائی قدیم مذہبی عقائد پر ہے موجودہ مذاہب میں سب سے قدیم مذہب یہی ہے اس مذہب پر ایک چھوٹی سی قوم کا اعتقاد ہے جو اسی مناسبت سے یہودی کہلائی ۔ یہودیت کی کوئی معین تعریف مشکل ہے کیوں کہ اس مذہب کے کم سے کم عقائد کا تعین نہیں کیا جا سکتا جو یہودی بننے کے لئے ضروری ہے البتہ یہودیت کی صحیح تعریف یہ ہے یہودیت وہ مذہب ہے جس میں ایک خدا پرایمان کے ساتھ ساتھ ایک نسل کی بر تری او رعظمت کا عقید ہ بھی داخل دین ہے (۱۲)

یہودی مذہب سیاسی و سماجی امور کے لئے بھی رہنمائی کرتا ہے یہی وہ مذہب ہے جس نے دنیا کو اجتماعی زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا اس نے انسانی تعلقات کی با ہمی عمدگی پر زور دیا معاشرہ میں قیام امن کے لئے جو قوانین نافذ کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم قانون قصاص ہے جو بڑی حد تک اسلام کے قانون قصاص سے مماثلت رکھتا ہے ۔ معاشرہ میں امن و سلامتی کے لئے احکام عشرہ جو اللہ تعالی نے پتھر کی لوحوں پر کندہ کرکے حضرت موسی ؑ کو دئے تھے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں ۔

۱۔ تو اپنے ماں باپ کو عزت دے تاکہ تیری عمر اس زمین پر جو خدا وند تیرا خدا تجھے دیتا ہے دراز ہو۔

۲ ۔ تو خون مت کر ۔ ۳۔ تو زنا مت کر ۔ ۴ ۔ تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ مت کر ۔ (۱۳)

۵۔ تو اپنے پڑوسی کی جورو کا لالچ مت کر ۔ ۶ ۔ اس کے غلام کا لالچ مت کر ۔ ۷ ۔ اس کی لو نڈی کا لالچ مت کر ۔ ۸۔ اس کے بیل کا لالچ مت کر ۔ ۹۔ اس کے گدھے کا لالچ مت کر ۔ ۱۰ ۔ اور اس کی کسی چیز کا جو تیرے پڑوسی کی ہے لالچ مت کر ۔ (۱۴ )

احکام عشرہ یہودی مذہب کی اساس اور بنیاد ہے اور امن و سلامتی کے جامع اور مستنداصول ہیں۔

امن اور عیسائیت

حضرت عیسی ؑ کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائیت کا نقطئہ آغاز ہی امن کی تلاش ہے اس میں صلح و آشتی ، امن و سلامتی ، اخوت و مساوات ، ہمدردی اور با ہمی محبت و یگانگت پر زور دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہود کے ادنی طبقات اور یونان و روما کی کثیر تعداد عیسائیت میں داخل ہو کر روحانی تسکین حاصل کرنے میں سبقت لے گئی ۔ ذیل میں عیسائی ماٰخذ کی تعلیمات ِامن کو بیان کیا جاتا ہے ۔ عیسی ؑ کا ارشاد ہے امن ہی میں تمہارے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں اور امن ہی میں تمہیں دیتا ہوں سو تم اپنے آپ کو خوف و ابتلاء میں مت ڈالو ۔ (۱۵ )

محبت کی تعلیم

میں تم سننے والوں سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمن سے محبت رکھو ، جو تم سے عداوت رکھے ان کا بھلا کرو ، جو تم پر لعنت کریں ان کے لئے برکت چاہو ، جو تمہاری بے عزتی کریں ان کے لئے دعا مانگو ، جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے اس کے سامنے دوسرا بھی پھیر دے ، جو تیرا چوغہ لے اس کا کرتہ لینے سے بھی منع نہ کر ، جیسا تم اوروں سے برتائو چاہتے ہو تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی کرو ، اگر تم محبت رکھنے والوں سے ہی محبت رکھو تو تمہارا کیا احسان ہے کیوں کہ گناہ گار بھی اپنے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں (۱۶)

جو کوئی خدا سے محبت رکھے اسے چاہئیے کہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے (۱۷ )

صلح کی تعلیم

صلح و مصالحت کا نقطئہ نظر کسی بھی مذہب یا نظریہ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کی بناء پر معاشرہ میں خوشگوار فضا قائم ہوتی ہے ، حضرت عیسی ؑ کا ارشاد ہے مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں وہ تو خدا کے بیٹے کہلائیں گے (۱۸ )

عدل و انصاف کا قیام

عدل و انصاف کا قیام کسی بھی معاشرہ و سوسائٹی اور فرد و جماعت میں بد امنی کے سد باب کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے حضرت عیسی ؑ کا ارشاد ہے اے ریا کار فقیہواور فریسیو تم پر افسوس کہ تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں ، انصاف ، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے لا زم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے (۱۹)

قتل نا حق کی ممانعت

انسانی زندگی کے تقدس کی پامالی اور معصوم انسانوں کا قتل نا حق بہت ہی سنگین جرم ہے اس کی وجہ سے معاشرہ میں فساد و بد امنی کا ظہور ہوتا ہے ، قتل نا حق پر ضرب لگاتے ہوئے عیسی ؑ کا ارشاد ہے تم سن چکے ہوکہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خون نہ کرنا اور جو کوئی خون کریگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا ( ۲۰ )

بد کاری اور برائی کی ممانعت

کسی عورت کی جانب شہوت زدہ نظروں سے دیکھنا ہی زنا کاری کے مترادف ہے ( ۲۱)

اس نے کہا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی امن کو ناپاک کرتا ہے کیوں کہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے برے خیالات نکلتے ہیں حرام کاریاں ، چوریاں ، خوں ریزیاں ، لالچ، بدیاں ، مکر ، شہوت پرستی ، بد نظری ، بد گوئی ، شیخی ، بیوقوفی ، یہ سب بری باتیں اندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں (۲۲ )

اس کے علاوہ عیسائیت میں بد امنی کے سد باب کے لئے عفو در گزر ، عمل صالح کی تلقین ، حقوق انسانی کا تحفظ ، راست بازی ، صبر و توکل پر بہت زور دیا گیا ہے تا کہ بد امنی کی مذموم فضا سے معاشرہ کو محفوظ رکھا جا سکے ۔

اسلام اور تصور امن

اسلام امن و آشتی اور صلح و سلامتی کا مذہب ہے اس نے انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات میں مکمل رہنمائی کی ہے قرآن میں امن عام کے ایک بنیادی شعار کے طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے کسی کا نا حق قتل کیا تو یہ ایسا ہے جیسا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچالی ( المائدہ : ۳۲ ) اسلام مملکت اسلامیہ میں رہنے والے تمام لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے ۔ اسلام نے صرف اپنوں ہی سے محبت کا درس نہیں دیا ہے بلکہ اپنے دشمنو ں سے بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے ، اسلام اپنے پیرو کار و متبعین کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت اور کائنات میں پائی جانے والی تمام مخلوقات سے حسن سلوک کی ترغیب دیتا ہے ۔

اسلام کی پہلی اجتماعی ضرورت امن ہے اور دنیا میں قیام امن ہی اس کا مقصد ہے اس سلسلے میں وہ سب سے پہلے انسان کی فکری فساد کی اصلاح کی طرف توجہ دیتا ہے پھر اس کی ذہنی و اخلاقی تربیت کرتا ہے اور امن و سلامتی سے ٹکرانے والے تمام اوصاف ر ذیلہ کو اس کے ذہن و فکر اور ضمیر سے صاف کردیتا ہے تاکہ اس سے ذہن و فکر میں امن و سلامتی کی نشو نما ہو سکے ۔ (۲۳ )

امن وسلامتی کے حصول کے لئے اسلام سب سے پہلے فکر و عقائد کو درست کرتا ہے اور لوگوں کو توحید کا قائل بناتا ہے اس کے ذہن میں ربوبیت و حاکمیت اور الوہیت کے تصور کو پختہ کرتا ہے ارشاد باری ہے کہو وہ اللہ ایک ہے ، اللہ سب سے بے نیاز ہے ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے ( سورۃ الاخلاص )

اس کے بعد اسلام آخرت پر ایمان کی طرف توجہ دلاتا ہے تا کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ اس کائنات کا مالک ایک دن حساب لیگا اور اعمال کے مطابق جزاء و سزا کا فیصلہ ہوگا ، اگر اعمال اچھے ہوں گے تو اچھا بدلہ اور اگر معاملہ بر عکس ہوا یعنی زمین پر فساد مچایا اور بد امنی کو فروغ دیا تو پھر سزا بھی ایسی ہی ہوگی ۔ اسلام نے تقوی و خشیت پر بھی بہت زور دیا ہے تا کہ بندے اپنے مالک حقیقی سے ڈرتے رہیں کیوں کہ جب انسان کا دل تقوی سے پر ہوتا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کی یاد میں رہتا ہے پھر انسان فساد و بد امنی کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھاتا ہے ۔

انسانی جان کا احترام

اسلام ہر انسان کو حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے۔ اسلام نے کسی کے قتل ناحق کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ارشاد باری ہے جس نے کسی جان کو بغیر جان کے (نا حق ) قتل کیا یا زمین پر فساد مچایا تو اس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کیا ، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی ( المائدہ : ۳۲ )

صلہ رحمی

خاندان کی شیرازہ بندی و نگہہ داشت اور معاشرہ میں امن و امان کی فضا کو استوار کر نے کے لئے اسلام نے صلہ رحمی کے سلسلہ میں جو ہدایات دیں اس کو اساسی حیثیت حاصل ہے ارشاد باری ہے اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دیکر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، رشتہ داری اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پر ہیز کرو بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے ۔ ( النساء : ۱)

عدل و انصاف

دنیا میں بد امنی ، فساد اور خوں ریزی کی اصل بنیاد عدل اجتماعی کا فقدان ہے اسلام نے ملک و ریاست اور معاشرہ و خاندان کے لئے عدل و انصاف کو اہمیت دی ہے ارشاد باری ہے یقینا اللہ عدل ، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بری بات اور بے حیائی سے منع کرتا ہے اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق لو ( النحل : ۹۰ )

اس کے علاوہ ہر وہ افعال جو بد امنی کے اسباب بنتے ہیں جیسے زنا ، شراب نوشی ، چوری اور جھوٹ اسلام ان سب سے بچنے کی تاکید کرتا ہے اور ان کے کرنے والوں پر سزا کا حکم دیتا ہے کیوں کہ یہ ایسے افعال ہیں جو عقلوں کو خراب کرتے ہیں اور دلوں میں کدورت پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے امن و امان کا قیام مشکل ہوجاتا ہے ۔

دنیا کے بڑے مذاہب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب میں امن و سلامتی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے با عقل و شعور اس بات کو باور نہیں کرا سکتا کہ کوئی بھی ملک، قوم یا کوئی بھی زمانہ امن و سلامتی کے بغیر کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرے اسی لئے سب لوگ ( امن پسند لوگ )خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ان کی یہ خواہش رہتی ہے کہ امن و سلامتی ، پیار و محبت ، بھائی چارگی اور رحمدلی کا چلن ہو تا کہ معاشرہ میں پر امن فضا قائم رہے اور پوری انسانیت سکون و اطمینان کی زندگی بسر کر سکے ۔

حواشی

(۱) مودودی ، مولانا مودودی ، الجہاد فی الاسلام ، جے ۔ کے ۔ آفسٹ پرنٹرز ، دہلی (۱۹۸۱ء) ص ۳۹۱

(۲) کمار ، رامان ، کرشن کمار ، خالد رامان ، گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک ، ترجہ پرکاش دیو ، المطبعۃ العربیۃ (۲۰۰۱ ) ص ۲۴۷ (۳) شارق ، حافظ محمد شارق ، اسلام اور مذاہب عالم ، www.Islamic studies. info ،ص ۷۳

(۴) ایضا، ص ۷۴ (۵) رگ وید ،اشٹاک ۱، ادھیائے ۸، ورگ ۴۹ ، منتر ۴

(۶) ایضا ، منتر ۳ ء (۷) یجر وید ، ادھیائے ۱۹ ، منتر ۳۰

(۸) اتھر وید ، کانڈ ۱۲ ، انوواک ۵ ، منتر ۷ (۹)یجروید ۴: ۳۸

(۱۰) ربانی ، غلام ربانی ، ہندو اخلاقیات ، دکن لار ہورٹ پریس ، حیدرآباد ، ص ۸۲

(۱۱) دیدات، شیخ احمد دیدات ، ترجمہ مصباح اکرام ، یہودیت ، عیسائیت اور اسلام ، آر ، آر پرنٹرز ، لاہور (۲۰۱۰ء ) ص ۴۷ (۱۲) بائیبل ، ب ۷ تا ۱۰

(۱۳) کتاب استثناء : ۵: ۲۲ ۔ کتاب خروج : ۲۰ : ۱ تا ۱۷

(۱۴) یوحنا : ۱۴ : ۲۷ (۱۵ ) لوقا :۶ : ۲۷ تا ۳۲

(۱۶) یوحنا : ۴: ۲۱ (۱۷) متیٰ: ۵ : ۹

(۱۸ ) متیٰ : ۲۳ : ۲۳ (۱۹ ) متیٰ : ۵ : ۱ تا ۱۰

(۲۰ ) متیٰ : ۵ : ۲۱ ( ۲۱ ) متیٰ : ۵ : ۲۸

( ۲۲ ) مرقس : ۷ : ۲۰ تا ۲۳ (۲۳ ) یوحنا : ۱۴ : ۲۷

( ۲۴ ) قاسمی ، ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی ، جنگ و امن کا تصور اسلام اور عیسائیت کی تعلیمات کے تناظر میں ، ایجوکیشنل بک ہائوس ، علی گڑھ (۲۰۱۴ ء ) ص ۲۰۷