ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

رسائل ومسائل

رمی جمِار کس واقعہ کی یاد گار ہے؟

سوال:

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے خطبات میں لکھا ہے:

دن نکلتا ہے تو (حاجی) منیٰ کی طرف کوچ کرتا ہے اور وہاں اس ستون پر کنکریوں سے چاند ماری کی جاتی ہے جہاں تک اصحاب فیل کی فوجیں کعبہ ڈھانے کے لیے پہنچ گئی تھیں ۔(ص:۲۵۱)

آگے مزید لکھا ہے:

دوسرے دن (حاجی) پتھر کے ان تین ستونوں پر باری باری کنکریوں سے ، پھر چاند ماری کرتا ہے جن کوجمرات کہتے ہیں اورجودر اصل اس ہاتھی والی فوج کی پسپائی اورتباہی کی یادگار میں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال عین حج کے مواقع پر اللہ کے گھر کو ڈھانے آئی تھی اور جسے اللہ کے حکم سے آسمانی چڑیوں نے کنکریاں مار مار کرتباہ کردیا تھا۔(ص :۲۵۱۔۲۵۲)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج میں رمی جمرات یعنی کنکریاں مارنا ہاتھی والی فوج کی پسپائی کی یادگار ہے ، جب کہ عام طور پر کنکریاں مارنے کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت بتایا جاتا ہے۔

بہ راہِ کرم اس سلسلے میں وضاحت فرمائیں۔

جواب:

یہ بات کہ حج میں رمی جمار ابرہہ کی فو ج کی پسپائی اورہلاکت کی یادگار ہے ، اصلاً پہلے مولانا حمید الدین فراہیؒ نے اپنی کتاب تفسیر سورۂ فیل میں لکھی تھی، ان کی متابعت میں مولانا مودودیؒ نے بھی اسے قبول کرلیا ہے۔مولانا مودودیؒ نے اپنی رائے کے حق میں دلائل نہیںدیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا موقع نہ تھا کہ وہ عوام کے درمیان عام فہم انداز میں جمعہ کے خطبے دیا کرتے تھے، البتہ مولانا فراہیؒ نے اپنی رائے کومدلّل کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ ان کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں ہے۔

مولانا فراہیؒ کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ کلامِ جاہلیت میں دیگر مناسکِ حج کاذکر تو ملتا ہے ، لیکن رمی جمار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئی چیزہے، جو واقعۂ فیل کے بعد وجود میں آئی ہے۔ لیکن یہ دلیل صحیح نہیں، اس لیے کہ جاہلی شعراء کے کلام میں رمی جمار کا ذکر موجود ہے اورمؤرخین نے بھی صراحت کی ہے کہ اہلِ عرب عہدِ جاہلیت میں رمی جمرات کرتے تھے (تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے راقم کا مقالہ بہ عنوان مناسکِ حج کی تاریخ شائع شدہ ماہ نامہ حیات نو، اعظم گڑھ، مئی تا جولائی ۱۹۸۷ء)مولانا فراہیؒ نے اوربھی دلیلیں دی ہیں، لیکن وہ بھی اشکالات سے خالی نہیں ہیں۔

مولانا مودودیؒ کی کتاب خطبات میں، جہاں مولانا کی رائے مذکور ہے ، وہیں حاشیہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے:

عام طور پرمشہور یہ ہے کہ کنکریاں مارنے کا یہ فعل اس واقعہ کی یادگار میں کیا جاتا ہے جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیش آیا تھا ، یعنی حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دیتے وقت شیطان نے آکر آپ کو بہکایا تھا اورآپ نے اسے کنکریاں ماری تھیں، یا جب حضرت اسماعیلؑ کے فدیے میں مینڈھا آپ کو قربانی کے لیے دیا گیا تو وہ نکل کر بھاگا تھا اوراس کوآپ نے کنکریاں ماری تھیں ۔ لیکن کسی صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نہیں ہے کہ رمی جمار کی علّت یہ ہے ۔ (ص: ۲۵۲)

یہ بات صحیح ہے کہ کسی صحیح حدیث میں صراحت نہیںہے کہ رمی جمار حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ کی یاد گار ہے ، لیکن متعد د روایات اورآثار صحابہ سے اس کا اشارہ ملتا ہے ۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے یہ قول مروی ہے: اَلشَّیْطَانَ تَرْجُمُوْ نَ وَمِلَّۃَ اَبِیْکُمْ تَتَّبِعُوْنَ تم شیطان کورجم کرتے ہو اوراپنے باپ ابراہیم کی ملت کی اتباع کرتے ہو۔ یہ روایت مستدرک حاکم(ا؍۶۳۸)السنن الکبریٰ للبیہقی (۵؍۱۵۳)اور شعب الایمان للبیہقی (۵؍۵۰۶) میں مروی ہے اور اس کی سند کو جید (قابل قبول ) قرار دیا گیا ہے۔

بہرِ حال رمی جمار کی تاریخ کے سلسلے میں یہ دو رائیں ہیں ۔ دونوں قطعی نہیں، بلکہ استنباطی ہیں۔ ان میںسے کسی کوبھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میںرمی جمارکیا ہے ، اسی لیے ہم بھی کرتے ہیں۔

طوافِ زیارتِ احرام کے ساتھ یا اس کے بغیر؟

 

سوال:

مولانا مودودیؒ نے اپنی کتابخطبات کے مضمون حج کے فائدے میں مناسکِ حج کی تربیت بیان کی ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے:

دن نکلتا ہے تو (حاجی) منیٰ کی طرف کوچ کرتا ہے ۔ (وہاں بڑے جمرہ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں) پھر اسی جگہ قربانی کی جاتی ہے ۔ پھر وہاں سے کعبہ کا رُخ کیا جاتا ہے ۔ طواف اور دو رکعتوں سے فارغ ہوکر احرام کھل جاتا ہے ۔ جوکچھ حرام کیا گیا تھا وہ اب پھر حلال ہوجاتا ہے اوراب حاجی کی زندگی پھر معمولی طور پر شروع ہوجاتی ہے۔(ص:۲۵۱)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی منیٰ میں قربانی کرنے کے بعد احرام نہیں کھولے گا ، بلکہ قربانی کے بعد حرم جاکر طواف کرے گا اور دورکعت نماز ادا کرے گا۔ اس کے بعداحرام کھولے گا ۔ جب کہ ہمیں حج کے لیے جاتے وقت بتایا گیا تھا کہ قر بانی کے بعد منیٰ ہی میں احرام کھول دینا ہے ۔ چنانچہ سب کے ساتھ میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

بہ راہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ کون سا عمل صحیح ہے ؟ قربانی کے بعد منیٰ ہی میں احرام کھول دینا یا طواف کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد احرام کھولنا؟

جواب:

دس ذی الحجہ کومنیٰ پہنچنے کے بعد حاجیوں کودرج ذیل کام کرنے ہوتے ہیں:

(۱) بڑے جمرہ پر کنکریاں مارنا (۲) قربانی کرنا (۳) حلق یا قصر، یعنی سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا۔

اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ حاجی کوچاہیے کہ وہ غسل کرکے کپڑے پہن لے ، خوشبو لگائے، اس کے بعد طواف وسعی کرنے کے لیے خانۂ کعبہ کا رُخ کرے۔ بہ الفاظ دیگر وہ دس ذی الحجہ کو منی میں رمی جمار ، قربانی اورحلق یا قصر کے بعد احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجائے گا۔ اسے تحلّلِ اصغر کہا جاتا ہے۔ البتہ میاں بیوی کے درمیان تعلقِ خاص کی پابندی اب بھی باقی رہے گی، اس کی اجازت طوافِ زیارت کے بعد ہوگی۔ اسے تحلّلِ اکبر کہا جاتا ہے۔

منیٰ میں رمی جمرہ ٔ کبریٰ ، قربانی اور حلق یا قصر کے بعد احرام کی پابندی ختم ہونے کا اشارہ قرآن مجید سے ملتا ہے۔ اس میں قربانی کے ذکر کے بعدہے:

فَکُلُوْامِنْہَاوَاَطْعَمُوْا الْبَائِسَ الْفَقِیْرَ، ثُمَّ لْیَقْضُوْاتَفَثَہُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُّوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (الحج ۲۸۔۲۹)

ان (جانوروں کے گوشت ) سے خود بھی کھائیں اورتنگ دست محتاج کوبھی دیں۔پھر اپنا میل کچیل دور کر یں اوراپنی نذر پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ میل کچیل دور کرنے سے مراد سر کے بال مونڈوانا یا کٹوانا ، ناخن کاٹنا، مونچھ تراشنا وغیرہ ہے۔ اس کے بعد طواف کا تذکرہ ہے۔ گویا طواف سے قبل حاجی کے لیے ان تمام کاموں کی اجا زت ہوجاتی ہے جوحالتِ احرام میں اس کے لیے ناجائز تھے، سوائے میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلق کے، کہ اس کی پابندی طواف تک رہتی ہے۔

مولانا مودودیؒ کے بیان میں اصلاً تحلّل اکبر کا ذکر ہے ، یعنی طوافِ زیارت کے بعد حاجی احرام کی تمام پابندیوں سے (بہ شمول جنسی تعلق ) آزاد ہوجاتا ہے۔