محمد شفیع بٹ

و سطِ ایشیاء میںروسی ا ستعمار

ایک تاریخی جائزہ

مسلم دنیا عہد وسطیٰ سے جدید دور تک

عہد وسطیٰ میں اسلام کے تابناک عروج کے بعد مسلمانوںمیں فکری اور علمی زوال شروع ہو گیا تھا ۔ ایک طرف فلسفی اور کلامی مشگافیاں تو دوسری طرف تقلید پسندی کی روش مسلمانوں میں عام ہو رہی تھی۔ امام غزالیؒ او ر علامہ ابنــ تیمیہ نے اگرچہ اپنے اپنے ادوار میں مسلمانوں میں علمی و فکری بیداری کی موثر تحریکیں شروع کی تھی، مگر پھر بھی مسلمانوں میںوہ قرُونِ اولیٰ جیسی علمی تڑپ اور فکری عظمت پوری طرح بحال نہ ہو سکی ۱؎ ۔ اگرچہ زوال بغداد اور منگولی حملوں کے باوجود بھی مسلمانوں میں سیاسی اقتدار قاہم رہا مگر مسلمانوں نے علوم و فنون میں جو کارنامے انجام دیے تھے وہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔جبکہ دوسری طرف مغرب جو اوائیل عہد وسطی تک گھپ اندھیرے میں تھا ، وہاں پر عیسایوںمیںفکری نشاۃ ثانیہ کا آ غذ ۱۶ ویں صدی عیسوی کے اوائیل سے ہی شروع ہوچُکا تھا۔ جب مغرب اپنی مذہبی اور فکری نشاۃ ثانیہ میں آگے بڑھ رہا تھا تب اگرچہ مسلم دنیا میں تین بڑی سلطنتیں قایم تھی، جن کو اپنی عسکری برتری کی وجہ سے (The Gun Powder Empires) کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا تھا، جن میں سب سے بڑی طاقت تو خلافت عثمانیہ تھی، جو دنیا کے تین بڑے براعظموں،Three big Continents of World، ایشا،افریقہ اور یورپ میں برسراقتدار تھی، ایران میں بھی صفویوں کی طاقت ور حکومت قایم تھی اور برصغیر میں دہلی سلطنت کے بعد مغلیہ سلطنت بھی اپنے عروج پر تھی،اس سیاسی اور عسکری برتری کے باوجود بھی مسلمانوں میںفکری اور علمی جمود قایم ہوگیاتھا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں کی اخلاقی و سماجی اور فکری حالت کی پسماندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی زوال بھی شروع ہو چکا تھاتو عالم اسلام کے مختلف خطّوں میںکہی عبقری شخصیات سامنے آئی جنہوں نے مسلمانوں میں نہ صرف فکری اصلاح کی تحریک کو شروع کیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں سیاسی اور اقتصادی بہبودی کا شعور بھی مسلمانوں میں پیدا کرنے کی پُرزور کوشش کی ، ان شخصیات میں ایک طرف عرب دنیا میں شیخ محمّد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک شروع ہوئی، تو دوسری طرف برصغیر میںشاہ ولی اللہ محدث دیلوی جیسے نابغہ عصرشخصیات سامنے آئی جنہوں نے تمام علوم اسلامی میںبے بہا خدمات کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی رہنمائی فرمائی، ۲؎ ۔

مگر ان بیشتراصلا حی تحریکوںکے مرکوز نظرصرف مسلمانوںکے داخلی تشویشناک حالات تھے اور وہ اُسی کاسدِباب کرنے میںلگے رہے، جبکہ دوسری طرف اس وقت تک یورپ میں اصلاحی تحریک Reformation، نشاۃثانیہ، صنعتی انقلاب Industrial Revolution) (کے ساتھ ساتھ جدید ساینسی ایجادات Modern Scientific Inventions بھی اپنے عروج پر تھی ، اس بڑہتی ہوئی مغربی طاقت کا اندازہ نہ تو عوام الناس کو تھا اور نہ ہی مسلم مُفکِرین اور مصلحین کو تھا۔ انسویںصدی میںیورپ نے باقایدہ طور پر مسلم علاقوںکو اپنے استعمار کا نشانہ بنا یا،دیکھتے ہی دیکھتے مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں اورمراکز کو یورپی طاقت نے بہ آسانی اپنی نو آبادی(Colonies) میں تبدیل کر دیا۔ اس فکری جمود اور مغربی استعمار کے خلاف پوری مسلم دنیا میں کئی احیائی تحریکیں اٹھیں، جنھوں نے مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری اجاگر کرنے کے لئے کئی احیائی تحریکیں شروع کہے، اس دور میں اگر چہ عرب دنیا میں سیدّ جمال الد ین، محمد عبدہ، سید رشید رضا کی تحریک اُتھی، برصغیر میںسیداحمدبریلوی کی تحریک جہاد، سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک، علما ئے ہند کی دیوبند تحریک اُتھی، اسی دور میں دوسری طرف وسطِ ایشاء جو کہ اوائل قرُونِ وسطیٰ میں مسلم دنیا کا ثقافتی اور علمی مرکز رہا تھا، وہ بھی ایک طرف علمی اور فکری ابتری کا شکار تھا تودوسری طرف انیسویں صدی کے اختتا م تک پورا وسطِ ایشاء روسی سامراج کا شکار ہوچُکا تھا اور اپنی تمام خود مختاری کھو چُکا تھا، اسی روسی استعمارکے خلاف اور مسلمانوںمیںبڑھتے فکری اور علمی جمود کے خلاف وسطِ ایشاء میں مفکرین اور دانش وروںنے جو علمی بیداری کی تحریک شروع کی اُسی تحریک کو تحریکِ جدید Jadidi Movement of Central Asia کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وسط ِاشیاء میں روسی استعمار:

روسی سامراج نے اگر چہ سولہویں صدی سے ہی وسطِ ایشاء پر دست درازی شروع کی تھی مگر۱۸ ویں صدی عیسویں تک وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہورہے تھے، چناچہ اٹھارویں صدی تُرکستان کے لیے انتشار و افتراق کا پیغام لے کر آئی ، تاتاری خوانین Khanates) (،کی آپس کی خانہ جنگیوں سے روسی سامراج نے فائدہ اٹھایا اور ، ۱۸۸۵ء تک روس پورے مغربی تُرکستان پر قابض ہو چُکا تھا۔ مسلمانوں کی روسی سامراج کے ہاتھوں شکست کے اسباب کے متعلق مشہور مورخ ، آباد شاہ پوری اپنی کتاب روس میں مسلمان قومیں میں لکھتے ہیں، جس زمانے میں رُوس کا سامراجی اژدہا اپنی کُنڈلی کا دائرہ وسیع کر رہا تھا قازان سے ترکستان تک پھیلے ہوئے مسلمان علاقے علمی و فکری لحاظ سے جمود کا شکار ہو چکے تھے۔ منگولوں کے سیلاب اور اس کے بعد آئے دن کے طالع آزما فاتحین کے لائے ہوئے آتش و خوں کے طوفانوں سے بچنے کے لئے طبقہ اشراف اور طبقہ اوسط کے لا تعداد افراد ترکِ وطن کر کے دوسرے مسلمان ملکوں میںچلے گئے۔ اس طرح یہ علاقے اعلیٰ فکری و ذہنی صلاحیتوں کے حامل دماغوں سے بڑی حد تک محروم ہوگئے۔ باقیماندہ لوگ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔ اذھان کی اعلیٰ تربیت اور ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے اور جلا دینے کے لئے اعلیٰ طرز کے فکری و علمی اور تر بیتی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان علاقوں میں بہت کم باقی رہ گئے تھے۔ علمی و فکری جمود نے تہذیبی و معاشرتی زندگی کو متاثر کیااور پھر رفتہ رفتہ سیاسی زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی جسے مختلف خانوادوں کی طالع آزمائیوں نے اور بھی سنگین بنادیا۔ ان جنگوں میں رہا سہا جوہر بھی تیغ و سناں کا شکار ہوگیا۔ ۳؎

روسی زار کے قبضے کے بعد کچھ ہی دیہوں میں وسطِ ایشاء میں مسلمان جو کہ اب تک بیشتر علاقوں میں غالب اکثریت رکھتے تھے، نہ صرف اُن کی اکثریت مُتاثر ہونے لگی بلکہ مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی اور اقتصادی حقوق پامال ہونے لگے، اس کے ساتھ ساتھ عیسائی مشنریوں کے ذرلعہ مسلما نوں میں ارتداد کو فرُوغ دیا گیا، تھیک اسی زمانہ میں جب روسی کلیساتاتاری مشنریوں کے ذریعے تاتاری مسلمانوں کے دینی افکار پر شب خون مار رہا تھا، تاتاریوں میں احیائے اسلام کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی۔

تاتاری مسلمانوں میں بیداری اور تحریکِ جدید

انیسویں صدی کے اوائل میں ہی مسلما نانِ وسطِ ایشاء میں چند گراںقدر ہستیاں جوکہ مصلح اور طبیبِ قوم بن کر اُبھرے اور اپنی مسلسل کوششوں سے تحریکِ جدید کی فکری بنیاد رکھی، جس کے تحت مسلمانوں کے زوال کی وجوہات پر غور کیا گیا اور ایسے اقدامات کرنے کا منصوبہ بنایاگیا جوکہ مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ کی طرف بُلایے۔ تحریک جدید کی فکری اور علمی کاوشوں سے پتاچلتا ہے کہ تحریکِ جدید کے مندرجہ ذیل بنیادی مقاصد تھے:

۱۔ مسلمانِ روس کو ذلت کی پستیوں سے نکالنا اور اُن میں اپنی ذات، اپنے تمدن کا اعتماد بحال کرنا۔

۲۔ ایک جدید نظامِ تعلیم متعارف کروانا جس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم مسلًا، حساب، جغرافیہ ) (Geography ، سانئس اور روسی زبان کی تدریس کا اہتمام ہو۔

۳۔ جدید طرز پر مبنی مدارس کا قیام عمل ، جن میں مسلمانوں کی فکری اور علمی بنیاد پرتربیت کی جائے۔

۴۔ روس کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں خصوصًا تُرکوں میں اتحاد کی فضا قائم کرنا۔

۵۔ ایک ایسی زبان رائج کرنا جو روس میں بسنے والے تمام مسلمانوں کی مشترکہ زبان کا کردار ادا کرے۔

۶۔ جدید مسائل کا اسلامی حل نکالنے کے لئے اجتہاد کا استعمال کرنا۔ ۴؎

اگر چہ تحریک ِ جد ید کی عملی شکل انیسویں صدی کی آخری دو دہیوں (1880-1900 C.E ) میں منظرِعام پر آئی،جب عملی طورپر اصول جدید کے نام سے نئےا سکول کھولے گئے، مگر فکری اور علمی طور پر تحریکِ جدید کی بنیاد انیسویں صدی کے آغاز سے ہی شروع ہوچکی تھی۔تحریکِ جدید کے ابتدائی رہنماؤں میں سرفہرست میں ابونصرالقُرضاوی (1814-1783اور شیخ شہاب الدین المرجانی( 1818-1889 کو مانا جاتا ہے۔ ۵؎ ابو نصرالقُرضاوی فکرِ جدید کے پہلے مصلح تھے جنہوں نے سب سے پہلے اندھی تقلید، علم الکلام کی بہ وجہ مشوگوفیوں کے خلاف آواز اُتھائی اور اجتہاد و آزادیِ رائے کی حمایت کی۔ چونکہ ابو انصرالقُرضاوی کو روایت پسند علما کی مخالفت کا سامنا ایک طرف اور کم عمری میں اُن کی موت کی وجہ سے اُنہوں نے صرف مسلمانوں میں بیداریِ فکر کا شعور پیدا کیا جو تقلیدپسندی اور جمود پسندی کے خلاف پہلا اعلان تھا۔ القرضاوی کے بعد شیخ شہاب الدین المرجانی تحریکِ جدید کے فکری معمار بن کر سامنے آئے۔ المرجانی کودورانِ طالب علم ہی سے اپنے اساتذہ اور علماء کے فکری و ذہنی جمود کا شدت سے احساس ہو گیا تھا، انہوں نے جب صور تحال پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس فکری جمود اور شکستِ حالی کی اصل ذمہ دار اس پُرانے طرزِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے جو مدارس میں رائج تھا۔ چنا نچہ وہ بُخارا سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دینی درسگاہوں میں اصلاح کا عزم لیے واپس اپنے وطن لوٹے، انہوں نے علماء کے فکری جمود اور تنگ نظری پر سخت تنقید کی۔ المرجانی کی اصلاحی فکر کا مرکز مندرذیل نکات تھے:

۱۔ ہر مسلمان مذہب سے متعلق اپنے سوالات کے جواب خود قرآن سے حل کرنے کی کوشش کرے۔

۲۔ اندھی تقلید کی روایت کو ختم کیا جائے۔

۳۔ قدیم روایتی نصابِ تعلیم کو نظامِ تعلیم سے خارج کرنا۔

۴ مدارس میں قرآن، حدیث اور تاریخِ اسلام کے مضامین کی تدرس کو جدید انداز میں متعارف کروانا۔

۵۔ مسلمانوں کو اپنی ابتدائی پرانی ثقافت کی طرف بلانا۔۶؎

المرجانی کو جس انقلابی شخصیت کے نظریات اور زندگی نے متاثر کیا تھا وہ امام غزالی ؒ تھے، انہوں نے اپنی ساری زندگی اس جدوجہد میں گزاری کہ اسلام کو مخصوص علما کے روایتی اسلام کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ اسلام آج بھی دور ِ جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے اور دورِ جدید کی سانئس کا تسلی بخش جواب مذہب سے دینے کی اہلیت رکھتا ہے اور ان کا یقین تھا کہ اسلام کے آفاقی اصولوں کی مدد سے آج بھی اسلام کی عظمتِ رفتہ کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ چنا نچہ المرجانی نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور 1866ء میں اپنے تعلیمی نظریات کے مطا بق ایک نیا دینی مدرسہ قائم کیا، بعدازاں تاتاری علاقوں میں اس قسم کے مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان نئے طرز کے مدارس کو کریما کے اسماعیل گسپرالی (۱۹۱۴ــــــ- ۱۸۵۱ء) نے ایک نیا رنگ دیا، گسپرالی کو ترکستان کی تحریک جدید کا اصل معمار (Pioneer of Jadidism)ما نا جاتا ہے۔ اسماعیل گسپرالی نے جن نیے مدارس کی بنیاد رکھی ، انہیں ـ اصولِ جدید کا نام دیا گیا، بعدازں اسی اصولِ جدید کی مُناسبت سے اس فکری تحریک کو جدیدازیم یا تحریکِ جدیدJadidism or Jadid Movement کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ ۷؎ اسماعیل گسپرالی کے ان قائم شدہ مدارس میں اسلامی مضامین کے علاوہ دور جدید سے متعلق مضامین کی تدریس کا اہتمام کیا گیا۔ مدارس میں روسی زبان سیکھنے پر خصوصی زور دیا گیا، یہ تمام اصلاحات اس مقصدکے تحت تھیں کہ مسلمان تعلیمی میدان میں دوسری قوموں سے کٹ کر نہ رہ جائیں۔

تحریکِ جدید اور اصولِ جدید کے مدارس

ابتدائی طور پر اسماعیل گسپرالی نے اپنے مقاصد کے حصول کے وقت سیاست سے پرہیز کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر روسی اقتدار کے خلاف جد و جہدکی گئی تو مسلمان کچل دئیے جائیں گے۔ چنانچہ گسپرالی نے اس وقت کے حالات کے تحت روس نواز مؤقف ضرور اختیار کیا لیکن وہ سلطنتِ روس کے اسلامی علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے سخت خلاف تھے۔ دراصل وہ اسلام میں جدیدیت اور تورانیت کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے، گسپرالی کا نظریہ تھا کہ اسلام ترکوں اور تاتار یوں کے کلچر کا لازمی جز ہے۔ اسماعیل گسپرالی فکری طور پر اپنے دور کے متعدد علمی اور فکری تحریکوں سے متاثر تھے، ایک طرف دولانِ قیام پیرس وہ کسی حد تک لبرلازم (Libralism) کی تحریک سے متاثر ہوگئے تو دوسری طرف قیامِ مصر میں وہ سیدّ جمال الدین افغانی کی تحریکِ اخوتِ اسلامی (Pan-Islamism) سے بھی متاثر ہوئے، اس کے علاوہ وہ تُرکی کی نوجوان تحریک (Young Turks Movement) سے بھی کافی متاثر تھے، یہ سب اثرا ت گسپرالی کی سیاسی، سماجی، اصلاحی اور تعلیمی سرگرمیوں میں پوری طرح کار فرما رہے۔ وہ بیکوقت اسلامی اتحاد کے علمبردار بھی تھے، عربی زبان کو اہمیت بھی دیتے مگر ساتھ ساتھ بعض مغربی اصلاحیات کو اپنانے کے خواہش مند بھی تھے۔ ۸؎ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے گسپرالی نے ذرائع ابلاغ اور نئے طرز کے مدارس کا بھرپور استمال کیا۔ ۱۸۸۳ء میں انہوں نے اپنا اخبار ترجمان شائع کیا جو دو دہایوں تک کاشغر سے لے کر کریمیا بلکہ قسطنطنیہ تک مسلمانو ں کی فکری اور علمی رہنمائی کرتا رہا۔ اسماعیل گسپرالی نےترجمان کے ذریعے نہ صرف مسلمانانِ روس کو درپیش سیاسی، اقتصادی اور فکری challenges کاجواب دیا بلکہ ترجمان کے ذریعے وہ ایک ایسی زبان کو ترویج دینے کی کوشش کر رہے تھے جو روس کے ترکی النسل مسلمانوں کو مختلف چھوٹی چھوٹی زبانوں کی جگہ روس کے تمام مسلمانوں کی مشتر کہ زبان بنے۔ اس طرح گسپرالی اور اُن کے پیروکاروں کی کاوشیوں سے روسی مسلمانوں میں جدید تعلیم کو فروغ ملا، اور ترکی زبان میں کتابوں کے اشاعت اور طباعت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری کی تحریک دن بہ دن مضبوط ہونے لگی۔

جہاں اصولِ جدید کے مدارس میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا تھا اور وہ نئی نسل کے فکر و ذہن کو نئے سانچے میں ڈھال رہے تھے ، وہیں وسطِ ایشاء میں قدیم طرز کے مدارس بھی سرگرمِ عمل تھے ، جہاں نئے زمانے کی رفتار اور نئے دور کے مسائل کا نہ تو کوئی احساس تھا اور نہ گزر۔ ان روایتی مدارس کی فضا دسویں صدی عیسوی کی تھی، انہیں نصاب میں کسی قسم کا تغیر و تبدل گوارہ نہ تھا۔ چنانچہ جب جدیدیوں نے اصولِ جدید مدارس کے ضمن میں اپنی کوشش شروع کیں تو انہیں قدیم علماء کی طرف سے سخت تنقید اور مذاہمت کا سامنا کر نا پڑا، اس کے علاوہ روسی حکومت کی مخالفت کا بھی سامنا تھا جو مسلمانوں کی بڑھنی ہوئی سر گر میوں سے خو فزدہ ہوگئی تھی، اس کے ساتھ ہی ایک اور مخالفت عیسا ئی مشنریوں کی طرف سے تھی جو مسلمانوں کو روسی بنانے کے حق میں تھے۔نظامِ تعلیم میں اصلاحات کے علاوہ تحر یک جدید کے مصلحین غیر مسلم حکمرانوں کے زیر تسلط مسلمان کالونیوں میں مغر بی جد یدیت اور اسلامی عقیدے اور ثقافت کے درمیان ٹکراؤسے پیدا شدہ مسائل کو مناسب انداز میں حل کر نے کے لئے کوشاں رہے، انہوں نے پہلے مسلمانوں میں اندرونی کمزوریاں دور کرنے کی سعی کی اور مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں فکری اور لسانی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۰۵ء کے پہلے روسی انقلاب کے بعد تحریک جد ید نے باقاعدہ سیاسی جدوجہد شروع کیا اور اتفاق المسلمین کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی جس نے پہلے ہی عام انتخابات میں حصہ لے کر ۳۵ نشستیں حاصل کی مگر چونکہ روس میں یہ سیاسی آزادی کا مختصر دور رہا، جس کی وجہ سے تحریک جدید کی سیاسی سر گرمیوں کو پوری طرح کچل دیا گیا۔

۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کے بعد جب زار شاہی کے بدلے سویت یونین ) Soviet Union ( نے حکومت پر قبضہ جاما یا تب مسلمانانِ روس کا سب سے سخت اور مشکل دور شروع ہوا، ایک طرف مذہبی آزادی سلب کر لی گئی تو دوسری طرف اقتصادی ، سیاسی استحصال کو فروغ دیا گیا، ان حالات میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی مصلحین نے بھی وسطِ اشیاء سے ہجرت کی ، مگر ان حالات میں بھی کئی جدیدی مفکرین نے مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ۔اگر چہ سویت یونین کی استحصالی پالیسی کی وجہ سے تحریک جدیدکا سیاسی اور عملی وجود کافی حد تک متاثر ہوا مگر تحریک جدید کے کئی مفکر کسی نہ کسی طرح اپنا پیغام مسلمانوں تک پہنچاتے رہے۹؎۔

روسی اشتراکی انقلاب اور تحریکِ جدید کی فکر پر اُس کا اثر

بیسویں صدی کے آغاز سے ہی اگر چہ ایک طرف وسطِ ایشاء کے مختلف علاقوں میں تحریک جدید کے نام پر کافی سارے مفکرین اُبھرے ، مگر دوسری طرف سویت یونین Soviet Union) ( کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔ اگر چہ یہ بات ایک طرف مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریک جدید کا قیام عمل مسلمانوں کی دینی، علمی اور فکری بیداری کے لئے کیا گیا تھا، تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریک جدید کے بہت سے مفکرین مغربی جدیدیتWestern Modernism اور لبرل ازم Liberalism) ( کے تصورات سے متاثر ہونے لگے، تاہم سرسیدّ احمد خان کی علی گڑھ تحریک کی طرح تحریک جدیدنے جو تعلیمی محاذ پر مسلمانان وسط ِایشاء کی خدمات سر انجام دئے وہ نا قابل فراموش ہیں۔ اسماعیل گسپرالی کے بعد تحریک جدید کے جو سرکردہ مصلحین اور مفکرین وسطِ ایشاء کے مختلف خطوں میں اُٹھے اُن میں ، منور قاری (ـــــــــ ۱۸۸۹ -۱۹۳۳ء) ، ریاض الد ین ( ۱۸۵۹ - ۱۹۳۶ء) ، موسیٰ جارُاﷲ( ۱۸۷۵- ۱۹۴۹ء)، جیسی علمی اور فکری شخصیات سر فہرست ہیں۔ تحریکِ جدید کے مدارس اور اُن کی فکر پر مغربی تصورات کے اثرات کے متعلق، محقق آباد شاہ پوری تنقیدی جایزہ لتے ہوئے رقطراز ہیں : ـچونکہ خود اسمٰعیل گسپرالی فکری یکسوئی سے محروم تھے۔ اس لئے یہ مدارس بھی انتشارِفکر کا سر چشمہ بن گئے۔سیاسی قوم پرستی اور تُولانی تحریک نے انہی مدارس میں جنم لیا سوشلزم اور مارکسٹ نظریات نے بھی یہیں فروغ پایا رُوسی مسلمانوں میںبائیں بازو یا خالص سیکولرذہن و فکر رکھنے والے جتنے رہنما اور فعاّل و سر گرم کارکن تھے وہ سب انہی جدید مدارس کے فیض یافتہ تھے۔ اس طرح جس تحریک کا آغاز شہاب الدّین المرجانی نے اسلامی تہذ یب و ثقافت کے تحفظ اور اسے دنیا میں موثر طاقت بنانے کے نیک عزائم کے ساتھ کیا تھا اُس کے نتائج تباہ کُن نکلے ۱۰؎ مختصر ا ً تحریک جدید کے اجمالی جائز ے اور تجز یے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تحر یک جدید بھی انیسویں اور بیسو یں صدی عیسوی کی اُن متعدد مسلم اصلاحی، احیائی تحریکوں میں ایک تھی جنہوں نے مسلمانوں میں بڑھتے علمی فقدان ، فکری جمود، تقلید پسندی، جد ید علوم سے دوری اور مغربی استعمار کے استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی، باقی تحریکوں کی طرح اس تحریک میں بھی کافی ساری کمزوریاں تھیں، اس تحریک کے نتیجے سے اگر چہ ایک طرف مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں علمی اور فکری شعور بیدار ہوا تو دوسری جدید تعلیم یافتہ طبقہ کافی حد تک مغربیت کے زیر اثر آیا۔

حوالہ جات

۱۔ ڈاکڑ سیدّ حسین محمد جعفری، فکر اسلامی کے ار تقاء کا ایک تار یخی جا ئزہ (دور وحی و رسالت سے زمانہ اقبال تک) اقبال: فکراسلامی کی تشکیلِ جدید اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۱۹۹۵، ص، ۲۱۔

۲۔ ڈاکٹر ضیاءا لدین فلاحی، فکر اسلامی کا ار تقاء (ہندوستان کا خصوصی مطالعہ)، اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۲۰۱۶، ص ۴۷،

۳۔ آباد شاہ پوری، روس میں مسلمان قومیں، مر کزی مکتبہ اسلامی، دہلی، ۱۹۹۱ء ص ۴۵

۴۔ فرحت نسیم علوی، وسطِ ایشیاء کی تحریک ِ جدید کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ پاکستان جرنل آف اسلامک ریسرچ، جلد ۹، ۲۰۱۲، ص ۱۱۵

5. Prof. Naseem Ahmad, "Jadidism among Tatars: an overview of the stages of Development" in "Insight Islamicus" Research Journal of Shah-i-Hamadan Institute of Islamic Studies, University of Kashmir, Srinager, Vol. 11, 2011, P. 3

۶۔ فرحت نسیم علوی، ایضاً ، ص ۱۱۶

7. Adeeb Khalid, Politics of Muslim Cultural Reform: Jadidism in Central Asia, Oxford University Press, New York, 2000, P. 103 .

۸۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص ۴۴۹۔ ثروت صولت، ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ، جلد چہارم، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۰۳، ص ۳۸۹

۱۰۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص ۶۴