محمد عبداللہ بن شمیم ندوی

دور غلامی کی واپسی

آج ملک میں بڑھتی افرا تفری، وبے اطمینانی نے ملک میں خوف و دہشت کاماحول پیدا کر دیا ہے، ملک کے باشندے اپنے ہی ملک میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ملک کے تمام باشندوں کو ایک خاص فکرو تہذیب اور خاص نظریہ کے دائرے میںیہ جبر شامل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ، لوگوں کو مذہب اور قوم کے نام پر ایسا افیم دیا جا رہا ہے جس نے ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو ختم کر دیا ہے اور ان پرایک مجنو نانہ کیفیت طاری ہو گئی ہے ۔ ان خاص قسم کے نظریات کو گھر گھر پہنچانے اور عوام کے ذہنوں میں اتارنے کے لئے پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کا بھر پور استعمال کیا جارہا ہے ، محب وطن اور ان سے اختلاف کر نے والوں کو غدار قوم ووطن باور کرایا جا رہا ہے ۔حالات اتنے سنگین ہوگئے ہیں کہ اس سوچ کے مخالفین اور اس کے ناقدین پر جان لیوا حملے ہو رہے ہیں اور بسا اوقات انھیں اپنی مخالفت کی قیمت جان دے کر چکا نی پڑ رہی ہے ۔

اس ملک میں مسلمان آئے تو انھوں نے دیکھا کہ جن انسانوں کو اللہ نے آزاد پیدا کیاتھا انھیں یہاں کے ایک خاص طبقے کاغلام بنا دیا گیا ہے۔اس وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں بنٹا ہوا تھا اور راجاؤں نے اپنی رعایا پر ظالمانہ قوانین لاگو کر رکھے تھے ۔مثلاََ راجہ داہر اور اس کا باپ راجہ چچ نے اپنے علاقے کے دلتوں کو نہا یت ذلیل خوار کررکھا تھا ۔چنانچہ ، ڈاکٹر راجندر پرشاد لکتے ہیں داہر کا باپ راجہ چچ ایک متعصب حکمراں تھا اس نے اپنی رعایا کے ایک حصہ کے لئے سخت اور جابرانہ قوانین نافذ کئے تھے ،انھیں ہتھیار رکھنے،ریشمی کپڑے پہننے اور گھوڑوں پر زین ڈال کر سوار ہونے کی ممانعت کردی تھی ، اور حکم دیا تھا کہ وہ ننگے سر اور ننگے پاؤوں کتوں کو ساتھ لیکر چلا کریں ۔ مسلمانوں نے اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کی کوششیںکیں اور جب ان کو یہاں اقتدار نصیب ہوا تو انھوں نے اسلام کا نظام مساوا ت اور نظام عدل و انصاف قائم کیا ، یہاں کے باشندو ںکو ان کے مالک و خالق سے متعارف کرا یا، ان پر سے بے جا پابندیاں ختم کیں، زندگی کے ہر میدان میں سب کو یکساں حقوق دئے۔

مشہور مؤرخ ڈاکٹر ایم پاریکر لکھتے ہیں کہ اور یہ بات تو واضح ہے کہ اس عہد میں ہندو مذہب پر اسلام کا گہرا اثرپڑا ،ہندوستان میں خدا پرستی کا تصور اسلام کی بدولت ہی پیدا ہوا ،اور اس زمانے کے مذہبی پیشواؤوں نے اپنے دیوتاؤوں کا نام چاہے جو بھی رکھا ہو خدا پرستی کی ہی تعلیم دی ،یعنی خدا ایک ہے وہی عبادت کے لائق ہے اسی کے ذریعے ہم کو نجات مل سکتی ہے۔پنڈت جواہر لعل نہرو لکھتے ہیںاسلام کی آمد ہندوستان کی تاریخ میں کافی اہمیت رکھتی ہے ، اس نے ان خرابیوں کو جو ہندوستانی سماج میں پیدا ہو گئی تھیں ،یعنی ذات کی تفریق اور چھوت چھات اور انتہائی درجہ کی خلوت پسندی ،ان سب کو بالکل آشکار کر دیا،اسلام کے نظریۂ اخوت اور مسلمانوں کی عملی مساوات نے ہندوؤوں کے ذہن میں بڑا اثر ڈالا ،وہ لوگ جو ہندو سماج میں برابری کے حق سے محروم تھے اس سے بہت متأثر ہوئے ۔جب تعلیم سے برہمنوں کی اجارہ داری ختم ہوئی تو دلتوں نے بھی اس میں بھر پور حصہ داری کی اور کہیں کہیں برہمنوں سے بھی آگے نکل گئے۔چنانچہ انگریز مؤرخ ڈاکٹر سرولیم ہنٹر لکھتے ہیں ہندوؤوں نے دہانۂ گنگا کی قدیم قوموں کو کبھی اپنی برادری میں شامل نہیں کیا ،مسلمانوں نے جملہ انسانی مراعات کو برہمنوں اور اچھوتوں دونوں کے سامنے یکساں طور پر پیش کیا ، ان پر جوش مبلغوں نے ہر جگہ یہ پیغام سنا یا ہر شخص کو خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں جھک جانا چاہئے ،خدائے واحد کے سامنے تمام انسان برابرہیں اور مٹی کے ذروں کی طرح سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔

مسلمانوں نے عورتوںپر بھی احسان کیا پہلے وہ پابند سلاسل تھیں ان کی حالت نہایت ابتر تھی انھیں آزاد کرواکے ردائے عزت عطا کی ،معاشرے میں انھیں خود کفیل بنا یا اور وہ تمام حقوق و مراعات واپس دلائیں جن سے انھیں محروم کر دیا گیا تھا ۔ ہندو مذہبی کتب کے ماہرجناب کے ایم سنت صاحب اپنی مشہور کتاب ہندو مذہبی کتب اور آئین ہند میں لکھتے ہیںعورتوں سے غیر اخلاقی حرکتیں کروائی جاتی تھیں مثلاََ شوہر کی موت کے بعد شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کو اس کی بیوہ سے ناجائز تعلق قائم کر کے اولاد کے حصول کا حق حاصل تھا ،بیوہ کی زندگی جانور سے بد تر ہو جاتی تھی، نہ تو اس کو نکاح ثانی کا حق تھا اور نہ ہی وہ معاشرہ میں چین و سکون سے زندگی گزار سکتی تھی بلکہ وہ اپنے سسرال والوں کی نظر میں منحوس قرار پاتی تھی ۔ ہندو معاشرہ کی ان مہیب اور لرزہ خیزرسومات کی اصلاح میں مسلم حکمرانوںکاکتنا اہم کردار ہے اس کا اندازہ مشہور سیاح ڈاکٹر برنیر کے چشم دید بیان سے ہوتا ہے وہ مسلمانوں کے شروعاتی دور میں ہندوستان آئے تھے ،لکھتے ہیں آج کل پہلے کے مقابلے ستی (شوہر کی موت کے بعد بیوی کو اس کی چتا کے ساتھ زندہ جلانے)کی تعداد کم ہو گئی ہے کیونکہ مسلمان جو اس ملک کے فرمانروا ہیں اس وحشیانہ رسم کو نیست و نابود کرنے کی حتی المقدور کوشش کر رہے ہیں ،لیکن ان علاقوں میں جہاں کے صوبہ دار مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہیں یہ رسم اب بھی موجود ہے ۔مسلمانوں کے اس عدل و انصاف ، عملی مساوات اور مذہبی رواداری سے متأثر ہو کر لاکھوں لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ملک مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو امن وامان قائم ہو گیا، تمام اشیاء ضروریہ ارزاں کی گئیں ،مسلمانوں نے ملک کی صنعت و حرفت ،تجارت اور فن تعمیرکو ترقی دی کہ ہندوستان دنیا بھر میں سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور ہوگیا ، عثمانی ترکوں کے بعد دنیا کا سب سے طاقت ور ملک بن گیا ۔ ملک میںخوشحالی آگئی ۔

افسوس اس کے بعد مسلمانوں پر ٖغفلت سوار ہوئی اور اس غفلت میں وہ اپنی شان و شوکت، اپنا اقتدار اور اپنے اخلاق سب کھو بیٹھے ۔یہاں تک کہ انھوں نے اپنا رشتہ اپنے تابناک اور درخشاں ماضی سے بھی کاٹ لیا اور اپنے مقاصد کو فراموش کر دیا ۔ چنانچہ وہ ہر میدان میں بچھڑتے چلے گئے اور اس پستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل کر تے ہو ئے ہندوؤو ں میں مسلم مخالف جذبات پیدا کر دئے۔ اس کے لئے انھوں نے بڑی چالاکی سے ملک کے نصاب تعلیم میں مسلم مخا لف لٹریچر داخل کر دیا جس میں مسلم دور حکومت کو غلامی سے تعبیر کیا گیا تھا اور مسلم حکمران جیسے اورنگزیب وغیرہ کو ہندو مخالف بنا کر پیش کیا گیا تھا ،جس سے ہندوؤوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں منفی جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری بات تھی۔چنانچہ لارڈ الگنؔ کے زمانے میں سکریٹری آف ووڈؔ نے اس کو ایک خط مؤرخہ ۳ ماچ ۱۸۶۲ء؁ میں لکھا جس میں وہ کہتا ہے کہ ہم نے ہندوستان میں اب تک اپنا اقتدار اس طرح قائم کر رکھا ہے کہ ہم انھیں (ہندو مسلم کو) ایک دوسرے کے مخالف بناتے رہے ہیں اور اس عمل کو جاری رکھنا چاہئے، اس لئے جہاں تک ممکن ہو اس بات کی پوری کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ یہاں کے لوگوں میں مشترکہ جذبات پیدا نہ ہو سکیں ۔۲۶ مارچ ۱۸۲۶ء؁ کو ایک دوسرے سکریٹری آف اسٹیٹ جارج فرانسسؔ ہملٹں نے لارڈ کرزنؔ کو لکھا میرے خیال میں ہندوستان میں ہماری حکومت کو ابھی خطرہ نہیں لیکن پچاس برس کے بعد یہ خطرہ ضرور سامنے آئے گا چنانچہ آئندہ تعلیم کے پھیلنے سے ہماری حکومت پر مسلسل حملے ہوں گے،لیکن اگر ہم ہندوستان میں تفرقہ پیدا کرتے رہیں تو ہماری حکومت مضبوط رہے گی،اس لئے ہم تعلیمی اداروں میں نصاب کی کتابین ایسی پڑھائیں گے کہ یہاں کے مختلف فرقوں کے درمیان تفرقہ کی مضبوطی ہو۔

۔ ہندو ؤں کے ذہن میں مسلمانوں کے تئیں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں انگریز کہاں تک کامیاب رہے اس کا اعتراف پروفیسر بی این پانڈے ؔنے ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء؁ میں راجیہ سبھا کی اپنی مفصل تقریر میں کیا ،انھوں نے کہا بد قسمتی سے ہمارے اسکول اور کالجوں میں جو کتابیں پڑھائی جارہی ہیں وہ وہی ہیں جو یورپین مصنفین کی لکھی ہوتی ہیں اور یورپی اساتذہ نے جو کچھ پڑھا یا ہے اس کے اثرات ہندوستانی آج تک دور نہیں کر سکے،ایسی لکھی ہوئی تاریخوں سے جو تأثر پیدا ہوتے ہیں وہ ہماری قومی زندگی کے سرچشمہ کو متأثر کئے ہوئے ہیں،ہندو مسلمانوں کے جذباتوں کو بھڑکانے میں انگریز مؤرخین نے بڑی مدد پہنچائی ہے ۔نصاب کی یہ چیزیں عمر کے اس زمانے میں پڑھائی جاتی ہیں جب ذہن پر کسی چیز کا گہر اثر پڑتا ہے پھر اس کا دور ہونا مشکل ہوتا ہے ،توپھر یہ کوئی تعجب کی بات نہیںکہ ہندوستانی ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے کے عادی ہو گئے اور ان میں باہمی بد اعتمادی پیدا ہو گئی ،ہندو یقین کرنے پر مجبور ہو گئے کہ مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومتیںمحض ہواتھیں ،آج وہ مسلمانوں کی تاریخ پر کوئی فخر نہیںکرتے بلکہ اس کو نظر انداز کرکے اپنی قدیم تاریخ سے ہی سب کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔

مسلمان کیونکہ اپنی افادیت کھو بیٹھے تھے اس لئے وہ برادران وطن کو کوئی خاطر خواہ صفائی نہ دے سکے جس سے ان کی غلط فہمیاں دور ہو جاتیں اور آپسی بھائی چارہ کی راہ ہموار ہوتی ۔چنانچہ ہندو مسلمانو ں کے درمیان غلط فہمیاں بڑھتی گئیں اور فاصلے ہوتے گئے ۔اسی دوران متعصبین کو موقع ہاتھ آیا ۱۹۲۴ ؁ میں ہٹلر کے نازی ازم کے طرز پر ایک تحریک آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سنگھ )کے نام سے وجود میں آئی ، جس کا مقصد ہی ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ ہے ۔آج یہ ملک پھر سے انھیں ہاتھوں میں چلا گیا ہے جنھو ں نے اس ملک کے کمزور طبقہ کو اپنا غلام بنا یا تھا اور ان پر ظلم کی انتہا کر دی تھی ۔ دلتوں اور مسلمانوں کی غلامی کے اشارے دئے جارہے ہیں ،حالات بتا رہے ہیں اگر ہندوستا نی اب بھی نہ جاگے اور سنجیدگی نہیں دکھائی اور متحد ہو کر کوئی دانشمندانہ قدم نہیں اُٹھا یا تو آنے وا لا وقت ہماری سوچ سے زیادہ بدتر ہو سکتا ہے۔اسلئے ایک محب وطن ہونے کے ناطے آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس منفی سوچ کا جم کر مقابلہ کیجئے۔ نفرتوں کے جواب میں محبتوں کو عام کیجئے ۔ مذہبی رواداری کی عملی مثالیں پیش کیجئے۔کچھ لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تو آپ لوگوں کو صحیح صورتحال سے واقف کرائیے۔ذرائع ابلاغ جو آپ کو میسر ہیں ان کا بھر پور استعما ل کیجئے اور ہر ہندوستانی تک امن و شانتی کا پیغام پہنچائیے ۔ ملک کو غلامی سے بچانا ہمارا اولین فریضہ ہے ۔