ضمیر الحسن خان فلاحی

انتہا پسندی، مفہوم ، اسباب وتدراک

اعتدال ومیانہ روی اسلامی شریعت کا مزاج ہے ، دین مبین کی ساری تعلیمات مبنی بر اعتدال ہیں، یہی وجہ ہے کہ خالق ارـض وسما نے امت اسلام کوامت وسط یعنی معتدل امت کے نام سے موصوم کیا ہے ۔ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (البقرہ/۱۴۳)

امام تفسیر علامہ ابن جریر طبریؒ مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ اس امت کو امت وسط اس لئے کہاگیا کہ وہ تمام دینی معاملات میں اعتدال کی راہ پر قائم ہے ۔ (جامع البیان :۲؍۶)

اعتدال در اصل ا فراط وتفریط اورتشدد وانتہا پسندی کی دونوں مذموم انتہاؤں کے درمیان ایک مامو ن و محفوظ شاہ راہ کا نام ہے۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اس سلسلہ میں رقمطراز ہیں : اسلام کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے اوراسی کا نام صراط مستقیم ہے ، یہ ان گروہوں کی راہ سے الگ راہ ہے جن پر غضب الٰہی نازل ہوا یا جوحق پانے کے باوجود گم راہ ہوگئے ۔ (اسلامی بیداری ؍۱۰)

سورۂ فرقا ن میں اہل ایمان کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(الفرقان ؍۶۷) اورجوخرچ کر تے ہیں تونہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم ہوتا ہے ۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی اورفرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے ، پھر چند لکیریں اس کے دائیں اوربائیں کھینچیں اورکہا کہ یہ وہ راستے ہیں جن پر شیطا ن بیٹھا ہوا ہے اور وہ انسانوں کوان کی طرف بلاتا ہے ۔ پھر آپؐ نے یہ تلاوت فرمائی : وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْہُ۝۰ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝۰ۭ(الانعام ؍ ۱۵۳) یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اوردوسرے راستوں پر نہ چلوکہ وہ اس کے راستہ سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے۔

صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ کا ارشاد ہے : (نیک چلن ، خوش مزاجی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے )ابوداؤد ، باب فی الومار) حضرت بریدہ اسلمیؒ سے مروی ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا : تم پراعتدال ومیانہ روی لازم ہے ،تین مرتبہ آپؐ نے یہ جملہ ارشاد فر مایا ، اس کے بعد فرمایا : جو شخص دین کے معاملے میں تشد د کی راہ اختیار کرےگا ، دین اس پر غالب آجائےگا یعنی وہ دین پر عمل کرنے سے عاجز رہےگا ۔( مسند احمد(

مقاصد شریعت میں سے ایک بنیادی اوراہم مقصد بندوں کو مشقتوں سے بچانا ہے ، اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے : ان الدین یسر (بخاری) ایک موقع پر فرمایا : ان اللہ لم یبعثنی معنتا ولا متعننا ولکن یبعثنی معلما میسراً ( مسلم)

سورہ حج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ(الحج ؍۷۸) اوراس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔دوسری جگہ فرمایا : يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(البقرۃ؍۱۸۵) اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دین اسلام کے تمام احکام اورشریعت کے تمام مسائل اس الٰہی حکمت کا مظہرہیں ۔ قرآن پاک میں تشدد اورانتہا پسندی کے لئے جولفظ استعمال کیا گیاہے وہ غلو ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ غلو کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں : کسی کی تعریف ومذمت میں حدود کوپامال کر تے ہوئے مبالغہ آمیزی سے کام لینا غلو کہلاتا ہے۔ (اقتضاء الصراط : ۱؍۲۸۹)اور شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی تعریف یوں کرتے ہیں : المبالغۃ فی الشی والتشدید فیہ بتجاوزالجد، یعنی حدو د کو پامال کرکے مبالغہ تشد د سے کام لینا ۔ (فتح الباری : ۱۳؍۲۷۸)

قرآن وحدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ غلو وانتہا پسندی کی مختلف صورتیں ہیں اور ہوسکتی ہیں ، اسلام انتہا پسندی کی ہر صورت کی مخالفت ؍مذمت کرتا ہے ،حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ نبی اکر مؐ نے فرمایا : ایاکم والغلو فی الدین فانہ اہلک من کان قبلکم الغلوفی الدین ، دین کےباب میں غلوسے بچو: تم سے پہلے کے لوگوں کی ہلاکت کا سبب یہی غلو تھا ۔ ( ابن ماجہ باب قدر حصی الرمی)تشدد وانتہا پسندی کے انجام بد سے باخبر کرتے ہوئےاللہ کے رسولؐ نے ایک موقع پر فرمایا : ہلک ہلک المتعننون...........(مسلم ) امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جوبال کی کھال نکالتے ہیں ، شدت پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اوراپنے قول وعمل میں حدو د سے تجاوز کرتے ہیں۔

انتہا پسندی کی قسمیں

بنیادی طور پر غلو وانتہا پسندی کو دو حصو ں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک اعتقادی مثلاً ائمہ کوانبیاء کا درجہ دینا ، انہیں معصوم سمجھنا یا اہل ایمان پر کفر کا فتویٰ صادر کرنا وغیرہ ۔

دوسرا عملی: جیسے جزوی مسائل میں تشدد برتنا ، کسی مباح کوواجب اورمکروہ کوحرام وناجائز قرار دے لیناوغیرہ ۔

انتہا پسندی کے مظاہر:

محبت رسول: رسولِ اکرم ؐ سےمحبت ، رسالت محمدی پر ایمان کا پہلا بنیادی تقاضا ہے ، آپ ؐ کا ارشاد ہے : لا یؤمن احدکم حتی اکون اہب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین (مسلم وجو ب محبۃ الرسول)مگر یہ محبت کیسے ہو؟ اس کے آداب وحدود کیا ہوں؟ اس کی تفصیل بھی قرآن وسنت میں موجود ہے ۔ ایک موقع پر نبی کریم ؐ نے فرمایا : تقویٰ اختیار کرو ، شیطان تمہیں ورغلانے نہ پائے۔ میں عبداللہ کا بیٹا محمد اور اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ بخدا ! مجھے یہ پسند نہیں کہ تم مجھے میرے اس مقام سے اونچا اُٹھاؤ جس پر اللہ نے مجھے فائز کیا ہے ۔ (مسند احمد، انس بن مالک )

نبی پاک ؐ کو زندہ تصور کرنا ، حاضر وناظر سمجھنا اورعالم الغیب سمجھنا وغیرہ محبت رسول ؐ میں غلو کے مظہر ہیں حالانکہ قرآن پاک کی متعدد آیات میں اوراحادیث پاک میں ان باطل تصورات واعتقاد کی صریح تردید موجود ہے ۔ مثلاً سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّک مَیِّتُ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ تمہیں بھی مرنا ہے اوران کوبھی مرنا ہے (زمر؍۳۰)

ایک جگہ فرمایا : وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ۝۰ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ اور (اے نبیؐ ) ہمیشگی توہم نے اس سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے نہیں رکھی ہے ۔ اگر تم مرگئے تو کیا یہ ہمیشہ جیتے رہیں گے۔ (انبیاء ؍۳۴) علم غیب کے سلسلہ میں فرمایا : یہ علم غیب کی خبر یں ہیں جوہم تمہاری طر ف وحی کررہے ہیں ، اس سے پہلےنہ تم ان کوجانتےتھے اورنہ تمہاری قوم (ہود؍۴۹) سورہ اعراف میں ارشاد باری ہے : ( اے نبی! ان سے کہو کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اورنقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے ، اوراگر مجھے غیب کا علم ہوتا تومیں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔ ( اعراف؍۱۸۸)

وسیلہ دین میں غلو کا ایک بڑا مظہر یہ اعتقاد خام ہے کہ آخرت کی نجات کا تمام تر دار ومدار وسیلہ پر ہے ، جبکہ نجات انسانی اعمال پر منحصر ہے ، اعمال اچھے ہوںگے توانسان جنت کی نعمتوں کا مستحق ہوگا اوربرے ہونے کی صورت میں جہنم کا ایندھن بنےگا ۔ لیکن امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ عمل سے غافل ہو کر محض بزرگوں کے وسیلہ سے جنت میں داخلہ کا خوہشمند ہے اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ قرآن مجید بزرگوں سے وسیلہ کی اجازت دیتا ہے ۔

قرآن مجید میں دو مقامات پر لفظ وسیلہ کا استعمال ہوا ہے ۔ پہلی آیت سورہ بنی اسرائیل کی ہے جس میں ارشادہے : جنہیں یہ لوگ پکارتےہیں وہ خود اپنے رب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ قریب ہوجائے ، وہ اس کی رحمت کے امیدوار اوراس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں۔  ( بنی اسرائیل ؍۵۷) دوسری آیت سورہ مائدہ کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : اے لوگوجوایمان لا ئے ہو، اللہ سے ڈرو اوراس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو ۔ ( مائدہ ؍۳۵) امام ابن کثیرؒ کے مطابق وسیلہ ، مقصود و مطلوب تک پہنچنے کے ذریعہ کوکہتے ہیں، ابتغوا الیہ الوسیلہ کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت وبندگی اورپسندیدہ اعمال کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی سعی کرو ۔(تفسیر ابن کثیر سورۃ مائدہ آیت ؍۳۵)

وسیلہ کی شرعی حیثیت

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ؐ سے وسیلہ کی تین شکلیں ہیں۔(۱) آپ ؐ پر ایمان لانا اور اطا عت کرنا ۔ (۲) آپ سے دعا کی درخواست کرنا۔(۳) آپ کی ذات کا حوالہ دے کر اللہ سے سوال کرنا ۔ مذکورہ بالا صورتوں میں پہلی دو صورتیں جائز اورثابت ہیں جبکہ تیسری صورت کا ثبوت صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے نہیں ملتا۔(فتاویٰ ابن تیمیہ۱/۵۳)معروف اسلامی اسکالر سلمان عودہ نے غیر شرعی وسیلہ کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے ، ان میں سے ایک تو صریح شرک ہے جیسے قبرمیں مدفون اولیاء کو وسیلہ بنانا اوران کی قبروں پر جاکر ان سے درخواست کرنا کہ وہ ہماری ضرورت پوری کردیں ۔ دوسری قسم صریح شرک تونہیں ہے مگر بہر حال گناہ کا کام ہے ۔ مثلاً کسی کے جاہ ومنزلت کے واسطہ سے اللہ سے دعا کرنا ۔ (دروس الشیخ سلمان عودہ :۱۳۰/۵۰)

غلو وانتہاپسندی کے اسباب

انحراف وبگاڑ کبھی اچانک رونما نہیں ہوتا بلکہ دھیرے دھیرے اوربتدریج آتا ہے اور اس کے در آنے کے پیچھے بھی کچھ اسباب وعلل ہوتے ہیں۔دین کے باب میں غلو وانتہا پسندی کے بھی کچھ اسباب ہیں ، ان میں دینی ونظریاتی بھی ہیں ،سیاسی وسماجی بھی اوربعض نفسیاتی ہیں۔ علامہ یوسف القرضاوی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ : انتہا پسندی کا سبب جہاں انتہا پسندی کی شخصیت میں مضمر ہوتا ہے وہیں بعض اسباب افراد خاندان کے تعلقات میں پوشیدہ ہوتےہیں اورکبھی غور وفکر اورتجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سماج کے اندر پائے جانے والے تضادات ہی اصلاً انتہا پسندی کا سبب ہیں ۔ (اسلامی بیداری ص ۶۴) بہرحال ذیل میں اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

۱۔ جہالت وبے بصیرتی اورحقیقت دین سے عدم واقفیت انتہا پسندی کا پہلا بنیادی سبب ہے ۔ یہی بے بصیرتی ، مقاصد شریعت سے ناواقفیت ، حدود شریعت سے دوری اورمسائل شریعت کو صحیح طور سے سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے ۔ مثال کے طور پرقرآن وسنت میں وعدہ ووعید اورثواب وعذاب دونوں طرح کے نصوص وارد ہیں ۔ وعدہ پر مشتمل آیات کا تقاضا ہے کہ ان کوپڑھ کر دلوں میں اللہ کی رحمت سے امیداور اپنے گناہوں کی مغفرت کا جذبہ بیدار ہو اوروعید پرمشتمل آیات کفار ومشرکین اور مرتکبین معاصی کوعذاب الٰہی سے ڈر نے کا موجب ہوتی ہیں۔اس سلسلہ میں کوتاہی کی وجہ سے انتہا پسندی نے جنم لیا اورنتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے ہر گناہ کے مرتکب کو کافر اور دائمی جہنم کا مستحق ٹھہرادیا تودوسری طرف یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایمان لانے کے بعد ارتکاب معصیت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اورتعظیم وتوقیر رسولؐ میں اس قدر غلو کیا کہ خالص تصور توحید نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گیا ۔

۲۔ انتہا پسندی کا دوسرا سبب خواہش نفس کی پیروی ہے جس سے قرآن پاک نے بار بار روکا ہے : ارشاد ہے : لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِیعنی دین کے معاملہ میں ناحق غلو نہ کرو اوران لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جوتم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اوربہتوں کوگمراہ کیا اور سواء السبیل   سے بھٹک گئے ۔ (مائدہ؍۷۷)

۳۔ تیسرا اہم سبب رد عمل(Reaction) کی کیفیت ہے ، اللہ کے رسول ؐ نے اپنی امت کودین کی واضح شاہراہ پر چھوڑا تھا لیکن بعد میں نت نئے فرقے وجود میں آئے جن میں بہت سے رد عمل کے طور پر ظہور پذیر ہوئے ۔ ادھرعالمی سطح پر سیاسی حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ مسلمان رد عمل کا شکارہوئے ، ایک طرف شعائر دین کی بے حرمتی اورمسلمانان عالم کے ساتھ ظلم وزیادتی ، غیر اسلامی افکار ونظریات اور منکرات کا بڑھتا ہوا طوفان ، ذرائع ابلاغ سے بے حیائیوں کا پرچار ، جذبات کوبھڑکانے والا عریاں ادب ، فحش لٹریچر اورننگی تصویریں ، عورتوں کا بے لباس میں دعوت نظارہ دینا ان ساری چیزوں نے دین دار مسلمان کوبالخصوص نوجوانوں کو رد عمل پر آمادہ کیا اوروہ ان کے مقابلہ کے لیے حکمت ومصلحت سے بے پرواہ ہوکر مناسب وقت کا انتظار کئے بغیر میدان میں کو د پڑے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ رد عمل کی کیفیت کبھی بھی اچھی نہیں ہوتی اور اس سے کبھی اچھے اورخوشگوار نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ ہر کام کاایک معین وقت ہوتا ہے ، پھل اگر وقت سے پہلے توڑا جائے توکبھی بھی فائدہ نہیں ہوسکتا ۔ یہی اصول امور دین میں بھی کارفرما ہے ، نبیؐ اورآپؐ کے اصحاب کوراہ حق میں پیش آنے والی مشکلا ت پر صبر کرنے کی تاکید کی گئی اور باربار کی گئی ۔فاصبر کما صبرواولوالعزم من الرسل ولا تستعجل لہم ۔مکی دور میں مصائب کی تاب نہ لاکر بعض صحابہ نے جب آپؐ سے درخواست کی کہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ وہ ہمیں ان حالات سے نجات دیدے او ربعض دوسروں نے جہاد کی اجازت طلب کی ، آپؐ نے دونوں کوصبر کی تلقین کی ۔

انتہا پسندی کے نقصانات

یوں تو انتہا پسندی کے بے شمار انفرادی واجتماعی نقصانات ہیں ، مگر یہاں بعضـ اہم نقصانات کے ذکر پر اکتفا کیا جارہا ہے ۔

۱۔ انحراف حق: ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا : من أحدث فی امرنا ہذا ما لیس منہ فھو رد (بخاری) مذکورہ حدیث میں دین کا ایک ہم اصول بیان کیا گیا ہے اوروہ یہ کہ ہر وہ کام جسے نیکی اورقربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھ کر انجام دیا جائے حالانکہ اس پر کتاب وسنت کی کوئی دلیل نہ ہو۔ ایسے تمام کام بدعت شمار ہوںگے ۔ (ریاض الصالحین :۱؍۱۸۸)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنے ساتھیوں کونصیحت کررہا ہے کہ دس مرتبہ سبحان اللہ کہو ، دس مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو  آپؓ غضبناک ہوئے اورفرمایا : انکم لأھدی من اصحاب النبی اواضل  تم کب سے اصحاب رسولؐ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگئے ، (البدع والنہی عنہا ص ۱۱) یہ اور اس طرح کے بہت سے اعمال ہیں جوانحراف دین کا سبب بنتے ہیں ، ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

۲۔ عمل سے دوری: انتہا پسندی کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے ، غلو کی راہ پر چلنا اوراسے عادت بنا لینا آسان نہیں ہوتا ، اکتاہٹ انسانی فطرت کا خاصہ ہے نیز انسان کی قوت کار بھی محدود ہوتی ہے ، اگروہ سختی پر کچھ دن صبر کربھی لے تو جلدہی اس کی ہمت جواب دے دیتی ہے اورآخر کار آزادی وبے عملی کی راہ اختیار کرلیتا ہے اس لئے دین کی تعلیم یہ ہے کہ : علیکم بما یطیقون فواللہ لا یمل اللہ حتی یملوا  تم اسی کے اوراتنے کے ہی مکلف ہو جتنا تمہارے بس میں ہے ، بخدا ، اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا مگر تم اکتاجاؤگے ۔ (بخاری ومسلم )

۳۔ دین سے نفرت:۔ کوئی بھی مذہب اپنے افکار ونظریات اور اصول وعقائد سے زیادہ اپنے ماننے والوں کے کردار سے جانا جاتا ہے ۔ مذاہب جہاں اپنے حاملین کے بلند کردار سے پھیلتے ہیں وہیں ان کے غلط رویہ اور شدت پسندی کی وجہ سے بدنام بھی ہوتے ہیں اوردوسروں کے لئے باعث نفرت بن جاتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ؐ نے امت کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کودین سے متنفر کرنے کا سبب نہ بنیں۔ یہ اصول بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے ۔

۴۔ حقوق کی پامالی :۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص بڑے عبادت گزار صحابی تھے ، انہوں نے قسم کھائی کہ جب تک زندہ رہوںگا دن میں روزہ رکھوںگا اوررات عبادت میں گزاروں گا ۔ آپ ؐ کو اطلاع ہوئی توفرمایا : فلا تفعل ، صم وافطر و قم ونم فان الجسدک علیک حقا وان لعینک حقا وان لزوجک علیک حقا وان لزورک علیک حقا (بخاری ) ایسا نہ کرو ، روزہ بھی رکھو اوربغیر روزے کے بھی رہو،قیام لیل بھی کرو اور سوؤ بھی ، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے ، اورتمہارے اہل وعیال کا بھی تم پر حق ہے۔

امام خطابی فرماتے ہیں : نماز اورروزہ کے علاوہ تقربِ الٰہی کے اوربھی بہت سے ذرائع ہیں ، اگر کوئی شخص اپنی ساری توجہ کسی ایک عبادت پر مرکوز کردے تو دیگرعبادات اورحقوق لازما متاثر ہوں گے ۔ اس لئے بندۂ مؤمن پر ضروری ہے کہ عبادات کی انجام دہی میں اعتدال وتوازن سے کام لے تاکہ دوسرے حقوق متاثر نہ ہوں ۔ (فتح الباری : ۸؍۵۲)شارح بخاری حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اگر مستحبات ونوافل کی وجہ سے طبیعت میں بےزاری آرہی ہو یا دوسروں کے حقوق متاثر ہورہے ہوں توانہیں ترک کردینا ہی بہتر ہے ۔ فتح الباری :۴؍۲۱۲)

۵۔ افتراق وانتشار :۔ شدت پسندی کا ایک بڑا نقصان تفرقہ بازی بھی ہے ، صد ر اول میں تاریخ اسلام میں جوفرقے وجود میں آئے ان میں بیشتر اس غلو وشدت پسندی کا نتیجہ تھے ۔ عصر حاضر میں انتہا پسندی دو حیثیتوں سے افتراق امت کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ ایک منہج اعتدال سے دوری کی حیثیت سے ۔ امت کا بڑا طبقہ ، دانستہ یا غیر دانستہ ۔ اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے اعتدال سے دورہورہا ہے جس کے نتیجہ میں فکرونظر ، سلوک رویہ ، دین ودنیا غرض ہرشعبۂ زندگی میں بے اعتدال نے راہ پالی ہے ۔

دوسرے یہ کہ انتہا پسندی کے نتیجہ میں اسلامی غیر ت وحمیت کی بجائے جماعتی ، تحریکی اورمسلکی تعصب دن بدن شدت اختیار کرتا جارہا ہے اورحال یہ ہوگیا ہے کہ اسلام اب فرقوں ، جماعتوں اور مسلکوں کے ذریعہ جانا جانےلگا ہے ۔

۶۔ غیر اسلامی اصولوں کی ایجاد:۔غلووانتہا پسندی سے ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے ایسے اصول وقواعدوضع کئے گئے ہیں جودین میں تحریف کا سبب بنے ۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ فلاسفہ ومتکلمین اور دیگراہل بدعت نے حق سے اعراـض کیا اور ایسے اصول وضع کئے جو خلاف حق تھے اور جب انہوں نے یہ محسوس کیا یہ اصول رسول امیؐ کی لائی ہوئی شریعت کے خلاف ہیں توانہیں شریعت پر مقدم کردیا ، اپنی عقل کومعیار حق بنایا نتیجہ حدیث کے تعلق سے ان کا مذہب متذبذب ہوگیا اور صفات الٰہی کوان کی عقل کی سند نہیں ملی۔  (فتاویٰ : ۱۶؍۴۴۰)

مغربی فلسفہ کے زیر اثر بعضـ جدت پسند مفکرین نے کچھ ایسے اصول بھی بناڈالے جن کی وجہ سے مسلمات دین کے انکار کا دروازہ کھل گیا ۔ وغیرہ ۔

تدارک کی تدابیر

۱۔ تمام گمراہیوں کی اصل کتاب وسنت سے انحراف ہے، لہٰذا جب تک امت کتاب وسنت کو مضبوطی سے نہیں پکڑے گی یہ مرض بڑھتا ہی جائےگا۔ نبی پاکؐ نے اس دنیا سے رخصت ہونےسے قبل حجۃ الوداع کے موقع پر امت کے عالمی اجتماع میں یہ تاکید کی تھی کہ ترکت فیکم أمرین لن تضلوا بعد ی ان تمسکتم بہما ، کتاب اللہ وسنتی

۲۔ امت کے انحرافات کی اصلاح کے لئے اسوۂ صحابہ کی طرف بھی ضروری ہے کیونکہ صحابہ کرام ہی اس دین اورقرآن وسنت کے اولین شارح ہیں ، ان کی عدالت وصداقت ، رشدو ہدایت، فہم وبصیرت اوردرایت وروایت کوقرآن مجید کی سند حاصل ہے ۔ دین کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کے سلسلہ میں درسگاہ نبوت کے فیض یافتہ ان روشن ستاروں سے روشنی حاصل نہ کی جاسکتی ہو ۔ امام ابن قیمؒ کے الفاظ ہیں: وہ کون سی بھلائی ہے جس کی طرف اصحابِ رسول لپکے نہ ہوں اوردانشمندی کی وہ کونسی راہ ہے جس پر ان کے قدم نہ پڑے ہوں ۔ اللہ کی قسم! وہ پانی کے صاف وشفاف چشمہ سے سیرا ب ہوئے تھے ، اسلام کی بنیادوں کوانہوںنے ایسا استوار کیا تھا کہ کسی کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش نہیںہے ۔(اعلام الموقعین : ۱؍۱۵)

لہٰذا ضروری ہے کہ دینی اور دنیوی دونوں امور میں ان کے طریقہ کی پیروی کی جائے صحابہ کرامؓ سے ہمارا رشتہ جتنا کمزور ہوگا ، انتہا پسندی میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔

۳۔ اعتدال کی اشاعت:۔ دین کی روح اوراس کے مزاج کوعام کیا جائے ۔ یہ مزاج جس قدر عام ہوگا تشدد میںکمی واقع ہوگی ، ہر چیز کے دو کنارے ہوتے ہیں، اگر ایک کنارہ کوپکڑا جائے گا تو دوسرا لازماً متاثر ہوگا اس لئے درمیانی اوربیچ کے حصہ کوپکڑنا چاہئے تا کہ دونوں سروں میں توازن قائم رہ سکے ۔ امام ابن قیم نے لکھا ہے : اسلام ، مسلک اعتدال کی پیروی پر زور دیتا ہے جوافراط وتفریط کی درمیانی راہ ہے ، دین و د نیا کی ساری مصلحتیں اعتدال وتوازن پر موقوف ہیں کہ یہی عدل وانصاف کی شاہراہ ہے ۔ (اغاثۃ اللہفان :۱؍۱۳۱)

۳۔ جہالت ، انتہا پسندی ہی نہیں بلکہ تمام انحرافات کی جڑہے ، اسی لئے اسلام نے حصول علم کو فرض قرار دیا ہے ۔ طلب العلم فریضۃ  علامہ ابن قیم اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اگر انسان سب کچھ جان لے مگر اسے معرفت رب حاصل نہ ہو تو گویا وہ بے علم ؍جاہل ہے ۔ (حوالہ سابق ص ۶۸)امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں : دین دار اور متقی کے لئے کتاب وسنت کا علم اوراس میں گہری بصیرت ضروری ہے کیونکہ اگر تفقہ فی الدین حاصل نہیں ہے تواس کی دینداری اس کے لئے فائدہ سے زیادہ خسران کا موجب ثابت ہوسکتی ہے ۔ (فتاویٰ :۲۰؍۱۴۱)

نبی اکرم ؐ نے بعض لوگوں کے متعلق فرمایا : ان فیکم قوما یتعبدون حتی یعجبواالناس ویعجبہم انفسہم یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرمیۃ (السلسلۃ الصحیحۃ ؍۱۸۹۵) ترجمہ: تم میں کچھ ایسے عبادت گزار لوگ ہوںگے کہ لوگوں کوان کی عبادت گزاری پر رشک آئے گا اوراپنی عبادت کی وجہ سے وہ خود فریب نفس میں مبتلا ہوںگے ۔ مگروہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔

یہ اور اس طرح کی اوربھی تدابیر اختیار کرکے انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کوکم کیا جاسکتا ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تشدد وانتہا پسندی سے محفوظ رکھے، راہ اعتدال پر چلنے کی توفیق دے ، اس سلسلہ کے ہر سبب سے بچنے اوراس کے تدارک کی ہر ممکن تدبیراختیار کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے ۔ آمین۔

*****