)آخر ی قسط(

ڈاکٹر احسان اللہ فہد

قرآن مجید میں انبیاءکے دعوتی اسلوب کاتذکرہ

حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ

قرآن کریم میں حضرت آدمؑ کا نام پچیس مرتبہ پچیس آیات کریمہ میں آیا ہے ۔ ان تمام آیات کریمہ کا احاطہ کرنے سے بے شمار پند ونصائح اور عبرت ونصیحت کا ذخیرہ ملتا ہے ان میں سے چند اہم عبرتوں اورنصیحتوں کی طرف اشارہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس طرح کیا ہے :

(1)  اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کے بھید بے شمار اور ان گنت ہیں اوریہ ناممکن ہے کہ کوئی ہستی بھی خواہ وہ کتنی ہی مقربین بار ِگاہ اِلٰہی میں سے کیوں نہ ہوان تمام بھیدوں پر واقف ہوجائے۔ اسی لیے ملائکۃ اللہ انتہائی مقرب ہونے کے باوجودخلافت آدمؑ کی حکمت سے آشنا نہ ہوسکے اورجب تک معاملہ کی پوری حقیقت سامنے نہ آگئی وہ حیرت میں ہی غرق رہے۔

(2)  اللہ تعالیٰ کی عنایت وتوجہ اگر کسی حقیر شے کی جانب بھی ہوجائے تو وہ بڑے سے بڑے اورجلیل القدر منصب پر فائز ہوسکتی اورخلعتِ مجدو شرف سے نوازی جاسکتی ہے ۔ ایک مشت خاک کودیکھئے اورخلیفۃ اللہ کی منصب پر نظر ڈالئے اورپھر اس کے منصب نبوت ورسالت کو ملاحظہ کیجئے مگر اس کی توجہ کافیضان بخت واتفاق کی بدولت یا خالی از حکمت نہیں ہوتا بلکہ اس شے کی استعداد کے مناسب بے نظیر حکمتوں اورمصلحتوں کےنظام سے منظم ہوتا ہے ۔

(3)  انسان کواگرچہ ہمہ قسم کا شرف عطا ہو اور ہر طرح کی جلالت وبزرگی نصیب ہوئی ہوتا ہم اس کی خلقی اورطبعی کمزور ی اپنی جگہ اسی طرح قائم رہی او ربشریت وانسانیت کا وہ نقص پھر بھی باقی رہا ۔ یہی وہ چیز تھی جس نے حضرت آدمؑ پر با یں جلالت قدرو منصب عظیم نسیان طاری کردیا اوروہ ابلیس کے وسوسہ سے متاثر ہوگئے ۔

(4)  خطا کار ہونے کے باوجود اگر انسان کا دل ندامت وتوبہ کی طرف مائل ہوتو اس کے لیے باب رحمت بند نہیں ہے اوراس درگاہ تک رسائی میں نا امید کی تاریک گھاٹی نہیں پڑتی البتہ خلوص و صداقت شرط ہے اور جس طرح حضرت آدمؑ کے نسیا ن ولغزش کاعضو اسی دامن سے وابستہ ہے اسی طرح ان کی تمام نسل کے لیے بھی عفو ورحمت کا دامن وسیع ہے۔

(5)  بارگاہِ اِلٰہی میںگستاخی یا بغاوت بڑی سے بڑی نیکی اور بھلائی کوبھی تباہ کردیتی اور ابدی ذلت وخسران کاباعث بن جاتی ہے۔ ابلیس کاواقعہ عبرتناک واقعہ ہے اوراس کی ہزاروں سال کی عبادت گزاری کا جو حشر بارگاہِ اِلٰہی میں گستاخی اوربغاوت کی وجہ سے ہوا وہ بلاشبہ سرمایۂ صد ہزار عبرت ہے ۔ (۵)

حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قصہ

قرآن پاک کا یہ اعجاز ہے کہ وہ تاریخی واقعات میںسے جب کسی واقعہ کوبیان کرتا ہے تو اپنے مقصد وعظ وتذکیر کے پیش نظر واقعہ کی ان ہی جزئیات کونقل کرتا ہے جومقصد کے لیے ضروری ہیں اور اجمال وتفصیل اورتکرار واقعہ میں بھی صرف ایک ہی مقصد اس کے سامنے ہوتا ہے اوروہ یہی موعظت وعبرت کا مقصد ہے ۔ چنانچہ اسی اسلوبِ بیان کے مطابق قرآن پاک نے حضرت نوح کے واقعہ کا اجمالی وتفصیلی تذکرہ ۴۳ جگہ پر کیا ہےجن کا مطالعہ کرنے کے کچھ اہم عبرت ونصیحت کے پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں:

(1)  ہر ایک انسان اپنے کردار وعمل کا خود ہی جوابدہ ہے ۔ اس لیے باپ کی بزرگی بیٹے کی نافرمانی کا مداوا اور علاج نہیں بن سکتی اورنہ بیٹے کی سعادت باپ کی سر کشی کا بدل ہوسکتی ہے ۔ حضرت نوحؑ کی نبوت وپیغمبری کنعان کے کفر کی پاداش کے آڑے نہ آسکی اورحضرت ابراہیمؑ کی پیغمبرانہ جلالتِ قدر شرکِ آذر کے لیے نجات کا باعث نہ ہوسکی۔

(2)  بری صحبت زہر ہلاہل سے بھی زیاد ہ قاتل ہے اور اس کا ثمرہ ونتیجہ ذلت وخسران اورتباہی کےعلاوہ کچھ نہیں۔ انسان کے لیے جس طرح نیکی ضروری شے ہے اس سے زیادہ صحبت نیک ضروری ہے اور جس طرح بدی سے بچنا اس کی ز ندگی کانمایاں امتیازہے اس سے کہیں زیادہ بروں کی صحبت سے خود کوبچانا ضروری ہے ۔

(3)  خدائے تعالیٰ پرصحیح اعتماد اوربھروسہ کے ساتھ ظاہری اسباب کا استعمال توکل کے منافی نہیںہے بلکہ توکل علی اللہ کے لیے صحیح طریق کار ہے تبھی تو طوفان نوح سے بچنے کے لیے کشتیٔ نوح ضروری ٹھہری۔

(4)  انبیاءعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے پیغمبر خدا اور معصوم ہونے کے باوجود یہ تقاضائے بشریت لغزش ہوسکتی ہے مگروہ اس پرقائم نہیں رہتے بلکہ منجانب اللہ ان کو تنبیہ کردی جاتی اوراس سے ہٹالیا جاتا ہے ۔ حضرت آدمؑ اورحضرت نوحؑ کے واقعات اس کے لئے شاہد عدل ہیں نیز وہ عالم الغیب بھی نہیں ہوتے جیسا کہ اسی واقعہ میں فلاتسئلن مالیس لک بہ علم سے واضح ہے۔

(5)  اگرچہ پاداش علم کا خدائی قانون کائنات کے ہر گوشہ میں اپنا کام کررہا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جرم اورہر طاعت کی سز ا یا جزا ء اسی عالم میں مل جائے کیونکہ یہ کائنات عمل کی کشت زار ہے اورپاداش کردار کے لیے معاد اور عالم آخرت کومخصوص کیا گیا ہے تاہم ظلم اور غرور ان دو بد عملیوں کی سزا کسی نہ کسی نہج سے یہاں دنیا میں بھری ضرور ملتی ہے ۔(۶)

حضرت صالح علیہ الصـلوٰۃ والسلام کی داستان

حضرت صالحؑ کوجس قوم کی جانب پیغمبر اوررسول بنا کر بھیجا گیا اس کو ثمود کہتے ہیں اور ثمود کا ذکر قرآن پاک کی نوسورتوں میںکیا گیا ہے ۔ قرآن کریم کے فرمودات اوراحادیث رسول کی تصریحات کے مطابق ثمود بت پرست تھے وہ خدائے واحد کے علاوہ بہت سے معبودان باطل کے پرستار اور شرک عظیم میں مبتلا تھے اس لیے ان کی اصلاح کے لیے ان ہی کے قبیلہ میںسے حضر ت صالحؑ کوپیغمبر بنایا گیا جنہوں نے صبح وشام اپنی قوم کے لوگوں کواللہ کی نعمتیں یاد دلائیں اورکائنات کی ہر شے سے اللہ کی یکتائی اوراس کی وحدانیت کوقوم کے سامنے ثابت کیااوریقینی دلائل اور مسکت براہین کے ساتھ اسلام کی حقانیت ان کے سامنے پیش کیں اوراس بات کوثابت کیا کہ پر ستش وعبادت کے لائق اس ذات واحد کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ لیکن حضرت صالحؑ کے بار بار سمجھا نے اورنصیحت پر نصیحت کرنے کا ان کی قوم پر مطلق اثر نہیںہوا بلکہ ان کا بغض وعنادترقی پاتا رہا اوران کی مخالفت دن بدن بڑھتی ہی گئی ۔ وہ حضرت صالح ؑ سے کہنے لگے کہ اگر ہم باطل پرست ہوئے ، خدا کے صحیح مذہب کے منکر ہوئے اور اس کے پسندیدہ طریقہ پر قائم نہ ہوتے تو آج ہم کو یہ دہن دولت، سرسبز وشاداب باغات کی فراوانی، سیم وزر کی بہتات ، بلندوعالی شان محلات کی رہائش ، میوہ جات اورپھلوں کی کثرت ، شیریں نہریں اور عمدہ مر غزاروں کی افزائش حاصل نہ ہوتی ۔ تم خود اپنے پیروؤںکودیکھ اوران کی تنگ حالی اورغربت پر نظر ڈال اوردیکھ کہ اللہ کے پیارے اورمقبول ہم ہیں یاتم اور تمہارے پیروکار۔

اس طرح حضرت صالح ؑکی مفرور اورسرکش قوم نے ان کی پیغمبرانہ دعوت ونصیحت کوماننے سے انکار کردیا اور خدا کے معجز ہ کا مطالبہ کرنے لگے تب حضرت صالح ؑ نے اللہ سے دُعا کی اورقبولیت کے بعد اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارا مطلوبہ نشان اونٹنی کی شکل میںموجو د ہے۔ دیکھوتم نے اگر اس کوایذا ء پہنچائی تو یہی تمہاری ہلاکت کا نشان ثابت ہوگی اوراللہ تعالیٰ نے تمہارے اوراس کے درمیان پانی کے لئے باری مقررکردی ہے ایک دن تمہارا ہے اورایک دن اس کا لہٰذا اس میں فرق نہ آئے لیکن قوم ثمود نے اپنے گھمنڈ اوردولت ثروت کےنشے میں حضرت صالح ؑ کی باتوں کا خیال نہ رکھا اوراونٹنی کوہلاک کردیا ۔ چنانچہ تین دن کے بعد اللہ کا عذاب بجلی ، چمک اورکڑک کی شکل میں قوم ثمود پرآیا اور اس نے رات میں سبھی لوگوں کوہلاک وبرباد کردیا۔ قرآن عزیز نے اس ہلاکت آفریں آواز کوکسی مقام پر صاعقہ ( کڑک دار بجلی) اورکسی جگہ رجفہ (زلزلہ ڈال دینے والی شے )ا ور بعض جگہ طاغیہ ( دہشت ناک ) اوربعض جگہ صیحۃ ( چیخ ) فرمایا ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ خدائے تعالیٰ کےاس عذاب کی ہولناکیاں کیسی گونا گوں تھیں۔ تم ایک ایسی بجلی کا تصور کرو جوبار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی، کڑکتی اورگرجتی ہو اور اس طرح کوند رہی ہو کہ کبھی مشرق میں ہے تو کبھی مغرب میں اورجب ان تمام صفات کے ساتھ چمکتی ، کوندتی ، گرجتی، لرزتی ہوئی کسی مقام پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اوراس کے نواح کا کیا حال ہوگا۔ یہ ایک معمولی اندازہ ہے اس عذاب کا جوثمود پر نازل ہوا اوران کو اوران کی بستیوں کوتباہ وبرباد کرکے سرکشی اور مغروروں کے غرور کا انجام ظاہر کرنے کے لیے آنے والی نسلوں کے سامنے عبرت پیش کرگیا ۔

عیش کوشی کا انجام

اس پورے واقعے سے یہ بات اہل مکہ کوبتانا مقصود ہے اورآج کے زمانے میں دنیا کی مغرور اور سرکش قوموں کوبھی بتانا مقصود ہے کہ یہ محض نفس کا دھوکا اورشیطان کا وسوسہ ہےکہ انسان اپنی خوش حالی اوردنیوی جاہ وجلال کودیکھ کر یہ سمجھ بیٹھے کہ جس قوم اورجس فرد کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے وہ ضرور خدائے تعالیٰ کے سائے میں ہے اوران کی خوش حالی اور شان وشوکت اس بات کی علامت ہے کہ ان کا اللہ ان سے زیادہ خوش ہے اور اس کی خوشنودی اسی کوحاصل ہے۔(۷)

اس واقعہ میںجگہ جگہ یہ تصریح موجود ہے کہ مادہ پرستی عذاب وہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔ اگرچہ قوموں کے لیے اس کی مدت چند ماہ اور چند سال نہیں ہے مگرہمہ قسم کی دنیوی کامرانیوں اورخوش عیشیوں کے ساتھ ساتھ جب ظلم، سرکشی اورغرور کسی قو م کامستقل شعار بن جائے تو ا س قوم کی ہلاکت وتباہی کا وقت قریب ہوجاتا ہے البتہ ان عیش و آرا م اور خوشحالی کی زندگی کے ساتھ اگرقوم کے اکثر افراد اللہ کےشکرگزارہوںاس کے بندوں کے ساتھ انصاف کرنے والے ہوں اورباہم حسن نیت اور خیر خواہی پرعامل ہوں توبلا شبہ وہ مقبول بارِ گاہ اِلٰہی ہیں اور انہیں کودنیا اورآخرت کی کامرانیوں کی بشارت ہے اورانہیں کے لیے یہ دنیوی عیش خدا کی بے غایت نعمتوں کی علامت ہے۔ اللہ کافرمان ہے :

وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۵۵ (۸)

ترجمہ: اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جوایمان لائیں اورنیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائےگا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کوبنا چکا ہے اُن کے لئے اُن کے اُس دین کومضبوط بنیادوں پر قائم کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نےان کےحق میں پسند کیا ہے اوران کی (موجودہ)حالت خوف کوامن سے بدل دے گا بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کوشریک نہ کریں اور جواس کے بعدکفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔

خلافت اورایمان کا تعلق

یہ آیت صراحت کررہی ہے کہ حکومت ودولت کا وعدہ وراثت کی حیثیت سے صرف اِلٰہی کا حصہ ہے جومومن بھی ہیں اور خدا کے احکام پرعامل بن کر صالحین کی صف میں شامل ہیں ۔ اس آیت کریمہ کی تفسیرکرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ رقمطراز ہیں:

بعض لوگ خلافت کومحض حکومت وفرمانروائی اورغلبہ وتمکن کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیںکہ جس کوبھی دنیا میں یہ چیز حاصل ہے وہ مومن اورصالح اوراللہ کے پسندیدہ دین کا پیرو اور بندگی حق پر عامل اورشرک سے مجتنب ہے اوراس پر مز ید ستم یہ ڈھاتےہیں کہ اپنے اس غلط نتیجے کو ٹھیک بٹھانے کے لیے ایمان، اصلاح ، دین حق ،عبادت اِلٰہی اورشرک ہرچیز کا مفہوم بدل کروہ کچھ بنا ڈالتے ہیںجوان کے اس نظریہ کے مطابق ہو ۔ یہ قرآن کی بدترین معنوی تحریف ہے جو یہودونصاریٰ کی تحریفات سے بھی بازی لےگئی ہے اس نے قرآن کی ایک آیت کووہ معنیٰ پہنادیے ہیں جو پورے قرآن کی تعلیم کومسخ کرڈالتے ہیں اوراسلام کی کسی ایک چیز کو بھی اس کی جگہ پرباقی نہیں رہنے دیتے۔ خلافت کی اس تعریف کےبعد لا محالہ وہ سب لوگ اس آیت کےمصداق بن جاتے ہیں جنہوںنے کبھی دنیا میںغلبہ وتمکن پایا ہے یا آج پائے ہوئے ہیں ۔ خواہ وہ خدا ولی، رسالت ، آخرت ہر چیز کےمنکر ہوں اورفسق وفجور کی ان تمام آلائشوں میںبری طرح لتھرے ہوئے ہوں جنہیں قرآن نے کبائر قرار دیا ہے جیسے سود ، زنا ، شراب ، جوا، اب اگر یہ سب لوگ مومن صالح ہیں اور اسی لیے خلافت کے منصب عالی پر سرفراز کئے گئے ہیں تو پھر ایمان کے معنیٰ قوانین طبعی کوماننے اور صلاح کے معنیٰ ان قوانین کوکامیابی کےساتھ استعمال کرنے کے سوااور کیا ہوسکتا ہے اوراللہ کا پسندیدہ دین اس کےسوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ علوم طبعی میں کمال حاصل کرکے صنعت وحرفت اورتجارت وسیاست میں خوب ترقی کی جائے اوراللہ کی بندگی کا مطلب پھر اس کے سوا اورکیا رہ جاتا ہے کہ ان قاعدوں اورضابطوں کی پابندی کی جائے جوانفرادی اور اجتماعی سعی وجہد کی کامیابی کے لیے فطرتاً مفیداورضروری ہیں اور شرک پھر اس کے سوا اورکس چیز کا نام رہ جاتا ہے کہ ان مفید قواعد وضوابط کے ساتھ کوئی شخص یا قوم کچھ نقصان دہ طریقے بھی اختیار کرے۔ مگر کیا کوئی شخص جس نے کھلے دل اورکھلی آنکھوں سے کبھی قرآن کوسمجھ کرپڑھا ہویہ مان سکتا ہے کہ قرآن میں واقعی ایمان اورعمل صالح اور دینِ حق اور عبادتِ اِلٰہی اور توحید اورشرک کے یہی معنی ہیں ؟ یہ معنیٰ وہ شخص لےسکتا ہے جس نے کچھ پورا قرآن سمجھ کر نہ پڑھا ہو اور صرف کوئی آیت کہیں تک اورکوئی کہیں سے لے کر اس کو اپنے نظریات وتصورات کے مطابق ڈھال لیا ہو۔ یا پھر وہ شخص یہ حرکت کرسکتاہے جوقرآن کوپڑھتے ہوئے ان سب آیات کو اپنے زعم میں سراسرلغو اورغلط قرار دیتا چلا گیاہوجن میں اللہ تعالیٰ کوواحد رب اوراِلٰہ اوراس کی نازل کردہ وحی کو واحد ذریعہ ہدایت اور اس کے مبعوث کردہ ہرپیغمبر کو حتمی طور پرواجب الاطاعت رہنما تسلیم کرنے کی دعوت دی گئی ہے اورموجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر ایک دوسری زندگی کے محض مان لینے کا ہی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی صاف صاف کہا گیاہے کہ جولوگ اس زندگی میں اپنی جواب دہی کے تخیل سےمنکر یا خالی الذہن ہوکر محض اس دنیا کی کامیابیوں کومقصود سمجھتے ہوئے کام کریں گے وہ فلاح سے محروم رہیں گے۔ ( ۹)

قرآن کریم نے حکومت ودولت کے لئے مومن وکافر کی کوئی تخصیص نہیں کی ہے ۔ خدا کی حکمتوں اورمصلحتوں کے پیش نظر یہ دنیوی اسباب کی شکل میں چلتی پھرتی چھاؤں ہے اور ایسی حکومت ودولت کے لئے یہ ضر وری نہیں ہے کہ اس کے ساتھ خدا کا فضل اوراس کی خوشنودی ہر حال میں شامل ہے۔ البتہ حکومت ودولت کا وعدہ وراثت کی حیثیت سے اللہ کے ان صالح اورنیک بندوں کے لئے بھی ہے جو مومن ہیںا ور اللہ کے احکام پر برضاورغبت عمل کرنےو الے بھی ہیں۔ جن کی اجتماعی زندگی میں یہ دونوں صفات موجود ہیں بلا شبہ یہ دولت و حکومت اس کے لئے اللہ کا انعام واکرام ہے ۔

اسی طرح قرآن پاک نے اپنے جلیل القدر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام مثلاًحضرات ابراہیمؑ و اسماعیل ، ادریسؑ ، ہودؑ،لوطؑ، یوسفؑ، اسرائیل ، شعیب ؑ، موسی ؑ وہارون ؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے واقعات و حالات اوران کی قوموں کے حالات کوتفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ قرآن کریم ان تاریخی واقعات کو محض اس لئے نہیں بیان کرتا کہ وہ واقعات ہیں جس کا تاریخ میں درج ہونا ضروری ہے بلکہ اس کا مقصد وحیدیہ ہےکہ وہ ان واقعات سے پیدا شدہ نتائج کوانسانی رشد وہدایت کے لیے موعظت وعبرت بنائے اورانسانی عقل وجذبات سےاپیل کرے کہ وہ نوامیس اورقوانین فطرت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ان تاریخی نتائج سے سبق حاصل کریں اورایمان لائیں کہ اللہ کی ہستی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس کا ید قدرت ہی اس تمام ہست وبود پر کارفرماہے اوراسی مذہب کے احکام کی پیروی میںفلاح ونجات اورہر قسم کی ترقی کاراز مضمر ہے جس کا نام مذہب فطرت یا اسلام ہے ۔

حواشی

(۵) مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ، قصص القرآن ، حصہ اوّل، حوالہ بالا ، ص ۵۸۔۵۷

(۶) نفس مصدر، ص ۸۸۔۸۷ (۷) نفس مصدر ، ص ۱۵۰

(۸ ) القرآن الکریم ، سورۃ النور، ۵۵

(۹) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن جلد سوم ، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی ، اپریل ، ۲۰۰۲ ، ص ۴۱۸۔ ۴۱۷