ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

رسائل ومسائل

مسلمان عورت کاقادیانی سے نکاح

سوال:

میرا نکاح پانچ برس قبل ایک شخص کےساتھ ہوا۔مجھےبعد میںمعلوم ہوا کہ یہ صاحب پیدائشی قادیا نی (احمدی)ہیں۔نکاح کےوقت بھی قادیانی خیالات رکھتے تھے۔ افسوس کہ مجھےاورمیرےخاندان کواس جماعت کےبارےمیں پہلےکچھ علم نہ تھا ۔ نکاح کے بعد مجھےزبردستی درج ذیل عقائد ماننےکو کہاگیا:

-         مرزاغلام احمدقادیانی مہدی ہیں۔ان پراللہ کی طرف سے وحی آتی تھی۔

-         حضرت عیسیٰؑکی وفات ہوگئی ہے۔اب وہ دنیامیںواپس نہیں آئیں گے۔

-         پنجاب میں واقع قادیان مکہ کےمثل ہے۔وہاں کی زیارت کرنےسےحج کاثواب ملتا ہے۔

مجھےایک بیعت فار م دیاگیااوراس پر دستخط کرنےکوکہاگیا۔اس میںلکھاہوا تھا کہمیںخودکواحمد یہ جماعت میں شامل کرتی ہوں ۔میرا عقیدہ ہے کہ حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیینہیں اورحضرت مرزا غلام احمد وہی امام مہدی ہیں جن کی بشارت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔ میں حضرت مرزا مسرور احمد کو خلیفۃ المسیح مانتی ہوں اور ان کی اطاعت کا وعدہ کرتی ہوں۔

میں نے اس فارم پر دستخط کرنےسےانکار کردیا۔ اس کےبعد مجھے جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی جانےلگی اورپریشان کیاجانےلگا،جس کی وجہ سے میں بیمار رہنےلگی ہوں۔ لا علمی میںمجھ سے جوگناہ ہوگیا ہے ۔ اس سے میں بہت شرم سار ہوں اوراللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں ۔ مجھے درج ذیل سوالات کے جوابات سے نوازیں:

۱۔ کیا ان صاحب سے میرا نکاح درست ہے؟

۲۔ اگریہ نکاح درست نہیں توکیا مجھے خلع یا فسخ نکاح کے لیے کوئی کارروائی کرنی ہوگی؟

۳۔ اگر یہ لوگ مجھے یامیرے خاندان کو کچھ نقصان پہنچانا چاہیں اورہمارے خلاف کوئی قانونی کارروائی کریں تو اس سے بچاؤکے لئے ہم کیا کریں؟

۴۔ اگریہ نکاح درست نہیں تو نکاح نامہ اور دیگر دستاویزات کوکینسل کروانےکے لیے کیا کرنا ہوگا؟

۵۔ کیا اس کیس میں عدّت گزارنی ہوگی؟

 

جواب:

اسلامی شریعت کی روٗ سے نکاح کے لیےمرد اورعورت دونوں کامسلمان ہونا ضروری ہے ۔ مسلمان مرد یا عورت کا کسی غیر مسلم عورت یا مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا۔

قرآن مجید میںاس سےمنع کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا (البقرۃ:۲۲۱)

مشرک عورتوں سے نکاح مت کروجب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اورمشرکین جب تک ایمان نہ لے آئیں اوران سے اپنی عورتوں کا نکاح مت کرو۔

لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ(الممتحنہ:۱۰)

(یہ مسلمان عورتیں) نہ ان (کافروں) کے لیے حلا ل ہیں اورنہ وہ (کافرمرد) ان (مسلمان عورتوں ) کے لیے۔

قادیانیوں کے دوفرقےہیں : ایک فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کوصراحت سے نبی مانتا ہے ۔دوسرا فرقہ، جواحمد یہ کہلاتاہے ، وہ انہیں مہدی اور مسیح موعود قرار دیتاہے اور ان پروحی آنے کا قائل ہے۔ یہ حضرات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوخاتم النبیین تومانتےہیں۔لیکنختم نبوت کی بے جا تاویل کرتے ہیں اوراس کا دوراز کار مفہوم بیان کرتے ہیں۔

دونوں طرح کے قادیانیوں کے غیرمسلم ہونےپرپوری امت کا اتفاق ہے۔ اس لیے شرعی طورپرکسی مسلمان عورت کا قادیانی عقائد رکھنےوالے کسی مرد سے نکاح جائز نہیں ہے اوراگر ہوچکاہے توباطل ہے ، شرعی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔

جب یہ نکاح ہوا ہی نہیں تو خلع یا فسخِ نکاح کی کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح ا س صورت میں عدّت بھی نہیں۔البتہ دوسرانکاح پیش نظرہوتو تین ماہ انتظارکرلیا جائے یہ بہتر ہوگا۔

نکاح نامہ یادیگر دستاویزات موجود ہوں تواسےکینسل کروانے کے لیے کسی قانونی مشیرسےمددلینا مناسب ہوگا۔ اسی طرح اس چیز کا اندیشہ ہوکہ وہ قادیانی شخص یااس کےمتعلقین کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں،یا کوئی قانونی کارروائی کرسکتے ہیںتو اس سےتحفظ کے لیےکسی ماہرقانون سے مشورہ کرلینا چا ہیےاوراس کی بتائی ہوئی تدابیر پرعمل کرنا چاہیے۔ سماجی دباؤاور تحفظ بھی کار گرہوسکتا ہے ۔ اپنےاہل خاندان، پڑوسیوں اورمحلہ والوںسے بھی مدد لیں۔انہیں اپنا مسئلہ سمجھائیں اوران کےتعاون سےگلو خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

قادیانیت موجود ہ دورکا ایک بڑا فتنہ ہے ۔یہ امت مسلمہ کے لیے ایک ناسورہے ۔قادیانی بہت سرگرمی سےبھولے بھالے مسلمانوں کوبہکانے اوراپنے دامِ فریب میںگرفتارکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان سےہوشیار رہنے اوران سے فاصلہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔

 

سفر میں جمع بین الصلٰوتین کے مسائل

سوال:

حالتِ سفر میں نماز سے متعلق درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

۱۔اگر مغرب کی نماز کا وقت ہوگیاہوتو کیا اس کے ساتھ عشا کی نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے؟

۲۔اگر امیدہوکہ رات میںکسی وقت منزل پر پہنچ جائیںگے تو کیا اس صورت میں بھی مغرب اور عشاء کوجمع کیا جاسکتا ہے؟

۳۔ اگر مغرب کاوقت ہونےکے بعد اس کی نمازنہ پڑھی جائے اوراپنے مقام پر پہنچ کرمغرب اور عشاء دونوںنمازیں پڑھ لی جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دو نمازوں کوجمع کرنا (جمع بین الصلوٰتین) ثابت ہے۔آپ ؐنے حجۃ الوداع کے موقع پر ظہر کےوقت میں ظہر کے ساتھ عصر کی نماز بھی اد ا فرمائی۔ اسی طرح آپؐ نے مزدلفہ میںعشاء کے وقت میں مغرب اورعشاء دونوں نمازیں ادا فرمائیں۔ اس بنا پر جمع بین الصلوٰتین کی مشروعیت پرفقہا ءکا اجماع ہے۔البتہ ان کے درمیان اختلاف اس امر میں ہےکہ یہ رخصت حج کے ساتھ خاص ہے یا اس کی علّت سفر ہے ؟ جمہورفقہاء (مالکیہ ،شافعیہ اورحنابلہ) کی رائے ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےعرفہ او رمزدلفہ میںجمع بین الصلوٰتین سفر کی وجہ سے کیاتھا ، جب کہ حسن بصریؒ، ابن سیرین ؒ، مکحولؒ، نخعیؒاورامام ابوحنیفہ ؒکے نزدیک یہ صرف حج کے ساتھ خاص ہے۔ ان حضرات کے نزدیک مسافر کے لیے دونمازوں کوجمع کرنا درست نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات تواتر سے ثابت ہیں اور جمع والی احادیث آحاد میں سےہیں۔اس لیے اخبار آحاد کی وجہ سے تواترکوترک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حضرات یہ ترکیب بتاتے ہیں کہ ظہر کوآخر وقت پڑھ لیا جائے او رعصر کواوّل وقت میں ۔ اس طرح ظاہری طور پر ان کو جمع کیا جاسکتا ہے ۔ اسے اصطلاح میں جمع صوری کہتےہیں۔

دوسرے فقہاء کے نزدیک متعد د احادیث سے ثابت ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ سفر میں نمازوں کوجمع کیا ہے ۔ ذیل میں دوروایتیں پیش کی جاتی ہیں:

حضرت انسؓ بیان کرتےہیں : رسول اللہ صلی علیہ وسلم جب دوپہر میں سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتےتو ظہرکی نمازکومؤخر کرتے تھےپھر عصرکاوقت ہونے پر دونوںکوجمع کرتےتھے (دوسری روایت میں ہے) اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد سفر شروع کرتے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں پڑھ کر سواری پر بیٹھتے تھے۔(بخاری:۱۱۲، مسلم : ۷۰۴، بیہقی: ۳/۱۶۲)

حضرت معاذؓ بیان کرتےہیں: ہم غزوۂ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ آپ ظہر اور عصر کو جمع کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب اور عشاءکوبھی ۔ (مسلم:۷۰۶)

جوفقہاءجمع بین الصلوٰتین کے قائل ہیں وہ جمع تقدیم اور جمع تاخیر دونوں کی اجازت دیتے ہیں ، یعنی ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ظہرکے وقت میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور عصر کے وقت میں بھی۔اسی طرح مغرب اور عشاءکی نمازیں مغرب کے وقت میںبھی پڑھی جاسکتی ہیں اور عشاء کے وقت میں بھی۔

اگر آدمی کو امیدہوکہ وہ رات کسی وقت اپنی منزل پر پہنچ جائے گا توبھی وہ مغرب کے وقت میں مغرب اورعشاءدونوں کوجمع کرسکتا ہے ۔اگر وہ جمع نہ کرے اور مغرب کی نماز بھی ادا نہ کرے ، بلکہ منزل پر پہنچنے کے بعد مغرب اور عشاءدونوں نمازیں پڑھے تو اس کی مغرب کی نماز قضاء سمجھی جائے گی اور عشاء کی نماز وقت میں ادا ہوگی۔