(ساتویں قسط)

مفتی کلیم رحمانی

اذان اور دعوت میں تعلق

جنگ بدر میں اہل ایمان کا تناسب کافروں کی بہ نسبت تیتیس (۳۳) فیصد کے قریب تھا یعنی ایک ہزار (۱۰۰۰)کافروں کے مقابلہ میں تین سو تیرہ(۳۱۳) اہل ایمان تھے، اہل ایمان اگر ایک سو بھی ہوتے تو اللہ تعالیٰ انہیں کافروں سے لڑنے کا حکم دیتا اور غلبہ بھی عطا کرتا۔واضح رہے کہ دس فیصد مومنین کی تعدادکے لئے کافروں پر غلبہ کی بشارت دی گئی ہے وہ مطلق ایمان والے نہیں ہیں بلکہ وہ ایمان والے ہیں جو ایک امیر کی امارت سے وابستہ ہوں، اور صبر کی صفت سے متصف ہیں ، اگر مسلمان اسلامی امیر سے وابستہ نہ ہوں، اور نہ صبر کی صفت سے متصف ہوں، تو اسلام غالب نہ ہوسکے گا۔ آج سو فیصد مسلم آبادی والے ممالک میں بھی اسلامی حکومت قائم نہیں ، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں دینی امیر سے وابستگی نہیں ا ور صبر کی منصف مفقود ہے۔

فلسطین اور افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں تھوڑی کامیابی ملی فلسطین بہت سے مسلمان حماس تحریک کی امارت سے وابستہ ہیں اور ان میں صبر کی صفت بھی موجود ہے ، افغانستان کے مسلمان قابل لحاظ تعداد میں طالبان تحریک کی امارت سے وابستہ ہیں،اور ان میں صبر کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ اخوان المسلمون کو مصر میں اسلامی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں شاید اس لئے کامیابی نہیں ملی کہ ،مصر کی قابل لحاظ آبادی اسلامی امارت سے وابستہ نہیں تھی۔بڑا فرق ہے کسی جماعت کو ووٹ دینے میں اور کسی اسلامی امارت سے وابستہ ہونے میں،دنیا میں موجود انتخابی سیاست میں ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے، عالم و جاہل ، مومن و کافر، ظالم و عادل کی رائے کی قدر و قیمت برابر ہے ، جب کہ اسلامی اور انسانی لحاظ سے اُن کی رائے کی قدر و قیمت میں زمین و آسمان کا فرق ہے، جس حکومت کی تشکیل کے عمل میں ہی ظلم و نا انصافی شامل ہو، اس سے عدل و انصاف کی امید بے کار ہے ، جن اسلامی تحریکات نے حکومتوں کی تشکیل میںموجودہ انتخابی طریقہ کو استعمال کرنا چاہا ہے، انہوں نے اپنے امیر کے انتخاب کے لئے اس انتخابی طریقہ کو قبول نہیں کیا ہے ۔ اسلامی جماعت اپنے امیر کے انتخاب کے لئے موجودہ طریقہ انتخاب کو مناسب نہیں سمجھتی ، کوئی بھی دینی جماعت اپنے امیر کے انتخاب میں ، عالم و جاہل ، عادل و ظالم کی رائے کو برابر نہیں سمجھتی، اسلامی تحریکات اپنے امیر کے انتخاب کے لئے اپنےسارے متوسلین کی رائے کو قبول نہیں کرتیں ، بلکہ با ضابطہ ارکان کی رائے کو قبول کرتی ہیں۔ اور اگر کوئی یہ مشورہ دے کہ امیر کے انتخاب میں تمام متوسلین کی رائے کو برابر کا درجہ دینا چاہئے تو ان جماعتوں کا یہی جواب ہوگا کہ اس طریقہ سے وہ امیر منتخب نہیں ہوگا، جومطلوب ہے۔ یعنی جماعت کا نظم صحیح نہ چل سکے گا بلکہ نظم درہم برہم ہو جائے گا ، سوال یہ ہے کہ اس طریقہ انتخاب سے جب جماعت کا نظم صحیح نہیں چل سکتا تو اس طریقہ انتخاب سے کسی ملک کا نظم کیسے صحیح چل سکتا ہے؟ بجا طور پریہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومت کی تشکیل کے سلسلہ میں موجودہ طریقہ انتخاب پر انحصار، فہم کی غلطی ہے۔ جس انتخابی طریقہ کواسلامی جماعت کیلئے مضر سمجھا گیا کیا وہ انتخابی طریقہ ملک و قوم کے لئے مفید ہوسکتا ہے۔جو اپنے لئے پسند کرو، وہی دوسروں کے لئے پسند کرو۔

راستہ واضح ہے جس طرح اسلامی جماعت کے امیر کے انتخاب کے لئے ہر فرد کی رائے برابر نہیں ۔ اسی طرح ملک کے سیاسی سربراہ کے انتخاب میں بھی ہر فرد کی رائے کو برابر نہ سمجھا جائے۔ لوگوں کو انتخابی طرزکی خرابیوں سے واقف کرایا جائے، ہندوستان کی آزادی کے بعد بہت سے فسادات ہوئے ہیں ، جن میںلاکھوں لوگ مارے گئے فسادات کا بڑا سبب انتخابی سیاست ہے ،اسی طرح معاشرہ میں آئے دن ناحق قتل کے واقعات پیش آتے ہیں اس کا بھی ایک سبب الیکشنی سیاست ہوتی ہے۔

اسلامی جہاد کے متعلق ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ کلمہ حق کو بلند کرنے اور کلمہ باطل کو پست کرنے کے لئے جو کوشش کی جاتی ہے وہ جہاد کی تعریف میں آتی ہے کبھی یہ جہاد نظریہ اسلام کو زبان و قلم کے ذریعہ پیش کرنے میں ہوتا ہے اور کبھی یہ جہاد اسلام کو مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے پیش کرنے میں ہوتا ہے، کبھی یہ جہاد اسلام کی دعوت و تعلیم کے دینے میں ہوتا ہے ، لیکن یہ بات واضح رہے کہ سرسری کوشش کو جہاد نہیں کہتے، یقیناً جہاد کا آخری مرحلہ دین کو سیاسی لحاظ سے غالب کرنے کے لئے جنگ کرنا بھی ہے لیکن اس کی متعین شرائط ہیں، اسلامی جنگ کے لئے قرآن و حدیث میں قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

اسلامی جہاد کے متعلق ایک غلط فہمی عام ہے کہ صرف کسی کو مارنے کو جہاد کہا جاتا ہے، جبکہ جہاد کے پہلے مرحلہ میں اصلاحِ نظام کے لیے طاقت کا استعمال نہیں ہوتا ہے، حضرت نوحؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت ہود ؑ ، حضرت صالحؑ ، حضرت شعیب ؑ ،حضرت عیسیٰ ؑ ہو، اور خود آخری نبی حضرت محمدﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے نبوی زندگی کے تئیس (۲۳) سالوں میں سے شروع کے تیرہ (۱۳) سال مکہ میں رہ کر بغیر ہتھیار اٹھائے ہوئے، مظالم برداشت کیے، آپؐ کے ایک مخلص ساتھی حضرت خباب بن ارتؓ نے صرف مار کی شکایت کی اور دعا کی درخواست کی تو اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ ناراض ہوگئے ،اور آپؐ نے فرمایا تم جلدی کرتے ہو، اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے آپؐ نے گزرے ہوئے زمانہ کی ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایسا بھی ہو ا ہے کہ ایک ایمان والے کو لایا جاتا اور زمین میں کمر تک گڑھا کھود کر اسے کھڑا کیا جاتا اور اس کے سر کے بیچ حصہ سے آرا چلا کر اس کے جسم کے دو ٹکڑے کر دئے جاتے ، اسی طرح ایک اور شخص کو لایا جاتا اور اسے کھڑا کرکے لوہے کے نو کدار کنگھہ سے اس کے جسم کا گوشت ہڈیوں سے الگ کیا جاتا، لیکن یہ سزا بھی اس کو ایمان سے نہیں ہٹا سکی، پھر آپؐ نے اس موقع پر یہ بشارت بھی دی تھی کہ ائے خباب تو دیکھے گا کہ اسی دین کی بدولت وہ امن و امان بھی قائم ہوگا کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک تنہا سفر کرے گا، لیکن اسے اللہ کے علاوہ کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا۔ (ماخوذ ، بخاری شریف)

مذکورہ واقعہ میں جہاں دین و ایمان کی خاطر آنے والی تکلیفوں کا تذکرہ ہے وہیں دین و ایمان کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت کا تذکرہ بھی ہے، آج کے دور میں باطل نظام کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغیر قرآن کے ذریعے جہاد کے تصور کو عام کرنا ضروری ہو گیا ہے، کہ آج امت کے ایک طبقہ نے اِس جہاد کو بھی افرادی طاقت اور حکومت کی طاقت سے مشروط کر دیا ہے ،جب کہ حضرت ابراہیم ؑ اکیلے تھے، لیکن انہوںنے دین کے لئے دلیل سے جہاد کیا ہے، جادوگروں نے حضرت موسیٰ ؑکے معجزہ کو دیکھ کر ایمان قبول کیا تھا، ان کے پاس بھی ہتھیار اٹھانے کی طاقت نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے دین کے لئے کلمہ حق کا جہاد کیا ۔اسلامی تاریخ میں کلمہ حق کا جہاد کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے صرف ناموں سے ہی کئی کتابیں بھر سکتی ہیں ، یہاں صرف چند ناموں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، قرآن مجید کے سورئہ یٰسین کے دوسرے رکوع میں ایک مومن کا تذکرہ ہے جب اس نے ایمان قبول کیا اور قوم کو بھی اس نے رسولوں پر ایمان لانے کی دعوت دی تو قوم نے اس کو شہید کر دیا، اسی طرح نبیﷺ کی نبوت کے آغاز میں جب محمدﷺ نے مکہ والوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو بہت سے مشرکین آپؐ کو مارنے لگے، ایک صحابی حضرت حارثؓ چھڑانے کے لئے آئے تو مشرکین مکہ نے انہیں شہید کردیا، اور دور نبوی کی یہ سب سے پہلی شہادت تھی، اسی طرح حضرت سمیہؓ نے ایمان قبول کیا تو ابوجہل نے نیزہ مار کر شہید کردیا، خلافت بنو عباسیہ کے غیر شرعی کاموں کے خلاف ، فقہ کے چاروں ائمہ، امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ امام احمد بن حنبلؒ نے کلمۂ حق کہا۔ یہاں تک کہ کچھ ائمہ کی موتیں جیل ہی میں ہوئی ہیں۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ نے جہانگیر کی حکومت کے خلاف حق بات کہی۔ قطب شہیدؒ اور حسن البنّاء شہیدؒ نے بھی مصر کی غیر اسلامی حکومت کے خلا ف ہتھیار اٹھائے بغیر جہاد کیا ہے، مصرکی ظالم حکومت نے ان دونوں کو بھی شہید کردیا، مولانا سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کو پاکستان کی حکومت نے تین مرتبہ جیل میں ڈال دیا، اور ایک مرتبہ ایک مقدمہ میں انہیں پھانسی کی بھی سزا سنائی ، لیکن مسلمانوں کے عالمی سطح کے دبائو کی وجہ سے پاکستانی حکومت مولانا مودودیؒ کو پھانسی کی سزا دے نہیں سکی۔

موت و زندگی کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آج بھی زیادہ تر ممالک میں باطل کے خلاف کلمہ حق کہہ کر جہاد کی ضرورت ہے ، اور شاید اس میں صدیاں لگ جائیں۔ اسلام کی دعوت آسان نہیں ہے ۔ خودمسلمان شرک و بدعت میں مبتلاہیں، اور بہت سے مسلمانوں نے اسلام کو صرف چند عقائد و عبادات کی حد تک قبول کیا ہوا ہے، جب کہ اسلام کی دعوت ایک مکمل نظام زندگی کی دعوت ہے، اور اس کو ایک مکمل نظام زندگی ہی کی حیثیت سے قبول کرنا ضروری ہے۔

جنگ کے ناقص تصور جہاد نے امت مسلمہ کی اکثریت کو جہادکے عمل سے کاٹ دیا ہے، جب کہ پوری دنیا میں ایک بھی مومن ہو تو اس کی زندگی جہاد سے عبارت ہوتی ہے ، چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ نے ملک عراق سے سفر شروع کیا تو وہ اس وقت اکیلے مومن تھے، آخری نبی حضرت محمدﷺ نے مکہ میں قرآن کے ذریعے جہاد کا آغاز کیا تو آپؐ اکیلے تھے، لیکن آپؐ کا جہاد ایک دن کے لئے بھی نہیں رکا، البتہ جب تک آپؐ مکہ میں رہے یہ جہادقرآن سے ہوا، مکہ کے تیرہ سالوں کے بعد جب یہ جہاد مدنی دو ر میں داخل ہوا تو اس میں قرآن ساتھ تلوار بھی شامل ہوگئی، اور اس کی اجازت خود اللہ کی طرف سے تھی۔

جہاد کی ترتیب یوں ہی نہیں ہے ، بلکہ یہ ترتیب عین فطری ہے ، جس شخص میں دین کے غلبہ کیلئے مارکھانے کی صلاحیت پیدا نہ ہو، اس شخص میں دین کے غلبہ کے لئے طاقت کے استعمال کی صلاحیت بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔

(جاری)