(تیسری قسط)

مفتی کلیم رحمانی

اذان اور دعوت میں تعلق

کسی کی غلط رہنمائی سے لوگوں کو نقصان پہنچا تواس کا گناہ بھی اس کے نامہ اعمال میں درج کیا جائے گا ، لیکن غلط رہنمائی کے پیچھے چلنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی جا ئے گی ، کیونکہ ان پر اللہ کے انعام یافتہ بندوں کے راستہ کی اتباع ضروری قرار دی گئی تھی، نہ کہ اللہ کے غضب یا فتہ اور سیدھے راستہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کے راستہ کی اتباع ، اور اللہ کے انعام یافتہ بندے قرآن مجید کے مطابق ، انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں، اور ہر وہ شخص اور پارٹی سیدھے راستہ سے بھٹکی ہوئی ہے، جس کی پالیسی اور طریقہ کا ر قرآن و حدیث کے مطابق نہ ہو، اللہ کے نزدیک شہداء کا مقام بہت اونچاہے ۔ مسلمانوں کے پاس اللہ کی طرف پلٹنے کا موقع موجود ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے، بلکہ اللہ ہر بندہ کے استقبال کے لیے تیار ہے جیسا کہ ایک حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے اللہ کی خوشی کو ایک مسافر کی مثال سے سمجھایا۔ (وہ یہ کہ ایک اونٹ سوار ،کا بیابان میں اونٹ گم ہو گیا، اور اسی اونٹ پر اس کا کھانا اور پانی تھا، سوار نے اونٹ کو تلاش کیا لیکن نہیں ملا، تو سوار اونٹ کے ملنے سے مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے آکر لیٹ گیا، اور اسے نیند آگئی، لیکن جب نیند سے بیدار ہوا تو اس کا اونٹ پانی اور کھانا سمیت اس کے سامنے کھڑا ہوانظر آیا تو اس سوار کو اس موقع پر جو خوشی ہوگی اس سے زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اس بندہ سے ہوتی ہے جو بے دینی کی زندگی کو چھوڑ کر اس کی طرف پلٹ آتا ہے ) موجودہ دور کے ایک شاعر ، مائل خیر بادی کا ایک شعر اس سلسلہ میں بڑی رہنمائی کرتا ہے۔

سبھی دروازے ہوں گے بند تو یہ فیصلہ ہوگا

چلو توبہ کریں ، توبہ کا دروازہ کھلا ہوگا

یقیناً اس وقت مسلمانوں کو آزادی حاصل نہیں ہے، وہ کب نکاح کرے کب نہ کرے، کتنے بچے پیدا ہونے دے،کتنے نہ ہونے دے، اپنے مکان میںکس جانور کا گوشت کھائے اور کس جانور کا گوشت نہ کھائے ، طلاق کس طرح دے کس طرح نہ دے، اس کا فیصلہ صاحب مکان نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا فیصلہ وقت کے حکمران کریں گے۔ لیکن افسوس ہے کہ بہت سے مسلمانوں کو اپنی اس بے بسی کا اب بھی احساس تک نہیں ہے ، اور کچھ مسلمانوں کواس کا احساس ہے بھی تو اس سیاسی پستی سے نکلنے کا ان کے پاس وہی باطل ،سیاست کا نسخہ ہے ،جب کہ اسی سیاست کے سبب مسلمان پستی میں گرے ہیں، گویا کہ مسلمانوں کا یہ طرز عمل اس شعر کے مصداق ٹھہرتا ہے۔

میر کیا سادہ ہے بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

مسلمانوں کا یہ طرز عمل جس سوراخ سے بار بار ڈنسے جارہے ہیں پھر بار بار اسی سوراخ میں انگلی ڈالنے کے زمرے میں آتا ہے جبکہ حدیث میں مومن کی یہ پہچان بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈنساجاتا، چنانچہ فرمان رسولﷺ ہے ۔ لاَ یُلْدَغُ الْمُومِنُ جُحْرِ وَاحِدِ مَرَّتَیْنِ۔(یعنی مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈنسا جاتا)۔مطلب یہ کہ مومن ایک غلطی بار بار نہیں کرتا، یا اُسے بار بار دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، ایک مرتبہ کی غلطی اور دھوکہ سے وہ نصیحت حاصل کر لیتا ہے۔ بار بار کی مصیبت و پریشانی سے نصیحت حاصل نہیں کرنایہ منافقین کا شیوہ ہے، چنانچہ قرآن میں سورئہ توبہ میں فرمایا گیا ہے۔ ( اَوَلاَ یَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُونَ فِیْ کُلّ عَامِ مَّرَّۃً اَوْ مّرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُبُوْنَ وَلاَ ھُمْ یَذَکّرُوْنَ۔ (سورئہ توبہ آیت ۱۲۶) ترجمہ( کیا یہ منافقین دیکھتے نہیں کہ انہیں ہر سال میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کوئی نہ کوئی مصیبت میں ڈالا جاتا ہے پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں)

اس حوالہ سے مسلمان اگر اپنا جائزہ لیں تو افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے وہ یہ کہ آزادی ہند کے بعد برصغیر کے مسلمانوں پر شاید ہی کوئی ایسا سال آیا ہو، جس میں ان پر مصیبت و پریشانی نہ آئی ہو، لیکن پھر بھی انہوں نے غیر اسلامی رویے سے توبہ نہیں کی اور نہ نصیحت حاصل کی، دو ر نبویﷺ کے منافقین توبہ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتے تھے۔ واضح رہے اللہ کی نافرمانی چھوڑ کر اللہ کی اطاعت اختیار کرنے کو تو بہ کہتے ہیں، معلوم ہوا کہ صرف زبان سے توبہ توبہ کہنے کو توبہ نہیں کہتے اور نہ ہی صرف چہرہ پر دونوں ہاتھ مارنے کو توبہ کہتے ہیں، جیسا کہ عام لوگ توبہ کا یہ مطلب سمجھتے ہیں۔

باطل سیاست کرنے والے مسلم لیڈران کو مسلمانوں کی موجودہ پستی کا ذرا بھی احساس ہوتاتواللہ سے بھی معافی مانگتے ، غلط رہنمائی اللہ کی نا فرمانی کے ساتھ بندوں کی حق تلفی بھی ہے۔مگر افسوس ہے کہ اب بھی باطل سیاست کی خوبیاں بیان کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃِ مُعْرِضُوْنَ (سورہ انبیاء آیت نمبر۱) لوگوں کے لیے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت ہی میں پڑے ہوئے ہیں، حق سے منہ موڑ کرقرآن و حدیث سے واضح طور سے ثابت ہے ، کہ اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ نے دور مکی ہی میں کلمہ اور اسلامی حکومت کےتعلّق کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ مسند احمد اور نسائی کی روایت ہے اور سیرت ابن ہشام نے بھی اس کوبیان کیا ہے۔ (عَنْ اِبْنِ عَبَّاسِؓ وَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللہﷺ فَقَالَ یَاعَمَّ اِنّیِ اُرِیْدُھُمْ عَلیٰ کَلِمَۃِ وَاحِدۃِ تُدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرَبُ وَ تُوئَ دِّ اِلَیْھِمْ بِھَا الْعَجَمُ الْجِزیَۃَ فَفَزِعُوا لِکَلِمَۃِ وَ لِقَوْلِہِ فَقَالَ الْقَوْمُ کَلِمَۃً وَاحِدۃً نَعَمْ وَ اَیْبکَ عَشْراً فَقَالُوا مَا ھِیَ وَ قَالَ اَبوْطَالِبِ وَاَیُّ کَلِمَۃِ ھِیَ یَااِبنْ اَخِیْ فَقَالَ رَسُولُ اللہِﷺ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ) (مسند احمد ،نسائی،سیرت ابن ہشام جلد۱ صفحہ ۴۶۶) ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے کہا ،اے چچا میں ان (قریش مکہ) سے ایک کلمہ کا مطالبہ کرتا ہوں ، اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو، اس کے ذریعہ عرب ان کے تابع ہو جائیں گے ، اور غیر عرب ان کو ٹیکس ادا کریں گے، پس وہ اس کلمہ کے لیے بے چین ہوگئے، اور کہنے لگے، ایک کلمہ کیا ہے؟ آپ کے باپ کی قسم دس پیش کیجئے، بتائو وہ کلمہ کیا ہے، اور ابو طالب نے بھی کہا ائے بھتیجہ وہ کونسا کلمہ ہے؟ پس رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ہے ۔

مذکورہ واقعہ دور مکی سے تعلق رکھتا ہے دور مکی میں ابھی کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی بنیاد پر حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، لیکن اس کلمہ کی بنیاد پر حکومت کے قیام کی بشارت اللہ کے رسولﷺ نے مکہ ہی میں دیدی تھی، اور اس لیے دی تھی کہ اس کلمہ ہی میں اسلامی حکومت کا نظریہ اور دعوت شامل ہے۔ اس لیے کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کو حکومت الٰہیہ کے نظریہ اور دعوت سے خالی سمجھنا، یہ نادانی ہے۔عملاً کلمہ کی بنیاد پر حکومت اللہ کے رسولﷺ کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ اور پھر سن آٹھ ہجری کے بعد مکہ میں بھی اس کلمہ کی بنیاد پر حکومت قائم ہوگئی، اور اس کے بعد پورے عرب میں ، اور پھر چند سالوں کے بعد اسی کلمہ کی بنیاد پر قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کا خاتمہ کرکے اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔

کچھ نادانوں کو دور مکی میں آنحضورﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سیاسی مغلوبیت کو دیکھ کر یہ شبہ ہوگیا ، کہ دورِ مکی میں اللہ کے رسولﷺ اور اہل ایمان کے نزدیک اسلامی سیاست و حکومت کا کوئی نظریہ اور دعوت نہیں تھی، ان نادانوں کو سمجھنا چاہیے کہ کسی نظریہ و دعوت کا سیاسی ہونا اور چیز ہے، اور اس نظریہ و دعوت کی بنیاد پر حکومت کا قیام و اقتدار ، دوسری چیز ہے، چنانچہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اول روز سے ہی اپنے اندر اللہ کی حکومت کا تصور لیے ہوئے ہے، اور ہر نبی نے اس کلمہ کو اللہ کی حکومت کے تصور کے ساتھ ہی پیش کیا ہے، ظاہری مغلوبیت کے باوجود کبھی بھی کلمہ گوافراد نے باطل کی حکمرانی کو صحیح تسلیم نہیں کیا ۔

کسی سیاسی نظریہ و دعوت کو اقتدار و حکومت نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ نظریہ و دعوت غیر سیاسی ہے۔ چنانچہ آج بھی دنیا میں بہت سے سیاسی نظریات اور پارٹیاں ایسی ہیں جو اقتدار و حکومت میں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ سیاسی پارٹیاں شمار ہوتی ہیں، ہندوستان میں بہت سی سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جنہیں آج تک سیاسی اقتدار نہیں ملا لیکن اس کے باوجود وہ سیا سی پارٹیاں شمار ہوتی ہیں، ٹھیک اسی طرح نبیﷺ کو ہجرت سے پہلے مکی زندگی میں کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی بنیاد پر سیاسی اقتدار نہیں ملا، لیکن یہ کلمہ اقتدار سے پہلے بھی اپنے اندر اقتدار و حکومت کی فکر و دعوت لیے ہوئے تھا، یہی وجہ ہے کہ ہر نبی کے مخالفین اولین طور پر سیاسی حکمران رہے ہیں، اور خود نبیﷺ کے اولین مخالفین مکہ کے سیاسی حکمران تھے۔ دعوت مکمل ہو ہی نہیں سکتی، جس میں انسانی زندگی کی مکمل رہنمائی نہ ہو، اسلام کا کلمہ ایک مکمل کلمہ ہے اور مکمل رہنمائی اپنے اندر لیے ہوئے ہے ۔

کچھ دنیا پرستوں نے وقت کے حکمرانوں کی ناراضی سے بچنے کے لیے یہ تصور قائم کر لیا ،کہ اسلام کے کلمہ کی بنیاد پر حکومت قائم نہ ہو،تو کلمہ کفر کی حمایت کرتے رہو۔انہوں نے دین کی غلط تشریح کی ہے، بہت سے سیدھے سادے اور کم علم مسلمان دام فریب میں جاتے ہیں، جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو جائے، تب تک ہر نامناسب کام کی حمایت کرتے رہو ، جس کی وجہ سے منکرات کی اشاعت کے لیے میدان صاف ہو گیا ہے، اور اہل حق کا دنیا میں جینا دو بھر ہوگیا ہے۔

ابنیاء او ر ان کے پیرو کاروں کی زندگیوں پر غور کرتے تو یہ غلط بات کہنے کی جرات نہیں ہوتی، کیا نوح علیہ السلام نے اپنے دور کے باطل کی تائید و حمایت کی تھی جب کہ ان کی دعوتی زندگی میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ، کیا ہودؑ ، صالح ؑ ، شعیب ؑ ، لوط ؑ نے اپنی قوم کے سرداروں کی حمایت و تائید کی تھی؟ جب کہ مذکورہ کسی بھی نبی کی دعوتی زندگی میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، کیا حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ آزر اور نمرود بادشاہ کی حمایت کی تھی؟ کیا حضرت موسیٰؑ اور ہارون ؑ نے فرعون کی حمایت کی تھی؟ جب کہ حضرت موسیٰ اور ہارونؑ کو مصر میں اقتدا ر حاصل نہیں تھا، اسی طرح آنحضورﷺ دور مکی میں سرداران مکہ کی حمایت کرتے تو خوامخواہ سرداران مکہ آپؐ کے دشمن کیوں ہو جاتے؟ جب کہ یہی سردار آپؐ کو نبوت سے پہلے چالیس(۴۰) سال تک صادق و امین کہتے رہے، اور دور مکی وہ دور ہے جس میں آنحضورﷺ اور اہل ایمان کو اقتدار حاصل نہیں تھا۔

تمام نبیوں ، رسولوں کی زندگیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی نبی رسول اور اہل ایمان نے سیاسی قوت حاصل ہونے سے پہلے باطل نظام اور باطل حکمرانوں کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا، لیکن ایک دن کے لیے بھی کسی باطل نظام کی تائید نہیں کی،بلکہ مسلسل انہوں نے باطل کی مخالفت کی اور یہی چیز باطل حکمرانوں کے لیے دشمنی کا سبب بنی ہوئی تھی، یہ بات کہ جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو جائے تب تک باطل نظام کی حمایت کرتے رہنا کسی بھی صورت میں اسلام کی تعلیم سے نہیں جوڑی جا سکتی، بلکہ یہ عین منافقت کی بات ہوگی، اور صرف اسلام ہی نہیں ۔ بلکہ ہر پارٹی کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ سیاسی مغلوبیت کے دور میں بھی اپنی فکر سے وابستہ رہا جائے اور دوسروں کو بھی بلایا جائے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو طریقہ سیاست باطل حکمراں بھی اپنے لیے پسند نہیں کرتے، وہی طریقہ سیاست بہت سے دین کے دعویداروں نے اسلام سے جوڑ دیا ہے، جب کہ باطل حکمرانوں کے پاس حقیقی کامیابی و ناکامی کا کوئی تصور نہیں ہے، اور نہ ہی اللہ کے سامنے جو ابدہی کا کوئی تصور ہے ،در اصل کچھ نام نہاد دینداروں نے دین کے متعلق یہ باطل تصور اس لیے قائم کر لیا تا کہ اسلام کی سیاسی مغلوبیت کی صورت میں باطل حکمرانوں کی ناراضی سے بچا جا سکے اور باطل نظام زندگی کی سہولتیں آسانی سے ملتی رہیں، اور اہل حق کی طرف سے یہ الزام بھی نہ لگے کہ انہوں نے دین اسلام کے بنیادی نظریہ کو چھوڑ کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، یا منافقت کا راستہ اختیار کر لیا ۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے دلوں کے حال کا علم اللہ کو ہو چکا ہے اور ان کے عمل کی رپورٹ کراماً کا تبین کے ذریعہ اللہ کے سامنے پیش ہو گی۔

چنانچہ ایک حدیث میں ایک صحابی کے سوال کے جواب میں آنحضورﷺ نے فرمایا۔: (حضر ت مصعب بن سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا ائے اللہ کے رسولﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ کون آزمایا جاتا ہے تو آنحضورﷺ نے فرمایا ، انبیاء پھر جو ان کے مثل ہیں، پھر جو ان کے مثل ہیں ،آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے )(الحدیث) رواہ۔ ترمذی ،نسائی ابن ماجہ، دارمی)مطلب یہ کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پر آتی ہیں ، پھر لوگوں میں جو انبیاء کے طریقہ کے جتنے زیادہ قریب ہوں گے۔

(جاری)