اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

عصبیت سے آفاقیت کی جانب

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! عصبیت کیا ہے ؟ آپ نے جواب میںفرمایا عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم میں اپنی قوم کا ساتھ دو۔(ابوداؤد)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوعصبیت کی طرف بلائے وہ ہم میںسے نہیں ہے اور وہ بھی ہم میںسے نہیںجو عصبیت کے لیے لڑے یا اس کے لئے اپنی جان دے ۔ (ابوداؤد)

اپنی فطری داعیات کے سبب اِنسان اجتماعی زندگی گزارتا ہے۔ اجتماعی زندگی کی ابتدا خاندان سے ہوتی ہے چنانچہ ہرانسان کسی نہ کسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ د نیا میں جب قبائلی نظام رائج تھا تو ہر فرد اپنے خاندان کے علاوہ قبیلے سے بھی وابستگی رکھتا تھا (کیونکہ ہر قبیلہ متعدد خاندانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔) اب بھی دنیا کے بہت سے خطوں میں قبائلی نظام موجودہے۔ خاندانی اور قبائلی شناخت کی طرح، اِنسانوں کی نسلی شناخت بھی ہوتی ہے ۔ مثلاًہمارے ملک میں آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہیں اور دراوڑ نسل کے بھی ۔ اسی طرح باہمی تعارف کراتے وقت اشخاص اپنے علاقے اورملک کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ چنانچہ مثال کے طور پر ایک شخص کے تعارف میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایشیائی ہے یا امریکی ، ہندوستانی ہے یا چینی اوربنگالی ہے یا پنجابی ۔ علاقے اورمُلک کے علاوہ زبان بھی گروہوں کی شناخت کی بنیاد بنتی ہے ۔ چنانچہ عربی بولنے والے ایک لسانی گروہ سمجھے جاتے ہیں اورتمل بولنے والے دوسرا لسانی گروہ ۔ اِنسانوں کی اجتماعی پہنچان کی یہ چند مثالیں ہیں جن میں خاندان، قبیلہ ، نسل ، زبان اورعلاقے کے اشتراک کی بنا پر افراد میں ایک گروہ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔اِنسانوں میں اس نوعیت کا فرق، فطری اسباب سے وجود میں آتا ہے ۔ اِس لیے ان مختلف انسانی گروہوں میںکسی کو دوسرے سے برتر یا کم تر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ایسا کرنا عقل کے خلاف ہوگا۔ ظاہر ہے نسل، مادری زبان ، پیدائشی وطن اور خاندان کا انتخاب ، کسی فرد کے اختیار میں نہیں۔ یہ خالقِ کائنات کی مشیت ہی طے کرتی ہے کہ کس نسل، قبیلے اور خطّے سے کسی فرد کا تعلّق ہوگا۔ اس معاملے میںاُس فرد سے کوئی رائے نہیں لی جاتی۔ جوخصوصیات ، فرد کے اکتساب کا نتیجہ نہ ہوں بلکہ خالصۃً، مشیتِ اِلٰہی سے کسی شخص کوملی ہوں ، اُن پر فخر کرنا ، انتہائی نادانی کی بات ہے۔ اسی طرح ان خصائص کے فرق کو اِنسانوں کے درمیان معزز اور غیر معزز کی تقسیم کی بنیاد بنانا بھی بے عقلی ہے۔ تاہم یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دنیا میں یہ نادانی پہلے بھی عام تھی اورآج بھی عام ہے۔

آج بھی سفید نسل والے، کالے رنگ والوں کو کم تر سمجھتے ہیں ۔جاہلیت کے دور میں عرب والے باقی ساری دنیا کے مقابلے میں زبان دانی میں اپنے کوبرتر سمجھتے تھے چنانچہ غیر عرب گروہوں کو عجمی قرار دیتے تھے۔ (یعنی وہ جوبولنا نہیں جانتے ۔) ہمارے ملک میں پیدائش کی بنیاد پر اِنسانوں کواونچا اورنیچا سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا کی بہت سی قوموں میں یہ غلط خیال عام ہے کہ تہذیب کی ترقی میں صرف اُن کی قوم نے اہم رول ادا کیا ہے اور باقی ساری اقوام ، محض تقلید کرتی رہی ہیں۔ اس طرح کے غلط خیالات کو عصبیت کہا جاتا ہے ۔

عصبیت کے اثرات

عصبیت اپنے گروہ کو برتر اور دوسرے گروہ کوکم تر سمجھنے سے جنم لیتی ہے ۔ پھر عملی خرابیاں سامنے آتی ہیں۔ اِنسان اپنے گروہ کی بے جا طرف داری اور حمایت کرتا ہے اور دوسرے گروہوں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ۔ اس طرح فکرو خیال کی کجی، عملی فساد کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ عصبیت کے یہ فکری وعملی مظاہر، اِنسانی سماج کے امن وامان کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ اِس ذہنیت کے نتیجے میں بے انصافی اور ظلم ہوتا ہے ، گروہ باہم ٹکراتے ہیں اور انسانی وسائل اور توانائی کسی مفید کام میں صرف ہونے کے بجائے تصادم کی نذر ہوجاتی ہے۔ جب کسی متعصب گروہ کواقتدار مل جاتاہے تو اُس کے ظلم کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے ۔وہ مختلف حربوں سے دوسرے گروہوں کونقصان پہنچانے کی کوشش کرتاہے۔اس طرح کی ظالمانہ حرکات کا ردِ عمل بھی اکثر سامنے آتا ہے اور عصبیت سے متاثر خطہ، خانہ جنگی کی کیفیت سے دو چا ر ہونے لگتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں عصبیت کے بُرے اثرات کی مثالیں موجود ہیں جوعبرت کا سامان ہیں ۔ خود آج کی دنیا بھی اس ذہنیت کے تباہ کن نتائج کواپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

عصبیت اور تصور کائنات

اپنے فکروعمل میں انسان جورویہ بھی اختیار کرتا ہے اُس کی بنا اُس مخصوص تصورِ حیات وکائنات اور تصورِ انسان پر ہوتی ہے ، جس کووہ درست سمجھتا ہے۔اگر حیات وکائنات کے بارے میں اوراِنسانی وجود کے سلسلے میں اِنسان کا نقطۂ نظر ، آفاقی نوعیت کا ہو تو اُس کی شخصیت عصبیت سے بلند ہوتی ہے۔ اُ س کی فکر کی نشوونما عملی استدلال کے ذریعے ہوتی ہے اوراُس کا عمل، صحت مند محرکات کا تابع ہوتا ہے۔اُس کے برعکس ، اگر حیات وکائنات اورانسانیت کے متعلق ، کسی شخص کا تصوّر آفاقی نہ ہو بلکہ تنگ نظر ی پر مبنی ہوتو اُس کے افکار واعمال میں بھی سطحیت ، تنگ دِلی اورپستی کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ ایسا شخص ، آسانی سے عصبیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

حیات وکائنات اوراِ نسانیت کے سلسلے میں تین نقطۂ ہائے نظر موجود ہیں۔ یعنی الحاد، شرک اور توحید ۔الحاد اورشرکاِنسان کوتنگ نظری اور تنگ دلی کی طرف لے جاتے ہیں جب کہ توحیدکے قائل فرد کی شخصیت بلند اور پاکیزہ ہوتی ہے ۔ الحاداور شر ک کا طر زِ فکر، آفاقیت کی نفی کرتا ہے جب کہ توحید،آفاقیت کا اثبات ہے ۔ الحاد اور شرک کو اختیار کرنے والا ظاہر بینی کی طرف مسائل ہوتا ہے جب کہ توحید پر یقین رکھنے والا،حقائق کا درست ادراک کرتا ہے۔

کھویا نہ جا، صنم کدہ کائنات میں

محفل گداز ، گرمی محفل نہ کرقبول

متنوع تعلقات اور شخصیت انسانی

اِنسان تعلقات سے گھرا ہوا ہے ۔ سب سے پہلے تو اس کا ہمہ وقت تعلق خود اپنے نفس سے ہوتا ہے یعنی وہ اپنے وجود کا احساس رکھتا ہے اور اپنے خیالات، جذبات اور تمناؤں کے عالمِ اصغر میں اُس کی شعوری زندگی گزارتی ہے ۔ پھر اِنسان ، اپنے جیسے دوسرے اِنسانو ں سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔ اِنسانی روابط ، وسیع اور متنوع ہوتے ہیں ۔ اپنی پوری ز ندگی میں ایک شخص کا ، اِنسانوں سے مسلسل واسطہ پیش آتا ہے ۔ انسانوں میں اُس کے دوست بھی ہوتے ہیں اور دشمن بھی ۔ بہت سے افراد سے وہ لین دین کرتا ہے، تعاون حاصل کرتا اور تعاون پیش کرتا ہے ، عہد وپیمان باندھتا ہے اور سماجی وسیاسی امور میں اشتراک کرتا ہے ۔ اِنسانوں کے علاوہ ،ایک شخص کا کائنات کی اشیاء سے بھی تعلق ہوتا ہے یعنی وہ اُن اشیاء کے خواص معلوم کرتا اوران کواپنے کام میں لانا ہے۔ اپنے آپ سے ، دوسرے اِنسانوں سے اور دنیا کی چیزوں سے ان تعلقات کی استواری کے نتیجے میں اِنسان کو نئے تجربات حاصل ہوتے ہیں اور اُس کی عقلی نشوونما ہوتی ہے۔اِنسان کی فکر ونظر کی تشکیل میں اس کے یہ تجربات ، بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور اِنسانی شعور کو کوئی خاص رُخ دینے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا روابط وتعلّقات وسیع بھی ہیں اورمتنوع بھی، تاہم ان میںایک محدودیت پائی جاتی ہے جس کی وجہ ان روابط کی سطح ہے ۔ اصولی اعتبار سے سارے اِنسان ایک سطح پر ہیں ۔ چنانچہ جب ایک شخص اپنے آپ کے اوردوسرے اِنسانوں کے بارے میں سوچتا ہے یا اپنے جیسے افراد کے ساتھ زندگی کی تگ ودو میں شریک ہوتا ہے تو اپنی سطح سے بلند نہیں ہوپاتا۔اِسی طرح ، اشیاء کائنات سب کی سب، اِنسان سے رُتبے اور حیثیت میں کم تر ہیں۔ اس لیے اُن کا استعمال اُسے آسودگی توعطا کرتا ہے مگر بلندی نہیں عطا کرتا۔ چنانچہ اِنسان کے فکر وعمل کی پرواز ، اگراُن روابط تک ہی محدود رہے جو دوسرے اِنسانوں سے یا چیزوں سے قائم کئے جاسکتے ہوں، تو اُسے وہ عظمت ورفعت نہیں ملتی ، جس کی طلب انسانی فطرت میں موجود ہوتی ہے۔ بلندی اور عظمت سے محروم اِنسانی شخصیت آفاقیت کی رمزشناس نہیں ہوسکتی۔ ایسا اِنسان، گردوپیش کے ماحول سے متاثر ہوجاتا ہے اورآسانی سے عصبیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسانی سرگرمیاں سطحی ہوںتو انسان کے شعور کوپختگی حاصل نہیں ہوسکتی۔

اپنی جولاں گاہ ، زیرِ آسماں سمجھا تھا میں

آب وگل کے کھیل کواپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے حجابی سے تری ٹوٹا، نگاہوں کا طلسم

اِک ردائے نیل گوں کو آسماں سمجھا تھا میں

رَبِ کائنات کی بندگی اور شخصیت کی بلندی

اِنسان کی شخصیت، بلندی، رفعت اور عظمت سے اُس وقت ہم کنار ہوتی ہے جب اُس کا تعلق رَبِ کائنات سے قائم ہوتا ہے۔اللہ کے قرب کے طلب گار اِنسان کی نگاہ وسیع ہوتی ہے اوراُس کا تصوّر آفاقی ہوتا ہے ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ خالقِ کائنات سے تعلق کی بنیاد صرف توحید ہوسکتی ہے ۔ ملحد تو خالقِ کے وجود کا ہی قائل نہیں ہوتا ۔ چنانچہ اُس سے تعلق کیسے قائم کرسکتا ہے ؟ رہے مشرک افراد تووہ خدا کے وجود کے قائل ہوتے ہیں لیکن اُس کے ساتھ دوسروں کوبھی شریک کرتے ہیں چنانچہ محبت کے جذبات جو خدا کے لیےخالص ہونے چاہئیں ، ایسے جذبات وہ جھوٹے معبودوں کے لیے بھی اپنے دِل میں رکھتے ہیں ۔ اس لیے ملحدین اور مشرکین ،دونوں کا طر زِ فکر اور طرزِ زندگی ، انہیں آفاقیت سے بے گانہ کردیتا ہے اور عظمت وبلندی کے بجائے پستی اور کوتاہ بینی اُن کے حصے میں آتی ہے۔ذیل کی آیات اِن حقائق کوبیان کرتی ہیں۔

يَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۚۖ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ (سورۂ روم : آیت :۷ )

یہ لوگ ، دنیا کی زندگی کا بس ظاہر ی پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔

سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ۝۱ۙ لِّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَہٗ دَافِعٌ۝۲ۙ مِّنَ اللہِ ذِي الْمَعَارِجِ۝۳ۭ

(معارج:آیت، ۱ تا ۳)

مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے ، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے، کافروں کے لئے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں، اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔

اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِہٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُہٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا(انعام ۔ آیت :۱۲۲)

کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اُسے ز ندگی بخشی اوراُس کووہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے ، اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جوتاریکیوں میںپڑا ہوا ہو اورکس طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَہُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِيْ شَيْءٍ۝۰ۭ اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَى اللہِ ثُمَّ يُنَبِّئُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ(سورۂ انعام۔ آیت ۱۵۹)

جن لوگوں نے اپنے دین کوٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ، گروہ بن گئے، یقینا اُن سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں۔ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی اُن کوبتائے گاکہ انہوںنے کیا کچھ کیا ہے ۔

وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰہُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ۝۱۷۵ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰكِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ۝۰ۚ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ۝۰ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْہِ يَلْہَثْ اَوْ تَتْرُكْہُ يَلْہَثْ۝۰ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝۰ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ(اعراف۔ آیات ۱۷۵، ۱۷۶)

ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو، جس کوہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، مگروہ اُن کی پابندی سے نکل بھاگا۔آخر کار شیطان اُس کے پیچھے پڑگیا ، یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میںشامل ہوکر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اُسے ان آیتوں کے ذریعے بلندی عطا کرتے ، مگروہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہشِ نفس کے پیچھے پڑا رہا۔ لہٰذا اُس کی حالت، کتے کی سی ہوگئی کہ تم اُس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اُسے چھوڑدو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کوجھٹلاتے ہیں ۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور وفکر کریں۔

عصبیت سے نجات کی راہ

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اِنسان کی کوتاہ بینی، تنگ نظری اور تنگ دلی اُس کو عصبیت کی طرف مائل کرتی ہے ۔ وہ اپنی اورکائنات کی حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے ۔ چنانچہ اُس کی فکر ونظر محدو د ہوتی ہے ۔ ایسا شخص عظمتِ کردار کا طلب گار نہیں ہوتا بلکہ اپنی خواہشات کا بندہ بنا رہتا ہے ،چنانچہ دوسرے انسانوں کے ساتھ انصاف، رحم اورفیاضی کا معاملہ کرنے کے بجائے،وہ محض اپنے مادی مفاد کوسامنے رکھتا ہے اوردنیوی فائدوں کے حصول کے لیے تمام اعلیٰ قدروں کوپامال کردیتا ہے ۔ ایسے شخص کی اِصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اُسے ، اُس کے رَب سے روشناس کرایا جائے حقائق سے اسے آگاہ کیا جائے اوررب کے سامنے حاضری کی یاد دہانی کی جائے۔ اگروہ اپنے قلب وذہن اورفکر وکردار میں صالحیت اختیار کرے تو عصبیت سے بچ سکتا ہے ۔

قرآن نے اس سلسلے میں فرعون کی مثال دی ہے۔فرعون نے اقتدار کے نشے میں چور ہوکر ، رب کائنات کی حاکمیت کا انکار کیا اور زمین میں فساد برپا کیا۔ اُس نے تعصب کا رویہ اختیار کیا اور بنی اسرائیل کواپنے ظلم وستم کا شکار بنایا۔ قرآن مجید نے اس کی روش کا تذکرہ کیا ہے۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَۃً مِّنْہُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَاۗءَہُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ(قصص ۔ آیت ،۴)

واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اوراُس کے باشندوں کوتقسیم کردیا۔ اُن میں سے ایک گروہ کووہ ذلیل کرتا تھا، اُس کے لڑکوںکوقتل کرتا اور اُس کی لڑکیوں کوز ندہ رہنے دیتا تھا ۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میںسے تھا۔

چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے ہدایت کی کہ فرعون کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اِصلاح کی بنیاد کی بھی اللہ نے نشاندہی کی یعنی رب کی طرف رجوع اور دل کو اُس کے خوف سے معمور کرنا ۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى۝۱۵ۘ اِذْ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى۝۱۶ۚ اِذْہَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى۝۱۷ۡۖ فَقُلْ ہَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى۝۱۸ۙ وَاَہْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى۝۱۹ۚ ( نا زعات۔ آیات ۱۵ تا ۱۹)

کیا تمہیں موسیٰ کے قصّے کی خبر پہنچی ہے؟ جب اُس کے رَب نے اُسے طوی کی مقدس وادی میں پکارا تھاکہ فرعون کے پاس جاؤ ، وہ سرکش ہوگیا ہے اوراُس سے کہو کہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اورمیں تیرے رَب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟

لیکن جیسا کہ معلوم ہے کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت سے فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ اپنی گمراہی اور تکبّر پر قائم رہا، چنانچہ اللہ کی سزا کا شکار ہوا۔

فَاَرٰىہُ الْاٰيَۃَ الْكُبْرٰى۝۲۰ۡۖ فَكَذَّبَ وَعَصٰى۝۲۱ۡۖ ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى۝۲۲ۡۖ فَحَشَرَ فَنَادٰى۝۲۳ۡۖ فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى۝۲۴ۡۖ فَاَخَذَہُ اللہُ نَكَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰى۝۲۵ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ يَّخْشٰى۝۲۶ۭۧ (نا زعات۔ آیات۔ ۲۰ تا ۲۶)

پھر موسیٰ نے فرعون کو(اللہ کی عطا کردہ ) بڑی نشانی دکھائی ۔ مگر فرعون نے جھٹلادیا اورنہ مانا ۔ پھروہ چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا اور لوگوں کوجمع کرکے اُس نے پکار کر کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رَب ہوں۔ آخر کار اللہ نے اُسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا ۔ در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔

وَاسْـتَكْبَرَ ہُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ۝۳۹ فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ۝۰ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِــمِيْنَ۝۴۰ (قصص۔ آیات ۳۹تا ۴۰)

فرعون اوراُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے ۔ آخر کار ، ہم نے اُس کو اور اُس کے لشکروںکوپکڑ ا اور سمندر میں پھینک دیا ۔ اب دیکھ لو اِن ظالموں کا کیا انجام ہوا۔

وحدتِ آدم

حیات وکائنات کی حقیقت سے بے خبری ، عصبیت کی طرف انسان کولے جاتی ہے ۔ اس بنیادی سبب کے علاوہ، اس ذہنیت کا عمرانی تناظر بھی قابل توجہ ہے۔ جب انسان ، وحدتِ بنی آدم کوفراموش کردیتا ہے تووہ عصبیت کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ واقعہ ہے کہ قبیلہ، نسل، رنگ ،زبان اورعلاقے کے تمام اختلافات کے باوجود ، سارے انسان، ایک ہی انسانی جوڑے (آدم وحوا) کی اولاد ہیں، چنانچہ سب ایک عالم گیر بر ادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے درمیان،رنگ ونسل کے فرق کی وجہ سے تعصب برتنا، بے خبری کی علامت ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۝۱۳(حجرات ۔ آیت ۱۳)

اے اِنسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیا ۔ اورپھر تمہاری قومیں اوربرادریاں بنادیں تا کہ تم ایک دوسرے کوپہچانو۔ در حقیقت ، اللہ کے نزدیک، تم میںسب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پر ہیزگار ہے ۔ یقیناًاللہ سب کچھ جاننے والا اورباخبر ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اس آیت میں پوری نوعِ انسانی کوخطاب کرکے اُس عظیم گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جودنیا میں ہمیشہ عالم گیر فساد کی موجب بنی رہی ہے ، یعنی نسل، رنگ ، زبان ، وطن اور قومیت کا تعصب ۔ اس مختصرسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کومخاطب کرکے تین نہایت اہم اصولی حقیقتیں بیان فرمائی ہیں۔

ایک یہ کہ تم سب (انسانوں) کی اصل ایک ہی ہے، ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی ہے۔ اورآج تمہاری جتنی نسلیں (RACES)بھی د نیا میں پائی جاتی ہیں وہ در حقیقت ایک ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جوایک ماں اورایک باپ سے شروع ہوئی تھی۔

دوسرے یہ کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قوموں اورقبیلوں میں تقسیم ہوجانا ، ایک فطری امر تھا۔ مگر اس فطری فرق واختلاف کا تقاضا ، یہ ہرگز نہ تھا کہ اس کی بنیاد پر اونچ اورنیچ، شر یف اورکمین،برتر اورکم تر کے امتیا زات قائم کیے جائیں ، ایک نسل دوسری نسل پر اپنی فضیلت جتائے، ایک رنگ کے لوگ، دوسرے رنگ کے لوگوں کوذلیل وحقیر جانیں اورایک قوم، دوسری قوم پر اپنا تفوق جمائے ۔ خالق نے جِس وجہ سے انسانی گروہوں کواقوام اورقبائل کی شکل میں مرتب کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اُن کے درمیان باہمی تعاون اور تعارف کی فطری صورت یہی تھی۔

تیسرے یہ کہ انسان اورانسان کے درمیان ، فضیلت اوربرتری کی بنیاد اگرکوئی ہے اور ہوسکتی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے ۔ (ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی)

تاریخ گواہ ہے کہ اِسلام کی تعلیم تعصبیت دور کرسکتی ہے۔ دورِ اوّل میں مختلف قبائل اورنسلوں کے لوگوں نے ایمان لاکر اُمتِ مسلمہ میں شمولیت اختیار کی ۔ انہوںنے اپنی متنوع صلاحیتوں کواستعمال کرکے اللہ کے دین کو دنیا میں پھیلایا ۔ ان کی سرگرمیاں اور کاوشیں، زمین کے کسی ایک خطے تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ ساری متمدن دنیا میں پھیل گئے۔ اسلام کے وسیع دامن میں ہر رنگ، نسل اور علاقے کے لوگ یکساں حقوق واختیار ات کے ساتھ شامل ہوئے، اُن سب کودین کی خدمت کرنے کا اور اپنی صلاحیتوں کے ارتقاء کا یکساں موقع حاصل تھا۔ توحید کے ساتھ عدل ، مساوات اورتکریمِ انسانیت کی قدریں ، اسلام کی پہچان قرار پائیں۔ آج کے مسلمان بھی اگر اپنی فکرونظر کو ا زسرآفاقی بنالیں تو دنیا اُن کی رہنمائی سے فیض یاب ہوسکتی ہے اور دنیاسےتعصب مٹ سکتا ہے۔

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی

اخوت کی جہاں گیری ، محبت کی فراوانی

بتانِ رنگ وخوں کوتوڑ کر ملت میں گم ہوجا

نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

مٹایا قیصروکسریٰ کے استبداد کو جِس نے

وہ کیا تھا ! زورِ حیدر، فقرِ بوذر، صدق سلمانی

تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا

خودی کا را ز داں ہوجا، خدا کا تر جماں ہوجا

ہو س نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

اخوت کا بیاں ہوجا، محبت کی زباں ہوجا

یہ ہندی ، وہ خراسانی، یہ افغانی وہ تورانی

تو اے شرمندہ ساحل، اچھل کر بے کراں ہوجا

غبار آلودہ رنگ ونسب ہیں بال وپر تیرے

تواے مرغِ حرم، اُڑنے سے پہلے پر فشا ں ہوجا

ترے علم ومحبت کی نہیں ہے انتہا کوئی

نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی