شیخ علی الطنطاوی

ترجمہ: تنویر آفاقی

رمضان کی برکات

میں آج کی گفتگو لکھنے بیٹھا تو میرے ذہن میں ماہِ رمضان کی دو تصویریں گردش کرنے لگیں۔ایک تصویر وہ جس میں رمضان ایک بار معلوم ہوتا تھا جو اپنے ساتھ بھوک پیاس کی آزمائش لے کر آیا تھا۔ کھانا آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ آپ کے ہاتھ اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ اشتہا سے برا حال ہے۔ لیکن آپ اسے کھا نہیں سکتے اِس لیے کہ اجازت نہیں ۔ شدتِ پیاس ہے۔ پانی آپ کے سامنے رکھا ہوا ہے لیکن اسے اٹھا کر پینے کا اذن نہیں ۔ آپ بڑی میٹھی نیند میں سوئے ہیں کہ ماہِ رمضان آپ کو رات کے آخری حصے میں اٹھا کر کھڑا کر دیتا ہے کہ اٹھو اور کچھ کھالو، حالانکہ آپ کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ہر کھانے کو نیند کے اس لمحے پر قربان کرنے کو تیار ہو جائیں۔اگر آپ سگریٹ نوشی کا بھی شوق رکھتے ہیں تو آپ کو اس سے بھی روک دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مہینہ مشقت ، بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے۔

دوسری تصویر وہ ہے جس میں رمضان شیریں اور خوبصورت مہینے کی طرح جلوہ گر ہے۔ اس ماہ کے آتے ہی رات کے تیسرے پہر جب کہ رات پر سکون کی چادر تنی ہوتی ہے، لوگ قیام اللیل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آسمان گدازہو جاتا ہے، تارے جھلملانے لگتے ہیں اور کائنات پر شفافیت چھا جاتی ہے ۔ بندوں پر اپنے فضل و کرم کے خزانے لٹانے شروع کر دیتا ہے۔ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے نواز دوں؟ مانگنے والا اس کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہےوہ اُس کی دعا سنتا ہے۔ گناہوں کو معاف کر تا ہے، مانگنے والے کو عطا و بخشش سے نواز تا ہے، توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ بندوں کے دل اللہ سے جڑ جاتے ہیں۔ اللہ سے جڑ جانے کے بعد بندہ وہ لذت محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد موذن کی آواز کے کانوں میں آتی ہے۔ دل خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔ موذن الصلاۃ خیر من النوم کی صدا بلند کرتا ہے اور لوگ اس ہستی کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں جس نے کائنات کو اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے۔ مولائے رحمن و رحیم سے مناجات و گفتگو میں مشغول ہو جاتے ہیں۔گھر گھر میں ایمان کی روح سرایت کرنے لگتی ہے، ہر زبان اللہ 7کی حمد و تسبیح میں مصروف ہو جاتی ہے، اور ہر طرف اس کی رحمت کا نزول ہونے لگتا ہے۔

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں لوگ اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ سب کا رخ اس کے گھر کی طرف ہو جاتا ہے۔ مسجدیں مسلمانوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے والے اور سو کر وقت گزارنے والے غائب ہوجاتے ہیں۔ عالم اسلام کے ہر ملک میں مسجدیں آباد ہو تی ہیں۔ کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی جس میں نماز پڑھنے والے اور اللہ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں۔ مسجد کا کوئی ستون ایسا نہیں ہوتا ہے جس سے ٹیک لگا کر کوئی بندہ قرآن کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ کوئی اجتماع ایسا نظر نہیں آتا جس میں مدرس اور واعظ لوگوں کو نصیحتیں نہ کر رہے ہوں۔سب لوگ اپنے دلوں کو گناہ ومعصیت سے پاک کرتے ہیں۔ کینہ و حسد اور حرص و ہوس کی گٹھریاںاتار کر دلوں کو عبادت و بندگی کے لیے خالص کر تے ہیں، خیر کے حصول کو منزل مقصود بنا کر مسجدو ںمیں داخل ہو تے ہیں۔عالم ظاہری سے ناطہ توڑ کر عالم سماء سے رشتہ استوار کر تے ہیں۔ ملکوں اور شہروں کی سرحدیں گرچہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کیے رہتی ہیں لیکن ایمان کی طاقت انھیں یکجا و متحد کیے رہتی ہے۔ وہ قبلہ جس کی طرف وہ اپنا رخ کرتے ہیں ، انھیں ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔ مومن اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ کعبے کا حجر اسود ایک پتھر کے سوا کچھ نہیں۔ نہ کسی کو نفع پہنچانا اس کے اختیار میں ہے نہ نقصان پہنچانا، مسلمان خواہ ان کے دیار الگ ہوں،خواہ ان کا تعلق دور دراز کے ممالک سے ہو، وہ ایک امت ہیں۔ ایک دائرے کی طرح جس کا محیط یہ پوری زمین ہے اور جس کا مرکز و محور بیت اللہ الحرام یعنی خانہ کعبہ ہے۔

رمضان برکت والا مہینہ ہے ۔رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں ان خوبصورت لمحات سے فیض یاب ہونا ہمارے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ زندگی ایک سفر ہے۔ عمر کی گاڑی پر سوار ہم اس سفر کو طے کر رہے ہیں۔وقت کی یہ گاڑی ہمیں شاہراہ زندگی کے اس خوبصور ت ترین مرحلے سے لے کر گزرتی ہے، نور کی ندیاں رواں ہوتی ہیں، دنیا پاکیزگی کا مرقع بنتی ہے۔ کائنات پر سکون طاری ہو تا ہے۔رمضان کے علاوہ وقتِ سحر، ہم نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو کھولنے کی زحمت نہیں کرتے اس لیے اس کی سحر انگیزیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں انسانیت کے معانی سے پردہ اٹھتا ہے۔ انسانو ںکے درمیان مساوات قائم ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی بھوکا رہتا ہے نہ کوئی اس حال کو پہنچتا کہ کھا کھا کر اسے بدہضمی نے آ لیا ہو۔ بھوک اور شکم سیری میں سب شریک رہتے ہیں۔ روزے میں مال دار بھی بھوکا رہتا ہے ، غریب بھی۔ مال دار بھوک کی تکلیف محسوس کرتا ہے تاکہ بعد میں کوئی اس کے پاس آکر یہ کہے کہ میں بھوکا ہوں، تو اسے یاد رہے کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔دوسری طرف غریب اور فقیرمال دار شخص کو دیکھتا ہے کہ مال دار ہونے کے باوجود اسے روٹی کے ایک ٹکڑے کی آرزو ہے، اور پانی کے ایک گلاس کاطالب ہے۔ یہ دیکھ کر اسے اللہ کی نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب امیر و غریب سب دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو بھوک ان کا فرق مٹا دیتی ہے۔ کھانے کے اچھا اور برا ہونے کا فیصلہ بھوک کر تی ہے جو کہ کھانے کی خواہش کو بیدار کیے رہتی ہے۔ صحتِ معدہ اس کا فیصلہ کرتی ہے کیوں کہ اسی کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔اگر بھوک اور معدہ کی صحت برقرار ہو تو سستا اور سادہ کھانا بھی شاہی دسترخوانو ںسے زیادہ پرلطف اور لذیز ہوتا ہے۔

رمضان آتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے سب لوگ ایک ہی خاندان کے فرد ہیں، یا سب ایک ہاسٹل میں رہنے والے ساتھی ہیں۔ سب ایک وقت پر افطار کرتے ہیں اور ایک ہی وقت پر کھانا پینا ترک کرتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سب تیز تیز قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کوئی اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑا نظر آتا ہے تو کوئی گھر کے دروازے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ سب کی نگاہیں اپنی گھڑیوں پر اور کان اذان کی آواز پر لگے ہوتے ہیں۔ آنکھیں مسجد کے مینار کو تک رہی ہوتی ہیں اور کان سائرن اور گولے کی آواز سماعت سے ٹکرانے کے منتظر رہتے ہیں۔ جیسے ہی سائرن کی آواز آئی ، یا مسجد کے مینار پر روشنی دکھائی دی، یا موذن کی آواز کانوں میں پڑی، کیا چھوٹے کیا بڑے سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں، بڑوں کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں اور بچے ایک آواز میں شور مچانے لگتے ہیں کہ اذان ہو گئی ، اذان ہوگئی۔لوگ پرندوں کی مانند اپنے گھروں کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں۔ہر شخص کو جو کچھ کھانے کو میسر آیا، اس پر رضامند اور خوش رہتاہے۔ اللہ کی اس نعمت پر شکرگزاری کے جذبے سے لبریز رہتاہے۔ بھوک نے انھیںاس بات پر راضی کر دیا ہے کہ جیسا بھی کھانا ملے ، وہ اسے کھالیں گے۔ اس وقت جو بھی کھانا ملے وہ ان کے ذوق کے مطابق بھی ہے اور لذیذ ترین بھی۔

کھانے سے فارغ ہوئے تو مسجد کی طرف رخ ہوگیا۔ اپنے رب اور خالق کے حضورایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔قدم سے قدم ملائے ہوئے، کندھے سے کندھا جوڑ کر سب نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔مال دار، غریب، بڑا چھوٹا، نادار و صاحب مال، سب کے سب اللہ کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سب نے اپنی پیشا نی کو قدموں کی جگہ پر رکھ دیا ہے۔ اللہ بندوں کے اس اظہار عاجزی کے بدلے میں انھیں عزت و سربلندی سے نواز دیتا ہے۔ جس نے اللہ کے حضور ذلت و عاجزی قبول کر لی اسے وہ عزت و سربلندی عطا کر دیتا ہے۔ جو دنیا میں اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا کی سرداری بخش دیتا ہے۔ جو اللہ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، اس کے امر و نہی پر قائم رہتا ہے، فرائض کو انجام دیتا ہے، جو چیزیں اللہ نے حرام کر دی ہیں ، ان سے باز رہتا ہے، اللہ تعالی اپنی مدد ونصرت کے ذریعے اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی توفیق اور عفو درگذر سے اسے نوازتا رہتا ہے۔ یہی چیزیں تھیں جن کی بدولت ہمارے آباء و اجداد نے حکومت کی تھی، مشرق سے لے کر مغرب تک پورے خطہ زمین کو فتح کر ڈالا تھا۔ دنیا کے ہر کونے میں بلندی و رفعت ان کے حصے میں آ گئی تھی اور انھوں نے زمین پر ایک ایسی حکومت قائم کر دی تھی کہ تاریخ نے اس سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ انصاف اور عدل پر مبنی حکومت کا نظام دیکھا ہی نہیں۔

رمضان وہ مہینہ ہے جو روزہ دار کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی صحت لے کر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نفس انسانی کو عظمت اور اللہ کی رضا و خوشنودی سے بھی نوازتا ہے۔روزہ کھیل اور ورزش کا اہتمام کرنے والوں کے لیے بھی معنویتِ رکھتا ہے۔ کھیل اور ورزش کی کتابوں میں جھانک کر دیکھیے معلوم ہو جائے گا۔ میں ڈاکٹر نہیں ہوں، لیکن میں نے خود اپنے اوپر تجربہ کیا ہے۔ اور کبھی کبھی تجربہ کار شخص اپنے بارے میں ڈاکٹر سے بھی زیادہ جانتا ہے۔میں روماٹزم (جوڑوں کے درد) کی مار کھایا ہوا شخص ہوں۔ گردے کی پتھریو ںکا مریض ہوں۔ چھتیس برس تک ان بیماریو ںکا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹروں کے چکر کاٹتا رہا۔ واللہ ، میں نے ہر علاج آزما کر دیکھ لیا۔ لیکن ان بیماریو ںکے علاج کے لیے روزے سے اچھا کوئی علاج مجھے نہیں ملا۔ روزہ جسم کی صفائی کر دیتا ہے، جسم کے زہریلے مادوں کو باہر نکال دیتا ہے۔ اس کی گندگیوں کو جسم سےنکال باہر کرتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے پاک اور محفوظ کر دیتا ہے۔

یہ ہے رمضان کی پیاری اور خوبصورت تصویر۔ کیا اس تصویر کے ساتھ پہلی تصویر کی شدت بھی شیرینی میں تبدیل نہیں ہو جاتی؟یہ تو دوا ہے۔ جو لوگ عقل مند ہوتے ہیں وہ دوا کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے، کیو ںکہ انھیں امید ہوتی ہے کہ اس دوا کے ذریعے شفایابی کی لذت سے ہم کنار ہونا ہے۔

یہ ہے رمضان۔ اگر آپ واقعی روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس ماہ میں اپنی زبان کو لغو اور بے ہودہ کلامی سے محفوظ رکھیے۔ اپنی نگاہوں کو حرام چیزوں سے بچا کر رکھیے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ بعض روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے روزوں کا حاصل بھوک اور پیاس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک روزہ دار کھا نے پینے کا تو روزہ رکھ لیتا ہے لیکن غیبت کر کے اپنے بھائیوں کا گوشت کھاتا پھرتا ہے۔شراب کو ترک کر دیتا ہے لیکن نہ تو جھوٹ بولنا چھوڑتا ہے، نہ دھوکے بازی کرنے سے باز آتا ہے اور نہ ہی لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا بند کرتا ہے ۔ ایک دن اللہ کے رسولﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا: مفلس کون ہے؟ سب نے عرض کیا: ہمارے یہاں تو مفلس اسے کہاجاتا ہے جس کے پاس نہ مال و متاع ہو نہ درہم و دینار ہو۔ آپ نے فرمایا: مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور نیکیاں اپنے ساتھ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال ہڑپا ہوگا۔اس کی ساری نیکیاں اس سے ضبط کرکے ان لوگوں کو تقسیم کردی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی کی ہوگی ۔یہاں تک کہ اس کے پاس اپنی ایک بھی نیکی بچی نہیں رہے گی۔ سب سے گھنائونا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔ جھوٹ زبان سے بھی بولا جاتا ہے اور عمل سے بھی۔عمل سے جھوٹ بولنا یہ ہے کہ ایک شخص نیک اور صالح لوگوں کا سا لباس اختیار کر لے، متقیو ںکی سی اپنی پہچان بنا لے، لیکن حقیقت میں دکھاوا کر رہا ہو، لوگوںکو بے وقوف بنا رہا ہو۔اُس کا مقصد دین کی آڑ میں دنیا کمانا ہو۔ اللہ کے رسولﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا مومن بھی چوری کرتا ہے! کیا وہ فلاں گناہ بھی انجام دے سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ کبھی وہ ان گناہو ںمیں ملوث ہو جائے، لیکن وہ توبہ کر لے۔ پھر دریافت کیا کہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: نہیں ، جھوٹ گھڑنا تو ان کا کام ہے جواپنے دل میں ایمان نہیں رکھتے۔

آپؐ نے یہ بات واضح فرما دی کہ جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ روزہ دارو ںکا جائزہ لیجیے۔ کیا ان میں ایسے لوگ موجود نہیں جو جھوٹ بولتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ موجود نہیں جو دھوکہ دیتے ہیں ۔ کیا ایسے لوگ نہیں جو وعدہ خلافی کرتے ہیں، حالانکہ وعدہ خلافی نفاق کی تین علامتوں میں سے ایک ہے؟! ان لوگوں کو یہ امید کس بنیاد پر رہتی ہے کہ انھیں روزہ کا ثواب مل جائے گا؟ جب کہ انھوں نے صرف حلال کھانے کا تو روزہ رکھ لیا لیکن حرام کاموں کو نہیں چھوڑا!

دین معاملات کو درست کرنے کا نام ہے۔ ایک شخص حضرت عمرؓ کے سامنے ایک دوسرے شخص کی تعریف کرنے لگا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔کبھی تم نے اس کے ساتھ سفرکیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا کبھی تو نے کوئی چیز امانت کے طور پر اس کے پاس رکھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا: پھر تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ میرا خیال ہے تم نے اسے صرف مسجد میں سر اٹھاتے اور جھکاتے (رکوع و سجدہ کرتے) دیکھا ہے یا زبان سے تسبیح کرتے دیکھا ہے۔

رمضان محبت اور تعلقات میں مضبوطی لانے والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اپنے سینہ و دل کو وسیع و کشادہ رکھیے، زبان میں شیرینی و چاشنی لائیے، لڑائی جھگڑوں سے خود کو دور رکھیے۔ رمضان کے اس ماہ میں آپ کی بیوی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اسے برداشت کر لیجیے۔ بھائیوں کی جانب سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس پر صبر کر لیجیے۔ کوئی آپ سے لڑائی کرنے میں پہل کرے تو آپ بھی لڑنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں ، بلکہ اس سے کہہ دیں کہ میں روزے سے ہوں۔

جب آپ بھوک سے بے حال ہوں تو اس لمحے اس غریب کو یاد کیجیے جس کو حالت مجبوری میں بھوک کے تھپیڑے کھانے پڑ رہے ہیں ۔ آپ کے رب نے آپ کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے، ان پر رب کا شکر ادا کیجیے۔ شکر یہ محض یہ نہیں ہے کہ آپ ہزار مرتبہ زبان سے الحمد للہ کا ورد کر دیں۔ بلکہ مال دار کا شکر یہ ہے کہ وہ غریبوں پر مال خرچ کرے اور قوی وطاقت ور کا شکر یہ ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے۔

جس طرح سے آپ اپنے مال میں سے دوسروں کو نوازتے ہیں، اسی طرح حُسن اخلاق سے نوازئیے ۔ کچھ دینے کے ساتھ مسکراہٹ سائل کو خوشی دیتی ہے جو عطا و بخشش سے ملنے والی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ پڑوسی کو ایک اچھی بات کہہ دینا نیکی ہے۔ بسا اوقات ضرورت مندسے خندہ پیشانی کے ساتھ معذرت اس سے بہتر ہے کہ گھمنڈ کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کی جائے۔

ماہِ رمضان میں آپ کی جسمانی صحت کا جو سامان ہے اسے حاصل کر لیجیے، آپ کی روح کی بلندی کا جو انتظام ہے اسے اختیار کر لیجیے، آپ کے نفس کی عظمت، قوت و رفعت کا جو سامان ہے اسے پا لیجیے۔ انفاق، بذل و عطا اور احسان کو اختیار کرلیجیے۔ اس ماہ سے سال بھر کے لیے ذخیرہ کر لیجیے۔ یہ مہینہ آپ کے لیے واقعی ذخیرہ بن جائے گا۔

ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خیر کی نہریں بہنے لگتی ہیں، محبت اور تعلق کی فضا عام ہو جاتی ہے۔ درگذر سے کام لیجیے اور بہترین انداز میںنا مناسب باتوںکا جواب دیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ جن کے درمیان عداوت اور دشمنی تھی وہ جگری دوست بن گئے ہیں۔