مرزا سبحان بیگ، بھوپال

برادرانِ وطن میں اسلام کی دعوت

(امّتِ مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل کے ضمن میں)

آج پوری امّت مسلمہ بالخصوص ملّت اسلامیہ ہند گوناگوں مسائل سے دوچار ہے، محکومیت اور مظلومیت اور اخلاقی زوال کے اعتبار سے تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس صورت حال سے نجات کی کوئی ممکن صورت نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ امّت بالخصوص ملّت اسلامیہ ہند فوری اور پوری یکسوئی کے ساتھ دو نکاتی لائحہ عمل کو اختیار کرلے۔ ایک تو یہ ہے اپنی اصلاح، ہمہ گیر اصلاح۔ دوسرے ، برادرانِ وطن میںاسلام کی دعوت، مکمل اسلام کی دعوت۔

جہاں تک مسلمانوں کی اپنی اصلاح وہ بھی ہمہ گیر اصلاح کا تعلق ہے ، تو حقیقت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے بدترین فکری ، قولی و عملی بحران سے دوچار ہیں اور اسی لئے وہ بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔ اس حقیقت کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ امّت کے علماء کرام اور قائدین عظّام نے اس طرف فوری متوجہ ہوکر مذکورہ دوا مور کو انجام دینے کے لئے مخلصانہ اور پیہم جہدوجہد کا آغا ز کردینا چاہیے۔ یہ دونوںامورباہم مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔نہ مسلمانوں کی اصلاح برادرانِ وطن میں دعوت کے بغیر ممکن ہے اور نہ ان کی اپنی اصلاح کے بغیر برادرانِ وطن میں دعوت کا کامیاب و موثر ہونا ممکن ہے۔مثال سے سمجھئیے، کیا آپ دین اور اخلاق کی راہ پر تا دیر گامزن رہ سکتے ہیں، اگر آپ کے گھر کا ماحول دینی و اخلاقی اعتبار سے خراب ہو اور بستی میں بگاڑ وباکی طرح پھیلا ہوا ہے؟ قطعی نہیں۔ اُصولِ صحت سے با ٓسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے تئیں خواہ کتنا ہی اصول ِ صحت کی پابندی کررہے ہوںلیکن گھر کے افراد صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں، اور متعدی امراض میں مبتلا ہیں توآپ خود بھی کسی بیماری یا مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہونے سے بچ نہیں سکتے۔چنانچہ اپنے آپ کو بخیریت رکھنے کے لئے بھی آپ کو لازماًگھر کے افراد کو صفائی و ستھرائی کا خیال رکھنے کی مسلسل تلقین کرتے رہنا ہوگا۔اور کسی متعدی بیماری نے گھر کے کسی فرد یا افراد پر حملہ کردیا ہے تو ان کے علاج کی طرف فوری متوجہ ہونا ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ افرادِ خانہ سمیت صحت کے اُصولوں کا خیال رکھ رہے ہیں اور متعدی امراض سے بھی بچے ہوئے ہیںلیکن محلے اور بستی میں گندگی پھیلی ہوئی ہے، کسی متعدی و مہلک بیماری کی وباء پھیل چکی ہے تو آپ اور آپ کا گھر بھی اُس وباء سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ آپ کو اپنے گھر کے افراد کو ساتھ لیکر محلہ اور بستی میں صفائی و ستھرائی سے لیکر وباء سے متاثر افراد کے علاج و معالجے کی مہم چلانی ہوگی۔اسی طرح آپ کے مکان کے دیگر کمروں میں آگ لگ چکی ہے لیکن اُن کے افراد سو رہے ہیں، اگرچہ آپ جاگ رہے ہیں اورآپ کا کمرہ بھی ابھی آگ سے محفوظ ہے لیکن آپ اور آپ کا کمرہ بھی آگ کی لپیٹ میں آنے سے نہیں بچ سکتا جب تک آپ بلا تاخیر آگ لگے کمروں میں سوئے افراد کو نہ جگائیںاور اُن کمروں کو لگی آگ سے بجھانے کی کوشش نہ کریں۔

بس اسی پر قیاس کرلیں امّت کے ہمہ گیر بگاڑ اورگوناگوں امراض میں مبتلا ہونے اور اسکے چاروں طرف پھیلی انسانیت کے ،الحادو دہریت ، فحاشی و عریانی اور اخلاق کی پستی کے شکار ہونے کو۔ امّت کا کوئی فرد یا گروہ خواہ وہ کتنا ہی اپنے طور پر متقی ہو وہ امّت کے ہمہ گیر بگاڑ کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا، جب تک وہ فرد یا گروہ امّت کی ہمہ گیر اصلاح کی مخلصانہ اور انتھک کوشش نہیں کرتا۔ اسی طرح امّت خواہ وہ کتنی ہی متقی ہو اپنے ارد گرد پھیلی سو کروڑ سے زیادہ غیر مسلموں کے ہمہ گیر فساد و بگاڑ کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتی، یہ منطقی و فطری امر ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو انفرادی طور پر تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ( الحشر ۔۱۸)ترجمہ: ـاے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے ۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ـ

تو دوسری طرف اپنے اہل وعیال کی اصلاح کی ہدایت کرتا ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَاراً (التحریم ۔ ۶) ترجمہاے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اْس آگ تو تیسری طرف اپنے تمام اہل ایمان بھائیوں کی اصلاح، انہیں معروف کو اختیار کرنے اور نواہی سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ ( التوبہ ۔۷۱) ترجمہ مومن مر د اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور بْرائی سے روکتے ہیں، وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِّ( العصر ۔۳) ترجمہ اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے ، تو چوتھی طرف پوری امّت کو تمام مسلمانوں کو غیر امت یا غیر مسلموں تک دعوت حق پہنچانے اور راہ حق پر لانے کی ہدایت کرتا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداًٌ(البقرہ آیت143) ترجمہاِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اْمّتِ وَسَط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رْسول تم پر گواہ ہو اس آیت کی روسے تین فریق ہیں، اول محمد ﷺ دوم امّت محمدیہ/مسلمہ اور سوم غیر امّت(غیر مسلم)۔ حضرت محمد ﷺ نے شہادت علیٰ النساس کی جو ذمہ داری اللہ نے آپ ؐ پر عائد کی تھی اُس کا آپ ؐ نے حق ادا کردیا اور ایک امّت وجود میں لے آئی، اسکی تربیت اور تزکیہ کرکے شہادت علیٰ النساس کے لئے اپنا قائم مقام بنا دیا کہ وہ حضور ؐ کی پیروی میں غیر امّت ( غیر مسلموں) تک قول عمل سے دینِ حق کی گواہی تا قیامت دیتی رہے، اس لئے کہ اب کوئی کتابِ الٰہی نازل ہونے والی ہے نہ کوئی نبی و رسول آنے والا ہے، اور تا قیامت آنے والے تمام انسانوں کی دنیوی و اخروی نجات کا مدار اس پر ہے کہ وہ دین حق (اسلام) کو قولاً و عملاً قبول کرلیں۔ چنانچہ اس آیت کی روسے مسلمانوں (امّتِ مسلمہ) پر دیگر فرائض کے علاوہ یہ بھی فرض ہے کہ وہ غیر مسلموں تک دین کی دعوت پہنچائیں۔

کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ (آ ل عمران۔۱۱۰)ترجمہاب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اس آیت کی رو سے امّتِ مسلمہ کو وجود میں لانے کا مقصد یا اُن کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ دیگر انسانوں کی امامت و رہنمائی کرے، انہیں معروف ( سب سے بڑا معروف اسلام) پر چلنے اور منکر( سب سے بڑا منکر کفر و شرک) سے اجتناب پر آمادہ کرے۔

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون(آل عمران۔ ۱۰۴) ترجمہ تم میں کچھ لوگ ایسے ضرو رہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گےاس آیت میں بھی حکم دیا گیا ہے کہ امّتِ مسلمہ دیگر انسانوں تک خیر (اسلام) کی دعوت پہچائیں ، انہیں نیکی کی راہ پر چلنے اور برائی سے دور رہنے پر آمادہ کریں تاکہ امّت کو فلاح ِ دنیا و آخرت نصیب ہو۔

وَإِذَ أَخَذَ اللّہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ فَنَبَذُوہُ وَرَاء ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُون( آل عمران۔ ۱۸۷) ترجمہ ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انھیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا۔ مگر انہوں نے کتا ب کو پسِ پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنا بْرا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ اس آیت میں امّتِ مسلمہ کو اہل کتاب( یہودی و نصاریٰ) کے توسط سے متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے (کتاب ِ الٰہی، قرآن مجید ) کے پیغام کو دیگر انسانوں سے چھپایا ، ان تک اُسے نہ پہنچایا تو گویا وہ بڑا ہی برا کاروبار کر رہے ہیں۔

فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَـؤُلاء شَہِیْدا( النساء آیت ۔ ۴۱) ترجمہپھر سوچو کہ اْس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اْمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کوگواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ غیر مسلموں تک دین حق کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری سے متعلق اُن سے سخت باز پرس ہوگی۔

فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْن( الأعراف ۔۶) ترجمہ پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اْن لوگوں سے باز پرس کریں، جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں( کہ اْنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا) ایک اور جگہ قرآن کی دینِ حق کی دعوت کو غیر مسلموں سے چھپانے اور ان تک نہ پہنچانے پر مسلمانوں کو ظالم قرار دیا گیا: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَتَمَ شَہَادَۃً عِندَہُ مِنَ اللّہِ(البقرہ۔ ۱۴۰) ترجمہاس شخص سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟

یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ َ(المائدہ ۔ ۶۷) ترجمہاے پیغمبر ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کے توسط سے آپ ؐ کی امّت پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ دیگر انسانوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچاتی رہے۔

مذکورہ بالا بحث سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مسلموں تک دین کی دعوت پہنچانا کتنا بڑا فریضہ ہے اور اس سے غفلت کا انجام ( دنیا و آخرت دونوں میں) کتنا برا ہے۔ نیز اسلام اور مسلمانوں کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلمان خصوصاً علماء کرام، صحافی و ادیب اور دانشوران اس فریضے کی ادائیگی کی طرف فوری متوجہ ہوکر اس کام کے درج ذیل عملی تقاضے پورے کریں:۔

۱) ہر مسلمان کے اندر اس فرض کی ادائیگی اور اُس سے غفلت کے بُرے انجام ( دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) کا احساس و شعور پیدا ہو اور ہمیشہ بیدار رہے۔

۲) ہر مسلمان کو دین کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کا علم اور ان پر پختہ ایمان و یقین ہو۔

۳) مسلمانوں کا عمل و کردار اسلام کے مطابق ہو اور مسلم معاشرہ اسلامی معاشرہ میں ڈھلے۔

۴) برادرانِ وطن میں دعوت کے سلسلہ میں قرآنی اُصول حکمت ، موعظہ حسنہ اور جِدالِ احسن کو ملحوظ رکھا جائے، مناظرہ بازی اور کج بحثی سے پرہیز کیا جائے۔

۵) پورے اسلام کی دعوت دی جائے نہ کہ ادھورے اسلام کی، لیکن فطری تدریج اور حکمت کو ملحوظ رکھا جائے۔

۶) ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں تحریر و تقریر اور اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کی جائے۔

۷) برادرانِ وطن کے قبائل، ذاتوں اور ان کی نفسیات، مزاجوں اور رسوم و روایات سے بخوبی واقف ہوں ۔

۸) مظلوم اور پسماندہ طبقات کے مسائل میں دلچسپی لی جائے اور ان پر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں ان سے ہمدردی اور تعاون کیا جائے، لیکن طبقاتی کشمکش کا ذہن نہ بنے اس کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

۹) برادرانِ وطن کے طبقات کے ذی اثر اور کارفرما عناصر کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

۱۰) وقت کے معروف ذرائع و وسائل کا صحیح اور بھرپور استعمال کیا جائے۔

۱۱) آخری بات یہ کہ مسلمانوں کا ایک اصولی امّت کی حیثیت کا اور ملک اور اہلیانِ ملک سے خیر خواہی کا اظہار ہو، لیکن مداہنت اور حق و باطل کی آمیزش سے سخت پرہیز کیا جائے نیز صبرو استقا مت کا دامن ہرگز نہ چھوڑا جائے۔