ڈاکٹر نوشادعلی

(مراسلات)

موجودہ دور میں جمہوریت کواگر دنیاکاسب سےپسندیدہ سیاسی نظام تسلیم کیا جاتا ہے تومغربی تہدیب بھی عالمی سطح پراپنی پہچان بنا چکی ہے ۔سوال یہ ہے کہ مغربی تہذیب اورجمہوریت کے ساتھ ہم مسلمانوں کابرتاؤ کیا ہونا چاہیے ۔ اس سلسلے میںمسلمانوں کے درمیان تین قابل ذکر نظریات پائے جاتےہیں۔

اوّل: ۔وہ لوگ جوزندگی کےتعلق سے یہ نظریہ رکھتے ہیںکہ دنیا میں زندگی گزارنے کے بجائے،خود کووقت وحالات کے مطابق تبدیل کرلیاجائے۔ اقلیتی گروہ ہونےکے ناطے ہماری خیریت اسی میں ہے کہ ملک کی اکثریت کے ساتھ بہترین تعلقات بنانے کی کوشش کی جائے۔ ہمیں غور کرنا چاہیےکہ موجودہ حالات سےہم مسلمان کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم مسلمان ایک طرف تو مغرب کی مخالفت کرتے ہیں اور ساتھ ہی دھیرے دھیرے اُسے قبول بھی کرتے چلے جارہےہیں ۔کل تک جوباتیںہمارے یہاں کفر وشرک کا شعار شمار کی جاتی تھیں ۔ ان میںسے بیشتر باتیں آج ہم لوگ اس طرح قبول کرچکے ہیں کہ اب ان باتوں سے ہمیںکوئی کراہیت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ حالات یہی بتاتے ہیں کہ مغر ب کی جن باتوں کے آج ہم سخت مخالف ہیں ہماری آنےوالی نسلیں ان میں بہت کچھ قبول کرچکی ہوںگی۔ دنیا انہیں قوموں کی نقل کیا کرتی ہےجن کے پا س قوت ہوتی ہےاور قدرت اُن کے پاس ہوتی ہے جوعلم وعمل کے اعتبار سے بہتر ہوں۔ یہ ایک ایسا قدرتی عمل ہے جوہمیشہ سے اسی طرح کام کرتا رہا ہے۔ہم مسلمانوںکا مسئلہ یہ بھی ہےکہ ہم صدیوں تک حکمرانوںکی حیثیت سےمعاملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم شایدیہ بات قبول نہیںکرپارہےہیں کہ اب دنیا کی قیادت کا مقام دوسروںکوحاصل ہوچکاہے ۔ہم اگر حالات کی حقیقت کواب بھی نہیں سمجھیںگے اور دوسروںکےساتھ اپنا رویّہ نہیںبدلیںگے تو دنیا ہمیںروندھدتی ، کچلتی اس طرح آگےنقل چکی ہوگی کہ دوسروں کی غلامی کےسواہمارےپاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

موجود ہ زندگی کے اعتبار سے اگردیکھا جائے تو ان افراد کی باتوں کاانکار بھی نہیں کیاجاسکتالیکن ان افراد کی سوچ کی بنیادی غلطی یہ ہےکہ ان کی نگاہ صرف موجودہ زندگی کوبنانے سنورانے تک محدود ہوتی ہے آخرت کی کامیابی کی فکر ان کے یہاں نہیں پائی جاتی حالانکہ اسلام موجودہ زندگی کے مقابلے آخرت کی زندگی کوترجیح دیتاہے۔دوسری خرابی اس گروہ کی یہ ہے کہ ملک وقوم اورانسانیت کی بھلائی کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی کا کوئی جذبہ ان کے یہاں نہیں پایا جاتا ہے ۔ لوگوں میں پہچان بنانے کے لئے کبھی کبھی مفّکر کی حیثیت سے اظہارِ خیال ضرور کردیا جاتا ہے ورنہ کسی بھی فائدے کے مقابل انہیں اپنا ذاتی فائدہ زیادہ عزیز ہوتا ہے ۔ اس فکر کی تیسری خرابی یہ ہے کہ ایک طرف تویہ مغرب کی غلامی سے نجات کی بات کرتے ہیںوہیںدوسری طرف مغرب کی ہربات کو قبول کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بغیر کسی چوںچراں کے کسی کی ہر بات کوتسلیم کرنا غلامی نہیں توپھر اسے کیا کہیں گے۔

دوئم: اوّل گروہ کے ٹھیک برعکس ان کی سوچ یہ ہےکہ مغرب اورجمہوریت میں کہیں کوئی اچھائی اگر پائی بھی جاتی ہے توبھی مجموعی حیثیت سے دونوں باطل اور پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہیں ۔ ان لوگوںکاکہنا ہے کہ جدید علوم اور سائنس کے میدان میں مغرب نےجوکار نامے انجام دیےہیں اس کا ہمیں اعتراف ہےلیکن اس کا استعمال انسانیت کی بھلائی سے زیادہ اس کی تباہی کے لئے کیاگیا ہے ۔ انسانی زندگی کےانفرادی اوراجتماعی مسائل کے حل کےلئے جوفکر وفلسفہ مغرب میں پایاجاتا ہےپوری دنیا اس کے وبال میں گرفتار ہوچکی ہے۔انسانیت کے حق میں بہترہوتا اگر مغرب کا جدید علم اور اسلام کا طریقۂ زندگی دونوں کی قدر کرتے ہوئے دنیا کوعزت وسکون سے جینے کا موقع فراہم کیا جاتا لیکن مغرب قوت کے زور پر جس طرح پوری دنیا کواپنا غلام بنانے پر آمادہ ہے اس کی مخالفت نہ کرنا شیطانی عزائم کی تکمیل اورفتنہ وفساد کو بڑھاوا دینا ہوگا۔ اس لئے ہمارےایمان کاتقاضہ ہے کہ انسانیت کی بھلائی کے لئے شیطانی عزائم کا مقابلہ کیا جائے۔

اس گروہ کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ لوگ دین کےتقاضوں، وقت وحالا ت او ر امت کی کمزوریوں ، کسی بات کی پرواہ کئےبغیر ایک ہی وقت میں دنیاکی تمام قوتوں سےبھڑجانا چاہتےہیں۔ پہلے گروہ کی غلطی اگر یہ ہے کہ وہ آخرت کی زندگی سے بے نیا ز ہوکر موجودہ زندگی کی کامیابی کو ہی حقیقی کامیابی سمجھ رہے ہوتےہیں تو اس گروہ کی نادانی یہ ہے کہ یہ لوگ حقیقت پسندی سے قطعی کام نہیں لینا چاہتے ۔ اسلام اگر آخرت کی زندگی کوترجیح دیتا ہےتوا س کامطلب یہ نہیں ہےکہ اس کےنزدیک موجودہ زندگی کی کوئی قدر وقیمت ہی نہیں ہے ۔ اوّل تو اسلام حتی الامکان خون خرابےسے پرہیزکرنا چاہتا ہے لیکن وقتی طور پر اگر ان لوگوں کی بات تسلیم بھی کرلی جائے تواس فوجی کمانڈرکے بارے میں آ پ کیا کہیں گے جوان لوگوںکےہاتھوںمیں ہتھیار تھمادیتا ہے جواُسے ٹھیک سے استعمال کرنا بھی نہیں جانتےاورپھریہ سمجھتا ہےکہ اس غیرتربیت یافتہ فوج کے ذریعے دنیاکی متحدہ قوت کے ساتھ مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہاںایک اہم سوال یہ بھی اُٹھتا ہےکہ جوقوم خود،عدل وانصاف پرقائم نہ ہوکیا اس کےذریعہ عدل وانصاف کا قیام ممکن ہے۔

سوئم: مسلمان اور موجودہ جمہوریت جب اس موضوع پر بات ہوتی ہے توکچھ لوگ اسلامی جمہوریت اورموجودہ جمہوریت کے اختلاف پر بات کرنے لگتےہیں۔ اس طر ح کی بات کرنے والے یہ بات فراموش کرجاتےہیںکہ ہندوستان کے پس منظرمیںہمارا مسئلہ یہ نہیںہے کہ یہاںپر اسلامی نظام کا قیام ہونے جارہاہےبلکہ فی الوقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں 82-80فیصد غیر مسلم حضرات رہتےہوںاور وہ تمام افراد اپنے لیےموجودہ سیاسی نظام کوپسند کرتےہوں۔ اس طرح کے حالات میں،مسلمان کی حیثیت سے ملک کے سیاسی نظام کے ساتھ ہمارا طرزِ عمل کیسا ہوناچاہیے ۔اسلام تمام انسانوںکایہ حق تسلیم کرتا ہے کہ و ہ جس طریقۂ زندگی کواپنے لئے پسند کرتےہوں اس کے مطابق زندگی گزارسکتے ہیں ۔ موجودہ جمہوریت میں بہت سی خرابیاں ہوسکتی ہیں لیکن ملک کی غالب ترین اکثریت اگر اسی سیاسی نظام کواختیار کرنا چاہتی ہے تو عقل وانصاف کاتقاضہ یہی ہوگا کہ لوگوںکا یہ حق خوش دلی کے ساتھ قبول کیا جائے اور موجودہ جمہوریت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے حقوق کی حفاظت اورملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار اداکیا جائے۔

جہاںتک مغربی تہذیب کاتعلق ہے تو عورت کی آزادی ، جنسی تعلقات اورشراب جیسے بہت سےمسائل میں مغربی تہذیب اس قدربے لگام واقعےہوئی ہےکہ اس کی وجہ سےمغرب کامعاشرتی نظام پوری طرح بکھرچکا ہے۔اس طرح کی سماج دشمن آزادی کواسلام کسی قیمت پر برداشت نہیں کر نا چاہتا ،اسلام ایک عالمی دین ہے جوقیامت تک کےلئے تمام انسانوںکی ہدایت ورہنمائی کے لئے بھیجاگیاہےاس کی تمام تعلیمات میںاتنی وسعت ہےکہ وہ ہردور اورپھرعلاقے کی رہنمائی کا حق اد ا کرسکے ۔تاریخی طورپر اگر دیکھا جائےتواسلام جہاںبھی پہنچا ہے۔ ایک طرف جہاں اس نے اپنی تعلیمات سے مقامی معاشروں کومالا مال کیاہے۔وہیں مسلمان بھی مقامی کلچرکے اثرات قبول کر تے رہےہیں ۔ یہ وہی ملی جلی تہذیب ہےجسے آج ہندوستان میں مسلمانوںکی تہذیب کہا جاسکتا ہے ۔ہندوستان میںجنم لینےوالی اُردوزبان اگرہماری ہوسکتی ہے ، ایرانی پا جامہ ، جسےآج کل علیگڑھ کٹ کہاجاتا ہےہمارا ہوسکتا ہے،مغلیہ دور کے کھانے ،لباس ، طرزتعمیر ،معاشرتی آداب ہمارے ہوسکتےہیں ۔ مختلف قسم کی پگڑیاں ، ٹوپیاں اورطرح طر ح کےبرقعے اگر ہمارے یہاں جگہ پاسکتے ہیں توجدیدتہذیب سے بھی بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ہم اگر دوسری قوموںسے بہتر تعلق قائم کرنا چاہتےہیںتو زندگی کےتمام معاملات میں ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ہمیں طے کرنا ہوگا کہ اسلامی تہذیب وتمدنّ کسے کہتےہیں اوراس کے حدو د کیاہیں ساتھ ہی دوسری تہذیبوں کا تنقیدی جائزہ لے کرواضح طورپربتاناہوگا کہ وہ کون سی باتیں ہیں جوعقیدہ توحید کےساتھ میل نہیںکھاتیں تاکہ مسلم معاشرہ بلاوجہ کے انتشار سے محفوظ رہ سکے۔

مقام ومرتبے کے اعتبارسے انسانیت کاسب سے اعلیٰ مقام نبوت کامقام ہے ۔نبیوں کووہ علم دیا جاتا ہے جودوسروںکوحاصل نہیں ہوا کرتا ، غیب کی باتوں کا چشم دیدمشاہدہ کردیا جاتا ہے ، معجزات عطا کئے جاتے ہیں ۔تدبرّوحکمت اورروحانی قوتوںسےنواز اجاتا ہے۔ نبی کی بات کا انکار،اللہ کےحکم کا انکار ہواکرتا ہے۔اس لئے نبوی تحریکوں کے کام کرنے کا انداز بھی انتہائی پاکیزہ اورمنفرد ہے ۔ وہ تنہا فرعون جیسے جابرو ظالم بادشاہ کے در بار میں کھڑے ہوکر اپنے ایمان وعقیدے کا اظہار کرسکتاہے۔ ہرطرح کی مادّی قوتوںسےمحروم ہونے کے باوجود پورے عالم عرب کےعقائد ونظریات کوباطل قرار دے سکتا ہے۔ انبیاءکی تحریکوںکی انفرادیت یہ ہوتی ہے کہ وہ وقت کے تمام طاغوتوں سے بغاو ت کا اعلان کرتا ہے اوراس کے مقابلے پر توحید، رسالت اور آخرت سے دعوت وتبلیغ کا آغازکرتاہے۔ جب کہ عام تحریکو ںکے لئے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔انبیاءاپنےمقام ومرتبے کے اعتبارسے اپنا طریقۂ کار طے کرتے ہیں۔ وہ اپنے دور کی کسی قوت سے نہ خوف زدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی وقت وحالات کی مشکلات وپریشانیاں ان کے لئے کوئی اہمیت رکھتی ہیں۔

نبوت کے بعددوسرا مقام عزیمت کاہوا کرتاہے ۔ظاہر ہے ہر مسلمان سےعزیمت کی راہ اختیارکرنےکا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔مولانا مودودی ؒ کی خوبی یہی ہے کہ وہ مخالف آندھیوںکےدرمیان چراغ جلانے کا عزم و حوصلہ رکھتے تھے۔ امت مسلمہ صدیوں تک اس چراغ سے فیض حاصل کرتی رہیںگی۔ مولانا مرحوم عوام الناس کوبھی عزیمت کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتےہیں۔

نبوت وعزیمت کے بعد سب سےآخری صف میںتیسرےدرجے کے رُخصت پسند عوام ہوا کرتے ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ تیسرے درجے کے لوگ کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیںدیا کرتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ تمام قوموں میں بڑی اکثریت انہیںتیسرے درجے کے افرادکی ہواکرتی ہے ۔کوئی عام تحریک اگر عام لوگوں سے عزیمت کی راہ پرچلنے کا مطالبہ کرتی ہےتووہ خودکو ناقابل برداشت آزمائش میں مبتلا کرتی ہے ۔ساتھ ہی رُخصت پسند افرادپربھی بھاری بوجھ ڈال دیتی ہے جس کا برداشت کرنا عوام الناس کے لئے ناممکن ہوا کرتا ہے ۔ کسی بھی تحریک کے صف اوّل کے وہ افراد جن پرتحریک کی مختلف چھوٹی بڑی ذمہ داریاں ہوا کرتی ہیں ۔ انہیں یقیناًعزیمت پسندہی ہونا چاہیے لیکن خود تحریک کواتنا موقع دینا چاہیے کہ جہالت کے آخری کنار ے پرکھڑے ابوسفیان اورعکرمہ بن ابوجہل جیسے افرادبھی تحریک میں شامل ہوکر اپنا مقدر سنوار سکیں اور تحریک کو قوّت فراہم کرسکیں ۔